.

بھارت یو این او کے کٹہرے میں

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ان دنوں ہمارے قائدین کی لائن بڑی درست ہوگئی ہے، دوسرے لفظو ںمیں انہوں نے اپنا قبلہ سیدھا کر لیا ہے اور میں اسے ملک کے لئے نیک فال سمجھتا ہوں، سیاستدان تو اس پر خوشی سے پھولے نہیں سماتے ہوں گے کہ وزیر اعظم اور آرمی چیف مکمل مشاورت کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، ابھی گزشتہ روز بھی وہ مل بیٹھے اور کئی اہم اور سنگین مسائل پر کامل ہم آ ہنگی کے ساتھ فیصلے کئے گئے، ان میںکراچی بھی زیر بحث آیا اور ضرب عضب کا فائنل مرحلہ شروع کرنے کافیصلہ ہو امگر میرے نزدیک اہم ترین مشاورت بھارت کی مداخلت اور اس مسئلے کو یو این او میں لے جانے پر کی گئی، ملیحہ لودھی اس ادارے میں پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں، ان کی صلاحیتوں کا ایک زمانہ معترف ہے، انہیں اسلام ا ٓباد طلب کر لیا گیا ہے اور ماہرین کے ساتھ مشاورت کے رائونڈز ہو رہے ہیں۔فارن آفس کو تو اعتماد میںلیا جانا ضروری تھا، وزیر اعظم غیر ملکی سفیروںکی ایک کانفرنس بھی طلب کر چکے ہیں۔

بھارت کی پاکستان میںمداخلت کے بارے میں کہا جا رہاہے کہ یہ کوئی نئی چیز نہیں۔ یہ کہہ کر اس مسئلے کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے مگرجن دنوں ہمارے ادارے بھارت پر مبہم اور دبی دبی زبان میں الزام لگاتے تھے تو یہی دانش ور کہتے تھے کہ بھارت کے خلاف کوئی ثبوت ہیں تو سامنے لائو۔ اب بھارتی طوطے اور شردھالو بول رہے ہیں تو یہ شرلی چھوڑی گئی ہے کہ ایک دشمن ملک سے اور کیا توقع کی جا سکتی ہے، کچھ دل جلے طعنہ دیتے ہیں کہ اگر ہماری آئی ایس آئی ا ور لشکر طیبہ بھارت کو چین سے نہیں بیٹھنے دیں گی تو کیا بھارت جواب میں پھول پھینکے گا ، گویا ہم نے ہر لحاظ سے تہیہ کر رکھا ہے کہ بھارت کا دفاع ہی کرنا ہے اور اپنے ملک کو مورد الزام ٹھہرانا ہے، یہ ہے ہماری حب الوطنی کا حال کہ جس ملک کا کھاتے ہیں ، اس کی تھالی میں چھید کرتے ہیں۔

مگر اب حکومت کی اعلی ترین سطح پر بھارت کے بارے میں سوچ واضح ہے، اور بلوچستان اسمبلی تک نے بھارت کی مداخلت کی مذمت میں قراداد منظور کر لی ہے، یہ وہ صوبہ ہے جو بھارتی خفیہ اور دہشت گرد تنظیم را کی آماجگاہ بناہوا ہے۔کراچی میں بھارت جو مذموم کھیل کھیلتا رہا ہے، اس کی تفصیلات بھی ایک ایک کر کے منظر عام پر آ رہی ہیں، بھارت سے اسلحے کی فراہمی ، پائونڈز کی ادائیگی اور دہشت گردی کی تربیت جیسے بھیانک جرائم کے انکشافات سامنے آ رہے ہیں اور وہ بھی بی بی سی جیسے ادارے کی وساطت سے جو ہمیشہ بھارت کا طرف دار رہاہے مگر اب سنگین جرائم پر وہ بھی ڈنڈی مارنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ برطانوی اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیمیں بھی پاکستان آ رہی ہیں اور مختلف جرائم کے ثبوت سامنے لانے کے لئے کڑی سے کڑی ملانے کی کوشش کر رہی ہیں۔اس طرح پاکستان کے پاس بھارت کے خلاف ا س قدر ٹھوس مواد موجود ہے کہ اسے یو این او کے کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکتا ہے اور شکر یہ ہے کہ اس بارے فیصلہ ہو گیا ہے یا متوقع ہے۔

مگر یو این او سے ہمیں انصاف کیسے ملے گا، آج تک توا س ادارے نے ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا، کشمیر پر کئی بار قراردادیں منظور کیں کہ استصواب کے ذریعے مسئلہ حل کیا جائے گا مگر اس جانب ایک قدم تک نہیں اٹھا یا گیا، بھارت نے ہمیشہ پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا مگر اسی کی اپیل پر سیز فائر کروائی گئی اور پھر متنازعہ مسائل وہیں کے وہیں اٹکے رہے۔ یا تو ہم نے اپنے کیس کی پیروی میںسستی دکھائی یا پھر بھارت نے کہہ مکرنی کا ثبوت دیا۔
ٓ

میرے نزویک تشویش کی بات یہ ہے کہ بھارت ہماری صفوں میں نفوذ کر چکا ہے، سونیا گاندھی ریکارڈ پر ہیں کہ ہم نے پاکستان کو ثقافتی محاذ پر زیر کرلیا ہے اور یہ کوئی غلط دعوی نہیں، ہماری تمام رسوم بھارت کی نقالی بن کر رہ گئی ہیں، ہمارے تاجر خریدے جا چکے ہیں ، ہمارا میڈیا بڑی حد تک بھارتی شراب کے نشے میں ہے اور ہمارے ادیب اور دانشور تک کہتے ہیں کہ ادب کی کوئی سرحد نہیں ہوتی،یہ دعوی درست ہے تو کوئی ادیب یا شاعر صاحب برطانیہ ، فرانس یا امریکہ میں بغیر ویزے کے داخل ہو کر دکھائے اور یہ تاجر جو واہگہ کے آرپار دندناتے پھرتے ہیں، یہ یورپی یونین یا امریکہ کے اتنے ویزے آسانی سے لے کر دکھائے۔وہاں تو ہاتھ اور پائوں کی انگلیوں کے نشانات لیتے ہوئے نانی یاد آ جاتی ہے۔

ہمیں بھارت کو دشمن سمجھنا ہے تو پھر اس کانام لینے سے شرم کیوں آتی ہے، ہم کسی خفیہ ہاتھ یا بیرونی طاقت جیسے الفاظ استعمال کر کے بھارت کا نام لینے سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، یوںلگتا ہے کہ بھارت کا نام ہونٹوںپرا ٓ جانے سے ہمارا رزق بند ہو جائے گا یا ہمارے عہدے چھن جائیں گے، امریکہ نے ہمیں کئی برسوں سے ٹریک ون اور ٹریک ٹو جیسے ٹرک کی بتیوں کے پیچھے لگا چھوڑا ہے، خدا شاہد کہ مجھے ایک ایسے دورے کی دعوت ملی تو میںنے اسے حقارت سے ٹھکرا دیا ور یہ وہی دورہ ہے جس میںمحمود شام جیسے سینیئر صحافی کو نئی دہلی ائرپورٹ پر کلیئرنس دینے سے انکار کر دیا گیا حالانکہ اس گروپ کو ایک امریکی سفارت کار لیڈ کر رہے تھے۔ امریکہ نے پاکستان اور بھارت کے چار چار صحافیوں کو دورہ کروایا، مقصد یہ تھا کہ ہم آپس میں گھل مل جائیں مگر دورے کے اختتام پر جب امریکی میزبان نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں بھارت کا دورہ کرنا پسند کروں گا تو میں نے صاف انکار کر دیا جس پر امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے عہدیدار نے کہا کہ مجھ پر ان کی سرمایہ کاری ضائع چلی گئی۔

مگر یہ ان کی غلط فہمی ہے، میں بھارت کادشمن نہیں اور میری خواہش ہے کہ بھارت بھی ہمارا دشمن نہ بنے اور کشمیر کا جو ایک تنازع ہے ، اسے حل کر دے، اور اچھے پڑوسیوں کی طرح ہمارے ساتھ گزارا کرنا سیکھے، مگر بھارت جس ملک کا نام ہے ، و ہ تو مہا بھارت کے خواب دیکھتا ہے۔وہ پاکستان کو سکم، بھوٹان،نیپال کی طرح ایک ذیلی علاقہ دیکھنے کا خواہاں ہے۔ پاکستان کو دو لخت کرنے کی ذمے داری اب تو بھارتی وزیر اعظم نے بنگلہ دیش کے دورے میں یہ کہہ کر قبول کر لی کہ ہر بھارتی کی خواہش تھی کہ بنگلہ دیش بنے، اس اعتراف کے بعدہمارے جن پاکستانیوںنے حسینہ واجد سے تمغے لئے ہیں ، انہیں ذرا شرم ہو تو وہ اپنے تمغے اس کے منہ پہ دے ماریں۔

ہمیں بھارت کو ضرور یو این او میں گھسیٹنا چاہئے۔اس کے چہرے سے نقاب اترنا چاہئے، یہ جو قوموں کی برادری میں عزت داربنا پھرتا ہے اور دنیا کو اپنی وسیع منڈیوں کا لالچ دیتا ہے،اس پر واضح کرنا چاہئے کہ یہ کسی کو بھی کسی بھی وقت بغل سے چھڑی نکال کر دے مارے گا۔یہ چانکیہ کے مکروہ فلسفے کا پیر وکار ہے جو کسی قاعدے قانون کو ماننے کا روا دار نہیں۔ ہو سکتا ہے ہمیں یو این او سے کوئی ریلیف نہ ملے مگر ہم اس بحث میںبھارت کی بد خصلتی کوبے نقاب کرنے میںکامیاب ہو جائیں گے اور یہ کوئی چھوٹی کامیابی نہیں۔

بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.