.

یہ نصف صدی کا قصہ ہے

کلدیپ نائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان اور بھارت کے درمیان 1965ء کی جنگ کو 50 سال ہو گئے ہیں۔ آج بھی دونوں ملکوں میں دشمنی کو بھارت میں ذوالفقار علی بھٹو سے منسوب کیا جاتا ہے جو اس وقت پاکستان کے وزیر خارجہ تھے۔ یہ درست ہے۔ جنرل محمد ایوب خان نے، جو اس وقت پاکستان کے سربراہ تھے، ایک انٹرویو میں یہ تسلیم کیا تھا کہ وہ امن کو خراب نہیں کرنا چاہتے تھے خواہ یہ ان کے لیے کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔ جب میں نے بھٹو سے تصدیق چاہی تو انھوں نے اپنے کردار کی تردید نہیں کی البتہ اپنی مدافعت میں یہ ضرور کہا کہ اگر پاکستان کے لیے بھارت کو شکست دینا ممکن ہو سکتا تھا تو یہی وہ وقت تھا۔

ان کا موقف تھا کہ بھارت کے پاس محض چند اسلحہ ساز فیکٹریاں ہیں جب کہ ہمیں آپ پر برتری حاصل ہے کیونکہ ہمارے پاس امریکا کی فوجی امداد ہے۔ امریکی فضائیہ کے لیفٹیننٹ کرنل برنارڈ اینڈرسن نے اکتوبر 1965ء میں ’’ٹائم‘‘ کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا تھا کہ میں اپریل 1965ء پاکستان سے واپس آیا اور ہم سب کو پتہ تھا کہ اب لڑائی ہونے والی ہے۔

کشمیر میں گڑ بڑ کی خبر سب سے پہلے 9 اگست 1965ء کو بھارت کے پریس میں شایع ہوئی۔ ان ھی دنوں ایوب خاں نے راولپنڈی میں بھارت کے ہائی کمشنر کیول سنگھ کی اسناد سفارت وصول کیں اور ان کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے ان کی طرف سے ہر تعاون کا خیر مقدم کرے گا۔ ایوب خان نے یہ بھی کہا کہ کشمیر میں گڑ بڑ کا مطلب بھارت میں گڑ بڑ ہرگز نہیں ہے۔ جب میں نے بھٹو کا انٹرویو کیا تو انھوں نے کہا جو کہ وہ ریکارڈ میں درج ہے ’’ایک وقت تھا جب فوج بڑی پیش قدمی کر سکتی تھی۔ ہم بھارت سے برتر تھے کیونکہ ہمیں امریکا کی بھر پور فوجی مدد حاصل تھی جو کہ 1965ء تک جاری رہی اور چونکہ کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو رہا تھا جب کہ اس کا حل ہونا بہت ضروری تھا لیکن پر امن طریقے سے اس کا حل نظر نہیں آ رہا تھا‘‘۔

’’لہٰذا ہماری حب الوطنی کا تقاضا تھا کہ ہم اس مسئلے کو حل کریں۔ یہ بہت بدقسمتی کی بات تھی کیونکہ بھارت کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا اپنا وعدہ پورا نہیں کر رہا۔ لیکن اب صورتحال وہ نہیں ہے اور مجھے کسی اور کی نسبت زیادہ علم ہے کہ اب وہ صورتحال نہیں اور نہ ہی آیندہ پیدا ہو گی۔‘‘

1965ء کی جنگ پاک بھارت تعلقات میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ اس وقت دونوں ملکوں میں کشیدگی تو ضرور موجود تھی لیکن دشمنی نہیں تھی۔ اٹاری واہگہ بارڈر پر اس کے بعد ہی بڑے بڑے گیٹ نصب کیے گئے اور دونوں ملکوں میں آنے جانے کے لیے ویزا کی بڑی سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں اور بارڈر پر جو تھوڑی بہت تجارت ہوتی تھی اسے بھی روک دیا گیا۔

اس زمانے میں شیخ عبداللہ کشمیر کے بہت مقبول عام لیڈر تھے جو پاکستان کے ساتھ اپنی ریاست کا الحاق کر سکتے تھے لیکن انھوں نے پاکستان کے بجائے سیکولر بھارت کے ساتھ الحاق کو ترجیح دی کیونکہ انھیں اندازہ ہو گیا تھا کہ ان کی ریاست آزادی حاصل نہیں کر سکتی۔ کشمیری عوام صوفی ازم میں یقین رکھتے تھے جو انھیں سیکولر ازم کے مشابہ نظر آیا۔ بھارتی آئین میں آرٹیکل 370 شامل کیا گیا جس کے تحت دفاع، امور خارجہ اور مواصلات کے علاوہ تمام شعبوں کے بارے میں ریاست کو قانون سازی کے اختیارات دیدیے گئے۔

اس موقع پر جو وعدے کیے گئے ان کی حیثیت کو مقدس سمجھا جاتا ہے جسے ان لوگوں کے کہنے پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا جن کی سوچ مختلف ہو۔ ریاست نے اس موقع پر علیحدہ طور پر آئین سازی بھی کر لی تا کہ یہ بات واضح ہو جائے کہ وہ اپنی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اب اس معاہدے کو ترک کرنا جموں کشمیر کے عوام کے اس اعتماد کے خلاف غداری کے مترادف ہو گا جو انھوں نے نئی دہلی کی حکومت پر کیا تھا۔ اب اگر کوئی تبدیلی ہو سکتی ہے تو یہ وہی لوگ کر سکتے ہیں جنھوں نے الحاق کرایا۔ بھارت اپنے طور پر ریاستی عوام کی مرضی کے خلاف کوئی ترمیم نہیں کر سکتا۔

وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر دیا جائے انھیں یہ احساس نہیں کہ اس طرح کشمیر کے بھارت سے الحاق کا سوال از سرنو پیدا ہو جائے گا۔ جموں کشمیر کی آئین ساز اسمبلی نے اس کی توثیق کی تھی جس کی بنیاد پر ریاست کو خصوصی حیثیت حاصل ہوئی۔ اگر اب اس میں کوئی تبدیلی کی جاتی ہے تو یہ بھی ریاست کی آئین ساز اسمبلی ہی کر سکتی ہے جب کہ ریاست کی اسمبلی یا بھارت کی مرکزی پارلیمنٹ ان اختیارات پر خط تنسیخ نہیں پھیر سکتیں جو کہ ریاست کی آئین ساز اسمبلی اتفاق رائے سے کر چکی ہے۔ کیونکہ بصورت دیگر ایسا کرنا غیر قانونی ہو گا۔

اسی اثناء میں کشمیریوں کی سوچ میں ایک تبدیلی پیدا ہو چکی ہے۔ وہ مصالحت کنندہ کے طور پر بھارت اور پاکستان دونوں کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود اپنے طور پر کرنا چاہتے ہیں۔ بنیاد پرستوں کی آوازیں بے شک بہت بلند آہنگ ہوں مگر کشمیری چاہتے ہیں کہ ہندو پنڈت بھی ان کی ثقافت کا اسی طرح ایک حصہ ہوں جیسے کہ وہ صدیوں سے رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید نے ایک درمیانی راستہ تجویز کیا ہے جس کے ذریعے جموں کی ہندو اکثریت کو بھی ریاست کے معاملات میں برابر کا حق دیدیا جائے۔ لیکن اس طرح انھوں نے وادی کی مسلم اکثریت اور جموں کی ہندو آبادی میں جو فرق ہے اس کو مٹانے کی کوشش کی ہے۔

یہی طریقہ ریاست کے قد آور لیڈر شیخ عبداللہ پوری ریاست بشمول لداخ کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اختیار کرتے۔ آج کے پست قد لیڈر مختلف برادریوں کو مطمئن کرنے کے لیے کوئی فارمولا تلاش کر سکتے ہیں لیکن وہ ریاست کی اس فضا کو واپس نہیں لا سکتے جو اجتماعیت کے حوالے سے ریاست کی شناخت تھی۔ وادی میں اسلامی بنیاد پرستوں نے اکثریت حاصل کر لی ہے جب کہ جموں میں ہندوتوا کا فروغ جاری ہے مگر ریاست کی صوفی نظریات کی حامل فضا مکدر ہو چکی ہے۔

بھارت کے ساتھ الحاق سے قبل شیخ عبداللہ نے اپنے بعض معتمد ساتھیوں کو پاکستان بھجوایا تھا تا کہ وہاں کے موڈ کا اندازہ لگایا جا سکے تاہم وہ اسی نتیجے پر پہنچے کہ اجتماعیت ہی عوام کے لیے سب سے بہتر طریق زندگی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.