.

افغانستان اور عسکریت پسندی ۔ چند تلخ حقائق…

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان ، انتہاپسندی ، عسکریت پسندی اور فرقہ واریت کا شمار ان موضوعات میں ہوتا ہے جن کے بارے میں پاکستان کے اندر سچ لکھنا اور بولنا پہلے بھی بہت مشکل تھا لیکن جیو کے حادثے ، دھرنوں کے نتائج اور نیشنل ایکشن پلان کی منظوری کے بعد تو یہ کام تقریباً ناممکن ہوگیا ہے ۔ ریاستی اداروں کے بنائے ہوئے تصورات سے ہٹ کر بولنا، لکھنا ، بلکہ سوچنا، جان، ایمان ، حب الوطنی اور حتیٰ کہ عزت کے لئے خطرہ بن جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم جیسے پاگل بھی اب ان موضوعات سے متعلق خاموشی بہتر سمجھنے لگے ہیں ۔

میڈیا کا کردار پہلے بھی ان حوالوں سے قابل رشک نہیں رہا اور کنفیوژن پھیلانے میں اس کا حصہ کسی بھی دوسرے ادارے سے زیادہ رہا لیکن جب ان موضوعات کی خبر دی جاتی تھی اور اس پر بات ہوتی رہتی تھی تو کم از کم تعصبات اور مفادات سے بالاتر ہوکر سوچنے والی اقلیت کو نتیجہ اخذ کرنے کیلئے مواد مل جاتا تھااور کبھی کبھار حکمرانوں اور سیاستدانوں کی توجہ بھی اس جانب مبذول ہوجاتی تھی ۔ اب بظاہر تو راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے لیکن بعض حوالوں سے سب تدبیریں الٹ ہوتی نظر آرہی ہیں اور چونکہ میدان سیاست و صحافت میں ذکر ہی نہیں ہورہا ، اسلئے ان ممکنہ نئے خطرات کے مقابلے کیلئے کوئی تیاری بھی ہوتی نظر نہیں آرہی ۔یوں تو حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اب بھی ان موضوعات سے اعراض کا رویہ اختیار کیا جائے لیکن پاکستانیت کا تقاضا یہ ہے کہ ان ناکامیوں اور خطرات کا ایک اجمالی تذکرہ ضرور کیا جائے جو مذکورہ موضوعات کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میں محسوس کررہا ہوں۔
ڈاکٹر اشرف غنی سے افغانستان کے اندر اور باہر بڑی توقعات وابستہ کی گئی تھیں لیکن افسوس کہ ان کی حکومت اندرونی محاذ پر بھی بری طرح ناکام ثابت ہورہی ہے ۔ اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ ایک سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود وہ اپنی کابینہ مکمل نہ کرسکے۔

یہ توقع کی جارہی تھی کہ اپنے انتخابی حریف ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے ساتھ مشترکہ قومی حکومت بناکراشرف غنی زیادہ کامیابی کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھائیں گے لیکن دونوں گروہوں کی کشمکش کی وجہ سے حکومت ٹیک آف ہی نہیں کرسکی۔ پارلیمنٹ مدت پوری کرچکی لیکن دوبارہ انتخابات کی بجائے اس کی مدت بڑھائی جارہی ہے تاکہ اس سے اپنی ٹیم کی منظوری لی جاسکے لیکن پھر بھی یہ کام ہوتا نظر نہیں آرہا۔ امن و امان کی حالت ناگفتہ بہ حد تک خراب ہوگئی ہے ۔ پاکستانی میڈیا میں رپورٹ نہیں ہورہا لیکن طالبان کی کارروائیوں نے نہ صرف مشرقی اور جنوبی صوبوں میں حکومت کو مفلوج کررکھا ہے بلکہ پہلی مرتبہ قندوز جیسے شمالی صوبے میں بھی کئی اضلاع پر طالبان نے قبضہ کرلیا ہے ۔ پاکستان کے ساتھ تعاون پر اشرف غنی کے خلاف ان کے مخالفین، میڈیا اور حتیٰ کہ پارلیمنٹ نے بھی طوفان اٹھا رکھا تھا لیکن وہ ہر ایک کو یہی جواب دے رہے تھے کہ پاکستان نے ان کے ساتھ طالبان کے مسئلے کو حل کرنے کا وعدہ کیا ہے اور انہیں چند ماہ انتظار کرنا چاہئے۔ انہوں نے اپنے ذہن میں جو ڈیڈ لائن رکھی ہو ئی تھی ، وہ اپریل کا مہینہ تھا جس کی تکمیل کے بعد انہوں نے پاکستان کو پیغام بھیجا کہ وہ مزید انتظار نہیں کرسکتے ۔

پاکستانی حکام جواب میں کہتے ہیں کہ ان سے جو کچھ ہوسکتا تھا ، وہ انہوں نے کرلیا ۔ان کا کہنا ہے کہ قطر، چین اور دبئی میں طالبان کے ساتھ ، افغان حکومت کے جو مذاکرات ہوئے ، ان کے سلسلے میں انہوں نے اپنا اثرورسوخ استعمال کیا اور طالبان کو سخت سے سخت الفاظ میں پیغام دیا کہ وہ مفاہمت کرلیں لیکن ان مذاکرات کا کوئی نتیجہ نکلا اور نہ نکلنے کا امکان ہے ۔ چنانچہ اب ڈاکٹر اشرف غنی کا مطالبہ یہ ہے کہ پاکستان، افغان طالبان کو کچلنے میں مدد کرے اور ظاہر ہے کہ ایسا کرنا پاکستان کے لئے اتنا آسان نہیں۔ مجھے خدشہ ہے کہ عنقریب افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں کے تعلقات حامد کرزئی صاحب کے آخری دور کی طرف لوٹ جائیں گے بلکہ ڈاکٹراشرف غنی اپنی داخلی ناکامیوں کا ملبہ بھی پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کریں گے ۔

افغان طالبان پر پاکستان کے اثرورسوخ کے تصورات میں پہلے بھی مبالغے کا عنصر بہت زیادہ تھااور اب بھی بعض حوالوں سے افغان حکومت کی خواہشات یا مطالبات اس مبالغہ آمیز تصور پر مبنی ہیں لیکن بدقسمتی سے میاں نوازشریف اور ان کی ٹیم نے افغان حکومت کے ساتھ وعدے اس کے ان تصورات اور مطالبات کی بنیاد پر کئے ہیں ۔ دوسری طرف گزشتہ ایک سال کے دوران افغان طالبان کیساتھ پاکستان کے تعلقات میں مزید مشکلات سامنے آئی ہیں ۔ شمالی وزیرستان آپریشن ، اچھے اور برے طالبان کے مابین تمیز نہ کرنے کے اعلانات اور افغان حکومت کے ساتھ قربت سے افغان طالبان پاکستان سے مزید شاکی ہوگئے اور بعض یہ رائے رکھتے ہیں کہ ان کے ساتھ دوبارہ بے وفائی کی گئی ۔ دوسری طرف گزشتہ دو سال کے دوران طالبان کے کئی دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات استوار ہوگئے جو کئی حوالوں سے ان کے لئے پاکستان کے متبادل بن گئے ۔ اسی طرح اس دوران طالبان کی صفوں میں ایرانی انٹیلی جنس نے اپنی لابی مزید مضبوط کردی۔ یوں اس عرصے میں نہ صرف افغان طالبان کے ساتھ پاکستان کے فاصلے بڑھ گئے بلکہ جو اثرورسوخ پہلے سے موجود تھا ، وہ بھی کم ہوگیا اور مجھے نہیں لگتا کہ افغان حکومت کے ساتھ تعلقات کی دوبارہ خرابی کی صورت میں افغان طالبان اس حد تک بھی پاکستان کے مفادات کا خیال رکھیں گے جس طرح کہ کچھ عرصہ پہلے رکھتے تھے۔

افغان حکومت کے ساتھ تعلقات میں عارضی بہتری کے بعد جنرل پرویز مشرف جیسے ہمارے بعض رہنمائوں کے حوصلے بلند ہوئے اور انہوں نے مقامی اور عالمی میڈیا میں افغان طالبان کے ساتھ روابط اور امریکہ یا افغان حکومت کے ساتھ ڈبل گیم کے اعترافات کا آغاز کیا ۔ اب ماضی میں تو صرف امریکہ اور افغان حکومت الزام لگاتے رہے لیکن اب جنرل مشرف جیسے لوگوں نے خود اپنے خلاف گواہی دے کر ان کو خاطر خواہ مواد بھی فراہم کردیا۔

افغانستا ن میں داعش کی تنظیم اندازوں کے برعکس بڑی تیزی کے ساتھ ظہورپذیر ہوئی ہے اور بعض جگہوں پر تو اس نے افغان طالبان کو بھی پوری شدت کے ساتھ چیلنج کر دیا ہے ۔ داعش کو زیادہ پذیرائی پاکستانی سرحد سے متصل علاقوں میں مل رہی ہے ۔ جہاں داعش افغان طالبان کیلئے چیلنج بن کر سامنے آ رہی ہے ، وہاں پاکستانی طالبان کے ساتھ اسکے اشتراک کار کے اشارے بھی مل رہے ہیں جبکہ شاہداللہ شاہد اور کرم ایجنسی کے ٹی ٹی پی کے امیر حافظ فضل سعید پہلے ہی ابوبکر البغدادی کی بیعت بھی کر چکے ہیں ۔جبکہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ داعش پاکستان میں اپنی تنظیم کو پھیلانے کیلئے سرگرم عمل ہو چکی ہے۔ یہ سازشی تھیوری گردش کررہی ہے کہ پاکستان سے مایوس ہوکر افغان حکومت اور نیٹو ، افغان طالبان کی قوت کو توڑنے کیلئے داعش کو خود راستہ دے رہی ہے ۔ اب اگر یہ سازشی تھیوری درست ثابت ہوتی ہے اور ایک طرف داعش اور ٹی ٹی پی میںاشتراک کار ہوتا ہے اور دوسری طرف افغانستان میں موجود پاکستان مخالف عناصر ان کا رخ پاکستان کی طرف موڑ دیتے ہیں تو اس سے مستقبل میں پاکستان کی مشکلات بہت بڑھ سکتی ہیں ۔

پاکستان نے عسکریت پسندوں کیخلاف آپریشن ضرب عضب کے تحت فوجی کارروائی تو کرلی اور کررہی ہے لیکن انتہاپسندی اور عسکریت پسندی کے روٹ کاز کو دور کرنے کیلئے کوئی بھی کام نہیں ہوا۔ نام نہاد نیشنل ایکشن پلان پر ابھی تک دو فی صد بھی عمل نہیں ہوا اور اس میں کی جانے والی باتیں صرف باتیں ثابت ہوئیں۔ نہ تو نیکٹا کا ادارہ فعال ہوا، نہ جوابی بیانیہ تخلیق ہوا، نہ تعلیمی نظام میں اصلاح کے عمل کا آغاز ہوا، نہ عدالتی نظام میں تبدیلی لائی گئی، نہ پولیس کی حالت بہتر ہوئی ، نہ قومی سلامتی کے تصورات بدلے ، نہ ہی اندرونی سلامتی پالیسی پر عمل ہوا، نہ ہی اداروں کے درمیان کوآرڈنیشن کو بہتر بنانے کے لئے کوئی میکنزم تشکیل دیاگیااور نہ ہی افغانستان کے ساتھ بارڈرمینجمنٹ کے حوالے سے کوئی ٹھوس پیش رفت ہوئی۔ ایک سال قبل مذکورہ موضوعات سے متعلق سیاسی محاذ پر جو مصنوعی ہم آہنگی پیدا ہوئی تھی، اب وہ بھی موجود نہیں ہے جبکہ فوج اور قومی سلامتی کےاداروں کے محاذ بھی بہت بڑھ گئے ہیں۔

ان حالات میں اگر مغربی سرحد سے پرانے اور نئے خطرات ایک ساتھ سراٹھالیں تو بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہماری مشکلات کس قدر بڑھیں گی۔ المیہ یہ ہے کہ مجھے پاکستان کے اندر ان ممکنہ خطرات یا خدشات کا احساس نظر آتا ہے اور نہ ان کے مقابلے کے لئے کوئی تیاری نظر آتی ہے ۔ بلکہ سچ پوچھیں تو یہ ایشوز وزیراعظم صاحب کی ترجیحات میں شامل ہیں اور نہ ان کی نااہل ٹیم کے پاس ان چیزوں کے بارے میں سوچنے کا وقت ہے ۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.