.

خواجہ کو ہٹایا جائے

رضوان رضی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ روز پاکستان آرمی کی خصوصی ٹرین کو پیش آنے والا ریلوے کا حادثہ پورے پاکستان کی فضا کو سوگوار کرنے کے علاوہ بہت سے سوالات کو جنم دے گیا۔ اس حادثے کی تفصیلات تو آپ نے اخبارات میں پڑھ ہی لی ہوں گی ، لیکن کچھ لوگ حادثے کی شام سے سکور برابر کرنے میں مشغول ہیں۔ اور مطالبہ کر رہے ہیں خواجہ سعد رفیق ریلوے وزارت سے استعفیٰ دی دیں ۔ کچھ اینکر حضرات نے تو اس دن اپنے اپنے پروگرام بھی ریلوے کے نام کر دئیے، اور ہونا بھی چاہیے تھا کہ خواجہ صاحب صرف حامد میر کو لے کر ٹرین کی سیر کروا لائے اور ہم جیسوں کو ابھی تک منہ بھی نہیں لگایا۔

ان مطالبوں پر مشتمل ایک بھرپور اور منظم مہم سوشل میڈیا پر بھی چلا ئی گئی۔ ظاہر ہے ایسے ہر شخص کو جو اس سڑے بسے اور شکستہ نظام میں کچھ نہ کچھ کام کرنے کی کوشش کر رہا ہو، اسے توپ کے آگے باندھ کر اڑا دینا چاہیے۔ کہ جب یہ نظام اپنے ہی وزن کے نیچے آ کر گرے گا تو ہمیں نیا پاکستان بنانے کے لئے خالی زمین دستیاب ہو گی۔ ریلوے ویسے بھی کسی ایسے شخص کے پاس ہونی چاہیے جس کا اپنا ٹرکوں کو بزنس ہو اور وہ افغانستان میں گھسی امریکی اور نیٹو افواج کو سامان پہنچانے کا ٹھیکہ لے کر یہ نیک فریضہ انجام دے ۔ ویسے بھی ریلوے لائن کو طورخم سے جلال آباد اور چمن سے قندھار تک لے جانے کی بات کرنے والا بندہ تو ہمارے سسٹم میں فٹ نہیں بیٹھتا۔ لیکن اب کیا کریں؟ وہ کیا ہے کہ اب افغانستان سے ’’گلشن کا کاروبار ‘‘ ختم ہونے کے بعد جن پارٹیوں نے ہزاروں نئے ٹرک ان حملہ آور فوجوں کی مال برداری کے لیے خریدے تھے ، تو کیا اب وہ بے کار کر کے کھڑے کر دئیے جائیں ؟ ان بڑے بڑے ٹرکوں اور ٹرالروں کا کیا کریں ؟

اوپر سے اسی خواجہ سعد رفیق نے نہ صرف پورے ملک میں مال گاڑیاں چلانے کے لئے امریکہ کی جنرل الیکٹرک کمپنی سے 65 بڑے یعنی 4000-4500 ہارس پاور والے انجن خریدنے کا معاہدہ بھی کر لیا ہے، اب یہ مال گاڑیاں چلیں گی اور ملک کے طول و عرض میں دوڑنے والے ہمارے بائیس پہیوں والے ٹرالر تو بے کار ہو جائیں گے۔ امریکہ سے ان انجنوں کی درآمد سے پہلے اس شخص کو ہٹا دینا چاہیے اور اگر ایسا نہ ہو سکے تو اس کو اتنا گندا کر دیں کہ یہ بھی ریلوے کا راجہ رینٹل قرار پاجائے۔

ہمیں یہ مہم اس لئے بھی منظم لگی کہ اس حادثے سے ایک دن پہلے آڈیٹر جنرل کی سال 2013-14ء کی رپورٹ صدرِ مملکت کو پیش کرنے سے پہلے میڈیا کو ’’پیش‘‘ کی گئی ۔ اس رپورٹ میں پاکستان ریلوے میں ہونے والے بدعنوانیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے افسرا ن کو ریلوے کی موجودہ حالت کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ ظاہر ہے یہ بدعنوانی ایک سال میں تو نہیں ہوئی تھی۔ اور جن صاحبان کی سستی اور نا اہلی کا رونا اس رپورٹ میں رویا گیا تھا اس میں کوئی بھی وزیر صاحب کی پھپھی کا پتر تو نہیں ہے، سارے ان کو گذشتہ حکومت سے جہیز سے ملے تھے لیکن مطالبہ کرنے سے مجھے کون روک سکتا ہے۔

یاد رہے کہ تقسیمِ پاکستان کے وقت برصغیر کی ریلوے کا نوے فی صد نظام اس وقت کے پاکستان کے حصے میں آیا تھا، ظاہر ہے انگریز نے اسی علاقے میں ریلوے بچھایا تھا جہاں سے اسے خام مال اور معدنیات لے کر واپس انگلستان جانا ہوتا تھا اور اس حوالے سے تو پنجاب اور کے پی کے کا کچھ حصہ ہی منزل ہو سکتی تھی ۔

یادش بخیر برصغیر میں سب سے پہلا ریلوے ٹریک کراچی سے حیدرآباد بچھایا گیا تھا کیوں کہ اُس وقت بھی کوٹری سے نیچے پانی کا بہاؤ، صرف سیلاب کے تین ہفتوں کے دوران ہی ایسا ہوا کرتا تھا کہ دخانی جہاز اور بڑی کشتیاں چل سکیں، اس لئے گورے کے جہاز سمندر سے اباسین کے راستے ملتان تک روئی لینے نہیں آ سکتے تھے۔ تاریخ میں دریائے اباسین (دریاوں کے باپ) کے نام سے جانے والے اس دریا کو بعد میں ایک تاریخی بددیانتی کر کے ایک صوبے کے نام سے موسوم کر دیا گیا اور اب وہاں کے لوگ اینٹھ کر کہتے ہیں کہ اس دریا پر ان کا حق ہے۔ دیکھیں یہ تاریخی بد دیانتی کب درست ہوتی ہے؟

خیر گورا اپنا مال دریا ئے اباسین کے راستے کوٹری تک لے جاتا ،وہاں سے پھر خشکی کے راستے کراچی تک پہنچاتا اور وہاں سے برطانیہ جانے والے بحری جہازوں پر لادا جاتا تا کہ وہ ہماری خام مال کی پراڈکٹ بنا کر ہمیں مہنگے داموں فروخت کر سکے۔ یہی حال باقی کے خام مال کا بھی تھا۔لیکن یہ ابتدائی ٹریک خالصتاً تجارتی مال کے لئے تھا اس لئے آپ کو کراچی سے حیدرآباد تک بہت کم ریلوے اسٹیشن نظر آتے ہیں۔

بات سے بات نکلی ہے تو یہ بھی بتاتے چلیں کہ برصغیر میں سب سے پہلے مسافروں کے لئے ٹرین لاہور اور امرتسر کے درمیان چلائی گئی تھی کیوں کہ ابتدائی سروے میں برصغیر کے کسی اور حصے میں مسافروں کی کم تعداد کے باعث اس کی اکنامک فیزیبیلیٹی نہیں نکلی تھی۔ اور یوں لاہور کا یہ ریلوے اسٹیشن برصغیر کے قدیم ترین ریلوے عمارتوں میں شمار ہوتا ہے ۔ لاہور ریلوے اسٹیشن کی عمارت بنانے کی رسمی اجازت اس وقت کے لاہور کے مغل حکمران محمد سلطان چغتائی سے لی گئی، کیوں کہ اگرچہ اس وقت مغلوں کے اقتدار کے آخری ایام ہی سہی لیکن بہرحال قانونی حکمران تو وہی تھے اور گورا قانون کی پاسداری بہرحال کرتا تھا۔ اس اجازت کی قیمت مغل حکومت کو کچھ یوں چکانا پڑی کہ اس عمارت پر آنے والی تعمیر کی رقم یعنی پانچ لاکھ روپے سکہ رائج الوقت بھی چغتائی صاحب کوہی ادا کرنا پڑے۔ یاد رہے کہ اُس وقت ایک روپے کے چھ ڈالر آتے تھے۔ اب آپ سمجھ گئے ہو ں گے کہ یہ اجازت کیوں لی گئی تھی۔

پاکستان بننے کے بعد بھارت نے ریلوے کو بنانے اور ہم نے ریلوے کو اکھاڑنے کا سلسلہ شروع کیا ۔ یہی وجہ تھی کہ بھارت دنیا میں ریلوے کے سب سے بڑا نظام کھڑا کرنے میں کامیاب ہو گیا اور ہمیں اسی نظام کو سنبھالنا ہی مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ قیامِ پاکستان کے بعد جب بھی پنجاب کے علاوہ کسی دوسرے صوبے کے وزیر کو اس وزارت کا قلم دان دیا گیا تو اس نے ریلوے کا ستر فی صد سے زائد اثاثہ جات پنجاب میں آنے کے باوصف ریلوے کا بیڑہ غرق کرنے کو اپنا ملی اور قومی فریضہ جانا، نہیں یقین تو حال ہی میں سابق ہونے والے اے این پی کے وزیر صاحب کے دور کو ہی دیکھ لیں کہ کس طرح انہوں نے ریلوے کا بیڑہ غرق کیا اور ایک سندھی حکومت نے ان کو یہ کرنے کا پورا پورا موقع فراہم کیا۔اس وقت جس طرح برق رسانی کے نظام کو جدید دور سے ہم آہنگ کرنے کے لئے کم از کم دو ہزار ارب روپے درکار ہیں تو کچھ اتنی ہی رقم کی ریلوے کو بھی ضرورت ہے جو ہمارے پاس تو نہیں ہے۔

ریلوے کے ایک قومی ادارہ ہونے کے باوجود آج بھی آپ کو اس کے اعلیٰ عہدوں پر وہ لوگ مسلط نظر آتے ہیں جن کو ریلوے میں تقرری کے نامے انجنئیرنگ کالج پشاور میں سال سوم میں زیرِ تعلیم ہونے کے دوران ہی مل گئے تھے ۔ ہوا تو واپڈا میں یہی کچھ تھا ، (جناب غلام اسحٰق کو اللہ تعالیٰ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے)لیکن اگر ہم یہ کہہ دیں تو ہم پر پنجابی ذہنیت اور پنجابی شاونزم کا الزام لگ جائے گااور صاحب زادہ شاہد آفریدی صاحب جیسے قومی ہیرو بھی اپنے ان نفرت زدہ الفاظ کو نہیں روک نہیں پائیں گے بھلے عمران خان کی طرح بعد میں معافی ہی کیوں نہ مانگنی پڑے۔یاد رہے کہ پشتون بیوروکریسی کے بابا جی ، جناب غلام اسحق صاحب نے ضیاء دور میں ریلوے کے مائیکرو ویو سسٹم کا معاہدہ ادھورا چھوڑ کر بھاگنے والی کمپنی کو اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ، واہگہ (بھارت )کے راستے اپنا سارا سازو سامان نکال لے جانے کی اجازت تھی۔

ابھی ریلوے میں کوئی بہتری نہیں آئی بلکہ ابھی تو وہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کی تگ و دو ہی کر رہی ہے لیکن کچھ دلوں میں یہ خوف تو ہے ناں کہ:
یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہِ کامل نہ بن جائے

اس لئے یہ ضروری ہے کہ خواجہ سعد رفیق کو ریلوے کی وزارت سے ہٹانے کی بات کی جائے ، اور ویسے بھی خواجہ صاحب سے ہمارا دورِ طالب علمی کا بیر ہے۔ جس وقت ایم ایس ایف کا ایم اے او کالج پر قبضہ تھا اور یہ اس طلبہ تنظیم کے لیڈر ہوا کرتے تھے تو اس دور میں ایک دفعہ اس کالج کے باہر سے گذرنے والی ایک ویگن کے ڈرائیور سے کالج کے باہر کھڑے کچھ طلبہ نے جسمانی اور مالی تشدد کیا تھا ، اس لئے ہمارا بھی یہ حق بنتا ہے کہ ہم بھی ان کے خلاف زہر اگلیں کیوں کہ موصوف نے ابھی تک ہمیں فیملی سمیت گرین ایکسپریس ٹرین کا کراچی کا مفت پھیرا بھی نہیں لگوایا۔ اس لئے میرا بھی یہ شدید مطالبہ ہے کہ خواجہ سعد رفیق کو ریلوے کی وزارت سے ہٹا دیا جائے اور ان کی جگہ خواجہ آصف جیسے کسی بندے کو لگا دیا جائے، جو کہ نہ صرف بجلی بنانے میں بخیل ثابت ہوبلکہ وہ اس طرح کی کوئی حرکت خود بھی نہ کرے اور اگر کوئی دوسرا بھی ایسا کرنے کی کوشش کرے تو اس کی ٹانگیں کھینچے اور ہر سا ل بڑی ڈھٹائی سے لوڈشیڈنگ پر قوم سے معافی مانگ کر سُرخرو بھی ہو جائے ۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.