.

ترکی میں ماہ رمضان

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی عالم اسلام میں ایک ایسا ملک ہے جہاں کبھی بھی ماہ رمضان اور عید کے چاند کے نظر آنے یا نہ آنے کا مسئلہ کھڑا نہیں ہوا بلکہ کئی دہائیوں قبل ہی سائنس اور علم فلکیات کی مدد سے اس مسئلے کو حل کرلیا گیا اور موجودہ دور میں کمپیوٹر اور سوفٹ وئیر نے بھی ترکی کے اس نظام کو سو فیصد درست قرار دیتےہوئے اس پر اپنی مہر ثبت کردی ہے۔ اگر علم فلکیات کے تمام اصولوں کا خیال رکھتے ہوئے چاند کے نظر آنے یا نہ آنے کا حساب لگایا جائے تو اس میں سکینڈوں کی بھی غلطی کا کوئی احتمال موجود نہیں رہتا بلکہ چاند کے کس مقام پر کس وقت صاف اور واضح نظر آنے کی بھی اطلاع فراہم کردی جاتی ہے یعنی ماہ رمضان اور عید کے چاند کو وقت سے پہلے ہی حساب کتاب کے ذریعے نظر آنے کے بارے میں آگاہ کر دیا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں اب بھی دقیانوسی طریقوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے چاند کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

میں آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ہم کیونکر چاند کو صرف برہنہ آنکھوں ہی سے دیکھنے پر مجبور ہیں؟ اگر چاند دیکھنے کے وقت موسم ابر آلود ہو تو چاند کو ان حالات میں دیکھنا ممکن ہے؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر ہم کیوں نہیں سائنٹفک طریقہ استعمال کرتے ہوئے اس مسئلے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حل کرلیتے جیسا کہ ترکی نے حل کیا ہے ۔ ترکی نے اس مسئلے کو چاند کی زمین کے گرد گردش کی کیلکولیشن کرتے ہوئے ہی حل کیا ہے۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں قمری کلینڈر جسے ہم ہجری یا اسلامی کلینڈر کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں، زمین کے گرد چاند کی گردش پر مبنی ہے۔ دو مکمل چاندوں کے درمیان 29.5 دن کا وقفہ ہوتا ہے۔ جب چاند زمین اور سورج کے عین درمیان آجاتا ہے، تو اسے چاند کی پیدائش (Conjunction) کہتے ہیں۔چاند کی پیدائش کے وقت اس پر پڑنے والی سورج کی تمام روشنی واپس منعکس ہوجاتی ہے، اور زمین تک نہیں پہنچ پاتی، اسی لئے اپنی پیدائش کے وقت چاند زمین پر رہنے والے لوگوں کو نظر نہیں آتا، اور مکمل طور پر سیاہ ہوتا ہے۔ چاند کی پیدائش کے بعد گزرنے والا وقت ’’چاند کی عمر‘‘ کہلاتا ہے۔ پیدائش کے بعد چاند اپنے مدار میں آگے کی جانب سفر شروع کرتا ہے، چنانچہ زمین سے دیکھنے پر سورج اور چاند کے درمیان فرق زاویہ (elongation) بڑھنے لگتا ہے۔

چونکہ چاند کا مدار گول کے بجائے بیضوی ہے، اس لئے سال کے مختلف حصوں میں اس کی رفتار مختلف ہوتی ہے، لہٰذا یہ زاویہ بھی مختلف شرح سے بڑھتا ہے۔ جیسے جیسے یہ زاویہ 0 ڈگری سے بڑھنے لگتا ہے، تو چاند ہلال کی شکل اختیار کرنا شروع کردیتا ہے۔ برہنہ آنکھ سے چاند دیکھنے کے لئے سورج اور چاند کے درمیان زاویہ کم از کم 10.5 ڈگری ہونا چاہئے۔ اتنا زاویہ حاصل کرنے کے لئے چاند کو اپنی پیدائش کے بعد 17 سے 24 گھنٹے تک لگ سکتے ہیں۔ لہٰذا چاند نظر آنے کے لئے بنیادی شرط اس کی عمر نہیں، بلکہ زاویہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ جس علاقے میں یہ زاویہ 10.5 سےاوپر ہوگا وہاں چاند نظر آنے کے زیادہ امکانات ہونگے۔ اس طرح ہم کیلکولیشن کرتے ہوئے یا سوفٹ وئیر کے ذریعے چاند کب اور کہاں نظر آنے کا وقت سے پہلے ہی حساب لگا سکتے ہیں اور یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ غروبِ آفتاب کے بعد چاند کتنی دیر تک اُفق پر موجود رہے گا اور نظر آتا رہے گا۔

ہمارے ہاں ایک اور غلط فہمی پائی جاتی ہےکہ اگر چاند موٹا ہے تو اس کے بارے میں کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ دوسرے دن کا چاند ہے حالانکہ ایسا نہیں ہوتا ہے کیونکہ چاند کی عمر 17 گھنٹے سے کم ہے تو اس کے نظر آنے کے امکانات بہت کم ہیں لیکن جیسے جیسے یہ وقت گزرتا چلا جاتا ہے تو اس کے دیکھنے کے امکانات بھی بڑھتے چلے جاتے ہیں تو ظاہر ہے اس وقت اس کی عمر سترہ گھنٹوں سے زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کے موٹاپے میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ موجودہ دور میں علم فلکیات کی مدد سے ہم چاند کی ولادت کا درست وقت سیکنڈز کی حد تک بتاسکتے ہیں، اور اس کے نظر آنے یا نہ آنے کے امکانات بھی جان سکتے ہیں۔ تر کی نے سائنس کے ان ہی اصولوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے کئی دہائیوں سے اس نظام پر عمل درآمد کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ سوفٹ وئیر اورکمپیوٹرز نے بھی ترکی کے اس نظام کے سو فیصد درست ہونے کو تسلیم کیا ہے۔

ترکی کے محکمہ مذہبی امور ( جوکہ پاکستان کی وزارتِ مذہبی امور کےمساوی ہے ) نے تمام اسلامی ممالک سے اس نظام کو اپنانے کی اپیل بھی کی ہے۔ اس موضوع کے بارے میں راقم سے باتیں کرتے ہوئے محکمہ مذہبی امور کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر مہمت گیو رمیز نے کہا تھا کہ ترکی نے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل ہونے کے دور میں اس نظام کو متعارف کروانے کی تجویز پیش کی تھی اور او آئی سی نے اس کا تمام پہلوؤں سے جائزہ لینے اور عملدرآمد کروانے کے بارے میں آگاہ بھی کیا تھا لیکن اس نظام پرتمام اسلامی ممالک کی جانب سے عملدرآمد نہیں کیا جاسکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی کئی ایک وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن سب سے اہم وجہ اسلامی ممالک کا سائنٹفک طریقہ کار پر عملدرآمد کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرنا ہے جیسا کہ پریس کو عالم اسلام میں متعارف کروانے کیلئے بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسی طرح ابتدا میں لائوڈ اسپیکر کو علما نے استعمال کرنے سے گریز کیا تھا۔اسی طرح کی مشکلات کا سامنا ہمیں سائنٹفک طریقے سے چاند کے نظرآنے یا نہ آنے کے حوالے سے بھی کرنا پڑرہا ہے لیکن کمپیوٹر اور سوفٹ وئیر نے اب علما ءکو اس جانب راغب کرنا شروع کردیا ہے۔ جیسے جیسے ریسرچ علما ءکی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جائیگا، چاند کو دیکھنے کے سائنٹفک نظام کو بھی متعارف کروانے میں کامیابی حاصل ہوتی چلی جائے گی۔ قارئین اب نگاہ ڈالتے ہیں ترکی میں ماہ رمضان کی سرگرمیوں پر۔ ترکی میں گزشتہ چند سالوں سے ماہ رمضان کی سرگرمیوں میں بے حد اضافہ دیکھا گیا ہے کیونکہ اس سے قبل سیکولر حلقوں نے ماہ رمضان کی سرگرمیوں کو نظر انداز کررکھا تھا حالانکہ سلطنت عثمانیہ کے دور میں رات بھر یعنی سحری کے وقت تک ان سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔سلطنت عثمانیہ کے اُس دور کی روایات پر عملدرآمد کرتے ہوئے افطار کے وقت تمام مساجد کی بتیاں روشن کردی جاتی ہیں اور خاص طور پر دو میناروں والی مسجد کے دونوں میناروں کے درمیان لگائی جانے والی بتیاں جنہیں فارسی اور ترکی زبان میں ’’ماہیا ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے پوری آب و تاب سے چمک رہی ہوتی ہیں۔

ملک کے مختلف شہروں کے بلدیاتی اداروں کی جانب سے افطاری اور کھانے کے ٹینٹ لگائے جاتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے انقرہ ہی کے علاقے’’کے چی اؤرین‘‘ کی بلدیہ کے چیئرمین مصطفیٰ آق جنہوں نے گزشتہ چھ سالوں سے اسلامی ممالک کیلئے افطاری اور ثقافتی سرگرمیوں کو پیش کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے کی جانب سے افطار پارٹی دی گئی جس میں سفیر ِ پاکستان سہیل محمود ان کے اسٹاف اور پاکستانی طلبا نے اس تقریب میں بھرپور طریقے سے شرکت کی۔ ’’کے چی اؤرین بلدیہ‘‘ کے میدان میں پاکستان کے اسٹال لگانے کے علاوہ ثقافتی شو جسے’’ پاکستان نائٹ‘‘ کا نام دیا گیا تھا کا بھی اہتمام کیا گیا۔ اسٹال میں پاکستان کے دستکاری کے نمونے پیش کئے گئے اور اسٹال کے سامنے واکس ویگن کار جس پر ’’ ٹرک آرٹ‘‘ کا کام کیا گیا تھا سب کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ ثقافتی تقریب مئیر مصطفیٰ آق، ترک پارلیمنٹ میں پاک ترک دوستانہ گروپ کے چیئرمین برہان قایا ترک اور سفیر پاکستان جناب سہیل محمود نے اپنے اپنے خطاب میں دونوں ممالک کے درمیان فروغ پانے والے ثقافتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے اس دوستی کے ہمیشہ قائم رہنے کی تمنا ظاہر کی۔

نعت شریف پڑھنے کے بعد صوفیانہ کلام پیش کیا گیا اور اسکے بعد پاکستانی طلبا نےعلاقائی ملبوسات زیب تن کرتے ہوئے پاکستان کے علاقائی نغموں اور علاقائی رقص پیش کیا جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.