.

القدس میں گزارے صدیوں پر محیط لمحے

انجم نیاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ یروشلم کے پرانے حصے میں 0.9 مربع کلومیٹر جگہ کو مسلمان القدس یا بیت المقدس کہتے ہیں۔ اس مقام کو یہودی ٹمپل ماؤنٹ (جبل الکنیسہ) قرار دیتے ہیں۔ یہ مقام تینوں الہامی مذاہب کے لیے مقدس ہے۔ اس جگہ یہودیوں کا ٹمپل (کنیسہ) تعمیر کیا گیا تھا ۔ عیسائی روایات کے مطابق مسیح علیہ السلام کی صلیب پر شہادت بھی اسی جگہ ہوئی تھی۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اسی مقام سے رسول اکرم معراج شریف لے گئے تھے ۔ چونکہ مسلمان تمام انبیاء علیہ السلام کا احترام کرتے ہیں اور کسی ایک کا بھی انکار نہیں کرتے بلکہ ان میں کوئی فرق نہیں روا رکھتے لہذا مسلمانوں کیلئے تو تینوں مقامات ہی مقدس ہیں۔

جیسا کہ میں نے گزشتہ کالم میں ذکر کیا تھا کہ مجھے اس مقام پر حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ عام پاکستانی یہاں نہیں جا سکتے کیونکہ پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل جانا ممکن نہیں۔ پہلے میں نے قبۃ الصخریٰ پر دعائیں کیں۔ یہ مقام بھی حرم شریف کہلاتا ہے اور اسی جگہ سے پیغمبر ﷺ نے اپنے آسمانی سفر پر وانہ ہوئے تھے۔ روایات کے مطابق اس سے پہلے آپﷺ نے مسجد اقصیٰ میں پیغمبروں کی نماز کی امامت کرائی تھی۔ مسجد اقصی اسلام کی تیسری مقدس ترین مسجد ہے۔

یہاں دعائیں کرنے کے بعد میں یہودیوں کے حصے میں دیوار گریہ کے پاس گئی۔ میں نے ایک سیاح سے پوچھا اسے دیوار گریہ کیوں کہتے ہیں تو اس نے جواب دیا کہ صدیوں پہلے یہاں یہودیون کا حضرت سلیمان علیہ السلام کا تعمیر کردہ ہیکل سلیمانی تھا۔ اسے پہلے بابل اور پھر رومن افواج نے تباہ کر دیا تھا۔ بس اسکی مغربی دیوار باقی رہ گئی ۔ صدیوں سے یہودی یہاں آ کر اپنے پیغمبر کی بنائی ہوئی عبادت گاہوں کی یاد میں گریہ زاری کرتے ہیں۔ قریب ہی کھڑے ایک اور یہودی ہماری باتیں سن رہے تھے۔ انہوں نے کہا ۔ ہم ہر سال اگست میں اپنی مقدس عبادت گاہوں کی تباہی کی یاد تازہ کرنے کے لیے روزے رکھتےہیں، شب بیداری اور عبادت کرتے ہیں۔ جب میں دیوار کے قریب گئی تو میں نے کچھ آدمیوں اور عورتوں کو دیکھا جو لکھی ہوئی دعائیں دیوار کے سوراخوں میں رکھ رہے تھے۔ ہر طرف پرسکون ماحول تھا۔

یروشلم کی ایک رہائشی خاتون نے مجھے بتایا کہ وہ یہاں آ کر اپنی دعاؤں کی تمام کتاب پڑھی ہے۔ کچھ قدامت پسند یہودی دعائیں پڑھتے ہوئے وجدانی کیفیت میں جھوم رہے تھے۔ جس طرح مسجد اقصی میں نماز جمعہ ادا کی جاتی ہے اور اس میں نمازیوں کا بہت زیادہ رش ہوتا ہے، اسی طرح اس مغربی دیوار کے پاس یوم السبت کی دعائیہ تقریبات ہوتی ہیں۔ عبرانی زبان مین سبت کا مطلب آرام ہوتا ہے۔ جمعے کا سورج غروب ہونے اور ہفتے کی رات آسمان پر تین ستاروں کے نمودار ہونے تک وہ السبت مناتے ہیں۔ رات کو موم بتیاں روشن کی جاتی ہیں اور عبادت کی جاتی ہے۔

موجودہ دور میں القدس کا کنٹرول اسلامی ٹرسٹ کے پاس ہے جس کی سرپرستی اردن کرتا ہے۔ بظاہر اس مقام پر کسی تنازع کا امکان دکھائی نہیں دیتا کیونکہ تینوں مذاہب کے ماننے والے اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کر سکتے ہیں، تاہم انتہا پسند یہودیوں کا دعوی ہے کہ جس جگہ آج قبۃ الصخریٰ اور مسجد اقصی واقع ہیں، اسی جگہ پہلے یہودیوں کی دو عبادت گاہیں تھیں، وہ انہیں گرا کر تیسرا کنیسہ تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس لیے زمین کا یہ ٹکڑا مذاہب کا جائے اتصال بننے کی بجائے لڑائی کا باعث رہا ہے۔

1948ء میں ہونے والی عرب اسرائیل جنگ کے دوران یہ دیوار اردن کے کنٹرول میں آ گئی تھی ۔ اردن کے بانی فرمانروا شاہ عبداللہ نے یہودیوں کے اگلے انیس سال تک دیوار گریہ کے پاس آنے کی اجازت نہ دی تھی، یہاں تک کہ اسرائیل نے 1967ء میں پرانے شہر پر قبضہ کر لیا۔ اگلے تین دن کے اندر اندر انکی بھاری بھرکم مشینری نے 770 سال پرانی مراکشی طرز تعمیر کی بنی ہوئی عمارتوں کو گرا دیا تاکہ مغربی دیوار کی طرف آنے والی گلیوں کو وسیع کیا جا سکے۔ جب میں اس دیوار کی طرف جا رہی تھی تو عرب اسرائیل کشمکش کی تمام تاریخ میری نگاہوں میں گھوم رہی تھی۔ میں نے بھی وہاں جا کر عالمی امن، خاص طور پر اس خطے کے امن و استحکام کی دعا کی۔

اس وقت تک سورج غروب ہو چکا تھا، ہوا میں قدرے خنکی تھی اور میں آہستہ آہستہ چلتی ہوئی عیسائیوں کے حصے کی طرف گئی۔ یہاں عیسائیوں کا مقدس ترین چرچ، Holy Sepulchre واقع تھا۔ انکی روایات کے مطابق اس مقام پر مسیح علیہ السلام کو مصلوب کیا گیا تھا۔ داخلی راستے پر Stone of Anointing نامی سنگ مرمر کی ایک سل نصب تھی۔ میں نے دیکھا کہ زائرین اسکے پاس جا کر گھٹنوں کے بل جھک کر اسے چوم رہے تھے ۔ عیسائی عقیدے کے مطابق مسیح علیہ السلام کے مقدس جسم کو دفن کرنے سے قبل مرمر کی اس سل پر رکھا گیا تھا۔ میں مدہم روشنی والی راہداریوں میں، جو مختلف تبرکات سے سجی ہوئی تھیں، چلتی رہی۔ انکا راستہ بہت ہی پیچ و خم والا تھا۔ مجھے خدشہ محسوس ہوا کہ میں واپسی کا راستہ بھول جاؤں گی لیکن پھر اچانک میں نے خود کو دروازے کے پاس پایا اور میں خوش ہو گئی۔

اس وقت تک مکمل اندھیرا چھا چکا تھا۔ چلتے چلتے میرے پاؤں دکھنے لگے تھے لیکن ایک وجدانی احساس میری ہمت بڑھا رہا تھا ۔ ایسا لگتا تھا کہ میں لاکھوں افراد کے جلو مین صدیوں کا سفر کر رہی ہوں۔ وقت کی دھند سمٹ رہی تھی اور قدیم دور میری نگاہوں کے سامنے تھا۔ میرے سامنے لاکھوں مسلمان، عیسائی اور یہودی تھے اور وہ ایک خدا کے لیے لڑ رہے تھے اور ایک دوسرے کا اپنے اپنے عقیدے کے مطابق خود بہا رہے تھے۔ شاید اس مقدس سرزمین کو سرخی کی زیادہ ضرورت تھی۔

دل میں بہت سے سوالات تھے، لیکن میرے پاس ان سوالات کا کوئی جواب نہ تھا۔ خدا نے 0.9 مربع کلومیٹر کے مختصر سے علاقے کو اتنی تقدیس کیوں دی کہ تینوں الہامی مذاہب کے پیروکار اس پر حق جتانے کیلئے ایک دوسرے کے گلے کاٹتے رہیں؟ صلیبی جنگوں کے دور نے ان مقامات پر انتہائی خونریزی دیکھی ہوئی ہے۔ آج کے جدید دور میں بھی تہذیب یافتہ انسان کسی سمجھوتے پر پہنچنے سے قاصر ہیں۔ ایک بات طے ہے کہ اس جگہ پر ضرور کچھ نہ کچھ ہے اور یہاں چلتے ہوئے عام گناہ گار انسانوں کو بھی اس کا شدت سے احساس ہو جاتا ہے۔

میں قدیم شہر میں چلتی رہی۔ اس کے ارد گرد چالیس فٹ بلند چونے کے پتھر کی بنی ہوئی دیوار ہے۔ یہ دیوار شاید صدیوں پرانی ہے لیکن ابھی بھی پرشکوہ دکھائی دیتی ہے۔ اس دیوات میں سات دروازے ہیں اور ان میں سے کسی ایک سے گزر کر آپ کو اندر آنا ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے حصے میں دکانوں پر کھجوریں، عرب علاقوں کی روایتی مٹھائیاں ، جائے نماز، تسبیحیں، عربی کافی، فروٹ جوس اور سنیک مل جاتے ہیں۔ یہاں کچھ رہائشی کوارٹرز بنے ہوئے ہیں۔یہاں چلتے ہوئے مجھے ایک نوعمر لڑکی دکھائی دی۔ اس نے مجھے اپنے گھر آنے کا کہا۔ وہ صرف عربی بول سکتی تھی لیکن میں اسکے ہاتھ کا اشارہ سمجھ گئی۔ میں نے گھر کے اندر جھانکا تو کچھ خواتین ڈنر تیار کر رہی تھیں۔ وہ مجھے مل کر بہت خوش ہوئیں اور انھوں نے مجھے رات بھر ٹھہرنے کی دعوت دے دی۔ تاہم میں نے انکا شکریہ ادا کیا اور واپس ہوٹل کی طرف چل دی۔ باہر اسرائیلی پولیس کے مسلح سپاہی گشت کر رہے تھے۔ ہوا میں خنکی کافی بڑھ چکی تھی۔ میں نے عشاء کی اذان سنی۔ فضا میں اللہ اکبر کی صدا سن کر طبیعت میں انشراح صدر یعنی روحانی سکون کی عجیب کیفیت محسوس ہوئی۔ اسرائیلی سرزمین پر اللہ کی عظمت کا اعلان ہورہا تھا۔

بہ شکریہ روزنامہ دنیا

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.