.

نئی سیاسی جماعت اور نیب

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان ایک سچے اور دیانت دار سیاستدان کی جدوجہد کا نتیجہ ہے لیکن افسوس کہ آج کے پاکستان میں سیاست کو جھوٹ اور کرپشن کا دوسرا نام بنا دیا گیا ہے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کی طرف سے سپریم کورٹ میں ڈیڑھ سو میگا کرپشن کیسز کی ایک فہرست پیش کی گئی ہے جس نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ اس تہلکے کی لرزش سے صرف وزیراعظم ہائوس اسلام آباد اور وزیراعلیٰ ہائوس لاہور نہیں بلکہ زرداری ہائوس بھی کانپ اٹھا ہے۔ سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اورراجہ پرویز اشرف کے چہروں پر کچھ مسکراہٹ آگئی ہے کیونکہ نیب کی فہرست میں اسحاق ڈار، چوہدری شجاعت حسین، آفتاب شیر پائو اورکچھ دیگر سیاستدانوں کے نام بھی شامل ہیں۔ نوازشریف اورآصف زرداری کے خلاف جن زیر تفتیش مقدمات کو فہرست میں شامل کیا گیا ہے یہ مقدمات پرویز مشرف کے دوراقتدار میں قائم کئے گئے تھے اور مشرف صاحب اپنے آٹھ نو سالہ دور اقتدار میں کچھ بھی ثابت نہ کرسکے۔

سپریم کورٹ میں نیب کی پیش کردہ فہرست نے بہت سے سوالات پیدا کئے ہیں کیونکہ اس فہرست میں کچھ اہم غیر سیاسی شخصیات کے نام شامل نہیں جن کے خلاف نیب کی انکوائریاں ابھی مکمل نہیں ہوئیں۔ مشرف دور میں نیب کے ایک چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز نے شوگر مافیا کے خلاف انکوائری شروع کی تھی جس میں اس وقت کی حکومت کے کچھ طاقتور وفاقی وزراء کے نام بھی آگئے تھے۔ مشرف صاحب نے یہ انکوائری خود بند کرا دی تھی۔ یہ وفاقی وزراء اب مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف اور کچھ دیگر جماعتوں کی سیر کررہے ہیں۔ سیر ختم ہو جائے گی تو یہ کسی اور جماعت کی طرف نکل جائینگے۔ آج کل یہ وزیر نہیں ہیں لیکن ان کا نام کسی فہرست میں نہیں آیا کیونکہ ان میں سے کچھ صاحبان خاموشی سے ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

سپریم کورٹ میں پیش کی گئی فہرست میں پاکستان اسٹیل مل میں کرپشن کا مقدمہ بھی شامل نہیں۔ اس مقدمے کو سپریم کورٹ کےحکم پر ایف آئی اے سے نیب کو منتقل کیا گیا۔ جب مقدمہ قائم ہوا تو اسٹیل مل کا سالانہ نقصان 100 ارب روپے سے بھی کم تھا۔ اب یہ نقصان 300 ارب روپے سالانہ سے تجاوز کر چکا ہے۔ نیب کی نااہلی کے باعث اس مقدمے کی انکوائری تین سال میں مکمل نہ ہو سکی۔ نیب نے اپنی نااہلی اور کچھ طاقتور لوگوں کے ساتھ ملی بھگت کو چھپا لیا ہے البتہ کئی سیاستدانوں کے نام فہرست میں شامل کر دیئے ہیں کیونکہ نیب میں مشرف دور میں ایسے بہت سے ’’محب وطن‘‘ تفتیش کاروں کو تعینات کیا گیا تھا جو ہر برائی کی جڑ صرف سیاستدانوں کو سمجھتے ہیں۔ ان سیاستدانوں کے خلاف مالی کرپشن اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات کی تحقیقات ضرور ہونی چاہئیں لیکن نیب قوم کو یہ بھی تو بتائے کہ آپ کے پاس جو مقدمات تیرہ سال اور چودہ سال سے زیر تفتیش ہیں ان کی تفتیش میں اتنی دیر کا ذمہ دار کون ہے؟

مجھے یاد ہے کہ جب پرویز مشرف کے دور میں نیب کے ایک چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل امجد نے کچھ سیاستدانوں کے خلاف انکوائری میں بہت تیزی دکھائی تو انہیں تبدیل کردیا گیاتھا۔ پھر لیفٹیننٹ جنرل خالد مقبول اور لیفٹیننٹ جنرل منیر حفیظ نیب کے سربراہ بنے۔ مجھے ان سب کے ساتھ نیب کے دفتر میں سوال جواب کا موقع ملتا رہا لیکن کرپشن کے خلاف سب سے زیادہ سنجیدگی لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز نے دکھائی۔ شاہد عزیز سے پہلے نیب کے ذریعے مشرف حکومت کے سیاسی مفادات کا تحفظ کیا جاتا تھا۔ 2002ء کے انتخابات سے قبل مسلم لیگ (ق) کی تشکیل اور انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کے نام سے ایک لوٹا گروپ کے قیام میں نیب کا اہم کردار تھا۔

مشرف دور میں کئی وزراء کو ’’نیب زدہ وزیر‘‘ کہا جاتا تھا کیونکہ ان وزراء کو نیب کے ذریعہ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے پر مجبور کیاگیا۔ دوسرے الفاظ میں نیب کرپشن کو بے نقاب کرنے اور روکنے کا ادارہ نہیں تھا بلکہ نیب کے ذریعہ کرپٹ عناصر کو تحفظ دیا جاتا رہا۔ شاہد عزیز نیب کے سربراہ بنے تو انہوں نے مشرف حکومت کے مخالفین کی بجائے مشرف حکومت کے وزیروں اور صدر صاحب کے ساتھ موسیقی کی محفلوں میں ناچ گانے کا مظاہرہ کرنے والے کچھ بیوروکریٹوں کے خلاف کرپشن کی انکوائریاں شروع کردیں۔ ان انکوائریوں کے بعد شاہد عزیز کے ساتھ جو ہوا اسے جاننے کیلئے آپ ان کی کتاب ’’یہ خاموشی کہاں تک؟‘‘ ضرور پڑھ لیں۔

شاہد عزیز صاحب لکھتے ہیں کہ اکتوبر 2005ء میں جنرل پرویز مشرف نے انہیں نیب کا چیئرمین بنایا تو صاف صاف کہا کہ میری حکومت میں فیصل صالح حیات جیسے لوگ بھی ہیںلیکن ان کے خلاف مقدمات کو مت چھیڑنا ورنہ بڑی مشکل ہو جائے گی۔ شاہد عزیز نے لکھا ہے۔ ’’میں نے یہی مناسب سمجھا اور حامی بھرلی۔‘‘ شاہد عزیز نے چیئرمین نیب کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کرپشن کے خلاف ایک قومی مہم چلانے کا اعلان کردیا۔ انہوں نے شوگر ملز مالکان کے خلاف انکوائری شروع کردی۔ انہوں نے تیل امپورٹ کرنے والی کمپنیوں کی انکوائری شروع کردی۔ مجھے اسی زمانے میں شاہد عزیز صاحب نے نیب کے دفتر میں بتایا تھا کہ پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں عام صارفین سے کتنے اضافی روپے وصول کئے جاتے ہیں جیسے ہی یہ انکوائریاں شروع ہوئیں تو وزیراعظم شوکت عزیز نے اپنے وزراء کے ساتھ مل کر نیب کے خلاف محاذ قائم کرلیا۔ شاہد عزیز نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ شروع میں صدر کے دست راست لیفٹیننٹ جنرل حامد جاوید اور چیئرمین سی بی آر عبداللہ یوسف نے مجھے ان انکوائریوں سے روکا پھر صدر صاحب نے مجھے براہ راست اپنے پاس بلانا شروع کردیا۔

ایک دن مشرف صاحب نے شاہد عزیز کو بلایا اور آئل امپورٹ میں گھپلوں کی انکوائری رپورٹ کو میری طرف پھینک کر کہا کہ مجھے پرواہ نہیں تم نے اس میں کیا لکھا ہے میں اسے پڑھنا نہیں چاہتا۔ شاہد عزیز اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ پھر آپ کوئی دوسرا چیئرمین نیب ڈھونڈ لیں میں آپ کے ساتھ کام نہیں کرسکتا۔ مشرف بھی کھڑے ہوگئے۔ شاہد عزیز دفتر سے باہر جانے لگے تو حامد جاوید نے انہیں روک لیا۔ معاملہ کچھ ٹھنڈا ہوگیا لیکن پھر شاہد عزیز پر پیپلز پارٹی سے سازباز کا الزام لگا دیا گیا۔ شاہد عزیز نے محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات کو کھولا تو صدر کے مشیر برائے قومی سلامتی طارق عزیز نے انہیں کہا کہ یہ مقدمات بند کردو پیپلز پارٹی کے ساتھ معاہدہ (این آر او) ہوگیا ہے۔ شاہد عزیز نے کہا کہ نیب کی ساکھ تباہ ہو جائے گی تو طارق عزیز نے کہا کہ آپ لندن جا کر رحمان ملک کو مل لیں سب ٹھیک ہو جائیگا۔

شاہد عزیز کو محسوس ہوا کہ مشرف حکومت نئے الیکشن کی تیاریوں میں ہے اور ایک دفعہ پھر نیب کو الیکشن میں استعمال کرنے والی ہے۔ شاہد عزیز نے اعلان کردیا کہ اس مرتبہ نیب الیکشن میں حصہ نہیں لے گی جس پر ان کے خلاف نئی نئی سازشیں شروع ہوگئیں لہٰذا انہوں نے چیئرمین نیب کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔

سپریم کورٹ میں نیب کی پیش کردہ فہرست کو شاہد عزیز کے اعترافات اور انکشافات کی روشنی میں پرکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ نیب کرپشن ختم کرنے کا نہیں کرپشن کو تحفظ دینے کا ادارہ ہے۔ نیب سے پوچھا جائے کہ اس کے اپنے وجود کا کوئی جواز ہے یا نہیں؟ جب تک نیب ایک خود مختار اور آزاد ادارہ نہیں بنے گا کرپشن کے خاتمے میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکے گا۔ موجودہ نیب کرپشن ختم نہیں کررہی بلکہ ماضی کی طرح کچھ سیاسی جماعتوں کو توڑنے اور کچھ نئی سیاسی جماعتوں کے قیام کیلئے افرادی قوت مہیا کرنے کا ذریعہ ہے ۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.