.

ترکی میں ایک بار پھر کولیشن دور کا آغاز

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمہوریہ ترکی کی تاریخ پر اگر ایک نگاہ ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ترکی میں واحد پارٹی نظامِ حکومت کے دور کو چھوڑ کر بہت ہی کم عرصے کے لئے کوئی بھی سیاسی جماعت تنہا حکومت بنانے میں کامیاب رہی ہے۔ جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی ( آق پارٹی) سے قبل اسّی کی دہائی میں مرحوم صدر اور وزیراعظم ترگت اوزال کی جماعت مادر وطن پارٹی تنہا حکومت قائم کرنے میں کامیاب رہی تھی اور اسی دور میں وزیراعظم ترگت اوزال نے پاکستان میں وزیراعظم نواز شریف کے نج کاری کے نظام سے متاثر ہوکر ترکی میں بھی نج کاری کے نظام کو متعارف کروایا تھا اور یوں ملک کے فرسودہ کمیونسٹ نظام کی طرز کے نظام سے چھٹکارہ حاصل کرتے ہوئے ترقی کی راہ ہموار کی۔

ترگت اوزال دور کے بعد ملک نوے کی دہائی میں ایک بار پھر روایتی طورپر مخلوط حکومتوں کے دور میں داخل ہوگیا اور اس عرصے کے دوران کوئی بھی حکومت تنہا حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہوسکی اور اس طرح دائیں اور بائیں بازو کی جماعتیں نہ چاہتے ہوئے بھی حکومت تشکیل دیتی رہیں جو ملک کی ترقی کی بجائے ملک کی بربادی کا باعث بنتا رہا کیونکہ پارلیمنٹ میں بل منظور کروانے کی راہ میں پہاڑ کھڑےکئے جانے لگے اور کابینہ کے اجلاس وقتِ مقررہ پر ہونے کی بجائے اختلافات کی وجہ سے ملتوی ہوتے چلے گئے اور ملک اقتصادی اور سیاسی لحاظ سے غیر مستحکم ہوتا چلا گیا اور یوں عوام مخلوط حکومتوں کو اپنے اور ملک کےلئے درد سر سمجھنے لگے۔ انہوں نے مخلوط حکومتوں کے خاتمے اور کسی ایک جماعت کو اقتدار دلوانے کی منصوبہ بندی شروع کردی۔

عوام نے اس وقت قائم ہونے والی نئی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (آق پارٹی ) کا کھل کر ساتھ دیا جس کے نتیجے میں 2002ء میں ہونے والے عام انتخابات میں آق پارٹی نے تمام سیاسی جماعتوں کو پچھاڑ کر پارلیمنٹ میں کلی اکثریت حاصل کرلی اور اس وقت صرف ایک جماعت ری پبلیکن پیپلزپارٹی (CHP) ہی پارلیمنٹ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوسکی تھی۔ اس طرح آق پارٹی اپنے قیام سے لے کر 2015ء تک تنہا حکومت کرتے چلی آرہی ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ترکی کے قیام سے لے کر اب تک جو ترقی ہوئی ہے وہ اسی دور میں ہوئی ہے شاید اس کی سب سے اہم وجہ آق پارٹی کا تنہا حکومت کرنا ہےلیکن کیا وجہ ہوئی ہے کہ یہ پارٹی 2015ء کے انتخابات میں پارلیمنٹ کی سادہ اکثریت بھی حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے؟

2015ء کے انتخابات سے قبل ملک میں کروائے جانے والے سروے سے پتہ چلتا تھا کہ آق پارٹی کو ماضی کی طرح بہت بڑے پیمانے پر کامیابی تو حاصل نہ ہوسکے لیکن کسی کو یہ بھی امید نہ تھی کہ آق پارٹی سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کر پائے گی۔ اگرچہ آق پارٹی نے 41 فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں لیکن اس کو صرف 258 نشستیں حاصل ہوئی ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والی ری پبلیکن پیپلز پارٹی (CHP) نے 25 فیصد ووٹ حاصل کئے اور اس کو آق پارٹی سے سات ملین کم ووٹ پڑے ہیں۔ اسے ترکی کے انتخابی نظام کی خرابی یا پھر بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کیونکہ آق پارٹی نے 2002ء کے عام انتخابات میں 34 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی 550 نشستوں میں سے 363 نشستیں حاصل کرتے ہوئے کلی اکثریت حاصل کرلی تھی لیکن اب وہ 41 فیصد ووٹ حاصل کرنے اور دوسرے نمبر پرآنے والی جماعت سے سات ملین ووٹوں کا فرق ہونے کے باوجود کلی اکثریت حاصل کرنے سے قاصر رہی تھی۔

اس کی وجہ اس بار مزید تین جماعتوں کا پارلیمنٹ میں مقررہ حد کو عبور کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں داخل ہونا ہے ۔ اس بار آق پارٹی کے خلاف برسر پیکار تینوں سیاسی جماعتیں صرف آق پارٹی کو تنہا حکومت تشکیل دینے کی راہ کو مسدودکرنے کے ایجنڈے پر کام کررہی تھیں اور انہوں نے بڑی حد تک اپنے اس مقصد کو حاصل بھی کرلیا ہے لیکن اب زمین نے ان کے پاؤں تلے سے سرکنا شروع کردیا ہے کیونکہ ان کا یہ اتحاد اس وقت پارہ پارہ ہوگیا جب قومی اسمبلی میں نئے اسپیکر کا انتخاب کیا جا رہا تھا۔

ترکی کی پارلیمنٹ میں اسپیکر کے انتخاب کے لئے چار مختلف مرحلوں میں ووٹ ڈالے جاتے ہیں پہلے مرحلے میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے کسی بھی امیدوار کو 367 ووٹ حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی بھی امیدوار اگر یہ ووٹ حاصل نہ کرسکے تو دوسرے مرحلے میں امیدواروں کو ایک بار پھر موقع دیا جاتا ہے ۔ دوسری بار بھی کسی بھی امیدوار کو مقررہ ووٹ حاصل نہ ہونے کی صورت میں تیسرے مرحلے کے انتخابات میں کامیابی کے لئے 276 ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر کوئی بھی امیدوار 276 ووٹ حاصل نہیں کر پاتا تو اگلے یعنی چوتھے مرحلے میں پہلے دو امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے اوراس مرحلے میں جو بھی امیدوار اپنے حریف سے ایک زائد ووٹ حاصل کرلیتا ہے تو وہ کامیاب قرار پاتا ہے۔ اس چوتھے مرحلے میں آق پارٹی کے خلاف بنا ہوا محاذ یا بلاک خود ہی جھاگ کی مانند بیٹھ گیا اور آق پارٹی کے امیدوار عصمت یلماز (جوکہ پارلیمنٹ کے اسپیکر منتخب ہونے سے قبل تک وزیر دفاع کے عہدے پر فائز تھے) 258 ووٹ حاصل کرتے ہوئے اسپیکر منتخب ہوگئے جبکہ ان کے خلاف برسر پیکار ری پبلیکن پیپلز پارٹی کے امیدوار دینز بائیکال جن کو دیگر جماعتوں نے ووٹ دینے کا وعدہ کر رکھا تھا ووٹ حاصل نہ کرسکے اور یوں آق پارٹی کے خلاف بننے والا 60 فیصد کا بلاک یا محاذ دھڑام سے زمین بوس ہوگیا۔

ری پبلیکن پیپلز پارٹی کےاسپیکر کے عہدے کے امیدوار دینز بائیکال کو نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی (MHP) کے اراکین نے کئے گئے وعدوں کے باوجود ووٹ اس لئے نہیں ڈالے کہ کہیں کل کو آق پارٹی ان پر قومی اسمبلی کا دہریہ اسپیکر منتخب کروانے کا الزام نہ عائد کردے۔ اس بات کااعلان بعد میں MHP کے پارلیمانی گروپ کے ڈپٹی چیئرمین یوسف حلاچ اولو نےٹیلی وژن پر بھی کیا جو بعد میں ان کے لئے گلے کی ہڈی بھی بن گیا کیونکہ پارٹی نے ان کے اس بیان کے بعد ان کو اس عہدے ہی سے برطرف کر دیا ۔ اگرچہ ابتدا میں آق پارٹی کو یہ عہدہ حاصل ہوتے ہوئے دکھائی نہ دیتا تھا MHP نے خود اپنے ہاتھوں سے طشتری میں رکھ کر پیش کردیا تھا ۔ یہ آق پارٹی کے لئے بہت بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے کیونکہ آق پارٹی اس عہدے کو کولیشن میں شامل کی جانے والی جماعت کو پیش کرتے ہوئے اپنے اقتدار کی راہ کو ہموار کرنا چاہتی تھی لیکن لیکن اب یہ عہدہ خود بخود اس کی جھولی میں آن گرا تھا۔

آق پارٹی کی اس کامیابی کے بعد اب اس کے ہاتھ پہلے سے زیادہ مضبوط دکھائی دیتے ہیں۔ صدر ایردوان نے گزشتہ ہفتے 9 جولائی کو عام انتخابات کے 32 روز بعد وزیراعظم احمد داؤد اولو کو نئی حکومت تشکیل دینے کے اختیار سونپ دیئے ہیں اوراحمد داؤد اولو آئین کی رو سے 45 روز کے اندر اندرنئی حکومت تشکیل دینے پر مجبور ہیں اگر وہ اس عرصے کے دوران حکومت تشکیل دینے سے قاصر رہتے ہیں تو یہ اختیارات دوسرے نمبر پرآنے والی جماعت کو سونپ دیئے جائیں گے۔ (یہ کالم اتوار بارہ جولائی کو لکھا گیا) وزیراعظم احمد داؤد اولو سوموار 13 جولائی سے حکومت تشکیل دینے کے پہلے مرحلے کے مذاکرات کا آغاز کررہے ہیں ۔ وہ سوموار کو ری پبلیکن پیپلز پارٹی کے چیئر مین کمال کلیچدار اولو ، منگل کو نیشنسلٹ موومنٹ پارٹی کے چیئرمین دولت باہچے لی اور بدھ کو پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی کے شریک چیئرمین صلاح الدین دیمر تاش سے مذاکرات شروع کررہے ہیں اور پھر عید کے بعد پہلے مرحلے کے مذاکرات کا اپنے ساتھیوں سے مل کر جائزہ لیں گے اور اس کے بعد ہی دوسرے مرحلےکے مذاکرات شروع کریں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.