.

ایران کی تاریخی ’’کامیابی ‘‘

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران شروع سے کہہ رہا ہے کہ وہ ایٹمی اسلحہ نہیں بنانا چاہتا، اس لئے کہ اسلام کی رو سے وسیع سطح پرتباہی پھیلانے والے ہتھیار استعمال نہیں کئے جا سکتے،اسلام صرف متحارب فوج کو نشانہ بنانے کی اجازت دیتا ہے مگر سول آبادی‘ عورتوں‘ بچوں، سول تنصیات کو تباہ کرنے سے منع کرتا ہے۔

آج اگر ایران نے یہ مان لیا کہ وہ ایٹمی اسلحہ نہیں بنائے گا تو اس میں اس کی سبکی کا پہلو کہاں سے آ گیا، سبکی تو امریکہ اور ایٹمی طاقتوں کی ہوئی ہے جو برسہا برس سے ایران کو ایٹمی اسلحہ بنانے کے لئے مطعون کر رہے تھے اور اس جرم میں اسے ایٹمی افزودگی کا عمل بند کر نے کے لئے کہہ رہے تھے۔ایران کا اصرار تھا کہ جب وہ کوئی جرم نہیں کر رہا تو ایٹمی پروگرام کیوں بند کرے، ایٹمی طاقتوں نے بھنا کر اس کے خلاف تجارتی پابندیاں عائد کر دیں۔مگر ایران اپنے راستے پر ڈٹا رہا، آج کا معاہدہ اس کی فتح کا تاریخی اعلامیہ ہے۔

اسرائیل پہلے بھی ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف تھا، اب بھی ا سی نے واویلا کیا ہے کہ یہ تو ایران کو کلین چیٹ دینے کے مترادف ہے جبکہ ایٹمی طاقتوں کا کہنا ہے کہ ایران نے معاہدے سے انحراف کیا تو اس پر اقتصادی پابندیاں خود بخود عائد ہو جائیں گی، ایران نے جواب میں کہا ہے کہ اگر ایٹمی طاقتوںنے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اسے بھی اس کے برعکس جانے کا حق حاصل ہو گا مگر میرا خیال ہے کہ ہمیں ایرا ن کے اس موقف کو ماننا چاہئے کہ اسلام کی رو سے ایٹمی اسلحہ بنانا یا استعمال کرنا جائز نہیں، اگر اس کا یہ ایمان ہے تو اس پر حیرت یا اعتراض کیوں۔کیا امریکہ نے ایٹم بم چلا کر جاپانی قوم کے خلاف وسیع پیمانے پر جنگی جرائم کا ارتکاب نہیں کیا۔

ویسے دیکھا جائے تو جو حق ایٹمی طاقتوں کو حاصل ہے، وہ دوسری اقوام کو کیوںحاصل نہیں، کیا باقی سب اچھوت ہیں۔ اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق اقوام عالم کو مساوی حیثیت حاصل ہے۔مگر چند بڑی طاقتوں نے اس منشور کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے آپ کو ناخدا کا درجہ دے رکھا ہے۔ وہ سلامتی کونسل پرحاوی ہیں اور دنیا میں کہیں بھی جارحیت کے لئے بھی آزاد ہیں۔

یہ سمجھا جاتا ہے کہ ایران کاا یٹمی پروگرام ہمسایہ عرب ممالک کے لئے خطرے کی بات ہے۔ اس خدشے کو دور کرنا ایران کی ذمے داری ہے، بہتر ہو گا کہ ایران اپنے آپ کو یمن، عراق، شام اور مصر کے معاملات سے دور رکھے۔ اگر وہ عرب ملکوں میںمداخلت نہیں کرے گا تو کوئی اس سے بھی چھیڑ چھاڑ نہیںکرے گا۔یمن کے قضیئے میں سب نے دیکھ لیا کہ ا یران کی مداخلت کو روکنے کے لئے عربوںنے اپنی متحدہ طاقت استعمال کی۔ یہ امر غنیمت ہے کہ معاملہ جلد ٹھنڈا ہو گیا اور اس نے آگ کی صورت اختیار نہیں کی مگر شام اور عراق میں ایرانی فیکٹر ابھی تک عربوں کوکھٹک رہا ہے۔ایران اصل میں یہاں وہی کردار ادا کرنا چاہتا پے جو بھارت بر صغیر میں ایک منی سپر پاور کے طور پر کر رہا ہے۔بھارت کو بھی مزاحمت کا سامنا ہے اور ایران کو بھی مشکلات درپیش ہیں۔ اگر عرب ممالک اور ایران اپنے آپ کو اسلامی وحدت کی لڑی میں پرو سکیں تو یہ دنیا میں ایک نئی طاقت کے طور پر کردار ادا کر سکتی ہیںلیکن ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے بھڑنے کی صورت میں سبھی کا نقصان ہے، فائدہ کسی کا نہیں۔

جہاں تک ایٹمی پروگرام کا تعلق ہے ، یہ دنیا کی منافقت ہے کہ جہاں کہیںکوئی اسلامی ملک یہ طاقت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے خلاف واویلا شروع ہو جاتا ہے، بھارت نے پہلا دھماکہ 1974ء میں کیا اس کے بعد 1998ء میں اس نے مزید دھماکے کر دیئے، اس دوران میں بھار ت پر نہ کسی نے اعتراض کیا، نہ اس کے خلاف کسی نے پابندیاں لگائیں مگر جونہی پاکستان نے جوابی دھماکہ کرنے کی کو شش کی تو ساری دنیا کا دباﺅا ٓگیا کہ دھماکہ مت کرو، حضرت بل کلنٹن تو ٹیلی فون پر بیٹھ ہی گئے ا ور نواز شریف کو امتحان میں ڈال دیا۔ کبھی دھمکیاں اور کبھی لالچ۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی شروع ہی سے مخالفت کی گئی، ڈاکٹر عبدالقدیر اور ان کی ٹیم نے عالمی قوانین کی پروا نہ کرتے ہوئے یہ پروگرام جاری رکھا۔

پاکستان کو اس پروگرام کی کڑی سزا دی گئی، بھٹو کی حکومت گئی، اسے پھانسی ملی، ضیاالحق کو طیارے کے حادثے میں شہید کیا گیا اور نواز شریف کودھماکوں کی سزا دینے کے لئے جلا وطن کروا دیا گیا۔ درمیان میں میزائل پروگرام کی سزا کے طور پر محترمہ بے نظیر بھٹو کو دہشت گردی کی آڑ میں منظر سے ہٹایا گیا‘ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی کردار کشی کر کے انہیں بے توقیر کر دیا گیا، پاکستان ہی نہیں ، عالم اسلام کے ایٹمی پروگرام کا ہیرو آج ایک ہسپتال کی تعمیر کے لئے چندہ مانگنے پر مجبور ہے۔ ایران شکر کرے کہ ا س نے اپنا مقصد بھی حاصل کر لیا اور ا سے پاکستان کی طرح جانی نقصانات کا سامنا نہیں کرنا نہیں پڑا، ہاں اسے معاشی پاپڑ ضرور بیلنے پڑے اور اس پر ہم ایران کی استقامت کی دادد یتے ہیں اور اسے سلام بھی پیش کرتے ہیں۔

ایران کے حالیہ معاہدے کو ایک دلیل کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ہمارے بعض طبقات یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر ایران اور امریکہ ایک دوسرے سے ہاتھ ملا سکتے ہیں تو پاکستان اور بھارت کیوں ایک دوسرے سے ہاتھ نہیں ملا سکتے، یہ بڑی طاقت ور دلیل ہے، ایران نے امریکہ کو ہمشہ شیطان بزرگ کہا اور امریکہ نے بھی ایران کا شکنجہ کسنے کی کبھی کسر نہیں چھوڑی مگر آج دونوں نے اپنی پرانی دشمنی ختم کر دی ہے، ضرور ختم کر دی ہے مگر کس بنیاد پر کہ دونوں ملک اپنے اپنے سابقہ موقف سے پیچھے ہٹ گئے ہیں، کم از کم دونوں کا خیال یہی ہے ، اسی اصول پر اگر بھارت بھی کشمیر کا مسئلہ طے کر لے تو پاکستان کو اس کے ساتھ ایک اچھے اور پرامن ہمسائے کے طور پر زندگی گزارنے میں ضرور خوشی ہو گی مگر یہ جھگڑا تو پہلے طے ہو‘ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ اس پھوڑے پر پٹی لگا دی جائے، یہ زخم رستا رہے، بھارتی فوج کشمیر میںجبر اور مظالم کرتی رہے‘ عورتوں کی آبروریزی کرتی رہے‘ اس عالم میں پاکستان کیسے بھارت کے ہاتھ میں دوستی کا ہاتھ ڈال سکتا ہے‘ اگر ایسا ممکن ہوتا تو دونوں ملکوں کے مابین کئی معاہدے ہوئے، دو طرفہ مذاکرات ہوئے مگر بے نتیجہ‘ لاحاصل‘ بھارت کی نیت میں فتور ہے۔ ایران کا معاہدہ کچھ دو کچھ لو کے اصول پر ہوا‘ بھارت تو لینا جانتا ہے‘ کچھ دینے کے لئے تیار ہی نہیں۔

پاکستان کے لئے ایران کا معاہدہ ایک نیک شگون ہے‘ کم از کم ہم اس ہمسائے سے کھل کر تجارت تو کر سکتے ہیں‘ ایرانی تیل ڈرموں میں فروخت تو اب بھی ہوتا ہے، آگے چل کر ہمارے پٹرول پمپوں پر بھی مل سکے گا‘ گیس کا معاہدہ عملی صورت میں ڈھل سکتا ہے۔ اسی لئے ہم نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور میں نے اسے خود ایران کے لئے تاریخی قرار دیا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.