.

طالبان اور تبدیلی

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان اور یونیکال نے بھی کردار ادا کیا لیکن طالبان ، بنیادی طور پر مجاہدین کی بداعمالیوں کے ردعمل میں اندرونی حالات کی پیداوار تھے۔ وہ طاقت کے زور پر اپنے زیر قبضہ علاقوں میں امن قائم کرنے میں تو کامیاب ہوئے لیکن چونکہ پیداوار ردعمل کے تھے، اس لئے اعتدال پر قائم نہ رہ سکے۔ شریعت کے نام پر انہوں نے جو نظام افغانستان میں قائم کیا، اس میں جبر اور تشدد کا عنصر غالب تھا۔ شریعت کی روح کی بجائے انہوں نے معاشرتی اور نمائشی چیزوں پر اقدامات میں اس قدر غلو سے کام لیا کہ انکی حکومت دنیا تو کیا خود افغانوں کے لئے بھی بوجھ بننے لگی۔ امریکہ سے لے کر مصر تک اور چین سے لے کر ازبکستان تک، کی حکومتوں کے مخالفین کو پناہ دے کر انہوں نے دنیا کے غضب کو دعوت دینے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پاکستان میں مقیم انکی استادی اور سرپرستی کے دعویدار دینی رہنما اور ریٹائرڈ جرنیل، جو خود دور جدید کے تقاضوں سے نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ ذاتی زندگی میں مصلحت سے بڑھ کر منافقت کی حد تک پورا کرتے ہیں، اپنے ان شاگردوں اور پراکسیز کو سمجھانے اور انہیں ایسے اقدامات سے باز رکھتے جو آنے والے وقتوں میں انکے لئے اور افغانستان کے لئے مصیبتوں کا موجب بنتے لیکن افسوس کہ وہ ذاتی ، سیاسی اور تزویراتی مفادات کے لئئئے انکو شاباش دیتے رہے جسکا نتیجہ نائن الیون کے بعد غیرر ملکی افواج کی کاروائی اور طالبان حکومت کی سقوت کی صورت میں نکلا۔

طالبان نے گوریلا جنگ اور مزاحمت کا آغاز کر دیا اور حقیقت یہ ہے کہ اس مزاحمت کے سلسلے میں انہوں نے اس خطے کے اندر خودکش حملوں ،مخالفین کو ذبح کرنے اور مخالفین کو دہشت زدہ کرنے جیسے اقدامات کو رواج دیا جسکی وجہ سے یہ تاثر عام ہوا کہ طالبان کسی صورت بدل نہیں سکتے لیکن گزشتہ کچھ سالوں سے انکی سیاسی قیادت کی حد تک خاطر خواہ تبدیلی آتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ مثلا وہ اپنے دور میں تصور کشی کو حرام سمجھتے تھے لیکن آج ویڈیو کیمرہ انکے جہاد کا اہم ترین ہتھیار ہے۔ وہ شروع م امریکیوں سے بات چیت کے آغاز کے لئے غیرر ملکی افواج کے مکمل انخلاء کی شرط لگاتے تھے لیکن اب وہ امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اپنے دور حکومت میں وہ ای ٹی آئی ایم کے یوغر باغیوں سے متعلق چین کی شکایات پر کان دھرنے کو تیار نہیں تھے لیکن افغانستان کے مستقبل کی صورت گری میں میں چین کو اہم کردار دینے پر آمادہ ہیں۔ وہ ماضی میں افغان حکومت کو کٹھ پتلی قرار دے کر اس کی حیثیت کو کسی صورت تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے لیکن اب پاکستان کی کوششوں سے اسکے ساتھ بات چیت کے لئے بیٹھ گئے ہیں۔

طالبان کی سیاسی قیادت کی سوچ میں اس تبدیلی کا ایک بہترین نمونہ عید الفطر کے موقع پر انکے امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد کی طرف سے جاری کردہ پیغام بھی ہے جو بنیادی طور پر ایک پالیسی بیان کی حیثیت رکھتا ہے۔ میری معلومات کے مطابق یہ بیان عالی شوریٰ کی مشاورت سے تیار ہوتا ہے اور میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ ہر سال عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے موقع پر اس قسم کا جو پالیسی بیان جاری ہوتا ہے ، آنے والے وقتوں میں میدان میں عمل کے روپ میں ڈالا جاتا ہے۔ یہاں میں ملا محمد عمر کے طویل بیان کے کچھ مخصوص حصے نقل کر رہا ہوں تاکہ طالبان کی سوچ اور اپروچ میں آنے والی تبدیلی کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

مسلح جہاد کے ساتھ ساتھ سیاسی سرگرمی اور مصالحتی تدایر سے اپنے مقدس اہداف تک رسائی ایک شرعی امر اور نبوی سیاست کا اہم حصہ ہے۔ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح بدر اور خیبر کے میدانوں میں کفار سے جنگیں لڑیں ہیں، اسکے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے مفادات کی خاطر معاہدے بھی کئے ، کفار کے نمائندوں سے مذاکرات کئے ، پیغامات اور سفیر بھیجے۔ حتیٰ کہ مختلف مواقع پر ھربی کفار کے ساتھ آمنے سامنے بات چیت کی سیاست بھی کی۔

اگر ہم شرعی ہدایات کو پوری وقت نظر سے دیکھیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ دشمن سے ملاقاتیں یا کچھ مواقع پر مصالحتی تعامل منع نہیں ہے بلکہ منع یہ ہے کہ اسلام کے بلند موقف سے تنزل کیا جائے اور شرعی اوامر پامال کر دئے جائیں۔ ہم سیاسی سرگرمیاں اور دنیا کے مختلف ممالک یا افغانوں سے رابطے اور ملاقاتیں اس لئے کر رہے ہیں کہ جارحیت اختتام کو پہنچے اور ایک آزاد و خودمختار اسلامی نظام ملک پر حاکم ہو جائے۔ یہ ہمارا شرعی حق ہے کہ ہم شرعی طریقوں کو استعمال کریں کیونکہ ہماری منظم اور ذمہ دار انتظامیہ کے پیچھے پوری قوم موجود ہے۔ ہم انسانی معاشرے میں رہتے ہیں، ایک دوسرے کا احتتیاج رکھتے ہیں۔ مجاہدین اور پوری قوم کو مطمئن رہنا چاہئے کہ اس سلسلے میں اپنی شرعی موقف کا ہر میدان میں پوری قوت سے دفاع کروں گا۔ سیاسی سرگرمیوں کے لئے سیاسی دفتر بنا دیا ہے۔ ہر طرح کے سیاسی معاملات آگے بڑھانے کی ذمہ داری انہی کے ذمہ ڈال دی گئی ہے ۔ ہم اسلامی معاشرے کے رکن کی حیثیت سے ہر مسلمان بھائی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اقلیتوں سمیت تمام افغانوں کے شرعی حقوق کو ایک دینی ذمہ داری کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ امارت اسلامی کی تشکیل میں ملک کے تمام حصوں اور تمام لسانی طبقات سے صالح اور سمجھدار لوگ شریک ہیں جو گزشتہ 36 سالہ تجربات اور پھر آخری بیس سالوں کی ذمہ داریوں سے بہت کچھ حاصل کر چکے ہیں۔ لہذ کوئی اس تشویش کا شکار نہ ہو کہ اگر امارت اسلامی کی حکومت آ گئی تو کیا ہوگا۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آنے والا انقلاب ایسا نہیں ہوگا جس طرح ک میونسٹ حکومت کے خاتمے سے سب کچھ ختم ہو کر رہ گیا تھا۔ اس دور کی طرح آج کی جہادی صف میں اختلافات نہیں ہیں۔

اس بار ملک کے ہر شعبے میں ہونے والی شرعی اور قانونی ترقی کو برقرار رکھا جائے گا۔ قومی دولت اور عوام کی ذاتی جائیدادوں اور املاک کی حفاظت کی جائے گی اور سب کو اپنی جائیدادوں پر بحال رکھا جائے گا۔ تمام اقوام اور شخصیات کی حیثیت کو احترام دیا جائے گا۔ ہماری کوشش ہے کہ تمام پڑوسی اور عالمی ممالک کے ساتھ اسلامی اصولوں اور قومی مفادات کی روشنی میں دوطرفہ تعلقات قائم کرین اور افغانستان کو غیروں کے شر اور داخلی اختلافات سے نجات دلائیں۔ خادم الاسلام امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد 14 جولائی 2015ء۔

سوچ اور اپروچ میں آنے والی تبدیلی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ افغان قضیے کا حل قریب آ گیا ہے۔ ابھی اس سمت میں طالبان نے مزید بھی بہت سفر طے کرنا ہے۔ یہ سوچ جوکہ سیاسی قیادت نے اپنا لی ہے، طالبان کے نظام یا جہادی حلقوں کو بھی اپنانا ہوگی۔ اب بھی زمین پر برسرپیکار طالبان کی سوچ بڑی حد تک غیر مصالحانہ ہہے ۔ یہ تلخ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ طالبان اور افغان حکومت کے مطالبات میں ابھی بعد المشرقین ہے اور دونوں کو مشترکہ نکات پر لانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اسی طرح افغان مزاج بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ ایک افغان دوسرے افغان کی قیادت کو تسلیم کرنے پر بڑی مشکل سے آمادہ ہوتا ہے ۔ اسی طرح عالمی اور علاقائی قوتوں کا کردار بھی اہم نہیں بلکہ بنیادی ہے اور اگر وہ نہ چاہیں تو افغانوں کے دھڑے چاہتے ہوئے بھی ایک نہیں ہو سکتے۔ لیکن طالبان کے ہاں جو تبدیلی آ گئی ہے، وہ بھی معمولی نہیں بلکہ بڑی تبدیلی ہے اور عالمی اور علاقائی قوتوں اور بالخصوص افغان حکومت اور پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھانے میں دیر نہیں کرنی چاہئے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.