.

میڈیا اپنا قبلہ درست کرے....

ڈاکٹر عارفہ صبح خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جب میرٹ کی دھجیاں اُڑ جائیں تو ہر چیز تماشا بن جاتی ہے۔ ریاست کے چوتھے ستون کی چولیں ڈھیلی پڑ جائیں اور دانت گر جائیں‘ کان بہرے‘ زبان لمبی‘ چہرے سے متانت اور شگفتگی ہٹ جائے‘ نام نہاد دانشوری‘ مبہم بے مصرف تجزیے‘ دُور ازکار اور بے مقصد مباحث‘ خوشامی انٹرویو‘ مضحکہ خیز خبریں اور مزاح کے نام پر مسخرہ پن.... جب پاکستانی الیکٹرانک میڈیا کے اندر ضم ہو جائے تو پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایک سنجیدہ‘ باوقار اور زیرک قوم ہیں۔ میڈیا کسی بھی سوسائٹی کا چہرہ ہوتا ہے۔ آپ کسی اخبار یا چینل سے اس ملک کے حالات و واقعات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ میڈیا میں بہت حساس‘ ذمہ دار‘ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔

میڈیا پرسن ذہین‘ زیرک‘ دو راندیش مردم شناس‘ شہ زور‘ سنجیدہ اور پروفیشنل ہونا ضروری ہے مگر پاکستان میں چینلز کے ”اتوار بازار“ نے ہر غیرسنجیدہ‘ نان پروفیشنل کو اینکر بنا دیا ہے۔ شاید اسی لئے پاکستانی خبروں‘ تجزیوں‘ کالموں کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ اکثر اخبارات اور چینلز میں ”خواہشوں“ کو خبروں کا روپ دیدیا جاتا ہے۔ اس ضابطہ اخلاق کو کسی صندوقچی میں بند کرکے سمندر برد کر دیا گیا ہے۔ اکثر صحافیوں اور اینکروں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ میڈیا کا ضابطہ اخلاق کیا ہے۔ کئی کالم نویسوں کا کاروبار زندگی حکمرانوں اور امراءکی خوشامد اور چاپلوسی بن چکا ہے۔ وہ خوشامد کے نام پر ایسی ایسی جگتیں لگاتے ہیں کہ مرزا رفیع سودا کے مزاحیہ قصیدے یاد آجاتے ہیں۔ کالم میں ایشوز سے زیادہ شخصیات کو ہائی لائٹ کیا جاتا ہے جسکے نتیجے میں قریب حکمران یا مطلوبہ شخصیت سے من پسند نتائج ملتے ہیں۔ اکثر کالم نگار اس میدان کارزار کے شہسوار ہیں۔

اینکرز ہیں جنہوں نے یہ سٹائل اپنا لیا ہے کہ اپنا علم بھگارنے کیلئے پہلے ایک سوال داغیں گے۔ پھر دوسرا اور تیسرا.... یہاں تک کہ کسی ایک اخبار کی سرخیاں پڑھ کر یا کسی سیاسی پروگرام کے جینئس اور سینئر تجزیہ نگار کی طرح سوال در سوال کئے جائیںگے۔ کبھی اپنے ہی سوال کا جواب خود دینگے اور مہمان کو بولنے کا کم سے کم موقع دیکر اپنی علمیت کا پرچار کرینگے‘ لیکن کوئی کام کا نکتہ نہیں اٹھائیں گے۔ اکثر اینکرز نے اس رویہ کو اپنی جبلت بنا لیا ہے کہ انہوں نے خود ہی سوال کرنا ہے اور خود ہی جواب دینا ہے۔ جس مہمان کو بلایا ہے اسے کچھ نہیں بولنے دینا۔ اپنی علمیت جتانے کیلئے وہ چند واجبی معلومات کے ساتھ تجزیہ اور نتائج پیش کرنے لگتے ہیں۔ جن میں نہ حقائق ہوتے اور نہ وزن ہوتا۔ اکثر اوقات ایسے ایشوز ڈسکس کئے جاتے ہیں جن کا تعلق نہ تو بین الاقوامی سیاست یا مسائل سے ہوتا نہ قومی سطح کے معاملات ہوتے اور نہ ہی بین الصوبائی امور ہوتے۔ یہ عموماً واجبی اور غیر متعلق موضوعات ہوتے ہیں‘ لیکن ان پر ایک ایک گھنٹے کے پروگرامز چلتے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ صفحہ اول و آخر اور نیوز بلیٹن میں ہر دوسری خبر ایسی ہوتی ہے کہ آدمی سوچتا رہ جاتا ہے۔ مسائل کے انبوہ میں سے یہ سڑی سڑانڈ خبر نکالی ہے۔ پورا ملک افتادہ آفات کی لپیٹ میں ہے۔

گھمبیر مسائل نے ہر طرف سے جکڑ رکھا ہے اور دنیا میں طرح طرح کی ایجادات‘ دریافتیں اور تخلیقات و تعمیرات کا وقوعہ ہو رہا ہے اور یہاں پاکستانی چینلز کے نیوز بلیٹن پر خبر چلتی ہے کہ ملکہ شیراوات کا ڈانس کرتے ہوئے پاﺅں پھسل گیا۔ اب بتایئے اس میں انہونی کیا ہے؟ ہر لڑکی یا لڑکا جب ڈانس کرتا ہے تو درجنوں بار پاﺅں پھسل جاتا ہے۔ خبر چلتی ہے کہ سلمان خان کی نئی فلم آنے والی‘ قطرینہ نے آئٹم سانگ کیا‘ آنند بخشی کی تیسویں برسی منائی گئی‘ میرا لندن سے آگئیں‘ ریما امریکہ چلی گئیں‘ صائمہ نے کہا ہے کہ وہ جلدہی کسی اچھی فلم کو سائن کریں گی‘ ایان علی نے عید پر مہندی لگائی اور چوڑیاں پہنیں‘ ریحام خان نے پشاوری چپل پسند کرکے آرڈر دیدیا۔ ریحام خان لاہور آرہی ہیں۔ لاحول ولا قوة.... کیا یہ بین الاقوامی شخصیات ہیں یا ان کا کیا یہ مقام و مرتبہ ہے کہ خبروں کا آغاز ان سے کیا جائے؟

کیا ان سب میں کہیں کوئی خبریت یا دلچسپی کا عنصر ہے۔ کس قدر احمقانہ قسم کی باتیں ہیں جنہیں خبر بنا کر دوسرے تیسرے نمبر پر چلایا جاتا ہے۔ اس سے ہمارے میڈیا کے علم‘ عقل‘ ذوق کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ عید کے موقع پر ہر گھنٹے بعد‘ ہر چینل پر‘ پندرہ دن تک یہ خبریں چلتی رہیں کہ جی عید پر خواتین اور بچے کیلئے شاپنگ کر رہے ہیں۔ اب اگر خواتین اور بچے سر کے بل شاپنگ کر رہے ہوتے تو خبر بنتی۔ خبروں کا لیول یہ ہے کہ آدھی خبریں صرف یہ چلائی جاتی ہیں کہ ہالی وڈ میں کون سی فلم ریلیز ہو رہی ہے‘ انڈیا کے ہر اداکار‘ پروڈیوسر‘ سنگرز کی مہمل خبریں اس طرح چلائی جاتی ہیں جیسے یہ کوئی بڑی اہم خبریں ہیں۔ اخبارات میں پھر بھی نسبتاً سنجیدگی اور معیار کو ملحوظ رکھا جاتا ہے‘ لیکن تعجب ہے کہ بے معنی‘ بے مقصد اور بے فائدہ خبروں کو صفحہ اول پر جگہ دی جاتی ہے۔

نیوز کاسٹرز کو ماڈلز بنا دیا گیا ہے۔ اب ساری توجہ نیوز اینکرز کی آرائش و زیبائش‘ ملبوسات‘ ہیئرسٹائل اور ڈائیلاگ بازی پر ہوتی ہے۔ خبروں میں ڈرامائی عنصر پیدا کرکے ان سے خبریت کا پہلو زائل کر دیا گیا ہے۔ نیوز اینکرز نے نیوز بلیٹن میں ماڈلنگ شروع کر دی ہے۔ زرق برق ملبوسات اور آرٹیفیشل لب و لہجہ نے نیوزبلیٹن کا وقار مجروح کرکے رکھ دیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ بات یہ ہے کہ نیوز بلیٹن میں ”نیوز“ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ نواز شہباز‘ زرداری‘ مشرف‘ الطاف‘ عمران کے بیان کو خبر بنا دیا جاتا ہے۔ اس خبر کے بعد دو چار مضحکہ خیز چیزیں بطورخبر پیش کی جاتی ہیں۔ درمیان میں چار بار بریک چلتی ہے۔ اکثر معمولی نوعیت کی خبر کو نیوز بریک بناتے ہوئے بہت ہی سنسنی خیز انداز میں پی کیا جاتا ہے۔ اکثر وہ خبر کے بجائے چوں چوں کا مربہ نکلتی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.