.

کوتاہ نظری

رضوان رضی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمارے اعمال یا اپنے غضب کے باعث یہ جولیڈر نامی مخلوق اس ملک و قوم پر مسلط کر رکھی ہے کیا یہ اس قدر بھی گھامڑ ،کوڑھ مغز اور کوتاہ بین ہو سکتی ہے کہ ان کو انسانوں کے اصل یاجعلی ہونے کی پہچا ن ہی نہیں ہوپاتی؟ ان کے انتخاب کو داد دیجئے کہ میرٹ کی دھجیاں بکھیر کے اپنی فوج کاجو بھی سپہ سالار یہ منتخب کرتے ہیں، وہ مارشل لاء لگا کر ان کو گھر یا بیرونِ ملک روانہ کر دیتا ہے اور قوم کو بکاؤ قسم کے سیاستدانوں کی ایک پوری نسل دے کر رخصت ہو جاتا ہے۔

اگر انفرادی سطح پر آئیں تو جناب زرداری صاحب کا سپر ماڈل ایان علی سے مبینہ سکینڈل بنانے اور اس کو میڈیا میں پورا منہ کھول کر ثابت کرنے میں وہی صحافی پیش پیش تھے جن صاحبان پر جنابِ آصف زرداری کے لطف و کرم کی بارش رہی ہے ۔ اپنے دورِ صدارت میں ان ہی صاحب کو جناب زرداری صاحب نے ٹھیکیدار سے ایک عدد پورے کا پورا اخبار (یعنی اخباری ادارہ) تحفہ میں دلوایا تھا۔ باقی خفیہ نوازشوں کا ہمیں علم نہیں۔اب وہی صحافی پورا دہن کھولے ’’بے لاگ‘‘ طریقے سے یہ ثابت کرنے میں لگے رہے کہ ایان علی کی زرداری صاحب سے کیا رشتہ داری ہے وہ تو تنویر زمانی صاحبہ نے سر دھڑ کی بازی لگا کر زرداری صاحب کو بچایا ورنہ یہ تو لے دے گئے تھے۔

اس کے علاوہ ایک صحافتی جوڑی ، ان میں سے ’’سرائیکی ‘‘ صحافی صاحب کے لئے تو زرداری صاحب کے علاوہ جنابِ گیلانی صاحب نے بھی عنایات و نوازشوں کے دروازے کھول دئیے تھے۔لیکن یہ صاحب ٹی وی سکرین پر بیٹھ کر روزانہ اپنا جموٹہ نکالتے ہیں اور زرداری اور گیلانی کی اپنے تئیں چھترول کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ کچھ تو شرم ہوتی ہے ، کچھ تو حیاء ہوتی ہے۔ ایک واقفِ حال کے بقول ان سرائیکی صاحب کی کسی بھی ٹی وی سکرین پر آمد جناب زرداری صاحب کی مرہونِ منت تھی کیوں کہ زرداری صاحب نے ایک نئے میڈیا بیرن کو ان صاحب کو پرائم ٹائم میں پروگرام دینے کے حکم کے ساتھ اشتہارات کی بوریوں کے منہ بھی کھولے تھے۔

حالاں کہ موصوف کو سرائیکی کے علاوہ دیگر کوئی زبان پوری صحت کے ساتھ بولنا نہیں آتی تھی اور نہ اب تک آتی ہے لیکن وہ کیا ہے کہ سہاگن وہی ہوتی ہے جسے پیا من بھائے، اینکر وہی ہوتا ہے جسے ٹی وی کا مالک چاہے۔ان صاحب کی بیگم صاحبہ کس طرح پارلیمنٹ ہاوس میں اعلیٰ عہدوں پر متمکن ہوئیں اور کس طرح موصوف کے بھائی صاحب نے پارلیمنٹ لاجز میں اندھیرمچایا ؟ کسے نہیں معلوم ؟ لیکن کیا ہے کہ جب یہی صاحب دوسروں کی بدعنوانیوں کی نشاندہی کرتے ہیں تو ہنسی آتی ہے اور بے اختیار منہ سے نکل جاتا ہے کہ :

دامن کو ذرا دیکھ ذرا بندِ قبا دیکھ

لیکن وہ کیا ہے کہ ان دنوں یہ صاحب ، ہمارے ایک جیالے صحافی کے بقول ’صاف چلی اور شفاف چلی ‘ کی گود میں بیٹھ چکے ہیں اس لئے ان کی ہر بات عرقِ مشک و عنبر میں دھُلی ہوئی ہوتی ہے ، اس لئے کہ وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں اس پر تمام ’انساپی ‘ بھائی اس پر اُچھل اُچھل کر داد دیتے اور اس کی سوشل میڈیا پر تبلیغ کرتے پائے جاتے ہیں۔ ویسے بھی ٹی وی کی ریٹنگز نکالنے والاادارہ توجنابِ کپتان کے اپنے سگے رشتہ دارصاحب کاہے، اس لئے وہ پروگرام بہت ہی ہٹ اور اعلیٰ ہوتا ہے جس میں ’انساپیوں ‘ کے ایجنڈے کی تبلیغ ہوتی ہے۔

پاکستان میں ٹی وی ریٹنگز کے نام پر جو اندھیر نگری مچی ہے دنیا کی میڈیا تاریخ شاید ہی اس کی کوئی مثال پیش کر سکے، لیکن یہ ایک الگ کالم کا نہیں پی ایچ ڈی کے مقالے کا موضوع ہے۔ جس طرح آج تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ کوئی بندہ انٹر سروسز سلیکشن بورڈ (آئی ایس ایس بی) سے مسترد یا منتخب کیوں ہو جاتا ہے، پاکستان، نظریہ پاکستان اور کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کے خلاف بننے والی بھارتی فلمیں ہمارے کیبلز آپریٹر کیسے چلا دیتے ہیں، اُسی طرح یہ پتہ نہیں چل سکا کہ ہر وہ پروگرام جو متحدہ ، پاکستان عوامی تحریک اور تحریکِ انصاف کے ایجنڈے کو بڑھاوا دیتا ہے ، اس کی ریٹنگز اعلیٰ کیسے آ جاتی ہیں۔

اپنے صحافتی کیرئیر کے آغاز میں نیوز روم کے ایک سینئیر نے بتایا تھا کہ علاقائی یا ضلعی نامہ نگار سے بچ کر رہنا چاہیے کیوں کہ یہ ایک خوفناک مخلوق ہوتا ہے، اگر صحافت میں اچھی شہرت کے ساتھ زندہ رہنا چاہتے ہو تو اس کو قریب نہ پھٹکنے دینا۔ لیکن سرائیکی صحافی کی ملتان کے ایک علاقائی نمائندے سے لے کر پرائم ٹائم اینکر کے سفر کو دیکھ کر واقعی ان بزرگ صحافی کی باتوں پر ایمان پختہ ہو جاتا ہے، اللہ ہمارے ان سینئیر صحافی کی مغفرت کرے کچھ سال قبل ہی بیگم کو پیارے ہو کر دوستوں کو داغِ مفارقت دے گئے ہیں۔

لیکن اس فہرست میں میاں نواز شریف صاحب بھی شامل ہیں ۔ لاہور کا علامہ اقبال ائیرپورٹ مکمل ہونے پر میاں صاحب نے ایک شخص کو یہاں پر واقع تمام سرکاری اور غیر سرکاری سہولتوں کے ٹھیکوں کا حقدار قرار دیا تھا اور انہی موصوف کے اشارہ ابرو پر سب کچھ ہوا تھا،لیکن یہی آدمی 13 اکتوبر 1999 کو فوج کی مقامی کور کے مرکزی دفتر 10 ڈویژن ہیڈکوارٹر میں فوجی افسران کے سامنے بیٹھا فر فر میاں نواز شریف ، شہباز شریف اور اسحاق ڈار کی کرپشن اور بدعنوانی کی جھوٹی سچی کہانیاں بیان کر رہا تھا جس کے نتیجے میں موصوف کے لئے تما م ’’سہولتیں‘‘ مشرف دور میں بھی دستیاب رہیں۔بات یہیں تک رہتی تو ٹھیک تھا، لیکن جیسے ہی میاں نواز شریف صاحب جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس آئے ، تو یہ صاحب پھر میاں صاحب کے ساتھ سائے کی طرح لگ گئے او ر حالیہ دنوں تک میاں صاحب کی ہر تقریر کے دوران ان کے پیچھے کھڑے اپنی مونچھوں کو تاؤ دے رہے ہوتے تھے۔ وہ تو بھلا ہو کسٹم حکام کا کہ انہوں نے موصوف کو کرنسی سمگلنگ کے مقدمے میں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا اور میاں صاحب کی میڈیا ٹیم کو ان کی خبر کا بلیک آوٹ کروا کر انہیں خود سے دور کرنا پڑ گیا، لیکن دیکھ لیجئے گا جیسے ہی یہ بندہ رہا ہو گا، یہ پھر اُسی جگہ پر مامور ہو جائے گا جہاں پر پہلے تھا۔

اس فہرست میں اپنے چوہدری صاحبان کا بھی جواب نہیں۔ کروڑوں روپے ماہانہ خرچ کر کے انہوں نے ایک میڈیا سیل بنایا جہاں پر مختلف صحافیوں کو اکاموڈیٹ کیا گیااور انہیں ماہانہ ادائیگیاں کی جاتی رہیں لیکن کل تک جو صحافی اس میڈیا سیل سے اپنے ادارہ جاتی تنخواہ کے علاوہ راتب خوری کرتے پائے جاتے تھے وہ اب نواز لیگ کے دسترخوان پر براجمان ہیں، ویسے بھی شریف بھائیوں نے کون سا پلے سے پیسے لگانے ہیں اس لئے انہوں نے صوبائی اور وفاقی سطح دونوں جگہوں پر دسترخوان سجا رکھے ہیں کہ :
جو مزاجِ یار میں آئے

دادا جی کے بقول ہمارے حکمرانوں کو جب اقتدار ملتا ہے تو ان کو یقین ہی نہیں آتا ، وہ بے یقینی میں اقتدار کی طلسماتی دنیا میں اپنی شاپنگ (خریداری) کرنے میں بہت جلدی کرتے ہیں، اس لئے وہ بھی اُسی مال کو ہی ہاتھ مارتے ہیں جس پر خوردہ قیمت یعنی (Price Tag) لگا ہوا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں یمن کی طرح کے انقلاب کے ذریعے جناب طاہر القادری صاحب کو اقتدار کی ہلکی سی جھلک کروائی گئی تو موصوف نے بھی انہیں اینکروں اور صحافیوں پر ہاتھ رکھا۔

اس میں سب سے چالاک گروہ ہمارے مقتدر اداے ہیں جو ایسے صحافیوں کو خفیہ رپورٹوں تک رسائی دے کر، کچھ دئیے دلائے بغیر ہی کام نکلوا لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محکمہ اطلاعات کے صوبائی اور وفاقی افسران تو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کہیں نہ کہیں جھک مار ہی لیتے ہیں، آئی ایس پی آر والوں کو صرف سوکھی پنشن پر ہی گذارہ کرنا پڑتا ہے۔ ویسے اس نسل کے صحافی آج کل ہر محفل میں نواز شریف حکومت کی آئندہ اکتوبر میں روانگی کی اطلاعات دیتے پائے جا رہے ہیں۔ اس کی ان کے پاس کیا تفصیلات ، توجیہات اور اطلاعات ہیں اس پر کسی اور موقع پر بات ہو گی۔

لیکن ہمارے حکمران اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ تھانے کا ایس ایچ او بھلے بدل جائے تھانے کے مخبر وں کی ٹولی وہی رہتی ہے۔ دیکھ لیں کچھ تو سیکھ لیا ہے ان ہمارے کوتاہ نظرسیاستدانوں نے ، اس لئے اس پر تنقید بے جا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.