.

انقرہ میں میٹھی عید …

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پورے عالم اسلام میں جمعے کی نماز جمعے ہی کوادا کی جاتی ہے لیکن عید جوکہ عالمِ اسلام کا سب سے اہم تہوار ہوتا ہے مسلمانوں کی تفریق کا باعث بن جاتا ہے دور دراز کے ممالک کے درمیان تو جغرافیائی لحاظ سے اس فرق کو سمجھا جاسکتا ہے لیکن ایک ہی ملک کے مختلف علاقوں جس میں پاکستان پیش پیش ہے مختلف ایام میں یہ تہوار منایا جانا ناقابلِ فہم ہے۔نئے چاند کی پیدائش سے متعلق راقم نے آٹھ جولائی کو ’’ترکی میں ماہ رمضان‘‘ کے عنوان سے جو کالم تحریر کیا تھا اس بارے میں پاکستان سے بڑی تعداد میں موصول شدہ ای میلز میں ترکی کی نئے چاند کی پیدائش سے متعلق حساب کتاب جس میں غلطی کا صفر اعشاریہ صفر فیصد بھی احتمال نہیں ہوتا کو سرا ہنے کے ساتھ ساتھ پورے عالم اسلام میں اس نظام کو اپنانے کی ضرورت پر زوردیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں میری رویت ہلال کمیٹی سے یا وزارتِ مذہبی امور سے درخواست ہے کہ وہ ترکی کے محکمہ مذہبی امور یا پھر سفارت خانہ پاکستان کے توسط سے رجوع کرتے ہوئے اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد طلب کرسکتے ہیں۔ یہ سائنس اورکمپیوٹر کا دور ہے اس قسم کا مسئلہ جس کا سو فیصد حل موجود ہو اس کے حل کو قبول کرتے ہوئے مسلمانوں پر احسانِ عظیم کریں اور دنیا کو بھی پورے عالمِ اسلام میں اتحاد موجود ہونے کا ثبوت فراہم کریں۔

ترکی میں لوگ کام کاج کرنے کے بعد چھٹیوں کی طرف خصوصی توجہ دیتے ہیں۔اس لئے ان کے لئے عید کی چھٹیاں بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں اور عید کی چھٹیوں کا پروگرام ایک سال قبل ہی بنا لیتے ہیں۔ ترکی میں لوگ زیادہ تر عید کو اپنے خاندان کے ہمراہ ہی منانے کو ترجیح دیتے ہیںا ور اگر خاندان کے بزرگ اگر کسی دوسرے شہر میں مقیم ہیں تواس شہر کا رخ کیا جاتا ہے۔ ترکی میں عام طور پر عید الفطر کی ساڑھے تین اور عید الضحیٰ کی ساڑھے چار چھٹیاں ہوتی ہیں (عام طور منگل وغیرہ کو عید ہونے پر مزید ایک یا دو دن کی چھٹی کا اضافہ کرتے ہوئے نو چھٹیوں کا سرکاری طور پر بندو بست کردیا جاتا ہے) ترک باشندے چاند رات سے قبل ہی گھر کی شاپنگ وغیرہ مکمل کر لیتے ہیں تاکہ عید سے قبل مہمانوں کے لئے سویٹ ڈشز اور دیگر کھانوں کو تیار کرنے میں خواتین کا ہاتھ بٹایا جاسکے۔

جس طرح ہمارے ہاں سوئیوں یا شیر خورمے کے بغیر عید مکمل نہیں ہوتی ہے بالکل اسی طرح ترکی میں ’’بکلاوہ ‘‘کے بغیر عید کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا (بکلاوہ دراصل چوکور ٹائیل کی شکل میں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں پر مشتمل اوپر تلے رکھے گئے میدے کی باریک تہوں جس میں اخروٹ کی گِری یا پستہ بھر دیا جاتا ہےاور جسے پکنے کے لئے اوون (تندور) میں رکھ دیا جاتا ہے تیار ہونے پر گرم گرم شیرا ڈال دیا جاتا ہے اورٹھنڈا ہونے پر اسے پیش کردیا جاتا ہے ) بکلاوہ کے علاوہ بھی مختلف سوئٹ ڈشز تیار کی جاتی ہیں تاکہ خاتونِ خانہ کی کھانا تیار کرنے کی مہارت کا سکہ سب پر بٹھادیا جائے۔

ویسے بھی ترکی زبان کا محاورہ ہے” میٹھا کھاؤ اور میٹھا بول بولو”اس محاورے پر عمل درآمد کرتے ہوئے میٹھی عید کی تیاریاں مکمل کرلی جاتی ہیں۔ عید کی نماز ترکی میں عام طور پر فجر کی نماز کے ساتھ تھوڑی دیر کے وقفے کے بعد اداکردی جاتی ہے اور ترکی میں کھلے میدانوں یا عید گاہوں میں عید کی نماز ادا کرنے کی بجائے مساجد ہی میں عید کی نماز ادا کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے تاہم لیٹ ہو جانے والے نمازیوں کو مسجد کے باہر ہی نماز ادا کرنا پڑتی ہے۔اس لئے لوگ وقت سے پہلے ہی مسجد پہنچ جاتے ہیں تاکہ باہر سردی میں ٹھٹھرنے سے بچا جاسکے۔ (گرمیوں میں بھی صبح کے وقت اچھی خاصی ٹھنڈ ہوتی ہے ) ترک عید کی نماز ادا کرنے کے بعد ایک دوسرے سے بغل گیر ہونے کی بجائے ایک دوسرے کے گال کے ساتھ گال ملاتے ہوئے بوسہ دیتے ہیں جبکہ بچے اور دیگر افراد اپنی سے زیادہ عمر کے افراد کے ہاتھوں کا بوسہ لیتے ہیں۔ گھر میں عید کے موقع پر گھر کی خواتین خصوصی ناشتے کا بندو بست کرتی ہیں۔ ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد بچوں میں عیدی تقسیم کی جاتی ہے جبکہ بزرگ خواتین و حضرات کے ہاتھوں کو بوسہ لیا جاتا ہے۔

اس موقع پر گھر کی بیگم اپنے میاں کے ہاتھوں کا بوسہ لینے کی روایت پر عمل درآمد کرتے ہوئے دکھائی دیتی ہے اور یوں اپنے شوہر سے عیدی بھی وصول پاتی ہے۔ایک دیگر روایت جس پر آج بھی سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے کہ اپنی سے زائد عمر کے عزیز و اقارب کے ہاں عید ملنے جانا ہوتا ہے۔ عزیز و اقارب کے ہاں عام طور پر تھوڑی دیر ہی کے لئے عید ملنے جایاجاتا ہے ۔ (ترک عام دنوں میں پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت کسی کے ہاں جائیں تو چار پانچ گھنٹے سے قبل ان کا واپس آنا ممکن نہیں ہوتا ) عید پر مہمانوں کو سب سے پہلے ٹرکش کافی پینے کو دی جاتی ہے ( ٹرکش کافی عام کافی سے کافی حد تک مختلف ہوتی ہے اور اس میں دیگر کافی کی نسبت کڑواہٹ زیادہ ہوتی ہے جبکہ ٹرکش کافی پینے کے بعد اس کی فال دیکھنے کا بھی بڑا رواج ہے اور ترکی زبان میں کہا جاتا ہے فال دکھانے کے بغیر رہو بھی نہ اور فال پر یقین بھی نہ کرو) کافی کے بعد مہمانوں کو چاکلیٹ ٹافیاں اور مختلف سویٹ ڈشز پیش کی جاتی ہیں ۔ بزرگ خواتین و حضرات کے گھر جانے کے اگلے روز یا اس کے بعد کے روز یہی بزرگ خواتین و حضرات جوابی دورہ کرتے ہیں۔

یہ توتھا ترکوں کے ہاں منائی جانے والی عید کا منظر ، اب آتے ہیں انقرہ میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے منائی جانے والی عید کی تقریب کی جانب۔ اس عید کی تقریب کا اہتمام سفیر ِ پاکستان سہیل محمود اور ان کی اہلیہ مہوش محمود نے خصوصی طور پر کیا تھا ۔ اس تقریب میں صرف انقرہ ہی سے نہیں بلکہ انقرہ کے ارد گرد کے شہروں سے بھی پاکستانیوں نے شرکت کی۔ یہاں پر یہ عرض کرتا چلوں کہ انقرہ میں آباد پاکستانیوں کی تعدادامریکہ، یورپی ممالک یا پھر عرب ممالک میں آباد پاکستانیوں کے مقابلے میں بہت کم ہےتاہم گزشتہ چند سالوں سے خاص طور پر پاکستانی طلبا کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سفیر ِ پاکستان سہیل محمود اور ان کی اہلیہ مہوش محمود کی جانب سے منعقد کی جانے والی اس تقریب میں انقرہ میں مقیم تمام پاکستانی فیملیز اور بڑی تعداد میں پاکستانی طلبا اور طالبات کے علاوہ ترک دوستوں نے بھی شرکت کی۔ اس تقریب کے تمام ہی شرکاء بے حد خوش تھےا ور ان کی یہ خوشی ان کے چہروں سے نمایاں تھی۔

عید کی اس تقریب کی بدولت ان سب کو ایک چھت تلے جمع ہونے کا موقع میسر آیا تھا۔ خاص طور پر طلبا اور طالبات نے تو اپنی خوشی کے اظہار کے لئے کسی بخل پن سے کام نہ لیا تھا ۔ انہوں نے سفیر پاکستان کواس بات سے آگاہ کرنے میں ذرہ بھر تامل سے کام نہ لیا کہ ” وہ اس سے قبل یتیم بچوں کی مانند تھے جن کا انقرہ میں کوئی والی وارث نہ تھا جبکہ سفیر پاکستان نے ان سب کو مدعو کرتے ہوئے ان کی پشت پر سفیر پاکستان کے ہونے کا ثبوت فراہم کر دیا تھا‘‘۔ انہوں نے سفیر پاکستان کو آگاہ کیا کہ ” دیگر ممالک کے سفیر تو اپنے طلبا کو اکثر و بیشتر ملاقات کا موقع فراہم کرتے رہتے ہیں لیکن سفیر پاکستان کی جانب سے تمام پاکستانی طلبا کو ایک ساتھ مدعو کرنے کا یہ پہلا موقع تھا اور انہوں نے ان کی لاج اور مان رکھ لیا ہے جس پر وہ سفیر پاکستان کے مشکور ہیں۔

اس موقع پر سفیر ِ پاکستان سہیل محمود جو پاکستان کی ثقافتی اور تعلیمی سرگرمیوں میں بڑی گہری دلچسپی لے رہے ہیں نے طلبا کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ وہ آئندہ بھی طلبا کے ساتھ مل کر ترکی کے مختلف علاقوں میں ثقافتی اور تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھیں۔ انہوں نے طلبا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ترکی میں مزید پاکستانی طلبا کے مختلف یونیورسٹیوں میں داخلے اور اسکالر شپ دلوانے کی ہر ممکنہ کوششیں صرف کریں گے ۔سفیر پاکستان سہیل محمود نے اس تقریب کے اختتام پر انقرہ کے علاقے ’’کے چی اؤرین‘‘ میں پاکستانی طلبا کی جانب سے پیش کئے جانے والے ثقافتی شو میں حصہ لینے والے طلبا میں سرٹیفکیٹ تقسیم کئے اور یوں یہ عید ملن پارٹی اپنے اختتام کو پہنچی۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.