.

ایران ڈیل:اوباما اور مسلم کمیونٹی کی مشکلات؟

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ خارجہ نے ایران سے ’’نیوکلیئر ڈیل‘‘ کے معاہدہ کا متن اور اس کے ساتھ تمام متعلقہ دستاویزات کے ساتھ ساتھ اس بارے میں امریکی خفیہ ایجنسیوں کی کلاسیفائڈ رپورٹس، ایران کے ایٹمی پروگرام اور تنصیبات کی تصدیق کرنے کے طریقوں اور مراحل کے حوالے سے بھی تمام مواد امریکی کانگریس کو بھجوا دیا ہے۔ قواعد کے مطابق ڈیموکریٹ امریکی صدر کی مخالف ری پبلکن پارٹی کی اکثریت رکھنے والی موجودہ امریکی کانگریس کو 20؍ جولائی سے شروع ہونے والی 60؍ روز کی مدت میں اس معاہد ے کی منظوری یا ’’نامنظور‘‘ کا فیصلہ کرنا ہو گا۔

اگر کانگریس نے منظور کر لیا یا کوئی فیصلہ نہ کر سکی تو صدر اوباما کہہ چکے ہیں کہ اپنا صدارتی ویٹو استعمال کریں گے۔ ویٹو کے استعمال کا مطلب یہ ہو گا کہ امریکی کانگریس اس ویٹو کو ختم کرنے کیلئے اپنی دو تہائی اکثریت سے معاہدے کو نامنظور کرنے کا فیصلہ دے جو ایک بڑا مشکل کام ہو گا۔ گو کہ ایران سے ’’ایٹمی ڈیل‘‘ پر امریکی کانگریس میں ری پبلکن اکثریت کے ساتھ ساتھ بعض ڈیموکریٹ اراکین کانگریس بھی خوب تنقید و مخالفت کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حکومت اور امریکہ میں مضبوط و متحرک اسرائیلی لابی نے بھی بڑی شدت سے مخالفانہ مہم کا آغاز کر دیا ہے لیکن ڈیموکریٹک صدر اوباما بھی ایران، امریکہ ایٹمی معاہدے کے حق میں زبردست مہم چلا رہے ہیں اور متعدد ایسے سیاسی و اختیاراتی ’’کارڈز‘‘ اپنے ہاتھ میں رکھ کر بیٹھے ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ شدید تنقید اور مخالفت کے باوجود امریکی صدر اوباما کامیاب رہیں گے اور ’’ایران، امریکہ ایٹمی معاہدے‘‘ کا عملی نفاذ بھی صدر اوباما کے سیاسی اور تاریخی ورثہ کا حصہ بن جائے گا۔

عراق اور افغانستان کی جنگوں کے خاتمے کے اعلانات سے لے کر معیشت کو بحرانوں سے نکالنا، وسائل سے مالامال مسلم ممالک اور مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اس کے اتحادی اسرائیل کو لاحق تمام چیلنجوں کا سامنا کر کے مسلم دنیا اور اس کے حکمرانوں کو بے بسی کے عالم میں منتشر حالات میں دھکیلنا، تمام تر داخلی مسائل کے باوجود امریکہ کے عالمی سپر پاور کا درجہ قائم رکھنا اور مشرق وسطیٰ سمیت مسلم دنیا کے جغرافیائی نقشے کی نئی ترتیب کی راہ ہموار کرنا بھی تاریخ کے پہلے سیاہ فام امریکی صدر اوباما کے سیاسی اور تاریخی ورثہ کا حصہ شمار ہوں گے۔‘‘ ایران، امریکہ نیوکلیئر ڈیل‘‘ امریکی کانگریس میں زیر بحث آنے سے قبل ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایک قرارداد کی منظوری کی شکل میں ایک عالمی ضابطہ بلکہ عملی طور پر عالمی قانون کا حصہ بن چکی ہو گی۔

اس معاہدے کے شریک پانچ ممالک تو سلامتی کونسل کے بھی مستقل اور ویٹو کا حق رکھنے والے ممالک ہیں لہٰذا ان سطور کی اشاعت تک اس بات کا امکان ہے کہ سلامتی کونسل اس ایران، امریکہ معاہدےکی حمایت و توثیق کے لئے ایک قرارداد کی شکل میں عالمی حیثیت دیدے جس کی پابندی اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک پرعائد ہو۔ یہ ٹائم ٹیبل اور اقدام بھی صدر اوباما کے مشیروں کی کامیاب حکمت عملی ہے۔ ’’ایران ڈیل‘‘ پر مسلم دنیا منتشر ہے اور ابھی تک اس عالمی اور تاریخی کھیل کا کوئی کارڈ بھی مشرق وسطیٰ کے حکمرانوں کے ہاتھ میں نظر نہیں آتا۔

ایران بھی مذاکرات میں طوالت اور سفارت کاری کے ’’مراتھون‘‘ کے بعد جس ڈیل پر بہت خوش ہے اس کے عملی بھید بھی اس کے عملی نفاذ کے وقت ہی سامنے آئیں گے تاہم صدر اوباما کی پوری کوشش ہے کہ ایٹمی میدان میں ایران کیلئے تمام ’’لوپ ہول‘‘ بند کر دیں اور اس معاہدہ کی ممکنہ ایرانی خلاف ورزی کو اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دے کر اسے عالمی امن و امان کا مسئلہ بنا دیا جائے۔ صدر اوباما نے امریکی کانگریس میں اس معاہدے کا متن برائے منظوری اس ٹائم ٹیبل کے ساتھ بھجوایا ہے کہ 60؍ دن کی مدت 18؍ ستمبر کو ختم ہو گی۔ ستمبر کے تیسرے ہفتے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس شروع ہو گا اور امریکی کانگریس سے منظوری یا نامنظوری کی صورتحال واضح ہو جائے گی۔ صدر اوباما جب جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے تو دنیا میں ایٹمی پھیلائو ایران سے امریکہ کی ایٹمی ڈیل کی کامیابی کا بڑے اعتماد سے ذکر کر سکیں گے۔ دیکھیں کہ ’’ایران، امریکہ ڈیل‘‘ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کیلئے کیا کچھ اثرات لاتی ہے؟ صدر اوباما نے داخلی سطح پر معیشت کے بحران، نسلی امتیاز کے معاملات، سیاسی مخالف ری پبلکن پارٹی کی تنقید اور رکاوٹوں کے باوجود عالمی سطح پر امریکہ کی برتری کو اپنے سات سالہ دور صدارت میں جس طرح قائم رکھا ہے وہ توجہ اور تجزیہ طلب ہے۔

امریکہ میں مسلمان کئی اقلیتوں میں سے ایک اہم اقلیت ہیں مگر گیارہ ستمبر 2001ء کے سانحہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور بعد کے حالات نے مسلم کمیونٹی کو بھی مسلسل اپنی صفائی پیش کرنے، امیج کو بہتر بنانے کی کوششوں اور غیر مؤثر قیادت سمیت مسائل سے دوچار کر رکھا ہے۔ انسداد دہشت گردی کے عنوان سے نت نئے قوانین و ضابطے بن رہے ہیں جو مسلمان خاندانوں اور بچوں کیلئے بھی اندیشوں کا باعث ہیں۔ کینیڈا کی کنزرویٹو حکومت نے بل C-24 اور بل C-51 کے عنوان سے جو نئے قوانین پارلیمنٹ سے منظور کروا کر نافذ کئے ہیں وہ واضح طور پر امتیازی ہیں۔ پڑوسی کینیڈا کے بل 24 نے تو کینیڈین سٹیزن شپ کی دو مختلف کیٹگریز بنا کر امیگریشن حاصل کر کے کینیڈا کے شہری بننے والوں سے شہریت کے واپس لئے جانے کی راہ کھول دی ہے۔

دوہری شہریت والوں سے بھی کینیڈا کی شہریت واپس لی جا سکتی ہے اور کینیڈا میں پیدا ہونے والے تارکین وطن کے بچوں کا بھی مستقبل بعض صورتوں میں مخدوش ہے، اسی طرح بل C-51 انسداد دہشت گردی کا ایکٹ ہے لیکن جس طرح گزشتہ 14؍ سال میں امریکہ و کینیڈا میں مسلمانوں کے امیج کو نقصان ہوا ہے اور مسلم نام کے حامل دہشت گردوں نے جو صورتحال پیدا کر رکھی ہے اس کے باعث پر امن اور قانون کے پابند شہری بھی فکرمند ہیں۔ ان دونوں قوانین پر تنقید اور احتجاج ہو رہا ہے مگر سرزمین کا قانون ہے جس کی تشریح اور تعمیل انسان ہی کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے امریکہ و کینیڈا میں مسلمان تنظیمیں تو ہیں مگر ایسی منظم قیادت کا مکمل فقدان ہے جو مسلم کمیونٹی اور حکومتی یا شہری اداروں کے درمیان ڈائیلاگ کا آغاز کر کے امیج کو درست کرنے میں رہنمائی کرے یا پھر شہریوں کی سطح پر رائے عامہ کو ہموار کرنے کا کام کرے۔ گو کہ مسلم کمیونٹی میں مسلک اور گروہی تقسیم کی صورت مسلم ممالک کے مقابلے میں بہت بہتر ہے مگر ایک اہم اور کئی ملین آبادی کی مسلم اقلیت کو جس مؤثر اور مثبت امیج کی ضرورت ہے اس کا وجود نہیں ہے بلکہ 2011ء سے قبل جو مثبت امیج اور اہمیت حاصل تھی وہ گزشتہ 14؍ سال میں منفی سے بھی نیچے چلی گئی ہے۔ کہیں کوئی جرم، حادثہ یا تخریب کاری ہو جائے، پہلا اندیشہ یہ ہوتا ہے کہ اس واردات میں مشکوک یا ملزم کا نام کیا ہے؟

جرائم پیشہ لوگ ہر مذہب، ہر نسل اور ہر انسانی معاشرے میں ہوتے ہیں لیکن اگر کسی جرم میں اگر مخصوص نام اور کلچر کا فرد ملوث ہے تو پھر یہ پریشانی پیدا کرتا ہے۔ گزشتہ روز امریکی ریاست ٹینسی میں ایک 24؍سالہ امریکی شہری عبدالعزیز نے فائرنگ کر کے چار امریکی فوجیوں کو قتل کرنے کا سنگ دلانہ جرم کیا اور خود بھی جوابی فائرنگ میں مارا گیا۔ ہر ایک نے اس قتل کی مذمت کی حتّیٰ کہ عبدالعزیز کے والدین نے بھی اپنے کویتی نژاد امریکی بیٹے کے اقدام کی مذمت کی اور ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں سے اعلانیہ معذرت اور تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عبدالعزیز ایک عرصہ سے ڈپریشن کا شکار اور زیر علاج تھا لیکن اس واقعہ نے ریاست ٹینسی سے لے کر نیویارک اور کیلی فورنیا تک مسلم کمیونٹی پر اپنے منفی اثرات مرتب کئے ہیں حالانکہ فائرنگ اور قتل کا یہ انتہائی قابل مذمت اقدام ایک ایسے نوجوان امریکی نے کیا ہے جو ڈپریشن یا دیگر مسائل کا شکار تھا مگر ابتدائی اطلاعات میں اس انفرادی جرم کو جو ممکنہ معنیٰ پہنائے گئے اور جن شبہات کا اظہار کیا گیا اس نے ابھی تک کمیونٹی میں تشویش کی صورت پیدا کر رکھی ہے۔

جرم کرنے والے کا کوئی مذہب نہیں ہوتا کیونکہ کوئی بھی مذہب انسانی قتل یا جرم کی اجازت نہیں دیتا۔ امریکہ اور کینیڈا کی جیلیں ایسے مجرموں سے بھری پڑی ہیں جو نام اور مذہب کے اعتبار سے غیر مسلم ہیں مگر 14؍ سال سے ایک ایسا ماحول پایا جاتا ہے کہ ملزم یا مجرم کی شناخت میں اس کا نام اور حلیہ اہمیت اختیار کر گیا ہے جبکہ امریکہ میں دنیا بھر کے ملکوں سے آ کر آباد ہونے والے مسلمانوں کی اکثریت امن پسند، قانون کی تابع، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور شہری ذمہ داریوں سے بہ خوبی واقف ہے مگر اس کمیونٹی کی قیادت کا فقدان ہے جو انہیں امریکی سیاست کی راہداریوں سے متعارف کرا سکے، جو انہیں دیگر مذاہب کے رہنمائوں سے ڈائیلاگ اور باہمی احترام کے رشتوں اور رابطوں سے متعارف کرا سکے۔ ایسی قیادت جو یہ واضح کر سکے کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم امریکہ و کینیڈا میں آ کر بھی اس نئی سرزمین کے تقاضوں اور اپنی اقلیتی حیثیت کو سمجھنے کی بجائے اپنے ہی مسلک، ثقافت اور گروہی معاملات میں الجھے ہوئے ہیں۔

گو کہ نیویارک کی پولیس فورس دیگر حساس اداروں اور حکومتی ایوانوں، aسپتالوں، اسکولوں اور امریکی زندگی کے ہر شعبہ میں مسلم کمیونٹی کے افراد بڑی اچھی خدمات انجام دے رہے ہیں، اپنے اپنے شعبوں میں ماہرین کی کمی بھی نہیں مگر بہ طور کمیونٹی ہمیں جرائم کی مذمت اور اپنے امیج کو مثبت بنانے کیلئے اچھی قیادت اور ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.