.

ہماری فوج اور ہمارے سیاستدان

عبدالقادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جب پاکستان بن رہا تھا تب بھی عیدالفطر سر پر تھی یعنی کوئی تین چار دن بعد۔ یہ رمضان المبارک کی مبارک تاریخ 27 ویں تھی اور اس دن پاکستان بن گیا تھا۔ میں جو نو عمر بچوں میں شامل تھا ایک بے پایاں خوشی اور مستی کے عالم میں ادھر ادھر تیز تیز بھاگتا پھرتا تھا۔ یہ میرے گاؤں کی شکستہ گلیاں تھیں جو میرے جذبات کی دھمک کو بمشکل برداشت کر رہی تھیں۔

گاؤں کی دو بڑی مسجدوں میں ایک کے صحن میں خوب رونق تھی کہ بیربل شریف کے بزرگ مرحوم محمد عمر رمضان گزارنے کے لیے اس خنک گاؤں میں موجود تھے اور پاکستان کے منظر و پس منظر کے بارے میں کچھ جانتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ وہ بار بار پوچھتے کہ کوئی یہ بتائے کہ گورداسپور پاکستان میں آیا ہے یا نہیں کیونکہ یہ کشمیر کا راستہ ہے۔

کشمیر کا مسئلہ تب بھی پاکستان کا مسئلہ تھا لیکن ہم لڑکوں کو کشمیر اور اس کے راستوں سے کیا سروکار ہم اپنے ملک کا جشن منانے کے لیے بے قرار تھے لیکن اس گاؤں میں جشن کیسے منایا جا سکتا تھا۔ کسی نے بتایا کہ گاؤں میں جو واحد بڑی عمارت ہے وہ اسکول کی ہے اور سرکاری ہے چنانچہ پاکستان کا جھنڈا اس عمارت پر لہرا دیا گیا جو پاکستان کی آزاد فضاؤں میں جھومنے لگا تھا۔
پہاڑوں کے دائرے میں گھرا ہوا یہ گاؤں گویا کسی پیالے میں رکھ دیا گیا تھا چنانچہ پہاڑوں کے اس پیالے میں آباد گاؤں کا نام کُھوڑہ تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ سنسکرت زبان میں کُھوڑہ پیالے کو کہتے ہیں اس کے محل وقوع کو دیکھ کر کسی نے اسے پیالہ یعنی کھوڑہ کہہ دیا اور پھر یہی اس گاؤں کا نام ٹھہرا۔

سنسکرت زبان کے خوبصورت لفظ سے نام لینے والی وادی ’سون سکیسر‘ جس کی تین خوبصورت جھیلوں کے پانیوں میں اس کے پہاڑوں کے سائے لرزتے ہیں اسی وادی کے نام سے میرے گاؤں کی عزت ہے خود یہ وادی بھی پہاڑوں کے ایک دائرے میں گھری ہوئی ہے جس کے قدموں میں یہ جھیلیں ہر موسم میں پڑی تھرتھراتی رہتی ہیں۔

سردیوں کے موسم میں یہ انتہائی سرد روسی علاقوں سے آنے والے خوبصورت پروں والے پرندوں کے ساتھ پیار و محبت میں وقت گزار لیتی ہیں۔ لیکن جب موسم بدلتا ہے تو یہ دور کے مسافر پرندے ایک ایک کر کے اپنے اپنے وطن کی طرف پرواز کر جاتے ہیں۔ وادی سون کے پاس ان کی یادوں کے سوا کچھ نہیں رہتا لیکن پھر موسم سرما آتا ہے اور یادوں کی ایک نئی دنیا جاگ اٹھتی ہے مہمانوں کے خیر مقدم کے لیے۔

وادی سون کی ایک شام کو نماز مغرب سے پہلے اطلاع ملی کہ پاکستان بن چکا ہے۔ گاؤں کے لوگوں کو آزادی کے مفہوم سے زیادہ واقفیت نہیں تھی سوائے اس کے کہ اب انگریز مسیحی ان کے حکمران نہیں ہوں گے ان کے اپنے ہموطن مسلمان ان کے حکمران ہوں گے انصاف ہو گا ان کے رہنما ان خلفاء جیسے ہوں گے جن کا ذکر وہ ہر خطبہ جمعہ میں سنتے ہیں۔

رضی اللہ عنہ۔ یہ سب ایک شام کے خواب تھے ایک رمضان المبارک کی برکات تھیں جن کی جلو میں دنیا کے نقشے پر ایک نیا مسلمان ملک طلوع ہوا جس کی پہلے سے زمین پر کوئی مثال موجود نہیں تھی۔ یہ تاریخ کا پہلا مسلمان ملک تھا جس کا وجود اسلام کے نام پر عمل میں آیا دوسرے تمام مسلمان ممالک اسلام لائے تھے انھوں نے اسلام کو بطور دین قبول کیا تھا ورنہ وہ کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھتے تھے عرب سمیت۔ کوئی بھی پہلے سے مسلمان نہیں تھا۔ یہ صرف پاکستان تھا جو پیدا ہی مسلمان ہوا۔

مگر دنیا کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا مسلمان ملک ان مسلمانوں کے ہتھے چڑھ گیا جو حرص و ہوس کے پجاری تھے صرف نام کی حد تک وہ مسلمان تھے اور ہم آج تک اس طبقہ کے اعمال و افعال دیکھ رہے ہیں اور ان کی غلامی میں آزاد پاکستانی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ایک تو وہ عید تھی جس پر پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا اور ایک یہ عید ہے اسی ملک کی جس کے نمونے ہم دیکھ چکے ہیں اور دیکھ رہے ہیں۔ ملک کے لیڈر عید منانے ملک سے باہر چلے گئے ہیں۔

نہ معلوم انھوں نے عید پر کتنے کروڑ روپے خرچ کیے میاں صاحب نے دو جہاز چارٹر کرائے اور ان میں دو خاندانوں کو سوار کیا اور سعودی عرب میں جا کر اپنے خاندان میں ایک شادی کی۔ حضور پاک ﷺ کے قدموں میں آسودہ حضرت عمر فاروقؓ یہ سب دیکھ رہے تھے۔ مبارک ہو میاں صاحب کو کہ وہ حضرت عمر کی خلافت میں یہ سب کچھ نہیں کر رہے تھے ورنہ مسلمانوں کا یہ حکمران نہ جانے کیا سزا دیتا۔

اس سے تو زمین بھی کانپتی تھی اور اس عید پر پاکستان سے غیر حاضری صرف کسی ایک لیڈر پر موقوف نہیں تھی کئی لیڈر عید منانے ملک سے باہر جا چکے تھے۔ کہیں یہ بات تو نہیں کہ کسی نے سیاستدانوں کو بتا دیا ہو کہ اس سال یہ عید پاکستان میں نہیں ہو گی اور وہ اہل و عیال سمیت ملک سے بھاگ گئے ہوں۔ سیاستدان بھی عام مسلمانوں کی طرح ضعیف الاعتقاد ہوتے ہیں انھیں ہر وقت اپنے آپ سے ڈر لگتا رہتا ہے ان کے اعمال ان کے سامنے ہوتے ہیں مگر اس بار نہ جانے کیا ہوا کہ ملک سیاستدانوں سے خالی ہو گیا۔ پاکستان کے عامۃ المسلمین خوش نصیب ٹھہرے کہ کم از کم ایک عید ان کو پاک و صاف مل گئی جب ان کی زندگیوں پر سیاستدانوں کا سایہ نہیں پڑ رہا تھا۔

اس عید پر ایک بہت بڑا واقعہ یہ ہوا کہ جنرل سمیت ان کے ماتحت جرنیلوں نے بھی عید اپنے اپنے میدان میں منائی۔ وہ پاکستان سے دور رہے جو غلط حکومتوں نے میلا کر دیا تھا۔ وہ اپنی سپاہ کے ساتھ رہے اور قوم کو ایک پیغام بھی دیا۔ اس پیغام پر بات پھر ہو گی ذرا حالات زیادہ صاف ہو جائیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.