.

یہ امداد میں ملنے والے ہار چرانے کا موسم ہے!

نازیہ مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

1540ء کے بعد سال 2003ء یورپ کی تاریخ کا گرم ترین سال تھا۔ بارہ سال پہلے گزرنے والے اِس غیر معمولی گرم موسم میں اگست میں درجہ حرارت 47.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا اور یہ درجہ حرارت اِس براعظم کے لیے ایک ریکارڈ تھا۔ اِس ریکارڈ ساز گرمی کے نتیجے میں یورپ میں ستّر ہزار ہلاکتیں ہوئیں،سب سے زیادہ جانی نقصان کا سامنا فرانس کو کرنا پڑا، پورے یورپ میں بہت سے جنگلات میں آگ لگ گئی جو مہینوں تک بجھائی نہ جاسکی، دریا خشک پڑ گئے اور کھیت کھلیان ویران ہوگئے۔ اِس صورتحال کا سامنا اُس یورپ کو کرنا پڑا تھا جسے اپنی صنعتی اور معاشی ترقی پربڑا ناز تھا؟ گرمی کی اِس شدید لہر کو دیکھ کر کچھ حلقوں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ شاید قدرت اِس نہج پر معاشی ترقی کے حق میں نہیں، دوسرے معنوں میں اس کا مطلب یہ لیا گیا کہ صنعتی ترقی سے رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں قدرت کی جانب سے کم اور انسان کی اپنی بداعمالیوں کا زیادہ نتیجہ ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں مغرب میں موسمیاتی تبدیلیوں پر بہت تحقیق کی گئی ۔ مغربی ممالک نے اپنی ماحولیاتی اور موسمیاتی پالیسیوں کو ازسر نو مرتب کیا اور قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے ہمہ جہت اقدامات کرنے شروع کردیے۔ یورپ میں ہونے والی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ صنعتی شعبے میں استعمال ہونے والے توانائی کے ذرائع اورپھر صنعتی فضلے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے نہ لگائے جانے کے باعث خوفناک موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو غیر متوقع درجہ حرارت کا باعث بنتی ہیں، جس کے نتیجے میں سیلاب اور طوفانوں جیسی قدرتی آفات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2003ء کی موسمیاتی تباہی نے صنعتی ترقی کے حوالے سے یورپی ممالک کی سوچ کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا اور یورپی ممالک ماحول دوست صنعتی پالیسیاں بنانے کی جانب مائل ہوئے۔ حد تو یہ ہے کہ یورپ میں صنعتی ترقی کے سرخیل جرمنی نے اپنے جوہری ری ایکٹر کے خاتمے تک کا فیصلہ کرلیا۔

دوسری جانب پاکستان کا باوا آدام ہی نرالا ہے۔ ہر سال کسی نہ کسی قدرتی آفت کے نتیجے میں ہزاروں لوگ جان سے جاتے ہیں اور لاکھوں لوگ متاثر ہوتے ہیں لیکن یہاں ماحولیات اور موسمیات کے تحفظ کیلئے سنجیدہ اقدامات تو کیا سوچ بھی دکھائی نہیں دیتی اور اگر پالیسی بن ہی جائے تو اس پر عملدرآمد کا تردد بھی نہیں کیا جاتا۔ مثال کے طور پر قومی ماحولیاتی تبدیلی پالیسی (نیشنل کلائمیٹ چینج پالیسی) منظور ہوئے تین برس بیت چکے ہیں، لیکن ذمہ دار ادارے اور وزراءاِس پر عملدرآمد کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتے۔

ارباب اختیار موسمیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کیلئے کتنے مخلص اور کتنے تیار ہیں اس کا اندازہ اس بات سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ نئے مالی سال کے لیے تیار کیے جانے والے وفاقی بجٹ میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وزارت کے فنڈز میں نمایاں کمی کرنے کا کارنامہ بھی سرانجام دیا گیا۔ دنیا بھر کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں قدرتی آفات کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر پیشگی انتظامات کیے جاتے ہیں جبکہ یہاں پیش گوئی کے باوجود کوئی انتظامات دیکھنے کو نہیں ملتے۔ہونا تو یہ چاہیے کہ کسی ایک واقعے سے ہی اپنی کمزوریوں اور غلطیوں سے سبق سیکھ کر آئندہ ایسی تباہ کاریوں سے بچنے کے لیے ٹھوس اور مربوط پالیسی بنالی جائے، لیکن اس کے برعکس یہاں ایک دوسرے کے سر الزامات تھوپنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا جاتا۔ اس سے بھی بڑھ کر ایک سوچ یہ ہے کہ پالیسیوں پر عملدرآمد تو ہوتا نہیں تو پھر پالیسیاں بنانے کا کیا فائدہ؟ مثال کے طور پر سندھ میں قدرتی آبی راستوں پر تجاوزات کے خاتمے اور تدارک کیلئے سندھ اسمبلی میں تین سال پہلے ایک قانون پاس کیا گیا، جس کے تحت تجاوزات میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دینے کے علاوہ بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے، لیکن آپ ریکارڈ اٹھاکر دیکھ لیں کہ گزشتہ تین برسوں میں اس قانون کی خلاف ورزی پر کتنے افراد کو سزائیں دی گئیں اور کتنے لوگوں کو جرمانے کیے گئے؟

حیران کن طور پر ریکارڈ میں سزاو¿ں اور جرمانوں کا خانہ خالی ملے گا، لیکن اگر آبی راستوں پر تجاوزات پر نظر دوڑائی جائے تو اس میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوا ہوگا۔ یوں سندھ اسمبلی کا بنایا ہوا یہ قانون بھی بالکل ویسے ہی ردی کی نذر ہوچکا ہے جیسے کہ دیگر قوانین بے کار پڑے ہیں۔ ان قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دریاو¿ں پر اس قسم کی تجاوزات میں وہ لوگ ملوث ہیں جو سیاسی حلقوں میں اپنا اثر و رسوخ رکھتے ہیں یا جن کے دم پر ایم پی اے یا ایم این اے ایوانوں تک پہنچتے ہیں۔ یوں پاکستان میں قوانین بنتے ہی اس لیے ہیں کہ ملک کے بااثر افراد انہیں توڑنے کا شوق پورا کرسکیں اور قوانین پر عملدرآمد کے بجائے اُن کی دھجیاں بکھیرسکیں۔ دوسری جانب پاکستانی حکومتیں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ اس طرح بھی کرتی ہیں کہ یہ جاننے کے باوجود کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان میں ہر سال سیلاب میں شدت آنے کا خدشہ موجود ہے ، لیکن عوام اور پارلیمنٹ کے سامنے سیلاب کے ”اچانک“ آنے کا بہانہ بنادیا جاتا ہے۔ کیا یہ بہانہ مجرمانہ غفلت کو چھپانے کی ناکام کوشش کے مترادف نہیں ہے؟ کیا بھلا قدرتی آفات ڈھنڈورا پیٹ کر یا اخبار میں اشتہار شائع کرا کر آتیں ہیں؟

پاکستان ایک مرتبہ پھر سیلاب کی زد میں ہے، مون سون بارشوں اور گلیشیئر پگھلنے کی وجہ سے جو سیلابی ریلے آئے، ان کی زد میں آکر اب تک چترال میں پینتیس سے زیادہ پل بہہ چکے ہیں ،درجنوں سڑکوں کو مکمل یا جزوی نقصان پہنچا ہے اور پنجاب میں بھی سینکڑوں دیہات زیر آب آچکے ہیں۔ پل بہہ جانے کے باعث کئی علاقوں تک امدادی سامان کی ترسیل میں بھی مشکل کا سامنا ہے اور متاثرہ علاقوں اور افراد کی اصل تعداد کا ابھی تک تعین نہیں کیا جاسکا،لیکن آنے والے دنوں میں جب زیادہ بارشیں ہوں گی اور بھارت بھی سیلابی پانی چھوڑ دے گا تو دریاو¿ں میں سیلاب اور سیلاب سے تباہی کا اندازہ پانچ سال پرانے اعدادوشمار دیکھ کر ابھی سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے، جب پانچ سال پہلے طوفانی بارشوں سے آنے والے سیلاب کے باعث تیس لاکھ لوگ متاثر ہوئے تھے، ہزاروں افراد جاں بحق اور زخمی ہوگئے تھے، ساٹھ ہزار گھر مکمل تباہ اور چار ہزار دیہات متاثر ہوگئے تھے اور پچیس لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں مکمل تباہ ہوگئیں تھیںلیکن اب کی بار کتنا نقصان ہوگا؟ اس کا اندازہ لگانا کچھ مشکل بھی نہیں ہے۔

قارئین کرام!! اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اکیسویں صدی میں قدرتی آفات سے بنی نوع انسان کو اب تک ڈھائی کھرب ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ اِس ڈھائی کھرب ڈالر میں سے زیادہ نقصان اُن ممالک میں ہوا جہاں قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے پہلے سے اقدامات نہیں کیے گئے تھے۔ اگر اِن ممالک میں قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے پہلے سے انتظامات کرلیے جاتے تو یہ نقصان کہیں کم ہوسکتا تھا۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے مطابق قدرتی آفات سے پہلے حفاظتی انتظامات پر جہاں ایک ڈالر خرچ آتا ہے، وہاں آفات کے بعد سات ڈالر خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ یعنی آفات سے قبل انتظامات نہ کرنے سے اخراجات 6 گنا بڑھ جاتے ہیں جبکہ جانی نقصان اس کے علاوہ ہوتا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ پاکستان بھی اُن ممالک میں شامل ہے جہاں آفات سے قبل انتظامات نہیں کیے جاتے۔ لیکن افسوس تو یہ بھی ہے کہ پاکستان جیسے ممالک میں قبل از وقت حفاظتی انتظامات جان بوجھ کر نہیں کیے جاتے۔ المیہ تو یہ بھی ہے کہ حکمران طبقہ اِسی تاک میں رہتا ہے کہ کب قدرتی آفت آئے اور انہیں امداد میں ملنے والے ہار چرانے کا موقع مل سکے۔لہٰذا سمجھ لیجئے کہ یہ غیر متوقع شدت والا مون سون اور ”اچانک“ آنے والا سیلاب قدرتی آفت نہیں بلکہ یہ امداد میں ملنے والے ہار چرانے کا موسم ہے!

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.