.

تو مشق ناز کر۔۔۔

عطاء الرحمٰن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کون ہارا کون جیتا۔۔۔ عمران خان ہار گیا۔ اس کے منظم دھاندلی اور انتخابی سازش کے بارے میں تمام دعوے چیف جسٹس آف پاکستان اور ان کے دو ساتھی ججوں پر مشتمل تحقیقاتی ٹربیونل کے حضور غلط ثابت ہوئے لیکن جیتا کون۔۔۔ نواز شریف اور اس کی مسلم لیگ؟ نہیں۔۔۔ ان کی جیت کا اعلان تو 11 مئی 2013ء کی شب کو ہو چکا تھا۔ انہیں حکومت کرتے بھی دو سال سے کچھ زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ دھرنوں کے دوران آپ نے Script Writers کا چرچا بہت سنا ہو گا۔ پاکستان کی یہ وہ طاقت ہے جو بظاہر نظر نہیں آتی۔۔۔ لیکن ہمارے میدان سیاست اور اجتماعی قومی زندگی میں قدم قدم پر محسوس بہت کی جاتی ہے۔ جیت اس کی ہوئی ہے۔ ٹربیونل کے اعلان سے بہت پہلے اور دھرنوں کے عروج کے دوران ہی فاتح نظر آتی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان ہنگاموں یا زبردست احتجاج کے پیچھے اصل کار فرمائی اسی کی ہے۔

اس کی منصوبہ بندی کے پھریرے دارالحکومت کی شاہراہِ دستور یا ڈی چوک کے چہار اطراف لہرا رہے تھے۔ پیشتر ٹیلی ویژن چینلوں پر بھی اس کا فرمان شاہی خاموشی اور روایتی فن کاری کے ساتھ چلتا تھا۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل پاشا کا دماغ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ اب تو جنرل ظہیر الاسلام عباسی کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں کچھ حاضر سروس وہ تھے جو اس برس ماہ اکتوبر میں ریٹائر ہونے والے تھے۔ شیخ رشید ان کی شہ پر ہی تو کہتے تھے قربانی سے پہلے قربانی ہو گی۔ عمران خان تو بس ایک مہرہ تھا جسے خوب خوب استعمال کیا گیا۔ وہ جلد از جلد وزیراعظم بننا چاہتا تھا۔ اسی خواہش سے مغلوب ہو کر مسلسل 126 دن تک پھیپھڑوں کا پورا زور لگا کر آوازے لگاتا تھا۔

طاہر القادری جیسے مذہبی پیشہ ور مقرر کی تقریریں اور مجمع بازی اسے یوں سمجھیے قوت لایموت مہیا کرتے تھے۔ رہی سہی کسر ڈی جے بٹ کی موسیقی اور گانے پوری کر دیتے تھے۔ پارلیمنٹ کے ایوانوں اور وزیراعظم ہاؤس کے بڑے دروازوں پر ان کا قبضہ تھا۔ کاروبار حکومت معطل نظر آتا تھا۔ معیشت کا پہیہ آگے نہیں بڑھ پا رہا تھا۔ چین کے محترم صدر کا دورہ مؤخر ہو چکا تھا۔ تب وہ بھار ت چلے گئے۔ ہمارے یہاں نہ آ سکے۔ ایک دفعہ تو ایسا معلوم ہونے لگا حکومت کا جانا ٹھہر گیا ہے صبح گئی یا شام گئی۔ عمران خان کے خواب مگر پورے نہ ہوئے۔ وزیراعظم نواز شریف نے استعفیٰ نہ دیا۔ کھلاڑی نے تھک ہار کر اس کا مطالبہ واپس لے لیا۔ 16 دسمبر 2014ء کے دن جب آرمی پبلک سکول کا پشاور کا لرزا کر رکھ دینے والا واقع ہوا۔ ایمپائر کی انگلی جسے دیکھنے کے انتظار میں کرکٹ کے ہیرو کی آنکھیں ترس گئی تھیں واقعی اٹھ گئی لیکن باانداز دگر !کپتان نے دھرنوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ تماشا دکھا کر مداری گیا۔ جی نہیں۔ مداری نے جس نامی گرامی کھلاڑی کو آگے کیا تھا۔ اس نے دوسری شادی رچا لی۔ گوشہ عافیت میں چلا گیا۔ حکومت کے ساتھ معاہدے پر دستخط کر دیے۔ اپنی شرائط پر تحقیقات کرالو۔۔۔ مداری نے البتہ اس کمال فن کے ساتھ بازی جیت لی کہ بڑے بڑوں کو پتا نہ چل سکا۔ یاران تیز گام نے محمل کو جا لیا۔

سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل (ر) مشرف کے جس نے چوتھی بار منتخب حکومت کا تختہ الٹا تھا اور دستور پاکستان کو روند ڈالا تھا خلاف آئین مملکت کی دفعہ 6 کے تحت غداری کا مقدمے کو جسے اس کے مقتدر دم ساز اپنی توہین سمجھتے تھے، کھنڈت میں ڈال دیا گیا۔ کسی سویلین کی کیا مجال کہ اس پر انگلی اٹھائے اور مجرم و معتوب قرار دے۔ ایسا کرے گا تو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا جائے گا۔ دھرنوں کی بس یہی ایک کامیابی نہ تھی۔ آئین پاکستان جو قوم کے منتخب نمائندوں کی متفق علیہ دستاویز ہے اس میں سول اور ملٹری تعلقات میں جو توازن رکھا گیا ہے وہ اپنے آپ کو سرزمین وطن کے ارض و سماء کے مالک سمجھنے والوں کو ایک نظر نہیں بھاتا۔ اسی لیے بار بار مارشل لاء لگے۔ چار غیر آئینی حکومتیں قائم ہوئیں۔ اس دوران ملک بھی ٹوٹا۔ بھارت جیسے کمینے دشمن کے آگے ہتھیار ڈالنے پڑے لیکن سول ملٹری توازن کا پلڑا ہر حالت میں اپنی جانب جھکا کر رکھنا ہماری کشتی کے ناخداؤں کا ہمیشہ سے مطمع نظر رہا ہے وہ اس میں فرق نہیں آنے دیتے۔ بے شک سول حکومت ’’راج‘‘ کرتی رہے۔ دھرنوں سے پہلے یہ پلڑا آئین کے مطابق تھوڑا سا دوسری جانب جھک گیا تھا۔ کیونکہ منتخب حکومت نئی نئی برسراقتدار آئی تھی اور اسے عوام کی مینڈیٹ یافتہ ہونے کا بڑا زعم تھا لیکن جلد دھرنوں کے ’’کارخیر‘‘ کی بدولت وہ صورت حال باقی نہیں رہی۔

دفاعی اور خارجہ امور کے بارے میں فیصلے راولپنڈی میں ہوتے ہیں۔ اتباع اسلام آباد کرتا ہے۔ بس یہی مرضی میرے صیاد کی ہے۔ اگر کہیں کوئی کامیابی ہوئی تو سہرا پھول والوں کے سر پر۔ ناکامی کا بوجھ سفید کپڑوں والے اٹھاتے پھریں گے اور خوب بدنام ہوں گے۔ ع
تو مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر

اس کے علاوہ بابا باقی سب کہانیاں ہیں۔۔۔ جتنی چاہے بیان کر ڈالو پاکستان میں آزاد انہ اور شفاف انتخابات کے نتائج کو کبھی تسلیم نہیں کیا گیا۔ ان کے تحت وجود میں آنے والی حکومت کو اس کی مرضی سے چلنے نہیں دیا گیا۔ عام انتخابات خدا خدا کر کے قیام مملکت کے کچھ بارہ سال بعد فروری 1959ء کو ہونا طے پائے تھے لیکن ان سے پہلے اکتوبر 1958ء کو یہ مملکت خداداد پہلے مارشل لاء کی نذر ہو گئی۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کی حکمرانی دس سال تک چلی۔ اس دوران میں اس نے مرضی کے انتخابات کرائے اور ایک صدارتی مقابلے میں قائداعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کو شکست دے ڈالی۔ 1969ء میں یحییٰ خان کا مارشل لاء آیا۔ 1970ء میں پہلے عام انتخابات ہوئے۔ انہیں ملکی تاریخ کے سب سے آزادانہ قرار دیا جاتا ہے۔ اگر ان کے نتائج کو تسلیم کر لیا جاتا تو ملک دو لخت ہوتا نہ بنگلہ دیش وجود میں آتا۔ یہ بات میں نہیں لکھ رہا۔ حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ اس نتیجہ فکر پر صاد کرتی ہے۔ 1977ء کے انتخابات کا حشر بھٹو نے دیکھ لیا۔

اگر دھاندلی ہوئی تھی تو وزیراعظم نے زبردست عوامی دباؤ کے تحت آخری شب اسے تسلیم کر لیا تھا۔ اپوزیشن کے ساتھ از سر نو انتخابات کا معاہدہ ہوا چاہتا تھا لیکن یار لوگوں نے حسب سابق آن دبوچا۔ ایک نہ چلنے دی ضیاء الحق کا دور شروع ہوا۔ پھر 1985ء آیا۔ یاد ہے کسی کو !۔۔۔ غیر جماعتی چناؤ کا ڈھونگ رچایا گیا۔ سرزمین پاک کا سیاسی نقشہ ذات برادریوں کی بنیاد پر تقسیم ہو گیا۔ نسلی تعصبات کو وہ ہوا ملی کہ کراچی جیسے منی پاکستان سے ایم کیو ایم کا تحفہ وصول ہوا، قوم اب تک نتائج بھگت رہی ہے۔ 1988ء کے چناؤ کے بعد بینظیر کی حکومت قائم ہوئی جلد اڑا کر رکھ دی گئی۔ 1990ء میں پھر انتخابی عمل ہوا اس کی کوکھ سے نواز شریف کی پہلی حکومت وجود میں آئی۔ کہا اور سمجھا جاتا تھا کہ پائیدار ثابت ہو گی کیونکہ نواز اصل قوتوں کا بنایا اور سنوارا ہوا سیاستدان ہے تابع مہمل بن کر رہے گا۔

لیکن فرزند لاہور نے بڑھکیں مارنا شروع کر دیں۔ پنجرے سے باہر نکلتا نظر آیا۔ ہت تیری کی سی۔۔۔ پس حکومت اس کی پھڑکا کر رکھ دی گئی۔ 1993ء کے انتخابات کے بعد بھٹو کی بیٹی کو دوبارہ موقع دیا گیا۔ وہ بھی راس نہ آیا۔ آخر اس کی رگوں میں ایک آزاد سیاستدان کا خون دوڑ رہا تھا۔ 1997ء میں ایک مرتبہ پھر انتخابات ہوئے۔ نواز شریف بغیر کسی سہارے اور سرپرستی کے عوامی لیڈر بن چکا تھا۔ کامیاب ہوا۔ بھاری مینڈیٹ ملا۔ موٹر وے مکمل کی۔ ملک کو ایٹمی طاقت بنایا۔ بھارت پہلی مرتبہ مرعوب ہوا کیونکہ پاکستان پہلی مرتبہ دفاعی لحاظ سے مقابلے میں آن کھڑا ہوا۔ واجپائی بس میں پر سوار ہو کر کشاں کشاں لاہور چلا آیا۔ مینار پاکستان پر جا کر اپنے الفاظ میں پاکستان کی حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کی۔ ایسا پہلے کبھی کسی نے سوچا تھا۔۔۔ لیکن یار لوگوں کو یہ بھی نہ گوارا تھا۔ کارگل ہوا منتخب حکومت کا چوتھی بار تختہ الٹا کر رکھ دیا گیا۔ آئین کہ قومی میثاق کا درجہ رکھتا ہے۔ اس کا اتباع حکومت سمیت تمام اداروں پر لازم ہے، یہ جا وہ جا۔۔۔ کون پوچھتا ہے۔

جنرل پرویز مشرف نے 2002ء میں اپنی چھتری تلے انتخابات کرائے۔ اس وقت تو کسی کو چوں چراں کی ہمت نہ تھی۔ آج ملکی فضاؤں میں اڑنے والے ہر پرندے کی زبان سے بھی یہ بات نکلتی ہے کہ ہر ہر بیلٹ بکس پر شکار کھیلا گیا۔ کیا کسی کو احتجاج کی جرأت ہوئی کوئی تحقیق ہوئی۔۔۔ ربر اسٹیمپ پارلیمنٹ وجود میں لائی گئی۔۔۔ اور باہر سے بنکاری کے ایک کلرک کو کہ پاکستانیوں جیسا نام رکھتا ہے لا کر وزیراعظم بنا دیا گیا۔ یوں سیاستدانوں کے سینے پر مونگ دلا گیا۔ یہ تو عدلیہ کی آزادی کی بے مثال تحریک تھی جس نے چوتھے ڈکٹیٹر سے قوم کی جان چھڑائی۔ 2008ء کے انتخابات ہوئے زرداری کی قیادت میں لولی لنگڑی جمہوریت بحال ہوئی۔ جیسے تیسے پانچ سال مکمل ہوئے۔ پھر 2013ء کے چناؤ ہوئے۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ بیلٹ بکس پر عوام کے فیصلے کی پابندی کرتے ہوئے ایک سویلین حکومت رخصت ہوئی اور دوسری نے اس کی جگہ لی۔ نواز شریف کی تیسری وزارت عظمیٰ اور آئین کی حکمرانی نے ایک جاں گسل جدوجہد کے بعد نئی تاریخ رقم کی۔

نیا جذبہ نیا ولولہ۔۔۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا عہد ساز اور حقیقی معاشی انقلاب کے پیشرو منصوبے کا چرچا ہوا۔ ملکی اقتصادیات بھی جانبر ہونا شروع ہوئی۔ خاصانِ خاص کو ایک مرتبہ پھر خدشہ لاحق ہو کہ نواز شریف عوامی مینڈیٹ کی نئی توانائی کے بل بوتے پر حسب سابق آزاد فضاؤں میں اڑانیں بھرے گا۔ نئے افق تلاش کرے گا۔ آئین کے غداروں کو سزا دلوائے گا۔ چنانچہ ہمارے تخلیق کاروں کو دھرنے کی سوجھی۔ عمران خان اور طاہر القادری اس الاؤ کا ایندھن ثابت ہوئے۔ منتخب وزیراعظم پہلے کے مقابلے میں اتنا سخت جان ضرور ثابت ہوا کہ حکومت اس کی ختم نہ کی جا سکی۔۔۔ لیکن آسمان سے زمین پر لے آیا گیا۔۔۔ توازن کا پلڑا پھر ان کی جانب جھک گیا جن کی مرضی کے بغیر حکومت اگر بن بھی جائے تو چلتی نہیں ہے۔ کون جیتا کون ہارا۔ آپ خود فیصلہ کر لیجیے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.