.

ناروے اور پاکستان کا سورج

یاسر پیرزادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دن تھا 22 جولائی 2011ء اور مقام تھا اتویا ، ناروے۔ اتویا جزیرے پر حکومتی لیبر پارٹی کے یوتھ ونگ کا کیمپ لگا تھا ، اچانک اس کیمپ میں بتیس برس کا ایک شخص پولیس کی جعلی وردی اور شناخت کے ساتھ داخل ہوا اور وہاں موجود نوجوانوں پر اندھا دھند فائر کھول دیا ، اس فائرنگ کے نتیجے میں 69 لوگ مارے گئے جبکہ 110 زخمی ہوئے ۔ اس سے دو گھنٹے قبل اسی جنونی نوجوان نے اوسلو میں نارویجن وزیراعظم کے دفتر کے سامنے ایک وین میں بم دھماکہ کیا جس سے آٹھ افراد جاں بحق اور 209 زخمی ہوئے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ ناروے کی تاریخ کا بدترین واقعہ تھا،اس لرزہ خیز واردات نے پورے ناروے کو ہلا کر رکھ دیا ، پولیس نے بالآخر مجرم کر ڈھونڈ نکالا ، اس پر عدالت میں مقدمہ چلا اور اسے 21 سال قید کی سنائی گئی۔مجرم نے اپنے جرم کا اعتراف تو کیا مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس نے یہ حرکت’نظریہ ضرورت ‘کے تحت کی۔

اس واقعے پر ناروے کی حکومت نے ایک کمیشن بھی بٹھایا ، اس کمیشن نے اپنی رپورٹ میں پولیس اور اس وقت کی حکومت پر ذمہ داری عائد کی ، جواب میں پولیس چیف نے غلطی تسلیم کی اور معافی مانگی (استعفیٰ نہیں دیا ) جبکہ وزیر اعظم نے رپورٹ کے رد عمل میں کہا کہ چند سال پہلے وفاقی حکومت نے شہری حکومت سے ’’درخواست‘‘ کی تھی کہ وزیر اعظم کا دفتر جس سڑک پر واقع ہے وہاںسیکورٹی کے مدنظر رکاوٹیں رکھ دی جائیں مگر شہری حکومت نے تجویز یہ کہہ کر رد کر دی کہ اس سے شہریوں کو مشکل ہو گی۔ اوسلو میں جس جگہ یہ واقعہ پیش آیا تھا وہاں آج ایک یادگار بنا دی گئی ہے جس پر یہ الفاظ کندہ ہیں کہ اگر ایک شخص اس قدر نفرت کا اظہار کر سکتا ہے تو ذرا سوچو کہ ہم سب مل کر کتنی محبت کا اظہار کر سکتے ہیں !

میں 22 جولائی کو اوسلو پہنچا تھا ، ناروے میں آج میرا چھٹا دن ہے اورچھ دن سے میں مخمصے کا شکار ہوں ، مسئلہ یہ ہے کہ میں نارویجن لوگوں کی برائیاں ڈھونڈنا چاہتا ہوں، مجھے پکا یقین ہے کہ یہ کافر گناہوں میں لتھڑے ہوئے ہیں لہٰذا میرا ایمان ہے کہ یہ لوگ جہنمی ہیں اور دوزخ کی آگ ہی ان کا ٹھکانہ ہے۔لیکن جس دن سے میں نے اوسلو میں لینڈ کیا ہے میری پریشانی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ، مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ جب لوگوں کو صاف نظر آتاہے کہ ایک دکان میں صرف ایک شخص کیش کاؤنٹر پر کام کر رہا ہے تو وہ دکان کے باہر رکھی ہوئی چیزیں اٹھا کے بھاگ کیوں نہیں جاتے ، اپنے یہاں تو کسی ویگن میں کدّو بھی لے جائے جارہے ہوں تو ایک بندہ ان کی ’حفاظت ‘ کے لئے ان کے اوپر لیٹا ہوتا ہے ۔ مجھے اس بات کی بھی سمجھ نہیں آئی کہ 2011ء کے قتل عام کے کمیشن کی رپورٹ تمام سیاسی جماعتوں نے بغیر کسی حیل و حجت کے تسلیم کیوں کر لی ، حکومتی پارٹی پر کمیشن کے ارکان کو خریدنے کا الزام کیوں نہیں لگا دیا ؟

میری عقل میں یہ بات بھی نہیں آ رہی کہ آخر یہ لوگ کتوں کو کیسے ٹریفک کے قوانین سکھا دیتے ہیں اور پھر ان تربیت یافتہ کتوں کو ،جن کی قیمت تقریباًتین لاکھ نارویجن کرون (چالیس لاکھ روپے ) بنتی ہے، کیسے حکومت نابینا لوگوں کو خرید کر مفت دیتی ہے جو نابیناؤں کو سڑکوں پر یوں سیر کرواتے ہیں کہ ایک بھی ٹریفک کے قانون کی خلاف ورزی نہیں ہو پاتی ، اپنے یہاں انسان یہ نہیں سیکھ سکے جو ناروے میں کتوں نے سیکھ لیا ہے !حال ہی میں حکومت نے نابیناؤں کی انجمن کے سیکرٹری کو ایسا ہی ایک کتا لے کر دیا ہے جو ٹریفک کے تمام اشارے سمجھتا ہے ،ہے کوئی بات کرنے والی! اور یہ فلسفہ سمجھنے سے تو میں یکسر قاصر ہوں کہ جب کہیں کوئی سی سی ٹی وی کیمرہ نہیں لگا ہوا ، کہیں پولیس کی گاڑی گشت نہیں کر رہی ، کہیں ناکہ نہیں لگا ہوا تو پھر یہ نارویجن لوگ کس خوشی میں قانون پر عمل کر تے ہیں ، انہیں تو اس بات کا ثواب بھی نہیں ملنا!جسے دیکھو آتے جاتے مسکراہٹ کا تبادلہ کرتا ہے ، حفظ مراتب کا خیال ہی نہیں ، کوئی شخص اگر اپنی گاڑی دوسرے کو راستے دینے کے لئے رو ک لے تو دوسرا شخص خواہ مخواہ ہاتھ ہلا کر شکریہ ادا کرتا ہے حالانکہ شکریہ ادا کرنے کے یہاں کوئی پیسے نہیں ملتے۔

پارلیمنٹ کے ممبر تو باقاعدہ پاگل ہیں ، یوں کام کرتے ہیں جیسے سچ مچ خادم اعلیٰ ہوں ، اور تو اور ایک پاکستانی نژاد ممبر پارلیمینٹ جس کا نام عابد راجہ ہے اور وہ مواصلات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کا رکن ہے، سائیکل پر ناروے کے شمال کا سفر کر رہا ہے جس کا مقصد صرف یہ دیکھنا ہے کہ سائیکل پر سفر کرنے والوں کے لئے ہائی ویز پر کس قسم کی سہولیات ہونی چاہئیں ، یہ سفر تقریباًپانچ ہزار کلومیٹر طویل ہے اور گاڑی پر تقریباًپانچ دن لگتے ہیں جسے موصوف سائیکل پر کرنے نکلے ہیں ، ہے کوئی بات کرنے والی ! اور معافی چاہتا ہوں وزیر اعظم صاحبہ تو بالکل چپراسی کی طرح پیش آتی ہیں ، کچھ عرصہ قبل ناروے کی پارلیمان نے پنشنرز کی آمدن پر ٹیکس سے متعلق ایک ترمیمی قانون پاس کیا ، اس قانون کے نفاذ کے بعد ایک پنشنر خاتون نےنارویجن وزیر اعظم کو فیس بک پر پوسٹ کیا کہ اس کے تین بچے ہیں اور اس نئے قانون کے نتیجے میں اس کی آمدن میں کمی واقع ہو گئی ہے تو کیا وزیر اعظم صاحبہ بتانا پسند کریں گی کہ اس آمدن اور ٹیکس کے بعد کیسے گزر بسر کی جا سکتی ہے۔

وزیراعظم ، جو خود بھی خاتون ہے ، اس پوسٹ کا نہ صرف جواب دیا بلکہ معذرت کی مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ اکیلی اس ضمن میں کچھ نہیں کر سکتی کیونکہ یہ قانون پارلیمان نے پاس کیا ہے اور بے شمار لوگوں کو اس کا فائدہ بھی ہوا ہے ، اس کے بعد اس خاتون اور وزیر اعظم کی فیس بک پر بحث کئی دن جاری رہی جسے ناروے کے اخبارات نے شائع کیا ، ہے کوئی بات کرنے والی!
یہ تمام باتیں سوچ سوچ کر جب میرا دماغ پھٹنے والا ہو گیا تو میں نے اپنے میزبان مختار چوہدری سے پوچھا کہ خدا کا واسطہ ہے مجھے ناروے کی کوئی بری بات بتاؤ ورنہ میں پاگل ہو جاؤں گا ، چوہدری صاحب نے ہنستے ہوئے کہا کہ یہ لوگ پاگلوں کا تو اور بھی زیادہ خیا ل رکھتے ہیں ۔ چوہدری صاحب کا مختصر تعارف یہ ہے کہ موصوف ضرورت سے بہت زیادہ درد مند پاکستانی ہیں ، دو دہائیوں سے ناروے میں مقیم ہیں ، ٹورسٹ ایسے ہیں کہ گھر سے پورا نقشہ بنا کر نکلتے ہیں، پاؤں میں اسپرنگ فٹ کروا رکھے ہیں ، پہاڑوں پر یوں چڑھتے ہیں جیسے پیدا ہی ہمالیہ پر ہوئے ہوں ، حالانکہ عمر پچاس سے اوپر ہے۔ میرے سوال کے جواب میں چوہدری صاحب نے کچھ دیر سوچا اور پھر بتایا کہ اوسلو کی آبادی پانچ لاکھ کے قریب ہے مگر یہاں سال میں تقریباً سو ریپ کے کیس رپورٹ ہوتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر ریپ بادشاہ کے محل کے سامنے واقع ایک پارک میں ہوتے ہیں جو کئی جگہوں پر ویران ہو جاتا ہے ۔

یہ سن کر میری باچھیں کھل گئیں ، میں نے چوہدری صاحب کو کہا کہ اس ایک بات نے آپ کے ناروے کی پاسداری کا پول کھول دیا ہے مگر چوہدری صاحب نے میری خوشی یہ کہہ کر خاک میں ملا دی کہ ان ریپ کیسز کے پچانوے فیصد مجرم مشرقی یورپ کے آوارہ منش لوگ ہیں جو رات گئے کلب سے نکلنے والی لڑکیوں کا ریپ کرتے ہیں جو شراب کے نشے میں دھت ہوتی ہیں ، کسی اور ملک میں تو اسے ریپ سمجھا ہی نہ جائے۔

اس وقت رات کے سوا بارہ بج چکے ہیں ، ایک گھنٹہ پہلے تک اتنی روشنی تھی کہ میرے ہوٹل کی کھڑکی سے باہر سب کچھ صاف دکھائی دے رہا تھا ، اب بھی مکمل اندھیرا نہیں ہوا، سامنے پہاڑ اب بھی نظر آرہا ہے ، ناروے میں چار سو راجالا رہتا ہے ،یہاں تو سورج کا بھی غروب ہونے کا دل نہیں کرتا ۔ناروے اور پاکستان کا سورج ایک ہی ہے مگر اس کے باوجود نہ جانے کیوں ناروے میں کبھی اندھیرا نہیں ہوتااور پاکستان میں روشنی نہیں پھوٹتی !

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.