.

اور خطرہ بڑھ گیا

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب میاں نوازشریف صاحب اور موجودہ گورنر خیبرپختونخوا سردار مہتاب احمد خان صاحب ، اٹک قلعہ میں زیرحراست تھے۔ میری کوشش رہتی کہ سردار مہتاب صاحب کی ہرپیشی پر ان کے بھائی اشتیاق احمد خان اور بیٹوں کے ہمراہ ملنے جائوں۔ اس بہانے کبھی کبھار اٹک قلعے میں محصور میاں نوازشریف صاحب کی زیارت بھی ہوجاتی ۔ ساجد عباسی صاحب کی ڈیوٹی تھی کہ وہ پشاور کی نمک منڈی میں بکرے کی ران کے ایک مخصوص حصے(جو میاں صاحب کی مرغوب خوراک تھی) کی دیگچی تیار کرتے اور پھر ہم ہر پیشی پر اسے ساتھ لاتے ۔ اٹک قلعے کی ڈیوڑھی پر اس دیگچی کو اندر لے جانا ہر مرتبہ جوئے شیرلانے کے مترادف ہوتا۔ ڈیوٹی پر موجود سپاہی سرتاپا ہماری تلاشی کے ساتھ ساتھ اس دیگچی میں موجود گوشت کی ایک ایک بوٹی کی تلاشی پر بھی اصرار کرتے اور یوں بعض اوقات اس گوشت کو کلئیر کرانے میں گھنٹے لگ جاتے۔

میاں صاحب کو صرف وکلاء سے ملاقات کی اجازت تھی اور اس کے لئے بھی انہیں قلعے کی اس خوفناک ڈیوڑھی پر لایاجاتا ۔ ایک دن جب ہم ڈیوڑھی کی مشقت سے فارغ ہوکر عدالت کی طرف جارہےتھے تو میں نے دیکھا کہ میاں صاحب کو اپنی وکیل سعدیہ عباسی ایڈوکیٹ سے ملاقات کے لئے لایا جارہا ہے ۔ خاکی وردی میں ملبوس ایک سپاہی ان کے ایک طرف اور دوسرے، دوسری طرف تھے۔ نظر ملی تو ہم نے ہاتھ اٹھا کر ایک دوسرے کو سلام کیا۔ میں معانقے کی غرض سے ان کی طرف بڑھا اور میاں صاحب اپنی جگہ رک گئے لیکن جب میں قریب پہنچا اور چند قدم کا فاصلہ ہی رہ گیا تو ان کے ساتھ موجود سپاہیوں نے ’’اسٹاپــ‘‘ کا حکم دیا جبکہ میاں صاحب کے لئے بھی حکم صادر ہوا کہ وہ مصافحے یا معانقے سے گریز کریں۔ یوں میں ہاتھ ملائے بغیر صرف دو قدم کے فاصلے پر کھڑا رہ گیا اور میاں صاحب کو آگے چلنے کا کہا گیا۔ اس وقت میرے ذہن میں میاں صاحب کے دوتہائی مینڈیٹ کی حامل وزارت عظمیٰ کی شان و شوکت تازہ ہوئی اور پھر میں ان کی اس وقت کی بے بسی سے اس کا موازنہ کرتا رہا ۔ میری زبان پر بے اختیار قرآن پاک کی یہ آیت آنے لگی کہ و تلک الایام ندا ولھابین الناس ۔

میں دیکھ رہا تھا کہ میاں صاحب کا چہرہ معمول سے زیادہ لال ہوگیا ۔ میں زندگی بھر ان کے چہرے پر پھیلے ہوئے غصے اور بے بسی کی اس ملی جلی کیفیت کو کبھی نہیں بھول سکتالیکن افسوس یہ ہے کہ میاں صاحب بھی اپنے ساتھ روارکھے جانے والے بارہ اکتوبر کی بغاوت کے بعد کے اس سلوک کو بھلا نہیں سکے۔ اس معاملے میں وہ انتہائی منتقم مزاج اور کینہ پرور واقع ہوئے ہیں ۔ وہ بھولنا بھی چاہیں تو عرفان صدیقی صاحب اور طارق فاطمی صاحب جیسے مشیر یاددہانی کے لئے موجود رہتے ہیں ۔ جب بھی ان سے کبھی ملاقات ہوئی تومیں نے دیکھا کہ میاں صاحب اس حوالے سےکوئی نہ کوئی بات ضرور چھیڑدیتے ہیں جبکہ ان کے مذکورہ اور ان جیسے دیگر مشیروں کو بھی خوشامد کی خاطر انہیں یاد کراتے ہوئے کئی بار بچشم خود دیکھا ہے ۔ مثلاً وزیراعظم بننے سے قبل ان سے مری میں چند صحافیوں کی ملاقات طے تھی ۔ موضوع کچھ اور تھا لیکن میاں صاحب نے وہاں پر اپنے اور اپنے بیٹے حسن نواز کے قید ہونے کا ذکر چھیڑ دیا۔ وہ بتارہے تھے کہ کس طرح باپ بیٹے کو یہاں ایک ساتھ رکھا گیا تھا لیکن کافی دنوں تک دونوں کو علم نہیں تھا کہ وہ ایک شہر میں اور ایک عمارت میں قید ہیں ۔

اسی طرح ان کے وزیراعظم بننے کے بعد ایک ملاقات میں پرویز مشرف کیس اور ان کے ساتھ سلوک کا ذکر ہوا تو میاں صاحب نے جواب میں اپنے ساتھ بارہ اکتوبر کے بعد پیش آنے والے واقعات کا ذکر چھیڑ دیا ۔ وہ بتارہے تھے کہ کس طرح انہیں ایک پرانے جہاز میں اسلام آباد سے کراچی لے جایا گیا اور کس طرح اس جہاز میں انہیں ہتھکڑی کے ذریعے سیٹ سے باندھا گیا تھا۔ اگرچہ وہ کہتے رہے کہ وہ ماضی کو بھلا چکے ہیں لیکن افسوس کہ وہ بھولے ہیں اور نہ بھلا سکتے ہیں ۔ میاں صاحب اگر ہم جیسے معمولی مزدور اخبار نویسوں کی معمولی سی تنقید کے جواب میں انتقامی کارروائیوں پر اترسکتے اور آئی بی جیسے اداروں کو حرکت میں لا سکتے ہیں تو اپنے ساتھ ہونے والے مذکورہ سلوک کو کیسے بھلا سکتے ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ اقتدار میں آنے کے فوراً بعد انہوں نے پرویز مشرف کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا۔ بنیادی طور پر چونکہ وہ جنرل محمد ضیاء الحق کے شاگرد ہیں اور جنرل ضیاء کی پالیسی یہی تھی کہ مونچھ نیچے رکھ کر وار کرنا، اسی لئے میاں صاحب بھی ظاہری طور پر تابعدار اور نرم رہ کر وار کرتے ہیں ۔ چنانچہ انہوں نے افغانستان، پاک امریکہ تعلقات، پاک بھارت تعلقات ، بلوچستان اور طالبان وغیرہ کے محاذوں پر خاموشی کے ساتھ ایسے اقدامات شروع کئے ،جن کے ذریعے بالواسطہ طور پر فوج کو کنٹرول میں لایا جا سکے لیکن دھرنوں نے ان کو پسپائی پر مجبور کردیا۔ چنانچہ جنرل پرویز مشرف سے لے کر ہندوستان کے ساتھ تعلقات تک ، ہر محاذ پر انہوں نے پسپائی اختیار کی لیکن رویے اور اقدامات سے لگ رہا ہے کہ دل صاف نہیں ہوئے بلکہ مجبوراً تابعداری اختیار کی گئی ہے اور جہاں جہاں موقع ملتا ہے، وار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔

آرمی چیف کو ساتھ ساتھ لئے پھرنے کو بھی دو معنی پہنائے جارہے ہیں اور باخبر حلقے بتاتے ہیں کہ انتہائی ہوشیاری کے ساتھ فوج کو کئی محاذوں پر الجھایا جارہا ہے ۔ سندھ میں اسے ایم کیوایم اور پیپلز پارٹی سے الجھا دیا گیا جبکہ بلوچستان اور فاٹا میں اسے مطلوبہ سیاسی اور مالی سپورٹ فراہم نہیں کی جارہی ۔ اسی طرح وزیرستان کے آئی ڈی پیز کی واپسی کے لئے فنڈز کی فراہمی میں بھی ٹال مٹول سے کام لیا جارہا ہے تاکہ آپریشن کی کامیابی کا تاثر قائم نہ ہوسکے ۔ اسی طرح موقع ملتے ہی روس میں نریندر مودی کے ساتھ ملاقات میں بھی ایک ایسے اعلامیہ پر دستخط کئے گئے جس میں کشمیر کا ذکر نہیں تھا اور ظاہر ہے کہ اس پر فوج کبھی خوش نہیں ہوسکتی ۔ اسی طرح ماضی قریب میں افغانستان کے حوالے سے بھی وزیراعظم نے عسکری اداروں کو کچھ ایسے اقدامات پر مجبور کروایا جسے وہ اپنی حکمت عملی سے موافق نہیں سمجھتے تھے ۔ تاہم ابھی تک چونکہ سیاسی اور عدالتی محاذ پر تحریک انصاف کا دبائو تھا ، تو وزیراعظم صاحب چاہتے ہوئے بھی کسی جارحانہ اقدام کا نہیں سوچ سکتے تھے لیکن اب جبکہ عدالتی کمیشن کے فیصلے سے تحریک انصاف کے حصے میں رسوائی آگئی ہے اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو ایک نئی زندگی مل گئی ہے تو پنگے بازی کا خطرہ ایک بار پھر بڑھ گیا ہے ۔

میاں نواز شریف کی سیاست کی تاریخ پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ زیردبائو رہ کر میاں صاحب قابو میں رہتے ہیں اور اس صورت میں ان کا صبر اور مخالفین کے ساتھ حسن سلوک دیدنی ہوتا ہے لیکن جب بھی وہ سیاسی اور قانونی محاذوں پر کامیابی حاصل کرتے ہیں تو فوراً بدل جاتے ہیں اور ایک نئے نوازشریف نکل آتے ہیں ۔ اس کیفیت میں آکر وہ کبھی اپنے سیاسی مخالفین پر ہاتھ ڈالتے ہیں ، کبھی میڈیا کی زبان بندی کراتے ہیں ، کبھی سپریم کورٹ پر حملہ آور ہوجاتے ہیں ، کبھی جنرل جہانگیر کرامت سے استعفیٰ لے لیتے ہیں اورکبھی جنرل پرویز مشرف کی معزولی کے احکامات جاری کرلیتے ہیں۔ میرے نزدیک انتخابی دھاندلی سے متعلق عدالتی کمیشن کی رپورٹ سے ایک بار پھر میاں صاحب اس خطرناک زون میں داخل ہوگئے ۔ دیکھتے ہیں کہ میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان ان کو قابو میں رکھتے ہیں یا پھر خوشامدی مشیر ایک بار پھر انہیں مہم جوئی پر اکساتے اور اٹک قلعہ پہنچاتے ہیں۔ خوشامدی مشیر یاد رکھیں کہ اب کی بار سعودی عرب بھی مدد کے لئے نہیں آئے گا۔

شاید بڑی قوتوں کے ساتھ پنگے بازی میں ابھی کچھ وقت لگے لیکن ایک بات تو طے نظر آتی ہے کہ اب عمران خان صاحب کے ساتھ حساب برابر کیا جائے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.