.

ورنہ سب کہانیاں ہیں

نصرت جاوید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مئی 2013ء کے انتخابات میں منظم دھاندلی کے الزامات کا جائزہ لینے والے سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل کمیشن نے اپنی حتمی رائے کا اظہار کردیا تو مولانا فضل الرحمن نے ایک ”وکھری“ نوعیت کا بیان جاری کردیا۔ اس بیان کے ذریعے مطالبہ ان کا یہ تھا کہ مزید تحقیقات اب یہ معلوم کرنے کے لئے ہوں کہ عمران خان کو ایک طوفانی دھرنے پر کن لوگوں نے اُکسایا تھا۔ ٹیلی وژن پر اس بیان کا ٹکر دیکھتے ہی دل سے دُعا نکلی کہ نواز شریف اس بیان کو کہیں سنجیدگی سے نہ لے لیں۔ مجھ گنہگار کی دُعا مگر قبول ہوتی نظر نہیں آرہی۔

وجہ اس ضمن میں میری مایوسی کی نواز شریف نہیں بلکہ ان کے بہت ہی زیرک اور ہمہ وقت متحرک سمجھے جانے والے برادرِ خورد جناب شہباز شریف ہیں۔ چٹکی بجاکر بہت ہی اعلیٰ عہدوں پر فائز سرکاری افسروں کو گڈ گورننس کے نام پر گھر بھیج دیا کرتے ہیں۔ مگر ریاست کے ایک اور ابدی اور سب سے زیادہ طاقت ور ادارے کا ذکر آئے تو بہت محتاط اور کئی صورتوں میں جی حضوری والا رویہ اپناتے نظر آتے ہیں۔

شہباز صاحب کو وزیر اعظم سے بیانات کے ذریعے مطالبے کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ بہت ضروری بات ہو تو وزیر اعلیٰ کے خصوصی طیارے میں بیٹھ کر اسلام آباد آسکتے ہیں۔ ورنہ رائے ونڈ کا گھر ہے اور وہاں ویک اینڈ پر صرف شریف خاندان کی باہمی ملاقاتیں اور ذاتی یا ریاستی معاملات پر سوچ بچار۔ میرا نہیں خیال کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے خلقِ خدا کے سامنے کئے مطالبے کو وزیر اعظم بآسانی نظرانداز کرسکتے ہیں۔ ایسے تو ”بے عزتی جہی نہیں ہوگئی؟!“ والا معاملہ ہو جائے گا۔

ویسے بھی شہباز صاحب کا بیان اچانک نہیں آیا۔ جوڈیشل کمیشن کی حتمی رائے کے اظہار سے کئی دن پہلے خواجہ آصف صاحب نے میرے بھائی ابصار عالم سے ٹیلی وژن کے لئے کھل کر بات کی اور ایک نہیں بلکہ دو سابق جرنیلوں کے نام لے کر انہیں عمران خان کو دھرنے کی جانب دھکیلنے کا ذمہ دار ٹھہرا دیا۔ میرے کئی دوست خواجہ آصف کے ”انکشافات“ پر حیران اور ششدر رہ گئے۔ مجھے لیکن رحم آیا اس مبینہ وزیر دفاع پر جو اپنے ”ماتحت“ ادارے سے کئی ماہ پہلے رخصت ہوئے افراد کے بارے میں اتنی تاخیر سے ”کلمہ حق“ بیان کررہا تھا۔ اگرچہ مصرعہ وہ بھی یاد آیا جو بیان کرتا ہے کہ ”ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا۔“

خواجہ آصف کئی حوالوں سے صدام حسین کے طفیل مشہور ہوا وہ ”سکڈ میزائل“ بھی ہیں جو اُڑتا تو بہت شان سے ہے مگر نشانے پر نہیں پہنچ پاتا۔ میرے بچپن میں ”درے کی بنی“ ان پستولوں کے بھی بہت چرچے ہوا کرتے تھے جن کی گولی بیرل سے نکل کر آگے جانے کی بجائے ٹریگر دبانے والے کو ہی زخمی کردیا کرتی تھی۔

وزیر اعظم کے ایک ہونہار مشیر محمد زبیر کی شہرت مگر ایک ٹھنڈے ٹھار منیجر والی ہے۔ کاروباری دُنیا سے تعلق رکھنے والے افراد تو بار ہا تولنے کے باوجود بھی بولنے کی جرا¿ت نہیں کرپاتے۔ ارشد شریف کے ٹی وی شو میں مگر محمد زبیر جوڈیشل کمیشن کی حتمی رائے کے اظہار کے بعد نمودار ہوئے اور خواجہ صاحب کے بتائے دو ناموں میں سے ایک کا نام لے کر بڑے اعتماد سے دعویٰ کردیا کہ وہ صاحب چند معروف صنعت کاروں سے عمران خان اور ان کی جماعت کے لئے رقوم کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے رابطے کیا کرتے تھے۔ الغرض بساطِ سیاست پر جو نئی گیم لگی ہے اس کی ابتدائی چالیں خواجہ آصف اور محمد زبیر چل چکے ہیں۔ شہباز شریف کا بیان تو کسی بہت ہی اہم مہرے کو اس خانے میں بٹھانا نظر آرہا ہے جہاں بازی End Game کی طرف جاتی نظر آتی ہے۔

مطالبہ شہباز شریف کا یہ ہے کہ پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے اکابرین پر مشتمل ایک کمیشن بنے جو پوری تندہی سے اس بات کا سراغ لگائے کہ پاکستان کو کئی دنوں تک ایک مفلوج ریاست بناکر دکھانے والے دھرنے کے اصل محرک کون تھے۔

شہباز شریف کی جانب سے ایک خصوصی پارلیمانی کمیشن بنائے جانے کا مطالبہ مجھے تو بہت عجیب لگا۔ ان کے اپنے بھائی پاکستان کے تیسری بار وزیر اعظم بنے ہیں۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ پاکستان کا وزیر اعظم ہی اس ملک کا اصلی تے وڈا چیف ایگزیکٹو ہوا کرتا ہے۔ ایک نہیں بلکہ سناگیا ہے کہ 26 ”ایجنسیاں“ ہوتی ہیں۔ پاکستان کا شاید ہی کوئی ایسا گاﺅں اور محلہ ہو جو ان ایجنسیوں کی آنکھوں اور کانوں سے محروم ہو۔ ان 26 ایجنسیوں کے ہوتے ہوئے بھی اگر وزیر اعظم کو یہ جاننے کے لئے کہ عمران خان کو دھرنے پر کس نے اُکسایا تھا، کسی کمیشن کی مدد درکار ہے تو آئیے ہاتھ اٹھائیں دُعا کے لئے۔

فرض کیا شہباز شریف کا مطالبہ مانتے ہوئے یہ کمیشن بن بھی گیا تو بحیثیت اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ بھی اس کے اہم رکن ہوں گے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ سکھر سے تعلق رکھنے والے ہمہ وقت عاجزی اور بردباری کا مجسم بنے خورشید شاہ کس خصوصی وسیلے کے ذریعے ان افراد کا سراغ لگاسکتے ہیں جنہوں نے مبینہ طورپر عمران کو دھرنے پر اُکسایا تھا۔

شاہ محمود قریشی قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے پارلیمانی راہ نما ہوا کرتے ہیں۔ یقینا انہیں بھی شہباز شریف کے مجوزہ کمیشن کا رکن بننا نصیب ہوگا۔ وہ تو اپنے کپتان کو کٹہرے میں کھڑا کرنے سے رہے۔ یہ بات البتہ ممکن ہے کہ زلزلوں کی اپنی ٹانگوں کے ذریعے پیشگی اطلاع پالینے والی ہرنیوں کی مانندوہ اس کمیشن کے روبرو کوئی ”اعترافی بیان“ دے ڈالیں۔ پیپلز پارٹی میں ان کا چراغ یوسف رضا گیلانی کی وجہ سے پوری طرح دمک نہ پایا تھا۔ ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کو انہوں نے اپنا ”معاہدہ تاشقند“ سمجھا اور اس صدی کے ذوالفقار علی بھٹو بننے کی تمنا پال لی۔ ایک مخدوم ہوتے ہوئے مگر وہ زیادہ مشقت نہ کر پائے۔ بالآخر تحریک انصاف میں جا پہنچے۔

عمران خان کی تابعداری کرنا ان کے لئے مشکل نہیں تھا۔ جی حضوری توانہوں نے نواز شریف کے دربار میں بھی بہت دکھائی تھی اور یہی رویہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ بھی برقرار رکھا۔ مخدوموں کا ”سائیں“ مگر فردِ واحد ہوا کرتا ہے۔ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ وہ کراچی کے جلسے میں ٹھاٹھیں مارتے ہجوم کے سامنے عمران کی بغل میں براجمان تھے اور عمران خان اچانک اُٹھے اور ایئرپورٹ پر ملتان ہی کے ایک غریب سے ”مخدوم“ کو لینے چلے گئے۔ بات وہیں تک رہتی تو شاید بھول بھال جاتے۔ مگر جب ”باغی“ پنڈال میں عمران خان کے ساتھ نمودار ہوا تو ”باغی ہوں باغی ہوں“ پر دھمالیں شروع ہوگئیں۔ صدشکر کہ دھرنے کے دوران جاوید ہاشمی عمران خان سے بھی ”باغی“ ہوگیا۔ گلیاں شاہ محمود کے لئے تقریباََ سنجیاں ہوگئیں مگر درمیان میں آگئے جہانگیر ترین اور ان کا طیارہ۔ شاہ محمود کے چراغ کی لو بدستور مدھم ہی رہی۔ ہوسکتا ہے جوش میں آکر ایک اور ”ریمنڈڈیوس“ کر ڈالیں۔

شہباز شریف کو گھر کے بھیدیوں سے اعترافی بیانات کی توقع ہے تو ان کا پارلیمانی کمیشن کے مطالبے والا بیان سمجھ میں آتا ہے۔ ورنہ سب کہانیاں ہیں اور خواہ مخواہ کی بدگمانیاں۔ ویسے بھی پنجاب ان دنوں سیلاب کی زد میں ہے۔ شہباز صاحب لمبے بوٹ پہنیں اور اپنی گڈ گورننس کے جلوے دکھائیں اور سرجھکا کر آئندہ ہونے والے دھرنے کو روکنے کا بندوبست کریں۔ یہ سوچتے ہوئے کہ اب کی بار ”علی بابا اسی کے بقول“ ”ROs کے ذریعے قائم ہوئی“ حکومت کو بچانے نہیں آئے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.