.

آہ! ملا محمد عمر

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وہ عجیب بھی تھے اور غریب بھی ۔ ملامحمد عمر مجاہد پانچ سال تک افغانستان کے ایسے حکمران رہے کہ ان کے حکم سے سرتابی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا اور انیس سال تک تحریک طالبان کے سربراہ رہے لیکن ایسے عالم میں دنیا سے رخصت ہوئے کہ ذاتی گھر کے مالک تھے اور نہ افغانستان یا دنیا کے کسی اور ملک کے کسی بینک میں اکائونٹ رکھتے تھے۔ اس تناظر میں انہیں دنیوی لحاظ سے غریب ترین شخص کہا جاسکتا ہے۔ عجیب اس لئے تھے کہ بولنے کے شوقین تھے، نمود و نمائش کے اور نہ خودنمائی کے۔ ’’امیرالمومنین ‘‘ ہوکر بھی وہ مجمع کے سامنے آنے اور تقریر کرنے سے گریز کرتے تھے ۔ تصویر کو حرام بھی سمجھتے تھے اور کسی کواپنی تصویر اتارنے بھی نہیں دیتے تھے ۔ حکمران بنے تو کابل کے پرشکوہ قصر صدارت میں قیام کی بجائے قندھار میں ہی اپنی سابقہ رہائش گاہ میں قیام پر قناعت کی۔ کم گو ہوکر بھی کمال کی حس مزاح کے حامل تھے ۔

یوں وہ عجیب تھے ۔ جب سے دنیا ان کے نام سے واقف ہوئی، تب سے ان کی شخصیت کے گرد پراسراریت کا حصار بھی قائم ہوگیا۔ لوگ حیران تھے کہ ایک عام مجاہد ، ایسے لاکھوں مسلح طالبان کا کمانڈر کیسے بنا، جنہوں نے بڑے بڑے مجاہد لیڈروں سے اقتدار چھین لیا۔ سوال اٹھتے رہے کہ مدرسے کی تعلیم ادھوری چھوڑنے (اس دعوے میں کوئی صداقت نہیں کہ ملامحمد عمر اکوڑہ خٹک میں مولانا سمیع الحق کے مدرسے میں زیرتعلیم رہے تھے بلکہ کچھ لوگوں نے اپنی اہمیت بڑھانے کے لئے یہ جھوٹا دعویٰ کیا)والے شخص کیوں کر ہزاروں علمائے کرام کے امیرالمومنین ہیں ۔

دنیا اس بات پر حیرت کا اظہار کرتی رہی کہ کس طرح اسامہ بن لادن اور ڈاکٹرایمن الظواہری جیسی عالمی شخصیات نے ان کے ہاتھ پر اطاعت کی بیعت کرلی اور کس طرح وہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت کو چیلنج کررہے ہیں ۔ کسی کے نزدیک وہ آئی ایس آئی کی پیداوار تھے، کوئی ان کی تخلیق میں یونیکال اور سی آئی اے کے کردار کا تذکرہ کرتا رہا تو کسی کے نزدیک وہ حالات کی پیداوار تھے ۔ کوئی ان کو ایک ایسا لیڈر سمجھ رہا تھا کہ جس کی اتھارٹی کو چیلنج کرنا ان کے پیروکاروں کے لئے ناقابل تصور تھا تو کسی کے نزدیک وہ مخصوص قوتوں کا مہرہ تھے۔ جب وہ میدان میں موجود اور افغانستان کے حکمران یا پھر طالبان کے امیرالمومنین تھے ، تب بھی یہ سوال اٹھتے رہے کہ کیا ملامحمد عمر واقعی موجود ہیں یا یہ کوئی فرضی کردار ہے ۔

گزشتہ چودہ سالوں میں ان کی زندگی اور موت ایک معمہ بنی رہی ۔ سینکڑوں مرتبہ ان کے انتقال کی خبریں آئیں اور سینکڑوں مرتبہ اس کی تردیدیں ہوئیں ۔ پچھلے دو سال میں تو شاید ہی کوئی ماہ ایسا گزرا ہو کہ ان کے انتقال سے متعلق کوئی نہ کوئی خبر سامنے نہ آئی ہولیکن نہ صرف طالبان اور ان کے قریبی ساتھی مسلسل تردید کرتے رہے بلکہ ان کے نام سے احکامات بھی جاری ہوتے رہے۔ ہم جیسے طالب علم تو کیا طالبان شوریٰ کے چار پانچ رہنمائوں کے سوا باقی تمام طالبان رہنما اور کارکن بھی یہ سمجھتے رہے کہ ان کے امیرالمومنین زندہ ہیں اور جو احکامات ان کے نام سے جاری ہوتے ہیں ، وہ انہی کے احکامات ہوتے ہیں ۔ اور تو اور ان کے بڑے بیٹے ملا محمد یعقوب اور تین بیویوں کو بھی علم نہیں تھا کہ ملامحمد عمر دو سال قبل وفات پاچکے ہیں ۔

ملااختر منصور اور ان کے ساتھ معاملے سے باخبر چار پانچ رہنما یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ ملامحمد عمرنے اپنی زندگی میں کمانڈ ان کو سونپی تھی اور یہ کہ ان کی مشاورت سے یہ فیصلہ ہوا تھا کہ حالات کی نزاکت کے پیش نظر ان کی رحلت کو پوشیدہ رکھا جائے گا ۔ گویا اللہ کے اس بندے نے اپنی تدفین کو بھی شان و شوکت کی بجائے خاموشی کے ساتھ کرنا پسند کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ میں ملامحمد عمر کی شخصیت اور کردار کے بارے میں تبصرہ کرتے وقت عجیب الجھن کا شکار ہوجاتا ہوں۔ ان کا جذبہ توکل اپنی مثال آپ تھا۔ ان کےفقر اور سادگی پر مر مٹنے کو جی چاہتا تھا۔ اپنے نظریے اور سوچ کے لئے ہر طرح کی قربانی پر جس طرح وہ ہمہ وقت آمادہ رہتے تھے ، ہم جیسے گنا ہگار اس کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

ایک شخص پانچ سال تک افغانستان کا بلاشرکت غیرے حکمران رہے اور اپنے ملک سے باہر قدم رکھنا یا پھر کسی عالمی شخصیت کے ساتھ تصویر بنانا بھی گوارا نہ کرے ، کوئی حکمران بننے کے بعد ہی اندازہ کرسکتا ہے کہ یہ کتنا مشکل بلکہ ناممکن کام ہے ۔ وہ چار بیویوں کے شوہر تھے لیکن نائن الیون کے بعد ان کے ساتھ رہنا یا پھر ان کو اپنے ساتھ رکھنا ان کے لئے ناممکن ہوگیا تھا۔ وہ مرگی اور شوگر کے مریض تھے اور شاید انہی بیماریوں کی وجہ سے زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھے لیکن علاج کے لئے بھی باہر نکلنا اور کسی مصلحت کا شکار ہونا گوارا نہیں کیا۔ ان حوالوں سے دیکھا جائے تو ان کا جذبہ قابل رشک تھا لیکن دوسری طرف وہ جدید دنیا کے تقاضوں سے یکسر نابلد تھے ۔ وہ عالمی اور علاقائی سیاست کے اسرار کو ذرہ بھر نہیں سمجھتے تھے ۔ افغانستان کے حکمران بننے کے بعد ان کے زیرکمانڈطالبان نے سیاسی مفاہمت کے ہر موقع کو ضائع کیا اور شریعت کی روح (فلاح انسانیت) کی بجائے، پردہ، داڑھی اور اسی نوع کے دیگر شرعی احکامات کے ضمن میں حد سے زیادہ سختی دکھائی۔ ملامحمد عمر اگرچہ خود عزیمت کے راستے پر چلتے رہے لیکن اپنی قوم اور ساتھیوں کو بھی انہوں نے مسلسل آزمائشوں سے دوچار کئے رکھا۔پے درپے ایسے اقدامات اٹھائے کہ ان کی وجہ سے دنیا کی ہر طاقت ان کی دشمن بننے لگی ۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو ان کی سیاسی بصیرت قابل رحم تھی ۔ اگر ایک فقرے میں ملامحمد عمر مجاہد کی شخصیت کا احاطہ کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کا جذبہ قابل رشک تھا لیکن ان کی سیاسی بصیرت قابل رحم تھی ۔ بہر حال ان کی موت کی تصدیق ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے کہ جس سے طالبان کو غیرمعمولی نقصان پہنچا اور پاکستان کے کام کو بعض حوالوں سے مشکل بنا دیا گیا۔ ملامحمد عمر کے بعد اس فیصلہ کن گھڑی میں افغان طالبان کا یکجا رہنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوگیا ہے۔

ملا محمد عمر مجاہد جیسے بھی تھے لیکن طالبان کی صفوں میں کوئی ان کی قیادت کو چیلنج کرنے کا تصور نہیں کرسکتا تھا۔ انہیں ایسے وقت میں طالبان نے ہزاروں علمائے کرام کے مجمع میں اپنا امیرالمومنین منتخب کیا تھا کہ جب وہ آدھے سے زیادہ افغانستان کے حکمران تھے ۔ یوں ان کی امارت کو ایک شرعی جواز فراہم ہوگیا تھا اور ان کی عدم اطاعت کو طالبان گناہ سمجھتے تھے لیکن اب نئے امیر کے انتخاب کے لئے اسی طرح کا اجتماع ممکن ہے اور نہ اس کو اس طرح کا شرعی جواز فراہم کیا جاسکتا ہے ۔ نئے امیرزیادہ سے زیادہ امیر ہوسکتے ہیں لیکن انہیں امیرالمومنین باور کرانا مشکل ہوگا۔ ملامحمد عمر مجاہد کی کمانڈ کو اس لئے بھی کوئی چیلنج نہیں کرسکتا تھا کیونکہ ماضی میں جس نے بھی چیلنج کرنے کی کوشش کی تو وہ دنیا میں نہیں رہا یا پھر کم ازکم طالب نہیں رہا۔

گزشتہ ایک سال کے دوران افغان طالبان کی صفوں میں ایک غیرمحسوس تقسیم یا پھر داعش کی پذیرائی کی وجہ بھی یہی تھی کہ بعض لوگوں کو ان کی موت کا شک یا یقین ہوگیا تھا۔ اگر ان کا زندہ ہونا سو فی صد یقینی ہوتا یا پھر وہ خود سامنے آجاتے تو نہ تو یہ دھڑے بندی ہوسکتی تھی اور نہ داعش کو افغانستان اور پاکستان میں یہ پذیرائی مل سکتی تھی ۔ملااختر منصور جنہیں نیا امیر منتخب کرلیا گیا ہے سے ملامحمد عمر کے صاحبزادے اور کئی دیگر طالبان رہنما اس بات پر ناراض ہوں گے کہ ان سے موت کی خبر کو کیوں دو سال تک چھپایا گیا اور کیوں ملاعمر کے نام پر ان سے اپنی اطاعت کروائی گئی ۔

افغان طالبان کے حوالے سے سب سے زیادہ باخبر اور اتھارٹی کی حیثیت رکھنے والے رحیم اللہ یوسفزئی یہ دعویٰ کررہے ہیں طالبان کی قیادت دو گروہوں میں بٹ گئی ہے اور جب وہ دعویٰ کررہے ہیں تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ خبر میں صداقت ہوگی ۔اسی طرح طالبان کی کریڈیبلٹی کو بھی شدید دھچکا پہنچا ہے کیونکہ ان کے موجودہ رہنما اور ترجمان گزشتہ دو سال ان کے زندہ ہونے کا نہ صرف دعویٰ کرتے رہے بلکہ ان سے منسوب بیانات اور احکامات بھی جاری کررہے تھے ، جنہیں رحیم اللہ یوسفزئی جیسے صحافتی استاد اور مجھ جیسے طالب علم بھی ان کے بیانات اور احکامات سمجھ کر ان پررائے زنی کرتے رہے اور اب پتہ چلا ہے کہ وہ ان کی جگہ سنبھالنے والے ملااختر منصور کے بیانات یا احکامات ہوتے تھے۔

-----

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.