.

افغان مذاکرات اگر دہلی میں ہوتے

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کو افغان مذاکرات کی میزبانی کا شرف حاصل نہ ہوتا اور اگر مذاکرات کی بساط نئی دہلی میں بچھائی جاتی ، تو یہ خبر نہ آتی کہ ملا عمر شہید ہو چکا ہے اور یہ خبر بھی نہ آتی کہ مولانا حقانی بھی شہید ہو چکے ہیں اور نہ ملا عمر کے بیٹے کو کوئی گولی مارتا۔بھارت نے بارہ سال تک کوشش کہ وہ افغان امور پر حاوی ہو جائے، اس نے اس جنگ زدہ، تباہی اور بربادی کے شکار ملک میں درجنوں سفارتی اور غیر سفارتی دفاتر کھولے، اس نے ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکے لئے اور اپنے کارکنوں کی حفاظت کے نام پر نیم فوجی دستے بھی وہاں پہنچا دیئے۔

پاکستان میں محب وطن عناصر چیخ و پکار کر رہے تھے کہ بھارت کون ہوتا ہے افغان امور میںمداخلت کرنے والا۔ نہ اس کی کوئی سرحد اس سے لگتی ہے، نہ اس نے وارا ٓن ٹیرر میںکوئی ایک قطرہ خون بہایا ہے۔مگر بظاہر لگتا تھا کہ پاکستان کی داد فریاد پر کوئی بھی کان نہیں دھر رہا۔بھارت کابل میں چودھری بنا پھرتا تھا،اور اس کے قونصل خانے نہ صرف افغان امور میں دخیل تھے بلکہ بلوچستان کی تخریب کاری کو ہوا دینے کے لئے پیسہ بھی فراہم کررہے تھے اور دہشت گردی کی تربیت بھی فراہم کر رہے تھے بھارت کی حیثیت قندھار میں وہی تھی جو اکہتر میں کلکتہ میں تھی، جہاں مکتی باہنی کے ٹریننگ کیمپ کھلے ہوئے تھے اور بھارتی فوج مشرقی پاکستان میں جارحیت کے لئے پر تول رہی تھی، مودی نے تسلیم کیا ہے کہ ہر بھارتی کی خواہش تھی کہ بنگلہ دیش بنے۔یہ خواہش پوری ہو گئی، اب افغانستان میں بیٹھ کر بھارت کے دل میںنئی خواہشات جنم لے رہی تھیں، وہ ایک طرف گریٹر بلوچستان کی سازش کر رہا تھا ، دوسری طرف غیر ملکی عناصر کو پاکستان میں دہشت گردی کے لئے دھکیل رہا تھا، اس کے مذموم عزائم واضح تھے، بھارتی تربیت یافتہ دہشت گردوںنے کراچی کے بحری اڈے پر اورین طیارے کو نقصان پہنچایا، یہ طیارہ بھارتی بحریہ کی جاسوسی کرتا ہے، اسی طرح بھارتی دہشت گردوں نے کامرہ میں اواکس طیارہ تباہ کیا۔

یہ طیارہ بھارتی فضائیہ کی جاسوسی کرتا ہے۔تو بھارت کی مداخلت کے اور کیا ثبوت درکار ہیں۔ویسے یوسف رضا گیلانی نے شرم الشیخ کی ملاقات میں من موہن سنگھ کو سارے ثبوت دے دیئے تھے اور وزیر اعظم نوازشریف نے امریکی صدر کو بھی یہ شواہد دے دیئے ہیں، اب تو وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھارتی را کی دہشت گردانہ کاروائیوں کا مسئلہ اٹھائیں گے۔ اس ضمن میں ساری مشاورت ہو چکی ہے۔ پاک فوج بھی درجنوں مرتبہ بھارتی مداخلت پر احتجاج کر چکی ہے مگر امر واقعہ یہ ہے کہ افغانستان کے لئے بھارتی خواہشات دم توڑ گئیں کیونکہ پاک فوج نے ضرب عضب کی کامیابی سے نہ صرف علاقے میں بلکہ عالمی سطح پر امن اور سلامتی کو یقینی بنا دیا ہے اور اب دنیا پاک فوج کی منشا کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کے قابل نہیں رہ گئی۔ پچھلے چند مہینوںمیں جنرل راحیل کئی مرتبہ کابل جا چکے ہیں، صدرا ور وزیر اعظم بھی کابل کا دورہ کر چکے ہیں اور افغان صدر بھی پاکستان آئے اور جی ایچ کیو جا کر جنرل راحیل سے ملے، ظاہر ہے سب کے علم میں ہے کہ پاک فوج کی گارنٹی کے بغیر افغانستان میں قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا اور نوا زشریف کی حکومت بھی اس سنہری موقع کو ضائع نہیں جانے دے گی۔ان کی تو برسوں سے منصوبہ بندی ہے کہ پاکستان کی موٹر وے افغانستان سے ہوتی ہوئی وسط ایشیا کے دارالحکومتوں تک پہنچے اور یہ موٹر وے اقتصادی روابط کے رشتوں کو مضبوط کرنے کا باعث بنے، وہ اسے نہر سویز کے ہم پلہ بھی سمجھتے ہیں۔

ضرب عضب میں پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کی قربانیوں کا پھل اس صورت میں ملا ہے کہ افغان مذاکرات کا ایک دور مری میںہو چکا ہے مگر اس سے بھارت کے پیٹ میں شدید مروڑ اٹھا ہے، اس نے افغان مذاکرات کو سبو تاژ کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانا شروع کر دیا ہے، ملا عمر اور مولانا حقانی کی موت کی خبریں افشا کی گئیں تاکہ افغان طالبان کی صفوں میں انتشار پیدا ہو۔ اور وہ کسی حد تک اس میں کامیاب بھی نظرا ٓتا ہے ، ملا عمر کی جانشینی کے مسئلے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے لیکن پاکستانی قیادت کو یقین ہے کہ بھارت ان سازشوں میں بھی منہ کی کھائے گا۔وہ خوار وزبوں ہو گا۔ پاکستان اور افغانستان جزو لاینفک ہیں، ہماری تاریخ ، ہماری میراث ایک ہے، ہمارے میزائلوں کے نام افغان ہیروز کے نام پر رکھے گئے ہیں اور ہماری سرحد یں نرم ہیں۔ پاکستان نے سوویت جارحیت کو روکنے میں بے انتہا قربانیاں دی ہیں، پچھلے تین چار عشروں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی مسلسل میزبانی بھی کر رہا ہے اور اب میں آتا ہوں، افغان عمق کی طرف جسے ہم اسٹریٹیجک ڈیپتھ کہتے ہیں۔

ہمارے بھارتی اور امریکی نمک خوار عناصر اس دفاعی عمق کے نظریئے کا مذاق اڑاتے ہیں اور اڑاتے رہیں گے اور میں انہیں چڑاتا رہوں گا کیونکہ میں اس نظریئے کا قائل ہوں، میرے مرشد نظامی اس نظریئے کو مانتے تھے اور میںنے سب انہی سے سیکھا۔اور میرا عہد ہے کہ اس نظریئے پر کاربند رہوں گا۔ بعض لوگوں کو لفظ نظریئے ہی سے چڑ ہے، وہ چڑتے رہیں، یہ ان کا مقدر ہے۔

پاکستان نے وہ رول حاصل کر لیا جس کا وہ بجا طور پر حقدار تھا، اب بھارت اس میں مینگنیاں ڈال سکتا ہے، رکاوٹیں کھڑی کر سکتا ہے لیکن اس رول کو ہائی جیک نہیں کر سکتا،ا س لئے کہ اس کے پلے کچھ نہیں ہے۔ پاکستان نے تو قربانیاں دی ہیں اور ان قربانیوںکے صدقے مثبت نتیجہ بھی حاصل کیا ہے۔اسی بنا پر پاکستان کو افغان مذاکرات کی میزبانی کا رول ملا ہے، یہ رتبہ بلند ملا ، جس کو مل گیا، بھارت سر پہ خاک ڈالتا رہے۔ اس کے سارے مذموم عزائم خس و خاشاک ہو گئے۔

افغان مسئلے کو سلجھانے کی بنیاد یہ ہے کہ یہ ملک بنیادی طور پر افغانوںکا ہے اور وہی اس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں، پاکستان تو صرف سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے، اس لئے کہ تمام فریقوں کو اس پر اعتماد ہے۔ یہ عزت بھی خدا نے دینا تھی کہ چین، امریکہ ، طالبان، افغان حکومت سبھی پاکستان کو عزت دے رہے ہیں۔ایک وقت تھا کہ ساری دنیا پاک فوج کو الزام دیتی تھی کہ وہ افغان طالبان کی مسلسل سرپرستی کر ر ہاہے، اسے ڈبل گیم کا طعنہ دیا جاتا تھا، ہمارا میڈیا بھی اسی شوق میں مبتلا تھا،صرف پاک فوج کی مخالفت کے لئے اسے کوئی بہانہ چاہئے تھا۔اب بھارت نے طالبان لیڈروں کی موت کی خبریں افشا کر کے دیکھ لیا کہ مذاکرات کے عمل سے کوئی بھاگ نہیں گیا، بس ایک مختصر سی بریک آئی ہے ورنہ جو طالبان لیڈر مری میں اکٹھے ہوئے ، انہیں اچھی طرح علم تھا کہ ملا عمر شہید ہو چکے، ملا عمر ایک لیجنڈ تھے، تاریخ میں ان کا سنہری کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔مولاناحقانی کی شجاعت کے شاہنامے لکھے جائیں گے۔ اورافغان طالبان کی قربانیوں پر آنے والی نسلیں فخر کرتی رہیں گی۔ پاکستان نے خلوص کے ساتھ امن مذاکرات کی میزبانی قبول کی ہے، ہماری دعائیں ہیں کہ یہ عمل جلد نتیجہ خیز ہو، افغان امنگوں کے مطابق یہ مسئلہ حل ہو اور خطے میں پائیدار امن کی لہر چلے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.