.

انصاف کے نام پہ ایک اور ناانصافی

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں ذہانت کی بنیاد پر ریٹنگ کا سلسلہ شروع ہوا تو مجھے یقین ہے کہ جنرل محمد عمر اور ان کے صاحبزادے پاکستان کے ذہین ترین لوگوں میں سرفہرست قرار پائیں گے ۔ یہ لوگ صرف ذہین نہیں بلکہ محنتی بھی ہیں ، تعلقات بھی بنا اور نبھاسکتے ہیں ، لوگوں کو متاثر کرکے اپنی شخصیت کے سحر میں بھی پھنسا سکتے ہیں ، برداشت بھی کرسکتے ہیں ، غصے پر قابو بھی رکھ سکتے ہیں ، دل میں رکھ کر مسکراہٹوں کے ساتھ میل جول بھی رکھ سکتے ہیں اور موقع پاکر خاموشی کے ساتھ اپنا حساب بھی برابر کرسکتے ہیں اور سب سے بڑھ کریہ کہ اچھا بول بھی سکتے ہیں۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں جنرل محمد عمر صاحب نے بھی اپنا خاطرخواہ حصہ ڈالا تھا لیکن کمال دیکھ لیجئے کہ جہاں جنرل یحییٰ خان اور شیخ مجیب الرحمان کو روز گالی پڑتی ہے ،وہاں ان صاحب کا کوئی نام ہی نہیں لیتا۔

بھٹو صاحب کے ساتھ مفت میں ’’ادھر تم ادھر ہم ‘‘ کا نعرہ منسوب کرلیا گیا لیکن حمودالرحمان کمیشن کی گواہی کے باوجود جنرل محمد عمر فرشتوں کی صف میں شمار ہوئے ۔ گزشتہ روز ایک محفل میں نصف درجن سے زائد ریٹائرڈ جنرلز بیٹھے ہوئے تھے ۔ وہاں اس بات پر بحث ہورہی تھی کہ ابتدائی دنوں میں جنرل پرویز مشرف کے مشیرخاص کون تھے؟۔ سب کا اس پر اجماع تھا کہ جنرل محمد عمر تھے لیکن کمال ملاحظہ کیجئے کہ جہاں طارق عزیز ، جنرل حامد اور ان جیسے لوگوں کے تذکرے ہوتے رہے ، اس مشیر خاص کا کسی نے نام تک نہیں سنا ۔ پھر ان کے صاحبزادوں کا کمال ملاحظہ کیجئے۔ جو جس میدان میں گیا ، وہاں بہتر سے بہتر پوزیشن میں پہنچ گیا۔ باقی اب بھی کارپوریٹ سیکٹر میں چھائے ہوئے ہیں لیکن زبیر عمرصاحب اور اسد عمرصاحب اس میدان میں بھرپور کامیابی اور کمائی کے بعد سیاست کے میدان میں آئے اور کمال ہوشیاری سے ایک نے مسلم لیگ (ن) اور دوسرے نے پاکستان تحریک انصاف کا انتخاب کیا۔ چند ہی دنوں میں ایک نے میاں نوازشریف کو اور دوسرے نے عمران خان کو اپنی شخصیت کے سحر کے کوزے میں بند کرلیا۔ اول الذکر میاں صاحب کے مالی مشیر اور دوسرے خان صاحب کے مشیرخاص بن گئے۔

ایک نے میاں صاحب سے وزارت حاصل کرلی اور دوسرے نے خان صاحب سے اسلام آباد کی قومی اسمبلی کی سیٹ لے لی ۔ چھٹی پر گھر میں اکھٹے ہوکر یقینا ایک دوسرے کو قصے سنا رہے ہوں گے کہ کس طرح انہوں نے اپنے اپنے لیڈر کو اپنی شخصیت کے سحر میں گرفتار کرلیا ہے لیکن میڈیا پر دونوں ایک دوسرے کو للکار تے رہتے ہیں اور اب تو نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ زبیر عمر جنرل پاشا پر الزام لگارہے ہوتے ہیں اور اسد عمر ان کی صفائی پیش کررہے ہوتے ہیں اور یقینا دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹ بول رہے ہوں گے۔ حالانکہ اس وقت دونوں ایک ساتھ ملتے تھے اور چاہتے تو اس مسئلے کو گھر میں بھی حل کرسکتے تھے ۔ زبیر عمر صاحب ، میاں نوازشریف کو کیا کیا سبق پڑھارہے ہیں ، اس کا ذکر پھر کسی وقت پر چھوڑتے ہیں ، سردست محترم اسد عمر صاحب کے تیز ذہن کے دو کارنامے ملاحظہ کیجئے ۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کے دو منافع بخش اداروں سے اس صوبے کی جان چھڑانے کی منصوبہ بندی اس خوش اسلوبی سے کرائی ہے کہ ہم جیسے سادہ لوح اسے صوبے پر احسان عظیم سمجھنے لگے تھے۔

پہلا منصوبہ ایک سو تیس ارب روپے مالیت کے بینک آف خیبر کی نجکاری کا تھا ، جو صوبے کو سالانہ کروڑوں روپے کا منافع دیتا ہے اور جسے کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک کاروباری شخصیت کو فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا لیکن ملازمین کی طرف سے عدالت عالیہ سے رجوع کی وجہ سے اس پر وقتی طور پر عمل درآمد روک لیا گیا۔ چنانچہ اب صوبے کے ایک اور بڑے اہم اور منافع بخش ادارے کو پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی بنا کر اس کا کنٹرول اپنے بندوں کے ہاتھ میں دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔ وہ ادارہ ہے صوبے میں آبی وسائل کی ترقی اور بجلی پیداکرنے کا ذمہ دار ادارہ پیڈو (Pukhtoonkhwa Energy Development Organisation) کو پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے ذریعے اپنے بندوں کی تحویل میں دینے کا منصوبہ ۔ یہ ادارہ اب تک صوبے میں متعدد منصوبے بنا چکا ہے، متعدد کی فیزیبیلٹی رپورٹ تیار ہوچکی ہے جبکہ اٹھارویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد اس کے ہاتھ اور بھی کھل گئے ہیں ۔ یہ تو ہر کوئی جانتا ہے کہ پختونخوا میں چھوٹے پن بجلی گھروں کی صلاحیت بہت زیادہ ہے اور کم خرچے پر ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے ۔

ماضی میں چونکہ صوبے کے اپنے وسائل کم تھے اور باہر سے مالی مدد بھی مرکز کی اجازت کے بغیر نہیں لی جاسکتی تھی ، اس لئے اس آبی صلاحیت سے کماحقہ فائدہ نہیں اٹھایا جاسکا۔اے این پی کی حکومت نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعائون سے بھی بعض منصوبوں پر کام کا آغاز کیا اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح آگے بڑھتا تو ایک وقت آسکتا تھا کہ پختونخوا بجلی کے اپنے منصوبوں سے سب سے امیر صوبہ بن جاتا کیونکہ ماہرین کے مطابق یہاں پر انتہائی کم لاگت پر 43 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرنے کی استعداد موجود ہے ۔ اگرچہ ابھی تک اس استعداد سے انتہائی کم استفادہ کیا گیا ہے لیکن پھر بھی نہ صرف پیڈو (PEDO) اپنے تمام تر اخراجات پورے کررہا ہے بلکہ صوبے کو ہر سال ڈیڑھ سے دو ارب روپے تک کی آمدن بھی دیتاہے ۔ اب اسد عمر صاحب کے مشورے پر صوبے میں قانون سازی کرکے یہاں پیڈو کی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لئے خیبرپختونخوا پاور کمپنی لمیٹڈ اور خیبرپختونخوا پرائیویٹ پاور بورڈ بنایا جارہا ہے ۔ تماشہ یہ ہے کہ اس منصوبے کی منظوری بجٹ سے کچھ عرصہ قبل جس اجلاس میں لی گئی اس میں صرف دو صوبائی وزراء موجود تھے جبکہ وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری کے علاوہ سینیٹر محسن عزیز اور ایم این اے اسد عمر کو خصوصی طور پر شریک کیا گیا تھا۔

بظاہر تو وزیراعلیٰ صدارت کررہے تھے لیکن عملاً اسد عمر صاحب ہی کنڈکٹ کررہے تھے ۔ میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کس قانون کے تحت اس طرح کے اہم منصوبوں کی منظوری صوبائی کابینہ یا اسمبلی کی بجائے ایسے فورمز پر دی جاتی ہے کہ جس میں ایم این ایز اور سینیٹرز شریک ہوتے ہیں ۔ اب جو پیڈو کا محکمہ تھا ، اسے پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی میں ایک ماتحت اور ذیلی ادارے کے طور پر ضم کیا جارہا ہے ۔ دوسری طرف اپنے من پسند افراد کو بھاری تنخواہوں کے عوض اس کمپنی میں تعینات کیا جارہا ہے ۔ پہلی فرصت میں اسدعمر کے ساتھ انکی سابقہ فرم میں کام کرنے سے اکبر ایوب خان صاحب کو چودہ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ کے عوض اس کا سربراہ بنا دیا گیاہے اور درجنوں کی تعداد میں باقی عہدوں پر بھی اسی طرح لاکھوں روپے ماہانہ کی تنخواہوں کے عوض اپنے لوگوں کو تعینات کیا جائے گا۔ اب تماشہ یہ ہے کہ قانون میں اس ادارے کے سربراہ کیلئے جو معیار بتایا گیا ، اس میں اسکے انرجی اور پاور کے شعبے میں پندرہ سال کے تجربے کی شرط رکھی گئی ہے لیکن چونکہ اپنی سابقہ فرم کے اس دوست کو تعینات کرنا مقصود تھا جو ان شعبوں میں پندرہ سالہ تجربہ کے حامل نہیں تھے اسلئے اخبار میں اشتہار دیتے وقت اس میں فنانشل سیکٹرکے لفظ کا اضافہ کردیا گیا ہے۔

بہر حال اس غریب صوبے کیساتھ تحریک انصاف کی حکومت میں یہ ’’انصاف‘‘ہونے جارہا ہے کہ ایک تو اسکے واحد منافع بخش ادارے کا کنٹرول پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے ہاتھ میں چلا جائے گا اور مستقبل کے حساب سے یہ سونے کی چڑیا بھی اس کے اختیار سے نکل کر چند شخصیات کے ہاتھ میں چلی جائیگی ۔دیکھتے ہیں تحریک انصاف کے سربراہ اس ’’انصاف‘‘ کا راستہ کیسے روکتے ہیں۔

ایک وضاحت : گزشتہ کالم میں یہ عرض کیا گیا تھا کہ جس طرح طریقے سے خواجہ محمد آصف صاحب نے پہلے میرے پروگرام میں اور پھر ابصارعالم صاحب کے پروگرام میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل(ر) ظہیرالاسلام کا نام لیا ، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ، وزیراعظم کے ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے ۔ خواجہ محمد آصف صاحب نے اس حوالے سے جو تفصیلات فراہم کی ہیں اور جس طریقے سے انہوں نے اپنا موقف سامنے رکھ دیا ہے ، اس سے مجھے یہ یقین ہوگیا ہے ، کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ ان کی اپنی سوچ تھی یا پھر اس وقت ہونے والے سوالوں کے جواب میں ان کو جنرل ظہیر کا نام لینا پڑا۔ وہ حلفاً یہ بات کہتے ہیں کہ اس موضوع پر نہ انٹرویو سے پہلے ان کی وزیراعظم سے بات ہوئی ہے اور نہ انٹرویو کے بعد۔ ان کی حد تک مجھے ان کی بات کا یقین ہوگیا ہے لیکن میں بدستور اپنی اس رائے پر قائم ہوں کہ خود وزیراعظم صاحب اور حکومت کی رائے تھی کہ اس نام اور اس منصوبے کو ہوا دی جائے ۔ دلیل کے طور پر میں نے میاں شہباز شریف کے پارلیمانی کمیشن کے قیام کی بات بھی عرض کی تھی جبکہ نجم سیٹھی صاحب کے اس موضوع پر پروگرام کے بعد تو اس بات میں کسی شک کی گنجائش ہی نہیں رہتی کہ جو حکومتی حلقوں سے (شاید خواجہ آصف کے بغیر)جو کچھ ہورہا تھا، وہ ایک باقاعدہ اسکرپٹ کا حصہ تھا۔ -

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.