.

ودہولڈنگ ڈیوٹی کا ہتھوڑا

محمد بلال غوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی مصنف Terry Pratchett سے کسی نے پوچھا کہ بالعموم کہا جاتا ہے کہ موت اور ٹیکس سے چھٹکارا ممکن نہیں ،آپ اس حوالے سے کیا کہتے ہیں ؟اس نے ہنستے ہوئے جواب دیا،مجھے تو موت کے بجائے ٹیکس سے خوف آتا ہے کیونکہ موت ہر سال نہیں آتی اور نہ ہی پہلے سے بد تر ہوتی چلی جاتی ہے۔جبکہ امریکی بزنس مین Robert J Braathe نے ایک بار تجویز دی تھی کہ حکومت کوئی نیا ٹیکس لگانا چاہتی ہے تو عوام الناس کے سرگوشیاں کرنے اور آنکھیں مٹکانے پر ٹیکس لگا دیا جائے۔اس تجویز پر امریکی حکومت نے تو کان نہیں دھرے البتہ ہماری معیشت کے ساہوکاروں نے یہ بات پلے باندھ لی اور اب جب بھی انہیں محاصل کے سالانہ ٹارگٹ کو حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے تو ودہولڈنگ ڈیوٹی کے نام پر کوئی نہ کوئی نیا ٹیکس لگا دیا جاتا ہے۔

30 جون کو جب مالی سال کا اختتام ہونے کو تھاٹارگٹ کے حصول میں 300 ارب روپوں کی کمی کا سامنا تھا۔ آخری دن ہنگامی بنیادوں پر 100 ارب روپے کی ریکوری کی گئی مگر پھر بھی ٹارگٹ پورا نہ ہواتو کسی نے تجویز پیش کی کہ چندروز کے لئے بینکوں سے پچاس ہزار روپے سے زائد رقم کی ٹرانزیکشن پر .6 فیصد ودہولڈنگ ڈیوٹی لگا دی جائے تویہ ٹارگٹ باآسانی پورا کیا جا سکتا ہے۔پاکستان میں بینکوں کے ذریعے یومیہ 28کھرب روپے کا لین دین ہوتا ہے۔ فرض کریں کہ اس میں سے نصف ٹرانزیکشن پچاس ہزارسے کم ہوتی ہیں اور ان پر ڈیوٹی عائد نہیں ہوتی تب بھی روزانہ 14 کھرب روپے پر .6 فیصد ودہولڈنگ ڈیوٹی کا مطلب ہے کہ ایک ماہ (یعنی 22 ورکنگ ڈے) میں ہی 200 ارب روپے کھرے کر لئے گئے۔ بظاہر پالیسی تو یہ بنائی گئی کہ ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والوں پر ود ہولڈنگ ڈیوٹی .3 فیصد کی شرح سے جبکہ نان فائلر پر .6فیصد کے حساب سے عائد ہو گی لیکن بینکوں نے اندھا دھند کٹوتی کی، اور گھوڑوں گدھوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جانے لگا۔

اب 200 ارب روپے کا ٹیکا لگانے کے بعد کہا جا رہا ہے کہ اس کا اطلاق صرف ٹیکس ریٹرن جمع نہ کرانے والوں پر ہوگا اور اس کا مقصد ڈاکومنٹیشن میں اضافہ کرنا ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایف بی آر کو محاصل جمع کرنے کے لئے ایک آسان راستہ میسر آگیا ہے اور انہیں ہمیشہ شارٹ کٹ کی تلاش رہتی ہے۔ کام چوری اور سہل پسندی کا شکار کلیکٹرز سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ٹیکس چوروں کو پکڑیں اور ان سے رقم نکلوائیں ،البتہ سب کو ودہولڈنگ ایجنٹ بنا کر پیسے بٹورنے کے کام پر لگا دیا گیا ہے ۔جب اس پر احتجاج ہو تو بہت آسانی سے کہہ دیا جاتا ہے کہ جب سال کے آخر میں ریٹرن جمع کروائیں تو کلیم کر لیں ،آپ کی رقم واپس مل جائے گی۔ یعنی اگر کسی سفید پوش کی جیب سے سال بھر میں بیس پچیس ہزار روپے نکلوا لئے گئے ہیں تو وہ انہیں کلیم کرنے کے لئے وکیل کی خدمات حاصل کرے، اکائونٹنٹ کے ذریعے اپنا حساب کتاب کرے اور اس سے کئی گنا زیادہ رقم خرچ کر بیٹھے۔

دنیا کے کسی ملک میں ود ہولڈنگ ٹیکس کے نام پر ایسی اندھیر نگری نہیں ،جیسی ہمارے ہاں رائج ہے۔یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے کہ کوئی غریب آدمی اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے قرض لیتا ہے اور ایک لاکھ روپے کی رقم ایک دن میں پانچ ہاتھوں سے ہو کر آتی ہے تو اس میں سے تین ہزار روپے ہڑپ کر لئے جائیں؟ جن ممالک میں باامر مجبوری ان ڈائریکٹ ٹیکسیشن ہوتی بھی ہے تو اس کی شرح بہت کم ہوتی ہے اور پھر وہاں ریفنڈ کا ایسا شفاف نظام ہے کہ متعلقہ محکمہ آپ کی آمدن سے زائد کٹوتیاں گھر پہنچانے کا اہتمام کرتا ہے مگر یہاں اوپر سے سخت احکامات دیئے جاتے ہیں کہ ریفنڈ کی درخواستوں کو مسترد کر دیا جائے یا پھر انہیں التواء میں رکھا جائے ۔ہاں اگر کوئی تگڑی سفارش ہو تو قوانین موم کی ناک ثابت ہوتے ہیں مثال کے طور پر حال ہی میں پشاور ریجن سے چائنا کی ایک کمپنی کو 300 ارب روپے ریفنڈ کئے گئے کیونکہ ان کے سفارشیوں میں مبینہ طور پر وفاقی وزیر خزانہ ،چیئرمین ایف بی آر، چیف کمشنر اور کمشنر جیسی اعلیٰ مرتبت شخصیات شامل تھیں۔

ہم اکثر و بیشتر یہ رونا روتے ہیں کہ پاکستان میں لوگ ٹیکس نہیں دیتے ۔لیکن کبھی کسی نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی وہ پاکستانی جن کا شمار دنیا کے مخیر ترین افراد میں ہوتا ہے،جو بھوکوں کو کھانا کھلانے کے لئے دسترخوان سجاتے ہیں ،خیراتی اور فلاحی اداروں کو اربوں روپوں کے فنڈز فراخدلی سے دے جاتے ہیں ،انہیں ٹیکس دینے میں تکلیف کیوں ہوتی ہے؟اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لئے کسی آئن اسٹائن افلاطون یا سقراط وبقراط کی ضرورت نہیں ،بات بہت سیدھی اور سادہ ہے کہ ٹیکس دینے والوں کو یہ یقین نہیں کہ ان کی رقم ٹھیک جگہ پر خرچ ہو گی۔جس ملک میں 129 پارلیمنٹیرین ٹیکس ریٹرن جمع نہ کروائیں اس ملک میں عام افراد سے ڈاکومینٹیشن کے نام پر ودہولڈنگ ڈیوٹی لگا کر پیسے بٹورنا مذاق نہیں تو اور کیا ہے؟ جس ملک میں 16 سنیٹرز، 10 ارکان قومی اسمبلی سمیت 64 قانون ساز ایک دھیلے کا ٹیکس نہ دیتے ہوں ،وہاں شیدے قصائی ،پپو موچی، راجو حجام، بھولا پان والا ،گجر دودھ والا اور بائو اشفاق کریانے والا کو بجلی کے بل، موبائل فون کے کارڈ ،موٹر سائیکل کے پیٹرول سمیت ہر چیز پر ٹیکس دینا پڑے تو جمہوریت کی دال کیسے گلے؟جس ملک کے نصف سے زائد ارکان پارلیمنٹ سالانہ پچاس ہزار روپے سے کم ٹیکس ادا کرتے ہوں اور وہاں پچاس ہزار ماہانہ تنخواہ لینے والے مڈل کلاسی ئے سے سات ہزار روپے انکم ٹیکس بٹور لیا جائے تو اسے اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ملک میں پارلیمانی جمہوریت ہو یا فوجی آمریت؟عوام کی رگوں سے خون کا آخری قطرہ نچوڑنے والے ان قانون سازوں کا ذاتی کردار تو یہ ہے کہ NA197 سے ایک رُکن قومی اسمبلی گزشتہ پانچ برس سے ٹیکس ڈیفالٹرچلے آ رہے تھے ،ان کی اپیل بھی خارج ہو چکی تھی مگر کسی کی کیا مجال کہ عوامی نمائندوں سے وصولی کر سکے۔وہ تو بھلا ہو IRS کے ہونہار اور دبنگ نوجوان آفیسرعمران یوسف کا جس نے سیکریٹری قومی اسمبلی کو خط لکھ کر معزز رکن پارلیمنٹ کا سیلری اکائونٹ منجمد کروایا اور کئی سال سے واجب الادا رقم وصول کر لی۔

ہمارے ہاں جو دو فیصد افراد ٹیکس دیتے ہیں اس میں سے بھی کم از کم 60فیصد رقم ٹیکس دہندہ ،ٹیکس کلیکٹر اور ٹیکس پریکٹیشنر کے درمیان خورد برد ہو جاتی ہے اور سرکاری خزانے میں محض 40فیصد رقم ہی پہنچ پاتی ہے۔وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ٹیکس قوانین بہت پیچیدہ ہیں اور انہیں جان بوجھ کر مشکل بنایا جاتا ہے تاکہ مڈل مین کا کردار ختم نہ ہو۔ان قوانین کے سامنے تو آئن اسٹائن جیسے ذہین و فطین شخص نے ہاتھ کھڑے کر دیئے تھے۔جب اس سے انکم ٹیکس کا گوشوارہ بھرنے کو کہا گیا تو اس نے کہا ،یہ کسی ریاضی دان کے بس کی بات نہیں شاید کوئی فلسفی اس گتھی کو سلجھا سکے۔ٹیکس کی شرح بڑھائے بغیر محاصل میں اضافہ کرنے کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ وصولی پر متعلقہ آفیسرز کو ایک مخصوص شرح سے کمیشن دیا جائے ،جیسا کہ کئی ممالک میں یہ قانون موجود ہے کہ وصول شدہ رقم میں سے تین فیصد IRSکو دیاجاتا ہے۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حکومتی فضول خرچیوں پر قابو پایا جائے۔ وگرنہ شارٹ کٹ کے ذریعے ہی کام چلانا ہے تو ودہولڈنگ ڈیوٹی کا ہتھوڑا ہے ناں!

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.