.

پاکستان کی کہانی، پاکستان کی زبانی

انجم نیاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کل اڑسٹھ برس کا ہو جائے گا۔ چار برس قبل ہم نے جشن آزادی کے حوالے سے ایک کالم لکھا تھا جس میں ہم نے اس وقت تک کے حالات کے مطابق صورت حال کی خاکہ کشی کی تھی۔ حالات گو اس وقت بھی دگر گوں تھے لیکن اپنی بقا کیلئے ہمارا عزم غیر متزلزل تھا۔ کیا اس وقت کے مقابلے میں آج ہمارا ملک کچھ آگے بڑھا ہے؟ قارئین کرام، آپ کی اجازت سے ہم یہاں اپنا وہی کالم دوبارہ پیش کرنا چاہیں گے تاکہ آپ اندازہ کر سکیں کہ پاکستان میں کسی بہتر تبدیلی کے آثار پیدا ہوئے ہیں یا نہیں۔ تو سنیے پاکستان کی کہانی، پاکستان کی زبانی!

اگرچہ اندرونی طور پر میں توڑ پھوڑ کا شکار ہوں لیکن میری روح مرنے والی نہیں۔ میری جیبیں بے شک خالی ہیں لیکن میرے پاس امیدوں کا ایک خزانہ ہے جو مجھے متحرک رکھتا ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ میرا سارا نظام درستگی چاہتا ہے کیونکہ برسوں کی غفلت اور لاپروائی نے اسے کافی متاثر کیا ہے، لیکن میرا دماغ ہنوز سلامت ہے اور یہ توانائی کے وسائل کی کمی سے نمٹنے کا کوئی طریق کار وضع کر لے گا۔ میں تاریکی میں ہی سہی کہ میرے تمام توانائیاں خرچ ہو چکی ہیں، لیکن ہر تاریکی کے بعد روشنی آتی ہے۔ جلد ہی شاید میں پانی کی کمی کا بھی شکار ہو جاؤں گا کیونکہ میرے آبی وسائل ختم ہونے والے ہیں لیکن اگر وسائل کے تحفظ کے حوالے سے میں نے اپنی ہوشیاری ثابت کر دی تو مجھے خشک سالی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ مجھ میں خوراک کی بھی کمی ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ میں ایک سوہنی دھرتی ہوں اور میلوں پر پھیلی میری زرخیز زمین میری بھوک کا کاتمہ کر سکتی ہے۔ تو چلیں آئیں موم بتیاں جلا کر جشن کا آغاز کریں۔

بابائے قوم مجھے اس دنیا میں لائے اور انہوں نے میرا نام پاکستان رکھا۔ میری پیدائش کا مرحلہ گو بڑی دشواری سے طے ہوا تھا لیکن وہ بہت خوش تھے۔ لیکن قدرت نے انہیں اتنی مہلت نہیں دی کہ وہ مجھے پروان چڑھتے دیکھ پاتے، جلد ہی وہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ مجھے انہوں نے یہ نصیحت کی تھی کہ میں سر اونچا رکھ کر دوسری اقوام کے ساتھ مستقبل کی جانب گامزن رہوں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ بابائے قوم کی تصاویر تمام وی آئی پیز کے دفتروں میں آویزاں ہیں، ساتھ ہی ان کی اپنی تصاویر بھی ٹنگی ہوئی ہیں، لیکن میرے جھنڈے لہرا کر یا اپنی جیکٹوں کے کالروں پر اسے چسپاں کر کے یا اپنی بڑی بڑی تصویروں کی نمائش کے ذریعے یہ لوگ کسی کو بھی میرے تشخص سے آگاہ نہیں کر سکے۔ سچ پوچھیے تو مجھے ایسی نمائش بہت نازیبا معلوم ہوتی ہے۔

چونسٹھ برسکی عمر میں بھی میرے چہرو کا جو حسن ہے اسکے بارے میں مزید آُ جاننا چاہیں گے؟ چلیے تو پھر سنیے۔۔ میرا قدرتی حسن ایک عالم کیلئے باعث رشک ہے۔ ابھی کچھ ہی عرصہ قبل عالمی مقابلہ حسن میں میں نے دوسرا نمبر حاصل کیا تھا۔ دور دور سے لوگ میرے برف سے ڈھکے پہاڑوں کو دیکھنے اور انہیں سر کرنے آتے تھے۔ کوہ پیمائی کے شائق گویا کبھی تھکتے ہی نہیں تھے۔ ہر سال موسم سرما میں میری برفانی چوٹیوں کو سر کرنے وہ باقاعدگی سے آتے تھے اور واپس جا کر اپنے لوگوں کو رومانویت اور پراسراریت اور برف سے ڈھکے نظاروں میں منڈلاتی غیر مرئی ہستیوں کی داستانیں سناتے جہاں کا سکوت ہوا کی سیٹیوں سے ہی ٹوٹتا ہے۔ یہاں میرے حسن کو وقت بگاڑ سکتا ہے نہ ہی انسان۔ میرے سکون میں بھی یہاں کوئی خلل انداز نہیں ہو سکتا۔ میرے خدوخال اور نقوش کے بارے میں آپ مزید جاننا چاہیں گے؟ میرے نقوش نہایت دلکش ہیں، سرسبز وادیاں جہاں چلغوزوں کے بڑ؁ بڑے درخت ہیں، جنگلی پھول کھلے ہیں، جھرنے اور آبشاریں ہیِ کھیت کھلیان اتنے وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں کہ آسمان کو چھوتے معلوم ہوتے ہیں۔ اخباروں میں میری تصویرویں دیکھ لیجئے۔

لیکن سنئے میری ساری زندگی اتنی بھی حسین نہیں۔ ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ جب کوئی اپنی اصل عمر سے کہیں زیادہ بوڑھا دکھائی دے تو اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی دیرینہ مرض اسے لاحق ہے۔ میرے خیر خواہ کہتے ہیں کہ مجھے اپنے چہرے کی پلاسٹک سرجری کر لینی چاہئے لیکن میرے وزیر اعظم (یوسف رضا گیلانی) نے سالگرہ کے تحفے کے طور پر مجھے دینے کیلئے ایک بہتر چیز کا انتخاب کی اہے۔ انہوں نے ممتاز قلم کاروں ، شاعروں ، دانش وروں ، فن کاروں ، اداکاروں ، ماہرین تعلیم، سوشل ورکرز اور میڈیا سے تعلق رکھنے والوں کو بلایا ہے تاکہ وہ انہیں بتا سکیں کہ آخری کونسی تکلیف مجھے کھائے جا رہی ہے۔ وزیر اعظم کی معاون ناگزیر نرگس سیٹھی صاحبہ کا خیال ہے کہ اس طرح حاصل کی گئی آرا کو اس خطاب کا ایک حصہ بنایا جائے گا جو میری سالگرہ والے دن وزیر اعظم فرمائیں گے تاکہ یوں مجھے حقیقتا جدید اور ترقی پسند بنانے کا جو خواب بابائے قوم نے دیکھا تھا اسے شرمندہ تعبیر کیا جاسکے۔ میرے ایک اتفاقیہ صدر بھی ہیں(آصف علی زرداری) ۔ انکے لئے جب بھی میری حرارت ناقابل برداشت ہوجاتی ہے تو یہ باہر کے سبز باغات کا رخ کر لیتے ہیں۔ انکا خیال ہے کہ نوٹس لینے اور انہی لوگوں سے بار بار مل کر وہ دہشت گردی ، اندھا دھند مقاتلوں، جرائم اور لوڈ شیڈنگ سے مجھے بچا سکتے ہیں۔

خاکیوں (جنرل کیانی) کا دعویٰ ہے کہ وہ میرے محافظ ہیں لیکن وہ بھی کہیں اور ہی مصروف ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انکی ساری دلچسپی صرف اپنے مفادات اور مراعات کی بقا پر ہی مرکوز ہے۔ مجھے تو وہ یہ بتاتے ہیں کہ وہ مجھے دہشت گردوں سے پاک کرنا چاہتے ہیں لیکن امریکہ تو چیخ چیخ کر یہ کہہ رہا ہے کہ ایسا کچھ نہیںَ امریکہ میں ہر وہ انسان جو ذرا سا بھی اہم یا باخبر سمجھا جاتا ہے اسکا یہی کہنا ہوتا ہے کہ کچھ لوگ خفیہ طور پر دہشت گرد گروہوں کی مدد کر کے ایک دہرا کھیل کھیل رہے ہیں۔ یعنی وہی دہشت گرد گروہ جو میری تباہی پہ تلے ہوئے ہیں۔

سمندر پار سے میرے دوست کہتے ہیں کہ یہ کہنا ہمیں بہت تکلیف دیتا ہے کہ پاکستان ایک ناکام ملک ہے جس نے باقی ترقی پسند دنیا سے خود کو الگ تھلگ کر لیا ہے۔ حقیقت یہی ہے پاکستانیوں پر جناح سے زیادہ ضیا کے اثرات پائدار ثابت ہوئے۔ کینڈا کے منور میر بھی میرے ایسے ہی دوستوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تعلیم جنوبی پنجاب کے ایک مدرسے مین شروع کی تھی، میٹرک انہوں نے پھر ایک اردو مٰڈیم سکول سے کیا اور ماسٹر کی ڈگری گورنمنٹ کالج لاہور سے حاصل کی۔ فوج میں بھرتی ہوتے ہی قسمت نے انہیں بھارت میں جنگی قیدیوں کی جیل میں قد کم عمر ترین افسر کا اعزاز دلا دیا! وہ کہتے ہیں: انسانیت کی خوبصورتی اور بدصورتی کا جاننے کے لیے قیدی کیمپ ایک بہترین جگہ ہوتی ہے۔

1974-75ء میں بلوچستان میں باغیانہ سرگرمیوں کے خلاف کی گئی کارروائیوں میں بھی وہ شامل تھے ، بعد میں 1984-85ء کے دوران وہ سیاچن میں بھی لڑے۔ وہ بتاتے ہیں کہ 1985ء میں فوج سے میری راہیں جدا ہو گئیں۔ ہم دونوں اس نتیجے پر پہنچ گئے تھے کہ ہم ایک دوسرے کے لئے مناسب نہیں۔ منور میر نے کبھی پاکستان کو چھوڑنا نہیں چاہا تھا لیکن پھر انہوں نے سمجھ لیا کہ ان کے بچوں کا ایک ایسے ملک میں کوئی مستقبل نہیں ہو سکتا جہاں نفرت کوئی جذبہ نہیں بلکہ زندگی کا ایک فلسفہ ہے۔ چنانچہ انہوں نے کینڈا ہجرت کرلی۔ میرے مسائل کے حل کے لئے منور میر بہت جوش سے بولتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: اختلاف اور تفرقہ پسندی کی قوتوں نے نفرت کا جو جال بچھایا ہوا ہے، اسکو محبت اور مفاہمت سے بدل دینا چاہیے۔ پاکستان کو ایک ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جو معاشرتی اقدار میں برابری اور قومی تشخص کی یکسانیت کو یقینی بنائے۔

موم بتیاں بجھا کر مجھ سالگرہ کی مبارکباد دینا مت بھولیے گا۔ ساتھ ہی جیو ہزاروں سال کا نغمہ بھی سب میرے لئے گائیے۔

------------------

بشکریہ روزنامہ "دنیا"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.