.

یہ جوتے نہیں تخت اچھالنے کا وقت ہے

نازیہ مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ جنرل ضیاءالحق کا دور اور اسی کی دہائی تھی، تیسرے فوجی صدر کی حکمرانی کا سورج نصف النہار پر تھا، مارشل لا پورے رعب اور دبدبے کے ساتھ نافذ تھا اور فوجی عدالتیں قائم تھیں، گھنٹوں میں جرم ثابت ہوتا اور منٹوں میں سزا سنادی جاتی تھی، قاتلوں کو سر عام پھانسیاں دی جارہی تھیں اور ڈاکوﺅں کو مجمع اکٹھا کرکے سب کے سامنے پیٹھ پر کوڑے مارے جارہے تھے، بدکاری اور چوری چکاری میں پکڑے جانیوالے مجرموں کا منہ کالا کر کے گدھے پر بٹھاکر آبادی کا چکر لگایا جاتا تھا، ٹریفک قوانین توڑنے والوں کو بھی نہیں بخشا جاتا تھا۔ ملک میں اسلامی شریعہ کے نام پر حدود آرڈیننس لاگو تھا، اسی حدود آرڈیننس کے تحت جرم ثابت ہونے پر مجرموں کو عبرتناک سزائیں دی جارہی تھیں اور ان سزاؤں کا خاطر خواہ نتیجہ بھی نکلا تھا۔

ہتھوڑا گروپ اُس وقت بھی نکلتے تھے، لیکن پکڑے جانے اور جرم ثابت ہونے پر اُنکے بچنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی تھی، قتل، اغوا، چوری، ڈکیتی، بداخلاقی سمیت ہر طرح کے جرائم تب بھی ہوتے تھے، لیکن اُن جرائم کی شرح میں سونامی کہیں نظر نہیں آتا تھا۔ جرائم اور انصاف کے اسی کھیل میں وزیرآباد میں زیادتی کا ایک مکروہ واقعہ سامنے آیا۔ زیادتی کا یہ واقعہ کسی زندہ انسان کے ساتھ نہیں بلکہ ایک نوجوان مردہ لڑکی کی لاش کے ساتھ پیش آیا تھا، ورثا اپنی لڑکی کو قبرستان میں دفن کرکے واپس چلے گئے تو اگلی صبح گورکن نے ورثا اور اہل محلہ کو اس مکروہ واقعہ کی خبر دی۔ کسی شخص نے قبر پھاڑ کر لڑکی کی میت باہر نکالی اور بداخلاقی کے بعد اسی حالت میں چھوڑ کر فرار ہوگیا، تھوڑی سی تحقیقات کے بعد ہی پتہ چل گیا کہ لڑکی کی لاش سے زیادتی محلے کے ایک نوجوان نے کی تھی ۔ کئی دنوں تک یہ خبر شہ سرخیوں کا حصہ رہی، اس واقعہ کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے اور مباحثوں کا بھی اہتمام کیا گیا، کہا گیا اور بجا طور پر کہا گیا کہ مہذب دنیا میں اس طرح کے جرم کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا اِس انسانیت سوز جرم پر مجرم کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیے۔

دوسری جانب مجرم نے بھی چونکہ اِس کیس میں فورا ہی اپنے مکروہ جرم کا اقرار کرلیا تھا ، اس لیے کیس بھی مختصر چلا اور عوامی دباؤ پر مجرم کو سینکڑوں سال قید اور کئی مرتبہ پھانسی کی سزا سنادی گئی۔

وزیر آباد کیس پاکستان میں انسانیت سوز واقعات کی کوئی واحد مثال نہیں ہے، بلکہ پاکستان کی تاریخ ایسے واقعات سے شرمناک حد تک بھری ہوئی ہے۔ کہ گوجرانوالہ میں ایک سو بچوں کیساتھ بداخلاقی کے کیس نے دنیا بھر میں پاکستان کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، اس کیس کے واحد ملزم جاوید اقبال نے اقرار کیا کہ اُس نے ایک سو بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد ناصرف قتل کیا بلکہ قتل کے بعد ان بچوں ٹکرے کر کے انہیں اپنے کباڑ خانے میں رکھے تیزاب کے ڈرموں میں ڈال کر لاشیں تلف کردیں۔

یہ واقعہ کئی روز تک اخبارات میں شہہ سرخیوں کی ”زینت“ بنا رہا، لیکن اس واقعہ کے تھوڑے عرصے بعد ہی سب بھول گئے کہ ملک میں کوئی ایسا سانحہ بھی ہوا تھا، جس کے بارے میں سوچ کر ہی ارباب اختیار سمیت ساری قوم کا سر شرم سے جھک جانا چاہیے تھا۔
اب قصور میں سینکڑوں بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کا سانحہ سامنے آنے کے بعد انسانیت ایک مرتبہ پھر شرمسار ہے، سینکڑوں بچوں کیساتھ زیادتی اور زیادتی کی ویڈیوز دنیا بھر میں پھیلانے کے انسانیت سوز اور مکروہ دھندے نے اُن مقاصد کے پرخچے اڑاکر رکھ دیے ہیں، جن کیلئے پاکستان حاصل کیا گیا تھا، اِس واقعہ نے ثنا خوانِ تقدیس ِمشرق کو منہ چھپانے پر مجبور کردیا ہے ۔

یہ واقعہ ہماری اجتماعی بے حسی کا شاخسانہ بھی ہے، اِس واقعہ کے بعد بحیثیت قوم ہم ایک مرتبہ پھر اُسی طرح کا ردعمل دے (ری ایکٹ کر) رہے ہیں، جس طرح وزیرآباد کیس اور پھر گوجرانوالہ کیس میں ری ایکٹ کیا تھا، اِن دونوں واقعات میں ملزمان نے نا صرف اقرار جرم کرلیا بلکہ ان کےخلاف مقدمات چلے اور انہیں کئی کئی مرتبہ عمر قید اور پھانسی کی سزائیں بھی سنائی گئیں، لیکن اِن دونوں شرمناک واقعات میں اقراری مجرموں کی سزا پر عملدرآمد نہ ہوسکا۔ کم لوگوں کو یاد ہوگا کہ گوجرانوالہ کیس کے ملزم کو اقرار جرم کے بعد کئی مرتبہ پھانسی کی سزا بھی سنادی گئی لیکن اس پر کبھی عملدرآمد کا موقع نہ آسکا، کئی سال تک جیل میں گلنے سڑنے کے بعد اُس شقی القلب مجرم نے خودکشی کرکے اس کیس کا باب ہمیشہ کیلئے بند کر دیا تھا اور دوسری جانب وزیر آباد کیس جتنا شرمناک تھا، اس کیس کی عدالتی کارروائی اُس سے بھی کہیں زیادہ شرمناک تھی، کیا یہ شرمناک نہ تھا کہ وزیر آباد میں مردہ لڑکی سے بداخلاقی کرنیوالے واقعہ کا اقراری مجرم ملک میں حدود آرڈیننس نافذ ہونے کے باوجود کچھ ہی عرصہ بعد اِس لیے رہا ہوگیا کہ قانون میں بہت سے سقم موجود تھے، مجرم کے وکلاء نے عدالت میں ثابت کردیا کہ ”حد“ تو صرف زندہ انسان کے ساتھ زیادتی پر ہی نافذ ہوتی ہے، کسی مردے کےساتھ زیادتی بے حرمتی تو کہلاسکتی ہے لیکن اِس پر حد نافذ نہیں ہوسکتی۔

محض اِس چھوٹے سے سقم کی وجہ سے ایک مکروہ جرم کا اقراری مجرم واجبی سی سزا بھگتنے کے بعد رہا ہوگیا۔
ہمارا المیہ تو یہ ہے کہ ایک تو حادثہ ہوتا ہے ، لیکن اس پر سانحہ یہ ہوجاتا ہے کہ کسی شرمناک واقعہ کے بعدہم نے بحیثیت قوم رُک کر کبھی یہ سوچنے کی کوشش نہیں کی کہ آئندہ اِس واقعہ کو ہونے نہیں دینا، اِس طرح کے واقعات کے بعد میڈیا سے لے کر حکومتی ایوانوں تک شور تو بہت مچایا جاتا ہے، لیکن چند دنوں بعد یہ شور کسی نئے واقعے کے شور میں دب کر رہ جاتا ہے اور بحیثیت قوم ہم کانوں میں روئی ٹھونس کر آگے کی جانب نکل کھڑے ہوتے ہیں، زیادتی کے واقعات کو چھوڑیں، باقی حادثات اور سانحات کو ہی لے لیں، مثال کے طور پر کراچی میں بھتہ نہ ملنے پر گارمنٹس فیکٹری میں سینکڑوں محنت کشوں کو زندہ جلانے کا واقعہ بھی کیا کم دلخراش تھا؟ لیکن کیا بنا اُس سانحہ کے بعد؟

اس واقعے کے بعد کتنی قانون سازی ہوئی اور کتنے ذمہ داران کو سزا مل سکی؟ مثال کے طور پر اِسی طرح کا شور چھ برس پہلے کلر کہار موٹر وے پر فیصل آباد کے طلبہ کی گاڑی کے حادثے میں پچاس لاشیں اٹھنے پر بھی مچا تھا، لیکن کیا اُس واقعہ کے بعد سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کے محفوظ ہونے کی ضمانت دی جاسکتی ہے؟ مثال کے طور پر گجرات میں ویگن میں سلنڈر پھٹنے سے درجنوں معصوم طلبہ کے جاں بحق ہونے کا جو سانحہ پیش آیا تھا، کیا اُسکے بعد اسکول ویگنوں سے گیس سلنڈر اُتر گئے؟

قارئین کرام! جن معاشروں میں قانون کی عملداری نہ ہو یا قانون میں مجرموں کے چھوٹنے کا راستہ چھوڑ دیا جائے، وہاں کسی بڑے سانحے کے آخری سانحہ ہونے کی ضمانت نہیں دی جاسکتی! اب قصور کے سانحہ نے تو یقینا ہر پاکستانی کو دہلا کر ہی رکھ دیا ہے، لیکن جو قانون وزیرآباد کیس اور گوجرانوالہ کیس جیسے شرمناک سانحات پر اقراری مجرموں کو سزا نہ دے سکے تو وہاں یہ خدشہ موجود رہتا ہے کہ سانحہ قصور میں بھی قانونی سقم اور قانونی موشگافیوں کی آڑ میں مجرم چند ماہ یا چند سال جیل میں رہنے کے بعد چھوٹ جائیں گے۔

اس واقعہ میں متاثرہ افراد نے آئی جی پولیس کی قصور آمد کے موقع پر جوتے اچھال کر یہ تو بتا ہی دیا کہ وہ ایسے ہر قانون اور اسکے رکھوالوں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں، جو مظلوم کو انصاف دینے کی بجائے مجرم کو بھاگنے کا راستہ فراہم کرے، آئی جی پولیس پر جوتا اچھالنا یقینا کوئی بہت بڑی بات نہیں، لیکن قانون بنانے والوں کو اُس وقت سے ضرور ڈرنا چاہیے جب لوگوں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ اب یہ جوتے نہیں بلکہ تخت اچھالنے کا وقت ہے!

---------------------
بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.