.

”سچ آکھیاں بھانبڑ مچدا اے“

نصرت جاوید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان نام کا ایک ملک ہے۔ پاکستان کا ہمسایہ بھی ہے جو خیبر اور چمن کے اس پار بستا ہے۔ دنیا کے کسی بھی اور ملک کی مانند افغانستان کی مخصوص زمینی، تاریخی اور ثقافتی حقیقتیںہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ افغانستان کے اتنے قریب ہوتے ہوئے بھی ہماری اکثریت ان حقیقتوں سے قطعی ناواقف ہے۔

”محقق“ قسم کے لوگ ہمارے ہاں پائے نہیں جاتے۔ ”ماہرین“ البتہ ہر شعبے کے بے پناہ تعداد میںموجود ہیں۔ ”افغان امور کے ماہر“ بھی ایک ڈھونڈو ہزار مل جاتے ہیں۔ جنرل ضیاءالحق جب افغانستان کو سوویت یونین سے آزاد کروانے کی جدوجہد میں مصروف تھے تو اسلام آباد میں موجود امریکی سفارت خانے کے شعبہ اطلاعات کی فیاضیوں کے باعث ”ماہرینِ امورِ افغانستان“ کی ایک کھیپ تیار ہونا شروع ہوئی۔ انہوں نے بے تحاشہ مضامین اور چند سطحی نوعیت کی کتابیں لکھ کر ہمارے لئے ایک ایسا ”افغانستان“ ایجاد کر دیا جو کابل، قندھار یا ہرات پہنچ کر وہاں کچھ دن گزاریں تو ہرگز نظر نہیں آتا۔

بالآخر 1990ءکی دہائی کے شروع کے سالوں میں افغانستان ”آزاد“ ہوگیا۔ امریکی سفارت خانے کے شعبہ اطلاعات کی اس ملک میں دلچسپی برقرار نہ رہی۔ ہماری ریاست کے چند طاقتور ادارے مگر افغانستان میں پاکستان کے لئے Strategic Depths تلاش کرنا شروع ہو گئے۔ ”افغان امور“ پر لکھنے والوں کی اکثریت نے ان اداروں سے افغانستان کو سمجھنا شروع کر دیا۔

پھر آگئے ملاعمراور طالبان۔ ان کی تحریک نے چند لکھاریوں کو اپنے تئیں اسلام کی نشاة ثانیہ کے عملی مظاہروں کو دیکھتے ہوئے مسحور کر دیا۔ کم بخت نائن الیون نے مگر یہ سحر توڑ دیا۔ اس کے بعد سے بس وعظ ہیں، نوحے ہیں اور تقریریں۔

ٹھوس خبروں سے بے خبری کا عالم اس تلخ حقیقت کو تسلیم کئے بغیر کیسے سمجھا جائے کہ ملاعمر دو سال پہلے وفات پا چکے ہیں۔ ہمیں اس کا علم مگر مذاکرات کے اس دور سے عین دو روز قبل ہوا جو ہمارے شہر مری کی ایک گالف کلب میں افغانستان کی حکومت اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان امن کی تلاش کے لئے شروع ہونا تھا۔

افغانستان، جس کی قربت کے ہم بہت دعوے دار ہیں، کسی بھی ایسے پاکستانی صحافی کی موجودگی سے محروم ہے جو کابل میں مقیم ہوتے ہوئے اپنے اخبار یا ٹی وی چینل کے لئے خبریں بھیجتا ہے۔ ہمارے صحافیوں کی اکثریت کو وہ ملک اسی وقت دیکھنا نصیب ہوتا ہے جب کوئی بین الاقوامی ادارہ افغان قضیے کو سلجھانے کی راہیں تلاش کرنے کے نام پر وہاں کوئی ورکشاپس وغیرہ کا اہتمام کرتا۔
سیاست اور تاریخ کا محض ایک عام طالب علم ہوتے ہوئے میری افغانستان سے دلچسپی 1970ءکی دہائی کے اس سال سے شروع ہوئی جب سردار داﺅد نے ظاہر شاہ کی بادشاہت کا خاتمہ کر دیا۔ داﺅد کے ”پختونستان“ کے حوالے سے کچھ ارادے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو ان ارادوں کی بہت فکر تھی۔ پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کے درمیان ایک غیر اعلانیہ جنگ شروع ہوگئی۔ اس جنگ کے خاتمے کے کچھ امکانات روشن ہوئے تو ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹ دیا گیا۔ پھر داﺅد بھی نہ رہا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ انگریزی محاورے والی ”تاریخ“ ہے۔

کسی زمانے میں خارجہ امور پر رپورٹنگ کی ذمہ داریوں کی بدولت مجھے کئی بار افغانستان جانے کا موقعہ ملا۔ اس ملک میں اپنی دلچسپی کی وجہ سے قطعی ذاتی خرچے پر بھی اس ملک میں چند دن گزارے ہیں۔ اپنے ذاتی تجربات اور افغانستان پر لکھے مضامین اور کتابوں کے بغور مطالعہ کے بعد میں نے اس ملک کے بار ے میں کچھ ذاتی تھیوریاں بھی گھڑ رکھی ہیں۔ انہیں بیان کرنے سے مگر میں گھبراتا ہوں۔

بلھے شاہ نے کئی سو سال پہلے متنبہ کردیا تھا کہ ”سچ آکھیاں بھانبڑ مچ دا اے“۔ مجھے سچ بول کر شعلے بھڑکانے کا کوئی شوق نہیں۔ کونے میں بیٹھ کر دہی کھانا بہت محفوظ دِکھتا ہے۔ خاموش رہنا اس وقت مزید ضروری ہو جاتا ہے جب آپ کی خالصتاً ذاتی تجربات اور مطالعے ومشاہدے پر مبنی سوچ، جو قطعی ناقص بھی ہوسکتی ہے، لوگوں کے سامنے ظاہر کی جائے تو آپ کی نیت پر شبہ ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ مجھے آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ ان کا حقیقی خالق کون ہے۔ ”قومی مفادات“ مگر ہوتے ہیں اور حب الوطنی کا تقاضہ ہے کہ ان پر آنکھیں اور کان بند کرکے آمناً وصدقناً کہا جائے اور فدویانہ جی حضوری تو ویسے بھی میری سرشت میں شامل ہے۔

جان کی امان پاتے ہوئے مگر آج یہ کہنے پر مجبور ہوں میں نے ڈاکٹر اشرف غنی کو پاکستان کے حوالے سے کبھی بھی حامد کرزئی سے مختلف نہیں سمجھا۔ ان دونوں میں صرف انگریزی والی Approach کا فرق ہے۔ اشرف غنی بیروت کی امریکی یونیورسٹی کے طالب علم تھے تو کئی برس تحقیق پاکستان میں رہ کر یہاں کے دینی مدارس کے بارے میں کی۔ امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی سے Ph.D کی ڈگری لینے کے لئے جو مقالہ موصوف نے لکھا عنوان اس کا تھا Fixing a Failed State جس کا سادہ الفاظ میں ترجمہ ہے ”ناکام ریاست کو درست کرنا“۔

اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد موصوف ہوگئے ورلڈ بینک کے ملازم اور اس ملازمت میں کئی برس گزارنے کے بعد لوٹ آئے افغانستان۔ اب وہاں کے ”منتخب“ صدر ہوتے ہیں۔ ان کی ”منتخب“ حیثیت کو تسلیم کروانے کے لئے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کو کابل میں غنی کے سیاسی مخالفین سے طویل مذاکرات کرنا پڑے۔ کھل کر بات کرنے کی اجازت ہو تو کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ ڈاکٹر اشرف غنی کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے بڑی سوچ بچار اور محنت کے بعد افغانستان کے صدارتی محل تک پہنچایا ہے۔

موصوف میں ان کے سرپرستوں کی دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ نفسیاتی ماہرین کی ایک اعلیٰ سطحی ٹیم بھی چُنی گئی۔ اس ٹیم نے کئی دن لگاکر ڈاکٹر اشرف غنی کو اپنے غصے پر قابو پانے کے گُر سکھائے۔ نفسیات کی زبان میں اسے Anger Management Courses کہتے ہیں۔

شروع دن سے میرا ذہن مجھے بتائے چلا جا رہا تھا کہ اشرف غنی کسی دن پھٹ کر پاکستانیوں کو ”حامد کرزئی کی طرح“ کا نظر آنا شروع ہوجائیں گے۔ پیر کی شب کابل کے صدارتی محل میں مقامی اور غیر ملکی صحافیوں کے ہجوم کے سامنے یہی کچھ ہوا۔ ان کی پریس کانفرنس نے مگر مجھے حیران نہ کیا۔ میرا ماتھا تو اسی وقت ٹھنک گیا تھا جب اسلام آباد میں مقیم افغان سفیر اکوڑہ خٹک گئے اور مولانا سمیع الحق کے روبرو بظاہر عاجزی کے ساتھ پیش ہوگئے۔

میرے کچھ بھائی اور مولانا سمیع الحق کے چاہنے والے افغان سفیر کی اکوڑہ خٹک میں حاضری پر بہت شاداں ہوئے۔ میرے وسوسوں سے بھرے دل نے مگر افغان سفیر کی اس پیشی میں مضمر پیغام کو سمجھ لیا۔ افغان سفیر کا اکوڑہ خٹک جاکر مولانا سمیع الحق کے روبرو پیش ہونا درحقیقت پاکستان کی ریاست کو یہ پیغام دینا تھا کہ کابل اس سے مایوس ہو چکا ہے اور افغانستان میں امن کی خاطر اب ان لوگوں کے دروازے کھٹکھٹانے پر مجبور ہے جنہیں آج کی دنیا میں Non State Actors کہا جاتا ہے۔ بات ریاست کے ہاتھ سے نکل کر غیر ریاستی عناصر تک جا پہنچے تو خیر کی امید نہیں رکھنا چاہئے۔
---------------------
بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.