.

کوئٹہ آرچڈ ہاؤس کی ایک شام!

بشریٰ اعجاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پچھلے چند برسوں میں جو کچھ اس ملک پر گزری، اور اس ملک کے رہنے والوں پر! اس کے بعد حقائق کی جو تصویر ہمیں دکھائی جا رہی تھی اس کے مطابق اب ہمیں یہ باور کرا دیا گیا تھا کہ نہ تو کراچی کے حالات بدل سکتے ہیں کبھی، نہ کوئٹہ کے اور نہ ہی وزیرستان کے۔ چنانچہ کراچی، کوئٹہ اور وزیرستان کا مقدر مان لینے میں ہی عام پاکستانیوں اور پاکستان کی بھلائی ہے۔ جس کے بعد عقلمندی یہی ہے کہ باقی شہروں کو بچاؤ ، جن کے پیچھے دہشت گردی ہاتھ دھو کر پڑی ہوئی ہے۔ لہٰذا ہوا یہ کہ آہستہ آہستہ ہم نے بھتہ خوری کو کراچی کی تقدیر سمجھ لیا۔ ٹارگٹ کلنگ، ایم کیو ایم اور دیگر خوفناک عوامل کو کراچی کے وجود کا ایسا حصہ مان لیا، چاہے جتنا بھی گلاسڑا ہو، جسے کاٹا نہیں جا سکتا۔

کاٹ کر پھینکا نہیں جا سکتا۔ یہی رویہ کوئٹہ کے ساتھ بھی روا رکھا گیا۔ چنانچہ علیحدگی پسندی کی تحریکوں، بلوچستان لبریشن آرمی، ناراض بلوچ اور انہیں علیحدگی پسندی پر اکسانے اور بلوچستان کے امن کو تباہ کرنے والے عوامل کو بھی اس کا حصہ مان کر جوں کا توں چھوڑ دیا گیا۔جس کے بعد گزشتہ برسوں میں صورت حال کچھ ایسی ہو گئی کہ پاکستانیت کے بجائے صوبائیت کا نعرہ ہر طرف بلند ہونے لگا۔ ملکی امن کے بجائے صوبائی امن کارکردگی کی مثال بن گیا۔ جس میں حاکم صوبہ پنجاب کا نام اک مثالی وزیراعلیٰ کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔ جن کے بارے میں ان کے حمایتیوں کا کہنا تھا کہ دیگر صوبوں کی نسبت یہاں خودکش دھماکے کم ہوئے اور امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے کی وجہ شہباز شریف کی اعلیٰ کارکردگی ہے جبکہ ان کے مخالفین اس ضمن میں طالبان کو بھاری تاوان پیش کرنے اور ان کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھانے کی یقین دہانی جیسی باتیں وزیراعلیٰ سے منسوب کر کے اس ’’جعلی ‘‘ امن کا پردہ چاک کرتے تھے۔ کہنے کی بات یہ ہے کہ حکمرانوں کا رویہ مسلسل زخم پر مرہم پٹی جیسا اور شرپسندوں کے سامنے معذرتی رہا۔ اور عوام نے حکمرانوں کے پیش کئے جانے والے حقائق اور ان حقائق کے سامنے ان کی بے بسی کا اظہار دیکھ دیکھ کر پاکستان اور اس کی بگڑتی ہوئی تقدیر کے سامنے ہار مان لی۔

مگر ضربِ عضب جسے حکمرانوں اور سیاست دانوں کی حمایت حاصل نہ ہونے کے باوجود فوج نے شروع کر دیا اور اس کے نتائج نہایت عمدہ دکھائی دینے لگے تو آہستہ آہستہ زبانی کلامی اس میں سیاستدان بھی شامل ہو گئے (کہ دوسروں کی پکائی دیگیں کھانے کی انہیں پرانی عادت ہے) جس کے بعد کراچی آپریشن اور بتدریج کوئٹہ کے حالات اور بلوچستان کے امن کی جانب پیش رفت اس قوم کے مردہ جسد میں تازہ لہو کی مانند ہیں۔ یہ تازہ لہو امید کا ہے، اس مرتی امید کا جسے مزید مارنے اور مار کر کبھی نہ زندہ کرنے جیسے حالات جان بوجھ کر یہاں پیدا کئے گئے تاکہ اس کا وہ نقشہ سامنے آ جائے جسے نہرو، اندرا اور دیگر بھارتی انتہاپسند سوچ، شروع دن سے بنا کر بیٹھی ہوئی ہے۔

قارئین! اس تمہید کے بعد میں آتی ہوں آج کے دن کی جانب، جس میں ہماری امید بھی الحمدللہ قائم ہو چکی ہے اور پاکستان بھی پاکستان دکھائی دینے لگا ہے۔ کراچی میں یہ سطور لکھنے کے دوران، ایم کیو ایم کے ممبران اسمبلی استعفے جمع کرانے پہنچے ہوئے ہیں، (کسی بلیک میلنگ کے لئے نہیں اپنی کمزوریاں چھپانے کے لئے) اور اس دوران دور دور تک ایسا کوئی دکھائی نہیں دیتا جو ان کی منتیں کرے، ان کی غیرانسانی شرائط مانے، ان کی دھمکیوں سے خوف زدہ ہو۔ اور قارئین دوسری جانب بلوچستان ہے، جس کے دل کوئٹہ میں اس وقت مَیں موجود ہوں۔ یہ کوئٹہ جو میں نے کل یہاں آنے کے بعد دیکھا، اس کوئٹہ سے بالکل مختلف ہے جس میں لہو جما دینے والے مناظر، تڑپتے دلوں کے ساتھ ہمیں دیکھنے کی عادت ہو چکی تھی۔ یہ کوئٹہ اب زندہ دکھائی دے رہا ہے۔ اس زندگی کے پیچھے ہم جانتے ہیں کسی سیاسی رہنما کی کاوش نہیں۔ یہ زندگی ہماری فوج کی دردمندی کا نتیجہ ہے۔ اس کی ذمہ دار قیادت اور ہوش مندی کا نتیجہ ہے۔ جس نے پاکستان کے نقشے پر ایک دفعہ پھر پورا پاکستان ابھارنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔

کوئٹہ میں، چودہ اگست کے جشن کے سلسلے میں کل پاکستان کے میڈیا پرسن، اینکرز اور اہل علم و ادب جب پاک آرمی کے دعوت نامے پر پہنچے تو اک مختلف کوئٹہ، اک مختلف بلوچستان دیکھ کر، سبھی کے ہونٹوں پر شکر کا ترانہ تھا۔ اور میں دیکھتی تھی، رات یہ شہر تین بجے تک زندہ تھا، اس شہر میں اس جشنِ آزادی پر تین سو گز کا سبز پرچم طالب علموں نے بنایا، اور دو روز پہلے اس پرچم کو کوئٹہ کی گلیوں اور سڑکوں پر جب یہ طالب علم لے کر اترے تو ہر جانب پاکستان زندہ باد کے نعرے گونج رہے تھے۔ یہ بات کور کمانڈر کوئٹہ ناصر خان جنجوعہ، رات آرچڈ ہاؤس (کور کمانڈر ہاؤس) میں جب مہمانوں کو بتا رہے تھے تو میری آنکھوں میں نمی اتر رہی تھی اور مجھے یاد آ رہا تھا، چند برس پہلے وزیراعلیٰ پنجاب کی دعوت پر جب ہم شاہراہِ قائداعظمؒ پر واقع ان کے مرکزی سیکرٹریٹ میں موجود تھے، تو اس وقت کوئٹہ کی بیٹی اور نامور ادیبہ، شاعرہ اور کالم نگار محترمہ افضل توصیف (خدا انہیں جنت نصیب کرے) نے تمام صحافیوں کے سامنے یہ بتا کر وزیراعلیٰ کو گنگ کر دیا کہ پچھلے چودہ اگست پر پاکستان کا پرچم کوئٹہ میں جگہ جگہ جلایا گیا ہے۔

چنانچہ اس کے بعد ہر چودہ اگست کو یہ پرچم جلایا جانے لگا اور اس کی جگہ سیاہ پرچم لہرایا جانے لگا۔ یہ واقعہ جسے کوئٹہ کے قلب میں، آرچڈ ہاؤس کے سبزہ زار پر بیٹھے ہوئے یاد آیا تو میں نے 1913ء کو قائم ہونے والی اس شاندار عمارت کی طرف ایک دفعہ پھر دیکھا، جہاں بیٹھ کر میں یہ خبر سن رہی تھی اور اپنے رب کی شکرگزاری کر رہی تھی۔ کور کمانڈر ناصر خان جنجوعہ کے لہجے میں اخلاص تھا، عزم تھا، امید تھی اور سراسر درمندی تھی۔ وہ کہہ رہے تھے جب تک ہم نفرت کی جگہ محبت اور گولی کی جگہ مذاکرات کا رویہ نہیں اپنائیں گے یہاں امن قائم نہیں ہو گا۔

ناراض بلوچوں کو منانے، انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے، صوبائیت کے بجائے پاکستانیت کا نعرہ بلند کرنے اور ترقی و تعمیر سمیت بلوچستان کی محرومیوں کو دور کرنے جیسے اقدامات اختیار کرنے کے بعد آج ہماری فوج کا یہ جرنیل جس کوئٹہ، جس بلوچستان کا تعارف ہمیں پیش کر رہا تھا، وہ یقیناًاس کوئٹہ، اس بلوچستان سے مختلف ہے، جسے دیکھ کر اپنی بے بسی پر ہاتھ ملنے کے سوا ہم نے ماضی میں کچھ نہیں کیا۔

یہ جشن آزادی، جس کے لئے اہل قلم اور میڈیا پرسنز کی میزبانی ہماری پاک فوج کر رہی ہے، اس کی مختلف تقریبات میں، بگٹی سٹیڈیم میں پرچم کشائی کی تقریب، گرینڈ مشاعرہ، سیمینارز، بک میلہ اور راحت فتح علی کے ساتھ 14 اگست کی ایک شام جیسی تقریبات کا ایک سلسلہ ہے، جس کا منبع و مرکز پاکستان ہے۔ یہ جشن آزادی یقیناًکراچی و بلوچستان کے لئے تو اہم ہے ہی، مگر پورا پاکستان کہ اس کا دل دھڑکتا ہے۔ کراچی و بلوچستان کے ساتھ۔

قارئین میں ابھی کوئٹہ میں ہی ہوں۔ پورا جشن آزادی اپنے بلوچی بھائی بہنوں کے ساتھ منا کر واپس آؤں گی۔ جشن آزادی کا حال اگلے کالم میں۔ پاکستان زندہ باد۔ (جاری ہے)

---------------------
بشکریہ روزنامہ "نئی بات"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.