.

ایک وزارت اور پاکستانی سپاہی کی وفات

عبدالقادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صحافت کے پیشے میں سب ایڈیٹری یعنی خبروں کے ترجمے اور ان کی سرخیاں نکالنے کے چند برس بعد ایڈیٹر کو خیال آیا کہ یہ سابقہ سیاسی کارکن رپورٹنگ کے سلسلے میں شاید زیادہ کامیاب ثابت ہو۔ ویسے بھی اس کا خبروں کا تجربہ اب کافی ہو چکا ہے چنانچہ مجھے رپورٹنگ پر لگادیا گیا یعنی دفتر کی پابندی سے قدرے آزاد کر دیا گیا لیکن رپورٹنگ شروع کرنے سے پہلے نیوز ایڈیٹر اور زبردست قسم کے جہاندیدہ صحافی مرحوم و مغفور ظہور عالم شہید نے جو ہمارے نیوز ایڈیٹر تھے اور جب سے اخبار نکلا تھا وہ اس منصب پر فائز چلے آ رہے تھے اور اس دور کے سیاستدانوں کے دوست اور ہم عصر تھے۔ مجھے بلایا۔ بلایا کیا اپنے قریب بیٹھنے کو کہا۔ ہمارے اخبار کا دفتر ایک بڑے کمرے میں تھا جس کے درمیان ایک میز رکھی تھی جس کے گرد سب ایڈیٹر اور نیوز ایڈیٹر بیٹھتے تھے۔

کمرے کی دیوار کے ساتھ ساتھ خوش نویس حضرات کے بیٹھنے کی جگہ بنائی گئی تھی جہاں وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر اورگھٹنے پر تختی رکھ کر خبروں کی کتابت کرتے تھے اور مسلسل گپ شپ میں مصروف رہتے تھے۔ ان کو خاموش کرنا ممکن نہ تھا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ وہ باتیں نہ کریں تو کام نہیں کر سکتے۔ کوئی لفظ سمجھ میں نہ آتا تو وہیں بیٹھے بیٹھے متعلقہ سب ایڈیٹر سے اس لفظ کو زبانی سمجھ لیتے تھے۔ اسی وجہ سے کتابت کی غلطیاں بہت کم ہوتی تھیں۔ پروف ریڈنگ ایک عالمی مسئلہ تھا۔ آپ کی دلچسپی کے لیے یاد آیا کہ اخبار کی پروف ریڈنگ کی غلطیوں کے بارے میں لندن ٹائمز نے اعلان کر رکھا تھا کہ کوئی ہماری غلطی پکڑ لے تو ہم اسے سال بھر اخبار مفت دیں گے۔

ایک دن م ش صاحب نعرے لگاتے ہوئے آئے اور اعلان کیا کہ انھوں نے لندن ٹائمز کی پروف ریڈنگ کی غلطی پکڑ لی ہے وہ امریکی دفتر اطلاعات میں روزانہ غیر ملکی اخبار پڑھا کرتے تھے۔ پروف ریڈنگ کے ذکر میں ضمنی بات یاد آ گئی۔ بات میں اپنی ڈیوٹی کے بدلنے کی کر رہا تھا۔ شہید صاحب نے نصیحت کی کہ چند شعبوں کی رپورٹنگ کی خصوصی احتیاط کی ضرورت ہے۔ اسمبلی کی رپورٹنگ کیونکہ اراکین جوش میں بات تو کر جاتے ہیں مگر پھر مکر جاتے ہیں۔ عدالت کی رپورٹنگ کے لیے فیصلہ خود پڑھ کر خبر بناؤ۔ اسمبلی کی طرح جلسہ عام کی خبر بھی احتیاط سے اور سب سے زیادہ احتیاط سے فوج کی کوئی خبر۔ فوج کی خبر تلاش مت کرو۔ فوج خود ہی جو خبر بھیجے اسے نقل کر دو اور بس۔ یہ چند احتیاطیں ضروری ہیں۔

یہ بات مجھے اپنے ایک وزیر جناب مشاہد اللہ کے استعفیٰ سے یاد آئی۔ انھوں نے کسی غیر محتاط رپورٹر کی طرح فوج کے بارے میں خبر چلا دی، فوج اور وہ بھی الامان الحفیظ آئی ایس آئی کے ساتھ ان کی بے تکلفی رنگ لائی اور وہ ابتدائی خبروں کے مطابق وزارت سے مستعفی ہو گئے۔ یہ مسئلہ ان کی جماعت کے لیڈر جناب وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کے درمیان اور خالص اندرونی مسئلہ ہے اس لیے وہ جانیں اور ان کی جماعت۔ ہمیں تو اپنی اخباری ملازمت کے ایک دور کی پرانی بات یاد آ گئی جو ان پر آج فٹ آتی ہے۔ فرض کیجیے وزیراعظم اگر ان کا استعفیٰ نا منظور کر دیتے ہیں تو پھر بھی ان کی وزارت باقی رہی تو ایک بے مزہ عمل بن کر رہے گی اور جس وزارت میں مزہ نہ ہو وہ وزارت کس کام کی۔

انھوں نے جزیرہ مالدیپ کے سرکاری دورے میں اپنا استعفیٰ بھیجا ہے۔ حکم یہی تھا۔ مالدیپ یعنی چراغوں کی مالا اس سو فی صد مسلمان آبادی کے جزیرے کا نام ہے۔ لاتعداد جزیرے مل کر یہ ملک بناتے ہیں اور یہ جزیرے اس قدر پر فضا ہیں کہ کئی یورپی ملکوں نے بعض جزیرے مستقل پٹے پر لے رکھے ہیں اور یہ ان ہی ملکوں کے نام سے پہچانے بھی جاتے ہیں۔ مثلاً جرمن جزیرہ، فرانسیسی جزیرہ وغیرہ۔ ہمارے مہربان وزیر کو شاہانہ سرکاری خرچ پر یہاں ٹھہرنے کا موقع ملا تھا لیکن ان کی بے احتیاط سیاست نے ان سے وزارت چھین لی اور مالدیپ کا دورہ بھی۔

میں ایک وزیر کی وزارت کا ماتم کر رہا تھا کہ یہ اندوہناک خبر ملی کہ جنرل حمید گل انتقال کر گئے۔ مرحوم میرے خصوصی مہربان دوست تھے، ایک بار میں نے ان پر ایک کالم لکھا اور انھیں اس قدر پسند آیا کہ انھوں نے گھر والوں سے کہا کہ میری موت پر اس سے بہتر تعزیت نامہ نہیں ہو گا۔

جنرل حمید گل ایک سر تا پا پاکستانی سپاہی اور فوجی جرنیل تھے۔ ان کی وفات کا سن کر ایک خاتون نے کہا کہ پاکستان کا سپاہی فوت ہو گیا۔ ان کی فوجی جرنیلی زندگی تو میں زیادہ نہیں جانتا لیکن ان کی سیاسی زندگی اور سرگرم پاکستانی زندگی ہم سب کے سامنے ہے۔ وہ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ایک سپاہی کی زندگی بسر کرتے رہے۔ قومی سیاست میں علمی اور فکری حصہ لیتے رہے اور پاکستانی سیاست کا ایک مرکز بنے رہے۔قوم نے ان کی بہت عزت کی اور ان کی رائے کا احترام کیا۔ اب ان کے لیے سوائے دعائے مغفرت کے ہم کیا کر سکتے ہیں۔

--------------------
بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.