.

امریکہ۔پاکستانی ڈاکٹرزکی تنظیم کے مثبت ومنفی پہلو .

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی امریکہ میں پاکستانی ڈاکٹرز کی ’’اپنا‘‘ کا 38 واں سالانہ کنونشن اس سال پھر ریاست فلوریڈ azeا کے ڈزنی ورلڈ کے حوالے سے مشہور شہر اور لانڈو کے ایک وسیع و عریض ’’ریزورٹ‘‘ میں منعقد ہوا۔ ’’اپنا‘‘ (APPNA) امریکہ و کینیڈا میں پاکستانی پروفیشنلز کی سب سے موثر ممتاز اور مالدار تنظیم ہے اور اپنے کئی پروجیکٹس کے ذریعے پاکستان کے عوام کی خدمت بھی کررہی ہے۔ ڈاکٹر ناہید عثمانی، عارف مسلم اور اُن کے ساتھی پاکستان میں پیچیدہ اور پریشان کن بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لئے اُن کے ڈاکٹروں کی تشخیص اور میڈیکل رپورٹس حاصل کر کے ’’ٹیلی میڈیسن‘‘ کے امریکہ کے پاکستانی ماہر ڈاکٹرز کی تجویز، تشخیص اور رہنمائی پاکستان میں فراہم کرنے کی فلاحی خدمت کے پروجیکٹ پر ’’اپنا‘‘ کے تحت کام کررہی ہیں تو خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر مختار حسن اپنے مرحوم بیٹے کی یاد میں قائم کردہ ’’حسن فائونڈیشن‘‘ کے تحت پاک ۔افغان سرحد کے قریبی قبائلی علاقوں میں اسکولوں کی تباہ شدہ عمارات کی تعمیر اور دیگر فلاحی پروجیکٹس مکمل کر چکے ہیں اور سندھ کے مفلوک الحال علاقے تھر میں پانی کی شدید قلت سے بے حال غریب انسانوں کے لئے اب تک 300 پانی کے پمپ لگوا چکے ہیں۔

امریکہ میں کوئی دوسری پاکستانی تنظیم اور اس کے ممبران اجتماعی یا انفرادی طور پر آبائی وطن پاکستان میں فلاحی خدمات کے اتنے پروجیکٹس پر کام نہیں کررہے ہیں جتنا کہ ’’اپنا‘‘ اس کے ممبر ڈاکٹرز کررہے ہیں لیکن اس تمام قابل ستائش ریکارڈ کے ساتھ ساتھ ’’اپنا‘‘ نے جہاں وسعت اور ترقی حاصل کی ہے وہاں تیزی سے یہ بہت سے مسائل کا شکار بھی ہورہی ہے جس کی وجہ سے ’’اپنا‘‘ کے بانیوں اور ’’اپنا‘‘ کی تعمیر و ترقی کے لئے نیک جذبات رکھنے والے بعض ’’بابے‘‘ بھی فکرمند ہیں۔ چونکہ ’’اپنا‘ کے بعض قائدین اور ممبرز ’’اپنا‘‘ کے بارے میں صرف اپنے ممبران کے علاوہ کسی اور کی تجویز یا تنقید کو ’’غیروں‘‘ کی فضول بات، جلن، کم علمی اور ’’اپنا‘‘ دشمنی سمجھتے ہیں۔

لہٰذا میں ’’اپنا‘‘ کے بارے میں تقریبا 30 سال کے مشاہدات و معلومات اور تقریباً 20 سالانہ کنونشنوں میں شرکت کی بنیاد پر اپنی رائے اور حقائق بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس سال آئندہ ستمبر میں ہوانے والے ’’اپنا‘‘ کے انتخابی امیدواروں کی 15 اگست کو ہونے والی ’’ڈیبیٹ‘‘ میں کی گئی تقریروں کا حوالہ بھی دونگا تاکہ ’’اپنوں‘‘ کی تقریروں کے تناظر میں ’’غیروں‘‘ کی ’’فضول‘‘ مگر تعمیری تنقید کو سمجھنے میں آسانی رہے۔ آئیے ان نکات و مسائل کی طرف جو ’’اپنا‘‘ کے وجود اور امیج کیلئے بہت سے خطرات پیدا کر رہے ہیں اور نظر ثانی اصلاح اور نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

(1 ) اس سال کے کنونشن میں شرکت کرنے والے ممبران کی تعداد گزشتہ دو سال کے مقابلے میں خاصی کم رہی حتیٰ کہ کچھ سال قبل اورلانڈو کے اسی کنونشن سینٹر میں ہونے والے ’’اپنا‘‘ کنونشنوں کے مقابلے میں بھی کم رہی۔ امریکہ میں تقریباً 18 ہزار پاکستانی ڈاکٹرز بتائے جاتے ہیں۔ کینیڈا کی تعداد علیحدہ ہے، لیکن کینیڈا اور امریکہ کی ’’اپنا‘‘ کے اب تک کل ممبران کی تعداد ساڑھے تین ہزار سے بھی کم ہے۔ یعنی تقریباً 80 فی صد پاکستانی ڈاکٹرز اس تنظیم کے ممبر ہی نہیں بنے۔اس کی وجہ اور اتنی بڑی اکثریت تک ’’اپنا‘‘ کی عدم رسائی کی وجوہات پر غور کی ضرورت ہے۔

اس سال ’’اپنا‘‘ کے ممبران میں اضافے کے بجائے مزید 300 ممبران کی کمی ہوئی ہے ،ثبوت کیلئے ’’اپنا‘‘ کی فنانشل رپورٹ اور اس سال کے لئے انتخابی امیدواروں کی تقاریر ملاحظہ کر لیں۔ تقریباً 14 ہزار ڈاکٹروں کو بھی ’’اپنا‘‘ کے فولڈ میں لانے کیلئے نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ بعض ایسے ممبران کی نشاندہی بھی ہوتی ہے جو ’’اپنا‘‘ کی ممبر شپ کے لئے طے شدہ قواعد کے تحت اس تنظیم کے ممبر بننے کی مطلوبہ کولیفکیشن پوری نہیں کرتے اور ووٹ ڈالتے ہیں۔ کیا ’’اپنا‘‘ کو شفاف جمہوری سسٹم پسند نہیں۔ ملاحظہ کریں ڈاکٹر رضوان خالد ’’اپنا‘‘ کے انتخابی امیدوار کی تقریر ’’جیسے اپنا آج چل رہی ہے اور ایسے ہی چلانا ہے تو مجھے ووٹ نہ دیں۔‘‘ ڈاکٹر شاہد رشید برائے صدر نے کہا کہ ’’اپنا‘‘ سکڑ رہی ہے۔ الیکشن میں تعصب اقربا پروری اور گروہی سیاست نے ہمیں تقسیم کر رکھا ہے۔امریکہ میں پاکستانی ڈاکٹرز کی کئی گنا اکثریت اس کی ممبر نہیں۔ ہم مذہب، علاقہ اور دیگر تعصبات میں تقسیم ہو رہے ہیں۔ یہ کیسے تمام پاکستانی ڈاکٹرز کی نمائندہ تنظیم ہے؟

(2) ’’اپنا‘‘ نے اپنے قواعد و ضوابط میں تبدیلی کر کے یہ شرط عائد کی ہے کہ دو سال تک ممبر شپ رکھنے والے ممبر ووٹ ڈال سکیں گے۔ اس تبدیلی کی وجہ اچانک ممبر بن کر ووٹ کی گروہی سیاست یا غیر کوالیفائڈ ممبرز کو روکنا سہی مگر یہ تبدیلی بھی ممبر شپ کی تعداد پر اثر ڈال سکتی ہے۔ اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ تنظیم کو جمہوری رویے اور جمہوریت کی ضرورت ہے تاکہ ترقی کر سکے۔ ہیلتھ کے شعبے میں فراڈ اور بے قاعدگیوں کے باعث گرفتاریوں سے بگڑتے ہوئے امیج کا نوٹس لے کر اب ایک فورم میں ماہر وکیل خالد کاہوں، ایف بی آئی ایجنٹ اور دیگر امریکی افسروں پر مشتمل پینل کی بریفنگ ہمارے دوست ڈاکٹر بابر چیمہ نے منعقد کروائی مگر رویے محتاط، ماحول میں گھٹن اور پینل کو چبھتے ہوئے حقیقی اور عملی سوالوں سے بچانے کی روش اختیار کی گئی۔

(3) اس سال کنونشن کی مختلف تقریبات میں صرف دو کانگریس مین ایک اسٹیٹ سرجن جنرل اور سبکدوش ہونے والے پاکستان میں امریکی سفیر رچرڈ اولسن شریک ہوئے۔ کنونشن میں شریک ممبران کی تعداد رجسٹریشن تقریباً 2200 کے لگ بھگ رہی۔ اندازہ یوں کہ ان تمام تفصیلات کو بھی ’’اپنا‘‘ میڈیا سے خفیہ رکھنا لازمی سمجھتی ہے۔ گزشتہ سال کے کنونشن میں تو شرکت کا ریکارڈ اس سے کہیں زیادہ ثابت کرتا ہے جبکہ 400 افراد کو رجسٹریشن کے باوجود انتظار پر رکھا گیا۔

گزشتہ سال ’’اپنا‘‘ کا کنونشن اپنا کے موجودہ صدر رانا مبشر کے حامی اور دوست ڈاکٹر آصف رحمن کی صدارت میں واشنگٹن میں ہوا تھا جو ممبران کی شرکت، سوشل فورم کے مہمانوں، موضوعات ، معیار اور تنظیم کے لحاظ سے واقعی منفرد کنونشن تھا۔ میری معلومات کے مطابق کنونشن میں ڈھائی لاکھ ڈالرز کا منافع بھی ’’اپنا‘‘ کا ایک نیا ریکارڈ ہے۔ ممبر شپ بھی 3500 کے قریب تھی امریکی وہائٹ ہائوس اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ اور دیگر امریکی نمائندے، سی آئی اے کے سابق سربراہ اور جنرل (ر) مائیکل ہیڈن سمیت معروف امریکی اور تھنک ٹینکوں کے اسکالرز شامل اور شریک تھے۔

پاکستانی شخصیات کی صورت بھی ایسی ہی تھی۔ آزادی پاکستان کی سالگرہ کی تقریب اور کنونشن میں متعدد سینیٹرز اور کانگریس مین شریک ہوئے۔ اس سے قبل ڈاکٹر جاوید سلیمان کی صدارت میں ہونے والے کنونشن کے اچھے معیار، منظم کام اور شریک ممبران کی تعداد سمیت یہ قابل تحسین کنونشن تھا۔ آصف رحمن اور جاوید سلیمان مکتبہ فکر اور حلقہ احباب کے لحاظ سے دو مختلف مزاج اور خیالات والے صدر ’’اپنا‘‘ رہے اور مبشر رانا کے لئے دونوں ہی قابل قبول دوست ہیں۔ لیکن مبشر رانا کی صدارت میں ہونے والے کنونشن اور اس کے ریکارڈ، کارکردگی اور معیار کا مقابلہ ان دونوں کنونشنوں سے کریں تو 2015ء کے سالانہ کنونشن کے حوالے سے بڑی مایوسی ہوتی ہے۔ اس سال کنونشن کے ’’بازار‘‘ میں اسٹال لگانے والوں کی تعداد اور کمائی کے اعداد و شمار ہی آدھی سے زیادہ کہانی بتادیتے ہیں۔ اس سال تو وہائٹ ہائوس نے بھی رمضان کے سالانہ افطار ڈنر میں ’’اپنا‘‘ کے صدر کو مدعو نہیں کیا۔

امریکہ کے سیاسی نظام میں عدم دلچسپی کے باعث ذیلی تنظیم ’’پاک۔ پیک‘‘ کو بالکل ہی مفلوج کیا جاچکا ہے جبکہ ماضی میں اس انتہائی فعال تنظیم کے لنچ میں امریکی سینیٹرز اور کانگریس مین شرکت کے لئے بے چین ہوا کرتے تھے۔ مالی طور پر وسائل میں کمی، ممبر شپ کی تعداد میں کمی اور قیادت کے ایجنڈا اور کارکردگی میں کمی کے ساتھ لسانی، گروہی، علاقائی تعصب، انتخابی ایجنڈے کی کمی پاکستانی عام کمیونٹی سے لاتعلقی، خود کو مخصوص طبقے کا آئیوری ٹاور سمجھنے سے مسائل میں خاصا اضافہ ہوا ہے جس سے ’’اپنا‘‘ کے مستقبل کے بارے میں اس کے بعض افسران شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔پرانے ’’بابے‘‘ اور نئی قیادت مل کر نئی عملی حکمت عملی تیار کریں ۔ امریکہ میں پاکستانیوں کی سب سے موثر تنظیم کو اپنی سمت درست کرنے اور نئی اسٹرٹیجی کے ساتھ ساتھ لسانی و طبقاتی و علاقائی تقسیم و گروہ بندی سے بچنے کی ضرورت ہے ورنہ ہیلتھ خطرے میں ہے۔
---------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.