.

سول ملٹری توازن

بابر ستار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کیا مشاہد اﷲ خان کو اپنے عہدے سے اس لئے ہاتھ دھونا پڑے کہ وہ اسلام آباد دھرنوں میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام کے کردار کے حوالے سے غلط بیانی سے کام لے رہے تھے؟ کیا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ سیاسی معاملات میں مداخلت کرنے والے افسران کا احتساب ہونا چاہیے یا وہ تن ِ تنہا سول ملٹری اختیارات میں عدم توازن کودور کرنے کی کوشش میں تھے؟یا پھر ان کے بیانات غیر دانشمندی کا مظہر تھے کیونکہ ماضی کو کریدنے سے اسٹیبلشمنٹ کی سبکی کا پہلو نکلتا ہے اور عوام میںتاثر جاتا ہے کہ یہ افسران آرمی چیف کے مکمل کنٹرول میں نہیں۔

کیا پاکستان کے اہم ترین افراد کی گفتگو مانیٹر نہیں کی جاتی؟ جب ایک سابق چیف اپوزیشن کی ایک مرکزی جماعت کی حوصلہ افزائی کررہے ہوںکہ وہ اسٹریٹ پاور استعمال کرتے ہوئے حکومت کا تختہ الٹ دیںتو کیا سویلین انٹیلی جنس ایجنسیاں ایسی گفتگو کو وزیر ِاعظم کے ساتھ شیئر نہیں کرتیں ؟ اگر ایسا نہیں تو کیا یہ انٹیلی جنس کی صریحاً ناکامی نہیں؟اور اگر وزیر ِ اعظم کو یقین ہو کہ ان کے آرمی چیف ایک پیشہ ور اور سچے سپاہی ہیں تو کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ اُس وقت یہ بات آرمی چیف کے علم میں لائی جاتی اوردیکھا جاتا کہ وہ آئی ایس آئی چیف کوکس طرح ہینڈل کرتے ہیں؟

پی ٹی آئی کے بریگیڈئیر (ر) سامسن سیمن شیرف وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے کہا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کے دھرنوں کے پیچھے آئی ایس آئی کا ہاتھ تھا تو یہ وزیر ِاعظم نواز شریف سے زیادہ فوجی افسران کی طرف سے اپنے چیف کے خلاف ایک سازش تھی۔ لیکن یہ فرض کرنا کہ فوج کے اعلیٰ افسران بھی محلاتی سازشوں میں ملوث ہوسکتے ہیں، فوج جیسے منظم ادارے کی ساکھ کو سخت نقصان پہنچا سکتاہے۔ فوج اپنے بارے میں رائے عامہ کے حوالے سے بہت حساس ہوتی ہے کیونکہ اس کی نرم طاقت(خاص طور جس کا تعلق سیاسی معاملات سے ہو) کا سرچشمہ ہتھیاروں سے زیادہ عوامی حمایت میں مضمر ہوتا ہے۔

جب چوہدری نثار نے ان الزامات کو بے سروپا قراردے کر رد کیا ، تو وہ دراصل پی ایم ایل (ن) کی پوزیشن کو واضح کررہے تھے کہ حکمران جماعت ان الزامات کو بنیاد بنا کر سول ملٹری تعلقات کا ا یشو نہیں بنانا چاہتی۔ یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ طاقت ور وزارت ِداخلہ یہ بیان اپنے تئیںدے رہی تھی۔ یقینا اس معاملے پر پی ایم ایل (ن) کا برتائو یہ ظاہر نہیں کرتا تھا کہ اس نے کچھ رہنمائوںکو فوج پر تنقید کرنے اور کچھ کو خوش کرنے کے لئے رکھا ہواہے۔ جب خواجہ آصف نے کہا تھا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی دھرنوں کی پشت پناہی کررہے تھے تو ان کا ہدف پی ٹی آئی کی تحریک تھی ۔ وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ عمران عوامی حمایت نہیں بلکہ اسٹبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔

کوئی بیانہ آگے بڑھاتے ہوئے کسی خاص نکتے پر دیا گیا زور ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ جب تک بیانیہ یہ تھا کہ پی ٹی آئی خفیہ ہاتھ کی مدد سے اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھارہی ہے ، اس نے پی ایم ایل (ن) کو فائدہ اور پی ٹی آئی کو نقصان پہنچایا، لیکن جب بیانیے کا فوکس پی ٹی آئی سے تبدیل ہوکر ڈی جی آئی ایس آئی پر آگیا تو اس کی زد میں فوج اور اس کے اعلیٰ افسران آتے ہوئے محسوس ہوئے۔ اس تنائو کی زد میں پی ایم ایل (ن) اور دفاعی اداروں کا تعلق اور 2018ء تک سیاسی عمل کا تسلسل آتا دکھائی دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب بلاتاخیر چوہدری نثار کو بیان دے کر پوزیشن واضح کرنا پڑی۔ چنانچہ مشاہداﷲ کوسزادے کر معاملات خراب ہونے سے بچالئے گئے۔
ان تمام معروضات کے پس ِ منظر میں یہ بات فراموش نہیں کی جانی چاہئے کہ جب جنرل راحیل شریف نے آرمی چیف کامنصب سنبھالا تو اُن کے سامنے کتنی مشکلات تھیں۔

اس بات کو زیادہ عرصہ نہیں، صرف اٹھارہ ماہ گزرے ہیں۔ یہ کوئی راز نہیں کہ جنرل شریف اس عہدے کے لئے کوئی متوقع چوائس نہیں تھے۔ جب اُنہیں کمان ملی تو ان کے سامنے میز پر جنرل طارق( کور کمانڈر منگلا)، سلیم نواز (کور کمانڈر گوجرانوالہ) خالد ربانی (کور کمانڈر پشاور) سجاد غنی(کور کمانڈر کراچی) اور ظہیر الاسلام (ڈی جی آئی ایس آئی) بیٹھے ہوئے تھے۔ سینارٹی کی فہرست کو ایک طرف رکھیں، یہ تمام چھے جنرل پی ایم اے میں ایک دوسرے کے ہم عصر تھے۔ اس طرح جنرل راحیل شریف کو ٹاپ ہیوی ٹیم کی کم از کم ایک سال تک سربراہی کرنی تھی اور ان افسران میں سے کسی کے دل میں یہ خیال بھی پیدا ہوسکتا تھا کہ ان کے ساتھ غیر منصفانہ برتائو کیا گیا ہے۔ لیکن پاکستان میں یہ معمول رہا ہے کہ سینئر جرنیلوں کی موجودگی میں بھی کسی کو آرمی چیف بنادیا جاتا ہے جیسا کہ جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کے معاملے میں بھی ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب اسلام آباد میں دھرنا شروع ہوگیا اور اس کے ساتھ ہی سول ملٹری تعلقات میں تنائو آتا دکھائی دیا۔ اُس وقت کورکمانڈروں کی ایک کانفرنس میں پی ایم ایل (ن) پر زور دے کر کہا گیا کہ وہ ’’دوستانہ طریقے سے سیاسی اختلافات کو دور کرے‘‘۔

یہ وہ وقت تھا جب نواز شریف سابق ڈی جی آئی آئی سے کڑی باز پرس کرسکتے تھے اگر اُنھوں نے 90 کی دہائی میں ہونے والے تجربات سے کچھ نہ سیکھا ہوتا۔ وہ یہ کہہ سکتے تھے کہ آئی ایس آئی نے اُنہیں اس کی رپورٹ کی تھی اور وہ ظہیر الاسلام کو فارغ کرسکتے تھے۔ لیکن ایسا کرنے سے آرمی چیف پر سینئر افسرا ن کی طرف سے دبائو آجاتا کہ وہ فوج کے ’’وقار‘‘ کو بچانے کے لئے جنرل ظہیر کا تحفظ کریں۔۔۔ بالکل جس طرح مشرف کیس میں دیکھنے میںآیا تھا۔ ایسا کرنے سے آرمی چیف کی پوزیشن دائو پر لگ جاتی، تاہم تجربات سے گزرنے والے نواز شریف نے ایسا کچھ نہ کیا اور فوج کو غیر ضروری دبائو سے بچالیا۔

گزشتہ اگست کو بھی معاملات انتہائی خرابی کی طرف بڑھ سکتے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب وزیر ِاعظم نے آرمی چیف کے ہاتھ مضبوط کئے اور آرمی چیف سیاسی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کے عزم پر کاربند رہے۔ اُنھوں نے اپنے ماتحت افسران کو بھی ایسا کرنے سے روک دیا۔

آرمی چیف کے ہم عصروں کی ریٹائرمنٹ اور جونیئر افسران کے ترقی کرکے آگے آنے کی وجہ سے آرمی ہائی کمان کی کمپوزیشن تبدیل ہوگئی۔ جنرل رضوان اختر کو ڈی جی آئی ایس آئی، نوید مختار کو کورکمانڈر کراچی،ہدایت رحمن کو کور کمانڈر پشاور، ہلال حسین کو کورکمانڈر منگلا اورغیور محمود کو کورکمانڈر گوجرانوالہ مقرر کرنے سے یہ بات عیاںہوتی ہے کہ جنرل راحیل کے سامنے پہلا مشکل سال گزرچکا ۔ اب ان کے سامنے جونیئر افسران ہیں اور ان سب کی تقرری اُن کی مرضی سے ہوئی ہے اور یہ سب کے سب اُن کی قومی سلامتی کی پالیسی کے عین مطابق ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، سول ملٹری تعلقات میں بھی استحکام دکھائی دیتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ دودھ کا جلا چھاچھ کو بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔چونکہ ہم فوجی مداخلت اور شب خون کی طویل تاریخ رکھتے ہیں، اس لئے جب بھی آئی ایس پی آر کی طر ف سے کوئی بیان آتاہے اور کسی وزیر کو بیان دینے پر فارغ کردیا جاتا ہے تو ہمارے کان کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اپنی تیسری مدت کے دوران وزیر ِا عظم نواز شریف سول ملٹری تعلقات کے توازن یا عدم توازن پر پریشان نہیں ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ سمجھ چکے ہیں کہ موجودہ صورت ِحال میں فوج کا کردار کم بھی ہوسکتا ہے اور بڑھ بھی سکتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ میدان کا انتخاب کرلیا جائے کہ فوج نے دھشت گردی کے میدان میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہے کیونکہ اس وقت ملک میں سب سے بڑا چیلنج یہی ہے۔

ہاں البتہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ وزیر ِاعظم موجودہ آرمی چیف کی مقبولیت سے خائف ہوکر اُنہیں اپنا حریف سمجھ سکتے ہیں۔ تاہم اُنہیں ایک بات کی سمجھ آگئی ہے کہ اگرچہ جنرل راحیل شریف ملکی تاریخ کے مقبول ترین جنرل ہیں لیکن وہ (وزیر ِاعظم) بھی اپنے آفس میں آزادی سے کام کررہے ہیں۔ بس اتنا کافی ہے۔ بالکل جس طرح عبدالستار ایدھی ملک کے انتہائی مقبول انسان دوست شخص ہیں، لیکن ان سے نواز شریف کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، چنانچہ آرمی چیف کی مقبولیت سے بھی اُنہیں کوئی پریشان نہیںہونی چاہیے، تاوقتیکہ اُن کے کوئی سیاسی عزائم نہ ہوں (جو یقینی طور پر نہیں ہیں)۔

جنرل راحیل شریف نے عسکری قیادت کی بہترین مثال قائم کی ہے۔ اُنھوں نے درحقیقت دھشت گردی سے پاک پاکستان کی بنیاد رکھ دی ہے۔اُنھوںنے دھشت گردی کے خلاف جنگ سامنے آکر لڑی ہے۔ اُنھوں نے دیگر ممالک کو بھی اس جنگ میں پاکستان کے ہم قدم کردیا ۔ سب سے اہم ، اُنھوں نے اپنے ادارے کے بڑے افسران کا احتسباب کرکے ایک نادر مثال قائم کی۔ اب جبکہ وہ اپنی مدت کے آخری سال میں ہیں، تو یہ وہ نازک وقت ہے جب عزائم اصولوں پر غالب آجاتے ہیں۔ کچھ خوشامدی ٹولہ بھی تیل گرانے کا کام کرنے سے باز نہیں آتا۔ تاہم جنرل راحیل شریف سے توقع کی جانی چاہئے کہ وہ نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی اور اسے آگے بڑھانے کے لئے ایک اچھی ٹیم چھوڑ کر رخصت ہوتے ہوئے ہمیشہ کے لئے قوم کی یادوں میں زندہ رہیں گے۔ اُنہیں ایسے افراد سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے جو اُنہیں بتاتے رہتے ہیں کہ وہ ناگزیر ہیں۔
----------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.