.

میڈیا کا ’’قصور ‘‘

یاسر پیرزادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

8 اگست 2015ء کا ایک انگریزی اخبار میرے سامنے ہے ، یہ وہی اخبار ہے جس میں ’’ملک کے سب سے بڑے بچوں کے جنسی اسکینڈل ‘ ‘ کی خبر بریک کرنے کا دعویٰ کیا گیاہے ، اس اخبار کی شہ سرخی ہے"Countrys biggest child abuse scandal jolts Punjab" اور اس خبر کی تفصیل میں درج ہے کہ قصور کے نواحی گاؤں حسین خاںوالا میں دو سو اسّی بچوں کے ساتھ زیادتی کی گئی اور اس کی چار سوسے زائد ویڈیوز بنائی گئیں ، ان ویڈیوز میں چھ سالہ بچے کی ویڈیو بھی شامل ہے اور ایک دس برس کی اسکول کی بچی کی ویڈیو بھی ہے جس کے ساتھ چودہ برس کا بچہ زیادتی کر رہا ہے ۔کسی بھی انسان کا دل دہلا دینے کے لئے یہ دو فقرے کافی ہیں، اس خبر نے ملک میں بھونچال مچا دیا ، بین الاقوامی پریس میں اس کی تشہیر ہوئی اورپھر این جی اوز نے میدان میں کود کر رہی سہی کسر پوری کر دی ۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ خبر مکمل طور پر درست ہے ؟ کیا قصور میں ایسا ہی ہوا اور اگر ہوا تو کس پیمانے پر اور ذمہ دار کون ہے ؟

پہلی بات یہ ہے کہ آج کی تاریخ تک پولیس ، میڈیا یا کسی این جی او کے پاس دو سو اسّی بچوں کے نام ، پتے اور تفصیل موجود نہیں ، کل ملا کر اب تک بائیس بچوں کے لواحقین سامنے آ ئے ہیں جن کی بائیس ایف آئی آرز کاٹی جاچکی ہیں ، ان ایف آئی آرز کے نتیجے میں تمام ملزمان کو پولیس گرفتار کر چکی ہے ، جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی جا چکی ہے ، جس کسی کے پاس دو سو اسّی بچوں کے چار سو ویڈیو کلپس ہوں بشمول اس دس سال کی اسکول کی بچی اور چھ برس کے بچے، وہ اس جے آئی ٹی کے سامنے پیش کر سکتا ہے مگر تاحال کسی نے ایسا نہیں کیا، انہو ں نے بھی نہیں جن کا دعویٰ ہے کہ دو سو اسّی بچوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ۔کیوں ؟ کیا ان کا مقصد محض خبر بریک کر کے تمام کلپس اپنے پاس ’’محفوظ ‘ ‘ رکھنا ہے؟

خبر میں ایک دعویٰ یہ کیا گیا کہ یہ تمام معاملہ اس وقت سامنے آیا جب بچوں کے لواحقین مظاہرہ کر رہے تھے اور قصور پولیس نے ان پر تشدد کرکے دو درجن سے زائد بندوں کو زخمی کر دیا کیونکہ پولیس معاملے کو دبانا چاہتی تھی ۔ اس سے بڑا لطیفہ کوئی نہیں ہو سکتا کیونکہ جس وقت یہ مظاہرہ کیا گیا اس وقت تک قصور پولیس کے سامنے سات بچوں کے لواحقین پیش ہوئے جن کی درخواست پر نہ صرف سات پرچے کاٹے گئے بلکہ ان میں نامزد نو ملزمان میں سے چھ گرفتار کر لئے گئے (باقی تین ملزمان کو گیارہ دن بعد گرفتار کر لیا گیا) ، جبکہ ملزمان کے چھ رشتہ دار جن پر یہ کلپس دکھا کر رقم اینٹھنے کا الزام تھا ، عدالت سے ضمانت پر رہا ئی پا چکے تھے۔ اس مظاہرے میں ایک بھی شخص زخمی نہیں ہوا کیونکہ آج تک کسی زخمی شخص کا نام ، پتہ کہیں رپورٹ ہوا نہ کہیں اس کا میڈیکل چیک اپ ہوا، الٹا اکیس پولیس والے بشمول دو ڈی ایس پی زخمی ہوئے اور مظاہرین نے ان سے تین رائفلز بھی چھین لیں، اس وقوعے کی ایف آئی آر درج ہے اور مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ جب تک یہ ایف آئی آر واپس نہیں لی جاتی اس وقت تک جے آئی ٹی سے تعاون نہیں کیا جائے گا۔ اسے کہتے ہیں حقائق کے پر خچے اڑانا!

خبر میں ایک بڑا الزام یہ بھی لگایا کہ پولیس نے پچاس لاکھ روپے رشوت لے کر ایک ملزم کو چھوڑ دیا ،اسے بھی لطیفہ ہی کہیں گے کیونکہ جب جب جو ملزم گرفتار ہوتا گیا وہ تا حال گرفتار ہے اور کسی کو بھی رہا نہیں کیا گیا ۔ اگر کسی مرحلے پر کسی ملزم کو چھوڑا گیا تھا تو اس کا نام کیا تھا؟پولیس نے اسے کب اور کیسے رہا کیا ؟ کسی رپورٹر یاکسی این جی او نے یہ بتانے کی زحمت گوارا نہیں کی ۔سب سے خوفناک انکشاف جو اس خبر میں کیا گیا وہ ایک دس سالہ اسکول کی بچی سے متعلق تھا جسے اسکول یونیفارم میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ، خبر کے مطابق اس بچی کے لواحقین اب تک دس لاکھ روپے ملزمان کو بلیک میلنگ کی مد میں ادا کر چکے ہیں۔ خدا کرے کہ کم ازکم خبر کا یہ حصہ جھوٹ ہو لیکن اگر یہ سچ ہے تو اب تک بائیس ایف آئی آرز کاٹی جا چکی ہیں ، تمام بچوں کے لواحقین سامنے آ چکے ہیں ، ہر قسم کا ڈر خوف کا عنصر ختم ہو چکا ہے ، لیکن تا حال اس بچی کے لواحقین نے کوئی پرچہ نہیں کروایا، کیوں ؟

اور اگر کسی وجہ سے نہیں کروایا تو اب تک جے آئی ٹی کو کسی میڈیا والے نے وہ کلپ کیوں نہیں دیا تاکہ ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، اپنے پاس رکھ کر کیوں بیٹھے ہیں؟خبر کے مطابق ایک ’’دیہاتی ‘ ‘ نے اس انگریزی اخبار کے رپورٹر کو یہ بھی بتایا کہ اس گینگ نے بچوں کی ویڈیوز یورپ، امریکہ اور یو کے سے آپریٹ کی جانے والی ’’گے پارن سائٹس ‘ ‘ کو بھی فروخت کیں اور بقول ایک زیادتی کا شکار ہونے والے بچے کے ، اس گینگ نے اس کے عوض ڈالر کی شکل میں بھاری رقوم بھی حاصل کی ہیں ۔ جن ملزمان کو اب تک پکڑا گیا ہے ان کی عمریں زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں کی عمروں سے کچھ زیادہ ہیں ، شکلیں بھی ہم میڈیا پر دیکھ چکے ہیں ، کیا ان کے لئے یہ اتنا سہل تھا کہ گنڈا سنگھ والا میں بیٹھ کر یورپ میں بچوں کی پارن سائٹ (جو مغرب میں بھی سنگین جرم ہے ) سے رابطہ کرکے ڈالر اینٹھ لیتے ؟

تین روز قبل ایک دوسرے انگریزی اخبار نے قصور واقعے سے متعلق انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ شائع کی ، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انسانی حقوق کمیشن ، جس کی ملک میں قابل قدر خدمات ہیں ، اس مرتبہ میڈیا ہائپ کا شکار ہو گیا۔ کمیشن نے خود تحقیق کرنے کی بجائے میڈیا کی خبروں کو بنیاد بنایا اور تضادات کا مجموعہ کھڑا کر دیا۔ پہلا کام کمیشن نے یہ کیا کہ بچوں کی تعداد کو خود ہی بڑھا کر تین سو کر دیا ، مگر کوئی نام ، پتہ یا ان ’’تین سو بچوں ‘ ‘ کےلواحقین کی شکایت کا ذکر نہیں کیا۔ایک طرف کمیشن کا کہنا ہے کہ قصور میں یہ سارا کام خفیہ انداز میں ہو رہا تھا اور پولیس اس کی پردہ پوشی کر رہی تھی جبکہ دوسری ہی سانس میں کہتا ہے کہ یہ کام کھلے عام ہو رہا تھا اور پورا شہر گواہ تھا۔ کمیشن کی ’’تحقیق‘‘ کہتی ہے کہ بچوں کے لواحقین کو بلیک میل کر کے پیسے اینٹھے گئے مگر ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کیا کہ کسی شخص نے کمیشن کو ایسے کسی ملزم کا نام نہیں بتایا جس نے رقم وصول کی۔ پولیس کے جن ذرائع سے کمیشن نے کچھ معلومات اکٹھی کیں ان میں ایک محرر اور سب انسپکٹر شامل ہیں ، حالانکہ ایس پی رینک کا ایک افسر اس کی تحقیقات کر رہا ہے۔

اس رام کتھا کا مقصد ہر گز یہ باور کروانا نہیں کہ قصور میں کوئی سنگین واقعہ نہیں ہوا، اگر ایک بچے سے بھی زیادتی ہوتی تو اس کی سنگینی بھی اتنی ہی ہوتی ، مقصد یہ تلاش کرنا ہے کہ آخر میڈیا نے بائیس بچوں اور تیس کلپس کو تین سو بچوں اور سینکڑوں کلپس کیسے بنا دیا ؟کیسے میڈیا میں ایک بھیڑ چال شروع ہو گئی جس میں یہ ثابت کرنا فرض ٹھہرا کہ سب کچھ پولیس کی ملی بھگت اور نا اہلی کا ہی نتیجہ ہے ؟ کیا ہم اندھے ہیں ، ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے معاشرے میں جو گھٹن اور حبس کا ماحول ہے اس کا نتیجہ ہمارے دیہات میں ہی نہیں شہروں میں بھی ہونے والے مکروہ جرائم کی صورت میں نکلتا ہے ؟ اور رہی حکومت تو اس کے پاس ہر مسئلے کے دو ہی حل ہیں ،پہلا ، کسی پولیس افسر کو قربانی کا بکرا بنا کر برطرف کردو چاہے خود اس کی پوسٹنگ چند ماہ پہلے ہی کیوں نہ کی ہو، اور دوسرا ، فلائی اوور بنا دو۔ پہلا حل تو کیا جا چکا ، دیکھنا یہ ہے کہ گنڈا سنگھ والا تک فلائی اوور کب بنتا ہے؟

---------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.