.

ایران کے مسکراتے چہرے

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی رجیم کی بُری شہرت محض اس کے خلاف وضع کردہ پروپیگنڈے کا نتیجہ نہیں ہے۔یہ ایک سیاسی جنگ ہے جو شاہ ایران کے خلاف انقلاب کے بعد سے جاری ہے۔یہ درحقیقت ایک ایسے رجیم کا حقیقی چہرہ ہے جس نے گذشتہ چھتیس سال سے زیادہ عرصے کے دوران تنازعات ،انقلابات ،تشدد ،انتہا پسندی اور معاندانہ نظریات کو کسی بھی ایسی ریاست یا تحریک کو برآمد کیا ہے جو مقامی ،علاقائی یا بین الاقوامی سطح پر اس سے متفق نہیں تھی۔

یہ بری شہرت لاتعداد شرپسندانہ اقدامات ،اغوا ،قتلوں اور دھماکوں کا براہ راست نتیجہ ہے۔اس کے علاوہ اس نے متعدد ممالک کو دھمکیاں دیں اور ان کے خلاف برسرپیکار گروپوں کو رقوم دیں۔اس پر مستزاد ایران کے اندر متشدد گورننس ہے جس کے اقدامات کی وجہ سے لاکھوں ایرانی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے اور اب وہ جلاوطنی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔

ان تباہ کن اقدامات کو وقت کے ساتھ مہمیز ملی ہے اور انھوں نے تہران کے نظم حکمرانی کو عراق میں صدام حسین کی حکومت ،شام میں اسد خاندان ،لیبیا میں معمر قذافی اور شمالی کوریا میں کم جونگ ان کی حکومت کے مشابہ بنا دیا ہے۔یہ برا تشخص ایران سے باہر رجیم کے دشمنوں کا من گھڑت نہیں ہے۔

ایرانی حکومت نے اب نئی زبان بولنا شروع کی ہے۔اس نے مشرق وسطیٰ میں اپنے حریف ممالک کے ساتھ مثبت تعلقات استوار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور اس ضمن میں واضح اشارے دیے ہیں۔یہ اشارے ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے دیے ہیں اور ایران کے حریفوں کو فوری موصول ہوئے ہیں۔

ان کے ردعمل توقع کے عین مطابق ہیں۔اصولی طور پر انھوں نے نئے جذبات کا خیرمقدم کیا ہے۔تاہم وہ ابھی تک اس شک میں مبتلا ہیں کہ ایرانی دوستی کے ان نیک ارادوں میں کہاں تک سنجیدہ ہیں۔عمومی طور پر یہ سمجھا جارہا ہے کہ تہران حکومت اپنے حریفوں کے ساتھ معاملات کی درستی کے لیے کوشاں ہے تاکہ وہ مغربی حکومتوں کے ساتھ اپنے جوہری معاہدے کی مخالفت کو زائل کرسکے۔خاص طور پر خلیجی عرب ممالک ،اردن اور اسرائیل کے تحفظات کو دور کیا جاسکے کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ معاہدہ تو اصولی طور پر درست ہے لیکن اس نے ایران کے حقیقی ارادوں پر نقاب ڈال دی ہے۔

جو لوگ یا ممالک اس نیو کلئیر ڈیل کی مخالفت کررہے ہیں،وہ انہی وجوہ کی بنا پر ایسا نہیں کررہے ہیں۔عرب ریاستوں کا خیال ہے کہ ایران مغرب کو خاموش کرنا اور پابندیوں کا خاتمہ چاہتا تھا۔اس لیے وہ خطے میں اپنی بالادستی کے لیے دوبارہ اپنے منصوبے پر عمل پیرا ہوجائے گا۔

اسرائیل یہ خیال کرتا ہے کہ ایران دوبارہ اپنے جوہری فوجی پروگرام کو شروع کرسکتا ہے۔اس کو یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے میں کافی ضمانتیں فراہم نہیں کی گئی ہیں۔اس لیے اس سے نہ صرف اس کی سکیورٹی بلکہ اس کے وجود ہی کے لیے خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔ڈیمو کریٹس سمیت بعض امریکی سیاست دان بھی اس معاہدے کے بارے میں اپنے شکوک کا اظہار کررہے ہیں اور اس کی مخالفت کررہے ہیں۔

ماضی میں ایران اپنی انتہا پسندی کے حوالے سے بالکل واضح تھا کیونکہ اس کے ارادوں ،سیاست اور مؤقف کے بارے میں جو کچھ کہا جاتا تھا،وہ اس کو نظرانداز کرتا رہا تھا۔تاہم آج جوہری معاہدے کی مخالفت کرنے والے عرب ،اسرائیلی اور امریکی اپنے اپنے تحفظات کا اظہار کررہے ہیں۔ہمیں یہ بات بھی ملحوظ رکھنی چاہیے کہ اس ڈیل کی شدید مخالفت کے باوجود صدر براک اوباما کی جانب سے اس کی منظوری دینے کا بہت زیادہ امکان ہے۔انھیں امریکی سینیٹ اور ایوان نمائندگان سے اس کی منظوری کے لیے ایک تہائی ارکان کی حمایت درکار ہے۔

دو مسکراتے چہرے

جوہری ڈیل کو فعال بنانے کے لیے ایران اپنی پالیسیوں کی ملمع کاری کررہا ہے اور دوسرے ممالک کی جانب بھی بڑی گرم جوشی سے ہاتھ بڑھا رہا ہے تاکہ مخالفین کو یہ یقین دہانی کرائی جاسکے کہ وہ تعاون کرنا چاہتا ہے اور صفحہ پلٹنا چاہتا ہے۔وہ یہ بھی باور کرانا چاہتا ہے کہ وہ اب ایک نیا ایران بن چکا ہے۔ ایک ایسا ملک جو سیاسی طور پر اعتدال پسند ہے ،جو علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تعاون کرنے والا ہے اور مذہبی لحاظ سے اعتدال پسند ہے۔

ان مقاصد کے حصول کے لیے ایرانی رجیم نے دو مسکراتے چہرے دنیا کے سامنے پیش کیے ہیں۔ایک صدر حسن روحانی ہیں اور دوسرے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف ۔ان دونوں کا سابق صدر محمود احمدی نژاد کی حکومت کے عہدے داروں اور وزراء سے کوئی جوڑ نہیں ہے مگر ہم یہ بات جانتے ہیں کہ یہ چہرے کا اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ کسی سیاست دان کے عملی اقدامات ہوتے ہیں جن سے اس کے ارداوں کا پتا چلتا ہے۔بشارالاسد دِکھنے میں بہت خوش باش اور مہذب آدمی نظر آتے ہیں لیکن ان کے ہاتھ ڈھائی لاکھ سے زیادہ شامیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

ایران میں صدر اور حکومت درحقیقت حکمرانی نہیں کرتے ہیں بلکہ وہاں ایک سخت مذہبی ادارہ قائم ہے جو اہم امور سے متعلق فیصلہ کرتا ہے۔اس ادارے کو جانتے کو ہوئے ہم نے اس کی خطے کے دوسرے ممالک کے بارے میں مخالفانہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی ہے۔حتیٰ کہ رجیم کے مخالف ایرانی شہریوں کے بارے میں پالیسی میں بھی کوئِی تبدیلی رو نما نہیں ہوئی ہے۔ایران ہمارے سامنے جو تشخص پیش کرنے کی کوشش کررہا ہے اور اس نے جو نرم روی اختیار کی ہے،اس کا مقصد شاید رجیم اور جوہری معاہدے کی مخالفت کا خاتمہ ہے۔اس کا حتمی مقصد شاید ڈیل کو طے کرنا رہا ہو تاکہ اس کی منظوری کے بعد اس پر عاید تمام عالمی اقتصادی وسیاسی پابندیوں کا خاتمہ ہوجائے۔

------------------------------------------

(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔ان کے نقطہ نظر سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.