.

نیویارک۔نوجوان بلوچ لیڈروں سے گفتگو

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک طویل عرصہ بعد بلوچستان کے بارے میں امریکی سرزمین پر ایک مختلف آواز اور موقف سننے کو ملا۔ حیرانگی اور خوشی سے اس موقف کو بار بار سننے اور یقین کرنے کو دل چاہتا ہے۔ اللہ کرے زمینی حقائق بھی یہی ہوں جو ہمیں بلوچستان کے نوجوان اہل اقتدار نے بتائے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ نیو یارک کے دورے پر آنے والے بلوچستان اسمبلی کے تقریباً 20 منتخب اراکین بلوچ عوام کے نمائندے ہیں ووٹ لے کر اسمبلی میں آئے ہیں اور بجا طور پر بلوچ عوام کی آواز ہیں لیکن بعض مرتبہ اقتدار کی مجبوریاں اور تقاضے بھی بہت کچھ کہنے سننے اور کرنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی کی تحریک پر بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی، اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو اور ممبر صوبائی اسمبلی پرنس احمد علی احمد زئی سے صحافیانہ ملاقات اور گفتگو کا موقع 24 اگست کو ملا۔ اس سے قبل ان نوجوان بلوچ قائدین کی پاکستان ڈے پر پریڈ کے اسٹیج سے پاکستان اور بلوچستان کے مضبوط رشتوں کے حوالے سے تقریریں سن کر پاکستانیت کے دل گرما چکے تھے لہٰذا ان تینوں حضرات کے ساتھ نشست میں بھی انہی خطوط پر موقف اور سوالات کا سلسلہ جاری رہا۔ اس نوجوان بلوچ قیادت نے جو کچھ بھی کہا ہے وہ ایک مدلل، موثر اور سالمیت پاکستان کے تناظر میں مضبوط اور تعلیم یافتہ انداز کا موقف ہے جس کو پاکستانیوں تک محدود رکھنے کے بجائے امریکی حکومت، کانگریس مینوں، سینیٹرز اور امریکی میڈیا تک پہنچانے کی شدید ضرورت ہے اور اس کام کے لئے اسلام آباد کے ایوانوں سے ماہرین ا ور شیکسپئر کی انگریزی بولنے والوں کی نہیں ان ہی نوجوان بلوچ عوام نمائندوں کو واشنگٹن ، نیویارک اور دیگر شہروں میں بھیجنے تھنک ٹینک سے خطاب کروانے کی ضرورت ہے تاکہ بلوچستان کا مسئلہ خود بلوچ ہی امریکیوں اور دنیا کو سمجھا سکیں۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ اراکین بلوچستان اسمبلی ووٹ لے کر عوم کے نمائندے منتخب ہوئے ہیں۔ بقول صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کہ ’’ہم کو گجرانوالہ کے کسی پنجابی نے ووٹ نہیں دیا۔ بلوچ عوام کے ووٹ لے کر منتخب ہوئے ہیں‘‘۔ سرفراز بگٹی نے بڑے واضح انداز میں کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کے ساتھ مضبوط رشتے میں منسلک ہے اور رہے گا۔ بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک میں کوئی جان نہیں۔ ہمارے اراکین اسمبلی ان ہی علاقوں سے ووٹ لے کر منتخب ہوئے ہیں جہاں بعض علیحدگی کے قائدین اپنے اثرات کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہی موقف اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو کا تھا اور اسی کی تائید پرنس احمد علی احمد زئی رکن بلوچستان اسمبلی نے بھی کی ہے۔ وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا یہ موقف بھی درست ہے کہ پاکستان میں اچھے، مثبت اور محب الوطنی والے کردار کو تو نظر انداز کیا جاتا ہے اور جو ملک کے خلاف منفی رول ادا کرے اُسے انعام اور تعریف و مراعات سے نوازا جاتا ہے۔ انہوں نے تو پاکستان کے میڈیا کو بھی اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا بھی شرپسندوں اور ملکی سالمیت کے خلاف بات کرنے والوں کو آگے لا کر زیادہ توجہ دیتا ہے لیکن جب وزیر داخلہ کو یاد دلایا کہ بلوچستان میں ’’جنگ‘‘ کے ڈاکٹر چشتی مجاہد، ’جیو‘‘ کے اعجاز احمد اور دیگر متعدد صحافی سچ بیان کرنے کی کوشش میں اپنی زندگیاں دائو پر لگا کر قتل، زخمی اور معذور ہوئے ہیں تو نوجوان بلوچ رہنما اپنی حفاظت کے ساتھ ساتھ اُن کی حفاظت اور ہمت بڑھانے کا کام کرنا کیوں بھول جاتے ہیں تو وزیر داخلہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ سرفراز بگٹی نے وفد کی ترجمانی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہم نے غیر فنکشنل حکومت کو بلوچستان میں فنکشنل بنا دیا ہے۔ بلوچستان کا ایشو سیاسی نہیں رہا بلکہ اب ایک ’’ایڈمنسٹریٹو ایشو‘‘ ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی کی کوئی تحریک نہیں۔ ہم محض 600 تا 700 لڑکوں کو علیحدگی کا کھیل نہیں کھیلنے دیں گے۔ اگر بلوچستان میں ایک ضرب عضب طرز کا آپریشن ہو جائے تو صرف ایک ہفتے میں علیحدگی پسندوں کا صفایا ہوجائے گا۔ انہوں نے یہ بھی شکوہ کیا کہ اگر مذہبی انتہا پسندی ہو تو اُسے دہشت گردی کا نام دیا جاتا ہے لیکن اگر کوئی بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کے لئے قتل و غارت، تشدد، دھماکے اور دیگر کارروائیاں کرکے بلوچ قوم کا نام استعمال کرے تو اُسے دہشت گرد کی بجائے ’’ناراض بلوچ‘‘ لیڈرز کہا جاتا ہے۔

انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف سے بھی ’’ناراض بلوچ‘‘ کا لفظ استعمال کرنے پر شکوہ کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں کوئی ملٹری آپریشن نہیں ہورہا اور ہاں! بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سویلین اور ملٹری قیادت کا عدم توازن دور کر کے اب سویلین، عسکری توازن مل کر کام کررہے ہیں لوگ اب بلوچستان میں رات کو سفر کرنے لگے ہیں۔ براہمداخ بگٹی، ہر بیار مری، زرمران مری، ڈاکٹر اللہ نظر کے علیحدہ علیحدہ لشکروں کو ایک جگہ بھی کرلیں تو بلوچستان میں ان کی تعداد 2000 شرپسندوں سے زیادہ نہیں ہے جو صرف گن اور غیر ملکی ایجنسیوں کے سہارے زندہ ہیں۔ ہم مملکت کی ’’رٹ‘‘ کو چیلنج نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کی بلوچستان میں مداخلت کا آغاز 2001ء میں ہوا اور 2002ء کے فراری کیمپ اور سوویت یونین میں بعض بلوچوں کا قیام، تربیت اور سرگرمیاں ریکارڈ پر ہیں۔ انہوں نےیہ تاثر بھی غلط قرار دیا کہ اکبر بگٹی کی موت کے بعد بلوچستان میں شرپسندی اور علیحدگی کی تحریک نے زور پکڑا ہے۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ اگر بلوچستان میں ’’را‘‘ نے 2002ء سے قدم جمانے شروع کئے تو پھر پرویز مشرف نے با اختیار و با اقتدار ہو کر بھی اس بارے میں خاموشی کیوں اختیار کئے رکھی تو وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا جواب تھا کہ ایسی مداخلت کے اثرات سامنے آنے میں وقت لگتا ہے۔ یہ کوئی مدلل اور حقیقت پسندانہ جواب نہیں تھا۔ رکن بلوچستان اسمبلی پرنس احمد علی احمد زئی کا کہنا ہے کہ ملک بنانے کے لئے عوام کی ضرورت ہے اور بلوچستان کو آزاد کرانے کے دعویداروں کے پاس عوام ہی نہیںہیں، اُن کا کہنا ہے کہ قائد اعظم خان آف قلات کے لیگل ایڈوائزر بھی تھے اور پاکستان سے الحاق کا معاہدہ بھی خود قائد اعظم نے ہی ڈرافٹ کیا تھا جس میں یہ درج ہے کہ کسی معاملے پر اگر کوئی اختلاف ہوگا تو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس اس معاملے میں ثالث بن کر فیصلہ دے گا لہٰذا بلوچستان اور پاکستان مضبوط رشتہ الحاق میں پیوست ہیں۔ اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو بھی اپنے دو ساتھیوں کے خیالات کی تائید کرتے رہے اور ’’پرامن بلوچستان‘‘ کے فارمولے کی حمایت، عوام سے ڈائیلاگ کی ضرورت کا ذکر کرتے رہے ۔ہزارہ افراد کے سنگدلانہ قتل کو فرقہ وارانہ واقعات کی بجائے دہشت گردی قرار دینے پر تینوں حضرات متفق رائے کے حامل تھے۔ پاک، چائنا کا ریڈور کو ’’گیم چینجر‘‘ یعنی کایا پلٹنے کا منصوبہ قرار دے کر انہوں نے کہا کہ بھارت اور بعض طاقتیں اس منصوبے کو روکنا چاہتی ہیں۔ یہ تمام خیالات ملک اور صوبہ بلوچستان سے دُور بیٹھے اور پاکستانیوں کے لئے انتہائی خوش کن ہیں۔ نوجوان بلوچ قیادت خود یہ تمام باتیں اور دعوے بڑے واضح انداز میں کررہی ہے۔ نیو یارک کا دورہ کرنے والے ان نوجوان بلوچ رہنمائوں کو اسی موقف، اسی دلیل اور بلوچستان کے بارےمیں ان کی زبان سے ہی بلوچستان کے حقائق بتانے کی ضرورت ہے ورنہ واشنگٹن میں سرگرم صرف چند نوجوان بلوچستان کی آزادی کا مطالبہ اور بلوچستان میں مظالم کی یکطرفہ داستانیں سنا کر اپنے موقف کی تائید میں ’’کیپٹل ہل‘‘ پر کام کرتے رہیں گے جس طرح ہمارے پالیسی ساز واشنگٹن میں سرگرم ایک بھارتی صحافی ’’گوئل‘‘ کے پاکستان دشمن سوالات وہائٹ ہائوس، پینٹاگون اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میںاٹھانے کےیکطرفہ انداز کے جواب میں پاکستان ٹی وی کا کوئی نمائندہ واشنگٹن میں متعین نہیں کرسکے۔ اسی طرح بلوچستان کے مسئلے پر بھی واشنگٹن میں یکطرفہ کہانی کی بجائے بلوچستان کے منتخب نوجوان رہنمائوں کو بھیجنے کی ضرورت ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.