دنیائے عرب کا ردِ عمل

ڈاکٹر رسول بخش رئیس
ڈاکٹر رسول بخش رئیس
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والے کولیشن کا جس نے یمن پر جنگ مسلط کی ہے، حصہ نہ بنتے ہوئے پاکستان نے ریاض اور متحدہ عرب امارات کو ناراض کر دیا۔ وہ توقع کر رہے تھے کہ اس جنگ میں پاکستان انکے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ ہمارے عرب بھائیوں کا یہ دعویٰ درست ہو کہ وہ ماضی مین بہت سی مشکلات کے وقت ہمارے ساتھ کھڑے تھے۔ یہ بات تسلیم کی جانی چاہیے تاہم اس میں یک طرفہ فیاضی کارفرما نہ تھی۔ ہم نے بھی عشروں تک اپنی دوستی نبھائی ہے۔ ہم نے سکیورٹی ٹریننگ اور انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کرنے کیلئے علاوہ ایک عشرے پر محیط ایران عراق جنگ کے دوران اپنے فوجی دستوں، مشیروں اور ماہرین کی خدمات سعودی عرب کے سپرد کیے رکھیں۔

پاکستان نے روایتی طور پر اپنے عرب بھائیوں کے دوسرے گھر کا کردار ادا کیا ہے، اور اب بھی اس کی انسیت اور یگانگت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ اگر ہمارے عرب دوست بھارت کی طرف جھکاؤ رکھنا چاہیں تو بھی ہماری مہمان نوازی اور تعاون میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ دراصل خارجہ معاملات میں ہنگامہ رد عمل کی گنجائش نہیں ہوتی، سوائے اس کے کہ کوئی عارضی تعاون حاصل کرنا ہو یا کسی فریق پر دباؤ ڈال کر کوئی بات منوانی ہو۔ پاکستان کو اس پر فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں کہ امارات بھارت کے ساتھ تعاون بڑھانے جا رہا ہے۔ یقینا عرب دوستوں کے پاس بہت پیسہ اور بھارت پڑی مارکیٹ ہے ، ہم انکے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔

یہاں سوال یہ ہے کہ یہ پیش رفت اس وقت دیکھنے میں آئی جب نریندر مودی اپنی انفراسٹرکچر مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کرنے کے لیے وہاں گئے۔ کیا اسے عربوں کے فرضی یا حقیقی حریف ایران کے خلاف ایک سٹریٹجک شراکت داری کہا جا سکتا ہے؟ یہ بات پریشان کن ہے کہ انڈیا جس طرح آج ایک بڑی مارکیٹ ہے ، تو یہ عشروں پہلے بھی ایسا ہی تھا۔ تاہم ماضی میں یو اے ای اس کی انفراسٹرکچر مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرتا دکھائی نہیں دیا۔

اگر عرب دوست اس مرتبہ اس لیے ایسا کر رہے ہیں کہ انڈیا انہیں ایران کے خلاف ایک سٹریٹجک بازو فراہم کرے گا تو انہیں مستقبل میں ویسی ہی مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا، جیسی انہیں یمن جنگ میں پاکستان کی طرف سے ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ممالک اپنے تعلقات کو اپنے ذاتی نفع نقصان کے ترازو مین پرکھ کر دیکھتے ہیں۔ انکے خارجہ تعلاقات جذباتی نوعیت کے نہیں ہوتے۔ ایک روایتی سچائی یہ ہے کہ قومی مفاد کے سوا کوئی چیز بھی عالمی سطح پر مستقل نہیں ہوتی۔ دوستوں اور دشمنوں کا تعین اسی نسبت سے ہوتا ہے۔

پاکستان نے بہت عقلمندانہ فیصلہ کیا جب اس نے خود کو عربوں کی باہم چپلقش سے دور رکھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عرب ممالک سے ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں لیکن یہ بھی درست ہے کہ ایران بھی ہمارا انتہائی اہم ہمسایہ اور برادر ملک ہے۔ ہم اسکے ساتھ ہونے والی کسی عرب کشمکش کا حصہ بننا افورڈ نہیں کر سکتے۔ اسکے علاوہ عرب ایران تنازع میں، جو دراصل سیاسی اور معاشی ہے، فرقہ واریت کی جھلک نمایاں ہوجاتی ہے۔ کثیر مسالک رکھنے والا ملک، پاکستان کسی ایسی کشمکش میں شریک نہیں ہوسکتا جو اس کے اپنے معاشرے کے لیے تباہ کن ہو۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا جب ہم عرب ایران تنازع سے الگ رہے ، اس سے قبل عراق ایران جنگ کے دوران بھی پاکستان نے اپنی غیر جانبداری برقرار رکھی تھی۔ اسکے بعد جب عراق نے کویت میں فوج کشی کی تو بھی تو ہم پہلی خلیجی جنگ سے الگ رہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان پاکستان کے مخالف نظریات رکھنے والے عرب رہنماؤں جیسا کہ شاہ فیصل ، حافظ الاسد ، قذافی ، شاہ حسین ، مبارک کے علاوہ شاہ ایران کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔ یہ ہماری خارجہ پالیسی کی کامیابی کا بہترین اظہار تھا۔ بعد میں آنے والے دور میں بھی ہمارے دفتر خارجہ نے انہی راہوں پر چلنے کی کوشش کی۔
تاہم، ہم عرب و عجم کی جنگ میں شامل ہونے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں۔ اگر کوئی ہمیں الجھانا چاہے گا تو اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کا لچک دار معاشرہ عرب ایران رقابت سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اگرچہ دیگر ممالک کے برعکس پاکستان میں ریاستی سطح پر کسی خاص مسلک کی حمایت کی پالیسی نہیں بنائی گئی، لیکن ایران ہمارا جھکاؤ عرب نظریات کی طرف سمجھتا ہے۔ عرب اور ایران نے اپنے اپنے پراکسی گروہوں کو ہمارے ہاں ایک دوسرے کے خلاف متحرک کرنے کی کوشش کی۔ اس ضمن میں مبینہ طور پر بھاری سرمایہ کاری بھی کی گئی۔ اس نے ہمارے معاشرے کو مسلکی اعتبار سے تقسیم کر دیا۔ تصادم کی صورت میں عرب یا ایران میں کسی ایک کا کھل کر ساتھ دینا ہمارے معاشرے کا شیرازہ بکھیر دے گا۔ چنانچہ بہتر ہے کہ ہم اسی پرانی روش پر چلتے رہیں اور ان اسلامی ریاستوں کے درمیان جہاں تک ممکن ہو، غیر جانبداری برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔

اس وقت مشرق وسطی ایک نئی قسم کی جنگ کی لپیٹ میں آتا دکھائی دیتا ہے۔ ہمارا ہمسایہ افغانستان بھی ابھی امن کی منزل سے دور ہے۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ خطے میں ہونے والی خانہ جنگی پر قبائلی، مسلگی اور نسلی رنگ بہت گہرا ہے۔ سیاسی وجوہ پر لڑی جانے والی جنگوں کا افہام و تفہیم سے، مذاکرات پر، اختتام ہوسکتا ہے، لیکن بدقسمتی سے ایسی جنگوں میں کسی ایک فریق کا فیصلہ کن حد تک شکست سے دوچار ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اس سے پہلے اسکے شعلے بھڑکتے رہتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے عرب دوست جو مرضی سوچتے رہیں، ہم اس جنگ سے دور رہتے ہوئے اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔

اس وقت مشرق وسطٰی ایک نئی قسم کی جنگ کی لپیٹ میں آتا دکھائی دیتا ہے۔ ہمارا ہمسایہ افغانستان بھی ابھی امن کی منزل سے دور ہے۔ سب سے خطرناک بات یہ کہ خطے میں ہونے والی خانہ جنگی پر قبائلی، مسلکی اور نسلی رنگ بہت گہرا ہے۔ سیاسی وجوہ پر لڑی جانے والی جنگوں کا افہام و تفہیم سے، مذاکرات پر اختتام ہو سکتا ہے، لیکن بدقسمتی سے ایسی جنگوں میں کسی ایک فریق کا فیصلہ کن حد تک شکست سے دوچار ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اس سے پہلے اسکے شعلے بھڑکتے رہتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے عرب دوست جو مرضی سوچتے رہیں، ہم اس جنگ سے دور رہتے ہوئے اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنے کی پوری کوشش کریں گے۔ اسی میں ہماری بہتری ہے۔

درحقیقت گزشتہ کچھ عرصہ سے عربوں نے پاکستان کو سمجھنے میں شدید غلطی کی۔ ہم سفارتی طور پر لچک دار دکھائی دینے کے باوجود حالیہ دنوں اپنے قومی مفاد کا دفاع کرنے پہلی ترجیح سمجھتے ہیں۔ موجودہ دور میں ہم بھی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس جنگ میں ہم کسی کی مدد کے طالب نہیں، بس اتنی درخواست کرتے ہیں کہ ہمارے دوست ممالک اپنے پراکسی لشکروں کی حمایت سے دستبردار ہوجائیں۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو ہم یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ ملک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنی مذہبی رواداری کے پہلے ہر ممکن حد تک بچاتے ہوئے مسلگی جنگوں سے گریز کریں گے۔ اہم بات : ہم ایک بڑی اور طاقت ور ریاست ہیں، اور ہم اپنے مفاد کا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔ یہ بات ہمارا ایک بڑا ہمسایہ بھی جانتا ہے۔

-------------------------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں