نیویارک واشنگٹن ۔ وزیر اعظم کے ’’مشکل‘‘ دورے؟

عظیم ایم میاں
عظیم ایم میاں
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

گوکہ امریکی صدر اوباما کی نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر سوزن رائس نے وزیر اعظم نواز شریف کو دورہ امریکہ کے لئے صدر اوباما کا رسمی دعوت نامہ 30 اگست کو اسلام آباد میں دیا ہے لیکن اس دورہ واشنگٹن کی تاریخ اور فریم ورک پہلے ہی دو طرفہ رابطوں کے ذریعے طے پاچکے ہیں جس کی ایک جھلک آپ ’’جنگ‘‘ کے 17؍اگست کے شمارے میں اسی دورے کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر میں دیکھ سکتے ہیں۔ وزیر اعظم کے خصوصی معاون طارق فاطمی اپنے گزشتہ دورہ واشنگٹن میں امریکی سینیٹر باب کپسی سے ملے تھے۔ 15 اگست کو فلوریڈا میں سینیٹر باب کپسی سے میری ملاقات ایک کے اجلاس میں ہوئی، گفتگو چلی انہوں نے وزیر اعظم کے دورہ واشنگٹن کی تصدیق کی اور اسی حوالے سے تفصیلات پر مبنی خبر شائع ہوگئی۔

ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم 22 اکتوبر کو واشنگٹن پہنچیں گے صدر اوباما سے ملاقات و مذاکرات کے علاوہ امریکی اراکین کانگریس سے ملاقاتوں، امریکن۔ پاکستان بزنس کونسل سے خطاب سمیت اپنی مصروفیات واشنگٹن میں مکمل کرکے ایک دن کے لئے ہوسٹن اور ایک دن کے لئے شکاگو جائیں گے۔ پاکستانی کمیونٹی کی بہت بڑی تعداد والے ان دو شہروں میں پاکستانی کمیونٹی اور متعدد بزنس مینوں سے ملنا مقصود بیان کیا جارہا ہے۔ لیکن اس سے قبل اسی ماہ ستمبر کے آخری ہفتے میں وزیر اعظم نواز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے کے لئے نیویارک بھی آرہے ہیں جس کی تفصیلات اور انتظامات اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی اور ان کے معاون سفارتکار بڑی خاموشی اور محتاط انداز کے ساتھ طے کرنے میں مصروف ہیں۔

ابتدائی تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عیدالاضحٰی کے دوسرے روز 25 ستمبر کو نیویارک آئیں گے ڈویلپمنٹ ایجنڈا کے حوالے سے اقوام متحدہ میں ہونے والے خصوصی اجلاس میں شرکت اور ویک اینڈ کے بعد 28 ستمبر سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس شروع ہوگا۔ سیکرٹری جنرل کی رپورٹ اور رسم کے مطابق برازیل کی تقریر کے بعد عالمی سپرپاور کے صدر اوباما کا اقوام متحدہ سے خطاب نیویارک اور دنیا بھر میں دیکھا اور سنا جائے گا۔ ہمارے وزیر اعظم 29 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کا پروگرام رکھتے ہیں ۔ بھارت سرحدوں پر تصادم اور کشیدگی اور بھارت۔ امریکہ نیا اتحاد سے پیدا صورت حال کے تناظر میں دورہ واشنگٹن آسان نہیں دکھائی دیتا۔ آئیے پہلے ستمبر میں ہونے والے دورہ اقوام متحدہ کا جائزہ لیں۔

(1) موجودہ پاک۔ بھارت کنٹرول لائن اور سرحدوں پر تصادم اور کشیدگی، دونوں ممالک کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزرز کی ملاقات و مذاکرات کی منسوخی کے کشیدہ ماحول میں نیویارک میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان کسی ملاقات مذاکرات کا کوئی امکان نہیں۔ ہاں البتہ وزیر اعظم نواز شریف کشمیر کا ذکر، پاک۔ بھارت ڈائیلاگ کی منسوخی اور مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا اپنے خطاب میں ذکر کریں تو بھارت اپنے خطاب میں جوابی موقف کے ساتھ پاک۔ بھارت کشیدگی میں اضافہ کردے گا اس کی کئی مثالیں اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں پہلے بھی موجود ہیں۔

بھارتی سفارتکار جنرل اسمبلی سے اپنے لیڈر کے خطاب کا وقت پاکستان کی تقریر کے بعد ہی رکھتے ہیں تاکہ پاکستانی تقریر میں اٹھائے جانے والے نکات کا بھارت اپنی تقریر میں ہی جواب دے سکے۔ امریکہ۔ بھارت نئے اتحاد سے بھارت خاصا جارحانہ موڈ میں ہے ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں توسیع اور بھارت کی مستقل نشست کے لئے امریکی حمایت کے باعث اس سال سلامتی کونسل کی توسیع کے ایجنڈے کے لئے ہندوستان سرگرمی دکھائے گا۔ تنازع کشمیر کو حل کئے بغیر سلامتی کونسل کی کشمیر کے بارے میں قراردادوں کی خلاف ورزی کرنے والے بھارت کو سلامتی کونسل کی مستقل نشست ملنا پاکستان کے لئے ایک انتہائی ناموافق صورت حال ہوگی۔

ماضی میں پاکستان کے ذہین سفارتکاروں پر مشتمل ٹیم نے سفیر منیر اکرم کی قیادت میں اپنی تخلیقی ڈپلومیسی کے ذریعے سلامتی کونسل کی توسیع کو روکا تھا اس ٹیم میں موجودہ سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری بھی نمایاں طور پر شامل تھے وہ اس اسٹرٹیجی کی تمام تفصیلات و پیچیدگیوں سے بخوبی واقف ہیں۔ بھارت یہ معاملہ امریکی حمایت سے بدلے ہوئے حالات میں پھر اٹھانے کا پلان رکھتا ہے دیکھیں وزیر اعظم نواز شریف ان کے سفارتکاروں کی ٹیم اور ماہرین ڈپلومیسی اس چیلنج کا سامنا کیسے کرتے ہیں۔

وزیر اعظم کے مجوزہ اہم دورہ امریکہ کے بعض پہلوئوں کا ذکر یوں ضروری ہے کہ اس مرتبہ وزیر اعظم نواز شریف کے دورہ امریکہ کے لئے ’’خوشگوار تعلقات‘‘، ’’دوستانہ ملاقات‘‘، ’’دور رس مفید نتائج‘‘ کے الفاظ لکھنے کی گنجائش کم نظر آرہی ہے۔ وزیر اعظم کو عالمی سپرپاور کے داراحکومت واشنگٹن میں عملاً مکمل تیاری کرکے آنا ہوگا۔ دو ٹوک اور حقائق پر مبنی مدلل انداز میں پاکستانی موقف بیان کرنے اور بھارت کے اتحادی امریکہ کے موقف کو سننے اور اس کے پاکستان پر اثرات سمجھنے کی تیاری کے ساتھ آنا ہوگا کہ بحران سے دوچار قوموں کو بحران سے بچا کر نکالنے والے ناخدا ہی تاریخ میں اچھی جگہ اور قوم کے دلوں میں مقام پاتے ہیں۔

وزیر اعظم کے دورہ واشنگٹن سے قبل ہی بھارت۔ امریکہ اتحاد و تعاون کو مزید مضبوط کرنے والے امریکی دانشوروں اور بھارتی لابی نے پاکستان کے بارے میں جو مہم شروع کر رکھی ہے اس کا ایک نمونہ امریکہ میں فارن پالیسی کے انتہائی معتبر میگزین ’’فارن افیئرز‘‘ کے تازہ شمارہ میں امریکی اسکالر کرسٹین فیئر اور بھارتی نژاد سومیت گنگولی کا ایک تفصیلی مضمون شائع ہوا ہے جس کا عنوان پڑھ کر ہی آپ پاکستان دشمنی سے بھرے ہوئے تفصیلی متن کا اندازہ لگا سکتے ہیں "AN UNWORTHY" اتحادی یعنی ناقابل بھروسہ سے بھی زیادہ آگے کی بات ہے اور ذیلی سرخی ہے کہ ’’واشنگٹن کو پاکستان سے اپنا پیچھا چھڑانے کا وقت آگیا ہے‘‘ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو 30 ارب ڈالرز فراہم کئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ مزید تفصیل اور اپنی رائے قائم کرنے کے لئے پاکستان کے سفارتکاروں اور نواز شریف کی ٹیم کے لئے یہ مضمون پڑھنا ضروری ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ اس مضمون کی مصنفہ کرسٹین فیئر اردو اور پنجابی روانی سے بولتی ہیں۔ وزیر اعظم کو دورہ واشنگٹن کے رسمی دعوت نامہ کے ساتھ ’’ڈومور‘‘ کا امریکی مطالبہ بھی سوزن رائس سے ملا ہے۔

ستمبر میں چین کے صدر وہائٹ ہائوس آئیں گے اور اکتوبر میں ہمارے وزیر اعظم۔ افغانستان میں دہشت گردی اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف پاکستان سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پچھلے 30؍سال سے افغانستان میں دو امریکی جنگوں میں اتحادی بن کر پاکستان کی قربانیوں کا صلہ و اعتراف؟ اس کے برعکس امریکہ کی طرف سےاشارہ دیا گیا ہے کہ کولیشن سپورٹ فنڈ کے 300 ملین ڈالرز کی قسط کو بھی روکنے کا امکان ہے۔ حالانکہ سمجھوتے کی یہ خلاف ورزی ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف یہ رقم اپنے پاس سے خرچ کرچکا ہے امریکہ نے اپنی چیکنگ اور تصدیق کے بعد یہ رقم پاکستان کو ’’ریفنڈ‘‘ کرنا خود منظور کر رکھا ہے مگر امریکی انکار ناخوشی کا مظہر ہے دو ایٹمی ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی کشیدگی سے بھی سوزن رائس کو کوئی واسطہ نہیں پاکستان کے اندرونی خلفشار سے بھی کوئی سروکار نہیں۔ ایٹمی پاکستانی کی صلاحیتوں کے بارے میں بھی تشویش نہیں۔ نواز اور ان کی ٹیم کو قوم کو ایک نکتہ پر متفق کرنے اور مکمل تیاری سے واشنگٹن آنا ہوگا -
---------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں