.

پاکستانی سیاست کا ”خمِ کاکل“

نصرت جاوید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نواز شریف اور ان کی مسلم لیگ کے چاہنے والے بھی بے شمار ہیں۔ عمران خان کے پرستاروں کی طرح لیکن وہ سڑکوں اور سوشل میڈیا پر زیادہ متحرک نظر نہیں آتے۔ انتخابات کے دوران پولنگ سٹیشنوں پرجاتے ہیں اور شیر پر مہر لگانے کے بعد قیمے والے نان وغیرہ کھاتے ہوئے ٹیلی وژن پر اپنی جماعت کے امیدواروں کی جیت کے اعلان کا انتظار کرتے ہیں۔

نواز شریف کے چند چاہنے والوں نے حال ہی میں اپنی جماعت کا انٹرنیٹ پر دفاع کرنا بھی شروع کردیا ہے۔ اگرچہ ”مولوی مدن“ والی بات نہیں بن رہی۔ سنا تو یہ بھی ہے کہ مریم بی بی نے جو خود بھی 2013ء کے سال میں ٹویٹر پر بہت سرگرم نظر آیا کرتی تھیں بڑی محنت سے نوجوان پڑھے لکھوں کی ایک ٹیم تیار کی ہے جو 24 گھنٹے مختلف شفٹوں میں اپنے کمپیوٹر کھول کر ”غزل اور جواب آں غزل“ والے پیغامات Post کرتے رہتے ہیں۔

پوسٹ کو Post لکھنے کے بعد میرا دھیان آج کے موضوع کے بجائے بھٹک گیا طارق چوہدری کی طرف۔ موصوف کا تعلق ”آج“ ٹی وی سے ہے۔ ساہیوال سے اسلام آباد آیا یہ مہربان آدمی دیکھنے میں دیہاتی وضع کا پنجابی پینڈو لگتا ہے۔ اُردو نثر کا مگر ایک سنجیدہ طالب علم ہے۔ میں خوش نصیب ہوں کہ میرا کالم اس کی نگاہ میں رہتا ہے۔

دو روز قبل اس نے فون پر گلِہ کیا کہ میرے کالم میں انگریزی الفاظ بہت استعمال ہوتے ہیں۔ شاید ان کا استعمال اسے زیادہ نہ کھلے۔ پریشان وہ اس وقت ہوجاتا ہے جب میں انگریزی الفاظ کو بعینہ انگریزی حروف میں لکھ ڈالتا ہوں۔ اس کا اصرار ہے کہ اُردو کالم میں چھپے انگریزی حروف نوائے وقت کے صفحہ 2پر نظر پڑتے ہی اُچھل کر آنکھوں کو آلگتے ہیں۔ مجھے ان سے اجتناب برتنا چاہئے۔
طارق چودھری کا کہا سرآنکھوں پر۔ اسی کے خوف سے میں نے اس کالم کی ابتداءہی میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا اُردو حروف میں لکھا ہے البتہ اس خوف کے ساتھ کہ اگر میں اس کے حکم کی مکمل تعمیل پر ڈٹ گیا تو میرا قلم رواں نہ رہ سکے گا اور الفاظ کو سوچ سمجھ کر لکھنے کی کوشش کرنے والے وقفے قاری کے لئے ناقابل برداشت ہونا شروع ہوجائیں گے جبکہ میری شدید خواہش ہوتی ہے کہ بات چاہے میں جیسے بھی شروع کروں میرے پڑھنے والے اس کالم کے اختتام تک میرے ساتھ رہیں۔

تو بات میں نے نواز شریف کا انٹرنیٹ پر دفاع کرنے والوں سے شروع کی تھی۔ آصف علی زرداری نے ذکر پیر کے روز اپنے ایک تحریری بیان کے ذریعے 1990ء کی دہائی میں اس ملک میں ہونے والی سیاست کا کیا تھا۔ میں اس سیاست کو Either/or کہا کرتا تھا۔ صرف یہ دو لفظ لکھ کر لوگوں کو سمجھا سکتا تھا کہ نواز شریف اور بے نظیر کی سیاست بس اس ضد تک محدود ہوکر رہ گئی ہے کہ اگر میں وزیراعظم نہیں تو تم بھی اس عہدے پر اطمینان سے نہیں بیٹھ سکتے یا سکتی۔

Either/or سے جان چھڑانے کے لئے تخت یا تختہ استعمال کرنا شروع کیا تو وہ بات نہ بنی۔ میری مرحومہ ماں کو پنجابی کے علاوہ کوئی زبان نہیں آتی تھی۔ جب بھی لفظوں کے انتخاب کی الجھن میں گھِر جاﺅں تو اسی کا ادا کیا کوئی لفظ اس کے شفیق لہجے میں میرے ذہن میں اُمڈ آتا ہے۔ بالکل یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اس نے سرگوشی میں وہ لفظ ادا کرکے میری مشکل آسان کردی ہو۔
مجھے آج بھی 1996ء کی وہ گھڑی یاد ہے جب نواز شریف کے سردار فاروق لغاری سے خفیہ روابط کی خبر پاکر میں ان کے حوالے سے اپنے انگریزی کالم میں تبصرہ کرنا چاہ رہا تھا۔ نواز شریف کے رویے کو سادہ الفاظ میں بیان کرنے کے لئے مجھے Either/or بھی یاد نہیں آرہا تھا۔ ٹائپ کرتے ہوئے ”کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے“ والا پنجابی محاورہ لکھ ڈالا۔

انگریزی میں چھپے کالم چونکہ اسلام آباد میں مقیم سفارت کار بھی غور سے پڑھا کرتے ہیں اس لئے بریکٹ لگاکر اس محاورے کا مفہوم بھی بیان کرنے کی کوشش کی۔ غالباً ناکام رہا۔ اسی لئے چند سفارت کاروں نے سماجی ملاقاتوں میں اس محاورے کا صحیح تلفظ اور حقیقی مفہوم جاننے کی کوشش کی۔ بڑی مشکل سے جب ا نہیں سمجھا پایا تو کئی ایک نے بتایا کہ ا ن کی اپنی زبانوں میں بھی یہ مفہوم بیان کرنے کو چند محاورے موجود ہیں۔

میری حیرت کی یہ جان کر انتہا نہ رہی کہ ”کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے“ کا قریب ترین اور بہت ہی جاندار متبادل ہسپانوی زبان میں پایا جاتا ہے۔ وجہ اس کی بالکل یہ ہے کہ ہماری طرح لاطینی امریکہ کے بے تحاشہ ممالک میں بھی بارہا فوجی حکومتیں رہیں۔ سیاستدانوں نے طویل جدوجہد کے بعد جمہوریت کو بحال کروایا۔ وہ بحال ہوئی تو فوجی آمریت کے خلاف لڑنے والے سیاست دان باہم دست وگریباں ہونا شروع ہو گئے۔ مجھے کامل یقین ہے کہ ان دنوں ہمارے برادر ملک ترکی میں بھی کچھ ایسا ہی ماحول ہے اور ترکی زبان میں کوئی ایسا محاورہ بالکل موجود ہوگا جو ”کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے“ والی کیفیت کو ایک جملے میں بیان کر دیتا ہو۔
پاکستان میں 1990ء کی دہائی مگر میرا آج کا موضوع ہے اور اس دہائی کا ذکر آصف علی زرداری سے کئی روز پہلے میں نے اس کالم اور انٹرنیٹ پر دئیے چند ریمارکس کے ذریعے کیا تھا۔ نواز شریف اور ان کے چاہنے والے تواتر کے ساتھ دعویٰ مگر یہ کر رہے ہیں کہ 90ء کی دہائی 2015ء کے پاکستان میں دہرائی نہیں جا سکتی۔

2015ء کو 1990ء سے کیفیتی اعتبار سے جدا دکھاتے ہوئے میرے جیسے کم علموں کو یاد دلایا جاتا ہے کہ 90ءکی دہائی میں جو شخص ایوانِ صدر میں بیٹھا ہوتا تھا اس کے پاس آئین کی آٹھویں ترمیم کے تحت منتخب حکومت اور ایوانوں کو گھر بھیجنے کا اختیار ہوا کرتا تھا۔ عدالتیں چونکہ ”آزاد“ نہ تھیں لہٰذا وہ صدر جو چاہتا کر گزرتا۔

آزاد عدلیہ کے علاوہ 90ء کی دہائی میں 24 گھنٹے چیختے چنگھاڑتے ٹی وی چینلز بھی نہیں ہوا کرتے تھے۔ اب جو صدر ہے وہ کونے میں بیٹھ کر دہی کے ساتھ بھلے کھا کرچین کی نیند سوتا ہے۔ عدلیہ بہت آزاد اور میڈیا بہت چوکس اور جی دار ہے۔ جمہوری نظام کو ستے خیراں ہیں۔ نواز شریف بھی سابقہ حکومت کی طرح اپنی پانچ سالہ مدت تمام تر ہنگاموں اور شور شرابے کے باوجود مکمل کر ہی لے گی۔

ذاتی طورپر میں ایک امید پرست انسان ہوں۔ اقتدار کے کھیل کو برسوں تک بہت قریب سے دیکھنے کے بعد دل مگر وسوسوں سے بھرچکا ہے۔ ”چین اک پل نہیں“ والا معاملہ ہوچکا ہے۔ غالب کا محبوب آنگن میں بیٹھا اپنی زلفوں میں پڑی گرہوں کو سیدھا کررہا تھا مگر ”آرائش خمِ کاکل“ نے 1857ء کی افراتفری سے خوفزدہ ہوئے شاعر کو ”اندیشہ ہائے دور ودراز“ میں مبتلا کردیا۔

سندھ کے معاملات، مجھے جان کی امان پاتے ہوئے کہنے دیجئے، پاکستانی سیاست کا ”خمِ کاکل“ ہیں۔ انہیں سنوارنے کی کوشش کیجئے تو محترمہ بے نظیر بھٹو اور جنرل اسلم بیگ کے درمیان اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں۔ غلام اسحاق خان ان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 6 اگست 1990ء والی تقریر فرما دیتے ہیں۔

نواز شریف پہلی بار اس ملک کے وزیراعظم بنے تو سندھ کے ”خمِ کاکل“ کو سیدھا کرنا چاہا۔ انہیں بتایا گیا کہ پیپلز پارٹی کے چند نامی گرامی وڈیروں نے دریائے سندھ کے اطراف جنگلوں میں موجود ”کیٹیوں“ میں ڈاکو پال رکھے ہیں۔ وہ اغوا برائے تاوان جیسے سنگین جرائم کے ذریعے اس صوبے میں امن وامان کو تباہ کر بیٹھے ہیں۔ فوج کی مدد سے ان کی صفائی کرنا ہوگی۔ وزیراعظم نے ہاں کردی تو سندھ آپریشن شروع ہوا۔ پیپلز پارٹی کے حامی گنوائے نامی گرامی ”وڈیرے“ تو اپنی جگہ مطمئن بیٹھے رہے مگر کراچی میں ”حقیقی“ نمودار ہوگئی۔ نواز شریف کا ایم کیو ایم سے اتحاد ختم ہوگیا اور باتیں ”جناح پور“ کی شروع ہوگئی۔

1993ء سے 1996ء کا ذکر تو میں ایک کالم میں کر ہی چکا ہوں۔ بے نظیر بھٹو کے وزیر داخلہ نے اپنے تئیں سندھ کا ”خمِ کاکل“ سیدھا کر دیا تھا مگر ان ہی کی جماعت کے بنائے صدر فاروق خان لغاری نے پیپلز پارٹی کی حکومت کو ”ماورائے عدالت قتل“ کے الزامات کے تحت فارغ کر دیا۔ 12 اکتوبر 1999ء کے قریب پہنچتے ہوئے نواز شریف نے ایک بار پھر حکیم سعید کے قتل کے بعد سندھ کے ”خمِ کاکل“ کو سدھارنا چاہا تھا۔ وہاں کا ”خمِ کاکل“ مگر جوں کا توں رہا۔

اس خم میں ”کاکلوں“ کے انبار کی چند ٹھوس وجوہات ہیں۔ ان کا تفصیلی ذکر آپ کو کہیں پڑھنے یا دیکھنے کو نہیں ملے گا۔ بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ سندھ کی زلفوں میں نظر آتی الجھنیں ہیں۔ ان کا علاج ”کنگھی“ نہیں چند ٹھوس سیاسی فیصلے ہی فراہم کر سکتے ہیں۔ ان دنوں ”کنگھی“ بہت استعمال ہو رہی ہے مگر وہ شیمپو اور Conditioner کہیں نظر نہیں آرہا جو اس ”زلف دراز“ کو ہمیشہ کے لئے سنوار دے۔ الجھنیں جب پوری طرح سلجھ نہ پائیں تو ”کھنگھیوں“ والے ایک دوسرے پر الزامات دھرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ان دنوں یہی کچھ تو ہو رہا ہے۔

--------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.