.

پاکستان میں آخر ہو کیا رہا ہے

نازیہ مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا، ابھی چند ماہ پہلے کی ہی تو بات ہے کہ ملک میں جو کچھ ہو رہا تھا، وہ کسی بھی لحاظ سے اچھا نہیں ہورہا تھا۔ مثال کے طور پر شہر شہر بم دھماکے ہورہے ہیں، ہر گلی، نکڑ اور چوراہے پر خودکش حملہ آور کے پھٹنے کا خدشہ لگا ہوا تھا، کسی بھی جگہ اچانک ٹارگٹ کلرز کے آن دھمکنے اور کشتوں کے پشتے لگنے کا دھڑکا بھی ساتھ ساتھ رہتا تھا، امن و امان اور سیکیورٹی کی صورتحال اس قدر مخدوش تھی کہ اِ ن حالات کو دیکھ کر درد دِل رکھنے والا ہر محب وطن اور حساس شہری چیخ چیخ کر کہنے پر مجبور ہوگیا تھا کہ یہ اِس ملک میں آخر ہو کیا رہا ہے؟ لیکن کوئی اُس کی سننے والا یا اُسے بتانے والا نہیں تھا کہ آخر اِس ملک میں ہوکیا رہا ہے؟

ہاں ہاں! کچھ ہی عرصہ پہلے کی تو بات ہے کہ امن و امان کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے لوگوں کے کاروبار برباد ہوکر رہ گئے تھے، اندرونی سرمایہ دار اپنے اثاثے، کاروبار اور دولت سمیٹ کر بیرون ملک منتقل کررہا تھا اور بیرونی سرمایہ دار خاک و خون کی داستان کا حصہ بننے کے خوف سے پاکستان کا رُخ ہی نہ کر رہا تھا، کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے مہنگائی کا جن بے قابو ہوا پھرتا تھا اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی تھیں، لوگوں کو دو وقت کی روٹی کیلئے جان کے لالے پڑے ہوئے تھے، تھر میں کہیں بچے بھوک سے مررہے تھے اور کہیں پانی نہ ہونے کی وجہ سے ”العتش، العتش“ کی صداؤں نے اس قدر زور پکڑ لیا تھا کہ شہر قائد شہریوں کیلئے کربلا کا منظر پیش کرنے لگا تھا ۔ جی ہاں! یہی تو وہ حالات تھے جن میں ہر کسی کی زبان پر ایک ہی سوال تھا کہ یہ آخر اِس ملک میں ہوکیا رہا ہے؟ لیکن کوئی اِن سوالوں میں بندھی گرہیں کھولنے کیلئے تیار نہ تھا کہ آخر اِس ملک میں ہوکیا رہا ہے؟

یہ کچھ صدیوں پرانی بات نہیں ہے ، بلکہ ابھی چند ماہ پہلے کی بات ہی تو ہے کہ ملک کے اندر کاروباری مراکز تو ایک طرف رہے ،مسجد، مندر اور چرچ سمیت کسی عقیدے یا مذہب کے ماننے والے کی عبادتگاہ محفوظ نہ تھیں، نمازی، پجاری اور پادری خوف کا شکار تھے اور عبادتگاہیں ویران ہونے لگی تھیں، کوئی نہیں جانتا تھا کہ عبادت کیلئے نکلنے والا عبادت گزار عبادتگاہ سے زندہ سلامت واپس گھر لوٹے گا کہ بیساکھی پر واپس آئیگا ، زیادہ خوف تو یہی لگا رہتا تھا کہ ”عابد“ زندہ آئیگا بھی یا وہیں سے ملکِ عدم سدھار جائیگا۔ عبادتگاہوں کی خون آلود دیواروں کو دیکھ کر اِس دنیا کو فانی سمجھنے والے بھی رو دیے تھے کہ یہ آخر اس ملک میں ہوکیا رہا ہے؟ لیکن دکھ کے ماروںکو کہیں سے اپنے سوال کا جواب نہیں مل رہا تھا کہ یہ آخر اِس ملک میں ہوکیا رہا ہے؟

لاہور میں دوست ملک سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کو گولیوں سے بھوننے کی سازش تو ناکام ہوگئی لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ملک میں کھیل کے میدان اجڑ گئے ، لوگوں کی رگوں میں لہو کی طرح دوڑنے والی کرکٹ کی تو جیسے مانگ ہی اجڑ گئی تھی، غیر ملکی کرکٹ ٹیمیں پاکستان کا نام سن کر سر نفی میں ہلادیتی تھیں کہ ”ناں بابا ناں، پاکستان نہیں جانا“۔ پاکستان اپنے حصہ کے میچ بھی کرایے کے پرائے اسٹیڈیم میں کھیلنے پر مجبور ہوگیا تھا، کھیل کے میدانوں کو دوبارہ آباد نہ دیکھ سکنے والے شور مچارہے کہ تھے یہ آخر اِس ملک میں ہوکیا رہا ہے؟ لیکن تب بھی کوئی تدبیر کرنے کیلئے تیار نہ تھا کہ آخر جو کچھ یہ ملک میں ہورہا ہے، اسکے سامنے بند باندھا جائے اور یہ بھی تو کوئی بہت پرانی بات نہیں ہے کہ اسکول ،کالجز اور یونیورسٹیوں سمیت درس و تدریس کی ہر جگہ گولیوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنی ہوئی تھی، گرلز اسکول دشمن کے مورچے سمجھ کر بموں سے اڑائے جارہے تھے، تعلیمی ادارے مقتل اور مذبح خانے بنادیے گئے تھے، لوگ اپنے بچوں اور بچیوں کے جسموں کے لوتھڑے دیکھنے کے خوف سے اُنہیں اسکولوں سے اٹھوارہے تھے، علم کے موتی بانٹنے والے اساتذہ کے بدن گولیوں سے چھلنی کیے جارہے تھے، اِن مایوس کن حالات میں علم کو نور سمجھنے والے تاریکیوں کا شکار ہوئے تو بے ساختہ اُنکے ہونٹوں سے نکلتا کہ یہ آخر اس ملک میں ہوکیا رہا ہے؟ لیکن جو لوگ جوابدہ تھے، انکے ہونٹوں پر تو قفل پڑے تھے، وہ کیا جواب دیتے کہ اِس ملک میں آخر ہوکیا رہا ہے؟

کیا یہ غلط ہے کہ سیاست دانوں نے بہت سا وقت ضائع کردیا، کبھی مفاہمت کے نام پر اور کبھی ”جمہوریت بہترین انتقام ہے“ کا راگ الاپ کر سیاستدانوں نے آخری مہلت بھی ضائع کردی۔ اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے آئین بحال کرکے سب سے بڑا کارنامہ سرانجام دینے کے زعم میں مبتلا کسی ”مدبرِ وقت“ نے بہتری کی کوئی صورت گری کرنے کی کوشش کی نہ ہی سیاستدانوں کے قبیل نے عوام کی اچھائی اور فلاح کیلئے کام کرنے پر توجہ دینا مناسب سمجھا، بلکہ چار دن کی جو ”فرصت گناہ“ ملی اُن میں سے دو لوٹ مار کی آرزو اور دو مزید لوٹ مار کے انتظار میں کاٹ دیے گئے۔کیا اِن لوگوں سے کوئی پوچھنے والا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو مکمل ختم کرنے اور بدعنوانی کے قلع قمع کرنے کا جو کام آج جنرل راحیل شریف اور اُنکی ٹیم کررہی ہے، اس کام سے بھلا ہمارے سیاستدانوں کو کس نے روکا تھا؟

کیا دہشت گردی کے سامنے بند باندھنے میں کسی نے رکاوٹ ڈالی تھی؟کیا کسی نے انکے راستے میں روڑے اٹکائے تھے کہ ملک سے لوٹ مار، بدعنوانی اور کرپشن کے کلچر کو ختم نہ کیا جائے؟ لوگ تو چیخ چیخ کر توجہ دلا رہے تھے کہ بھائی یہ جو کچھ اِس ملک میں ہورہا ہے یہ کسی کے مفاد میں نہیں! یہ گزشتہ حکومت ہی تو تھی کہ جس نے عوام کی چیخ پکار کو صدائے صحرا میں بدل دیا اور کوئی جواب دیا نہ ہی پکار پر لبیک کہتے ہوئے لوگوں کے خدشات، تحفظات اور خوف کو دور کرنے کی کوئی تدبیر کی، لیکن اب جب آگ اِنکے اپنے گھروں تک پہنچی تو گزشتہ حکومت کا ہر شخص واویلا کرنے لگا ہے کہ یہ آخر اس ملک میں ہوکیا رہا ہے؟
اس میں کسی کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ جنرل راحیل شریف اور انکی ٹیم ملک میں امن و امان کی بحالی سے لے کر بدعنوان عناصر کے خاتمے تک جو کچھ کررہی ہے، اِس میں جنرل کی ٹیم کو وفاقی حکومت کی مکمل سپورٹ حاصل ہے، جو لوگ اِس معاملے پر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو ایک پیج پر نہیں سمجھتے، وہ ایک بار پھر اندازے کی غلطی کررہے ہیں!

قارئین کرام!! مسئلہ تو یہ بھی ہے کہ ہمارے سیاستدانوں نے جنرل راحیل شریف کو سمجھنے میں غلطی کی، خاص طور پر پیپلز پارٹی کے گزشتہ دور میں پانچ سال عیاشیوں، اللوں تللوں اور لوٹ مار میں مصروف رہنے والے سیاستدانوں نے تو جنرل راحیل شریف کو سمجھنے میں فاش غلطی کی۔ یہ سیاستدان نہیں جانتے تھے کہ ” کرامہ کاتبین“ ان کا سارا کچا چٹھہ ریکارڈ کررہے ہیں، اب وہی ریکارڈ شدہ کچا چٹھہ کھولا جارہا ہے تو پھر رونا کیسا؟ کل تک عوام پر بری گزر رہی تھی تو کوئی انہیں پوچھنے والا اوراُنکے دکھ ، درد اور غم سننے والا نہیں تھا، لیکن اب اِن سیاستدانوں کے اپنے سر پر پڑی ہے تو پوچھ رہے ہیں کہ آخر اِس ملک میں ہوکیا رہا ہے؟جنرل راحیل شریف کی ٹیم اپنا کام جس انداز میں کررہی ہے، یہ انتہائی ”سمارٹ موو“ ہے، آج سیاستدانوں کے بھیس میں چھپے مجرموں اور دہشت گردوں کے معاونین اور سہولت کاروں کی گرفتاریوں پر چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھانے والوں کو بہت جلد احساس ہو جائے گا کہ یہ آخر اِس ملک میں ہوکیا رہا ہے؟
---------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.