’’حرام‘‘ خور پاکستانی

عبدالقادر حسن
عبدالقادر حسن
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

ہم پاکستانی مسلمان جب کسی غیر اسلامی ملک کا سفر کرتے ہیں تو ہمارے لیے سب سے بڑا مسئلہ وہاں کا کھانا ہوتا ہے جو شرعی لحاظ سے حلال نہیں ہوتا۔ میرا ایک نواسہ انس جو امریکا میں اپنی تعلیم مکمل کر رہا ہے ہر روز اس مشکل کا سامنا کرتا ہے کہ وہ اپنا کھانا تیار کرنے کے لیے وقت کہاں سے نکالے۔

درست کہ ہم نے اسے مالی تنگ دستی سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کی ماں جو لاہور میں رہتی ہے امریکا میں اس کا کھانا تیار نہیں کر سکتی یہ کام اسے خود کرنا پڑتا ہے کیونکہ وہ کوئی بھی قیمت ادا کر کے ہر روز تین وقت کا حلال کھانا حاصل نہیں کر سکتا۔ گوشت سے محروم جو وہ زندگی بھر کھاتا رہا امریکا میں سبزیوں اور گوشت کے بغیر دوسری ناپسندیدہ غذاؤں کی مدد سے چاروناچار اپنا پیٹ بھر رہا ہے۔

کچھ ہی پہلے مجھے یاد آیا کہ ایک بار مولانا مودودی اس ضمن میں بیرون ملک مقیم کسی مسلمان کو مشورہ دے رہے تھے کہ وہ یہودیوں کا کوشر گوشت کھا لیا کرے جو حلال ہوتا ہے چنانچہ میں نے اسے فوراً ہی اس رخصت اور سہولت کی اطلاع دی لیکن قدرے توقف اور تکلف کے بعد اس نے یہودیوں کا ذبیح تو کھا لیا مگر وہ اس سہولت سے محروم ہے کہ کھانے کے وقت کسی بھی ریستوران میں چلا گیا اور کھانا کھا لیا۔ اصل مشکل یہ ہے کہ وہ جو سائنسی قسم کی تعلیم حاصل کر رہا ہے اس کا سب سے بڑا تعلیمی مرکز امریکا ہے۔

امریکا کے ہی ایک ادارے سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس نے جان ہاپکن یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی جس پر اس کے امریکی اساتذہ نے بھی متعجب ہو کر اسے مبارک باد دی لیکن جب وہ نئی یونیورسٹی میں پہنچا تو یہ دیکھ کر حیران اور پریشان رہ گیا کہ پاکستانی طالب علم تو شاید وہ ایک ہی ہے لیکن سو ڈیڑھ سو بھارتی موجود ہیں۔ اس بڑی یونیورسٹی میں اکیلا پاکستانی ہونے کی وجہ سے اس نے گھبرائے بغیر مقابلے کے کچھ ارادے باندھے ہیں اور کامیابی کی دعا کا طلب گار ہے۔ اپنی محنت اور ذہانت سے کامیابی کا امید وار ہے۔

مجھے یاد پڑتا ہے کہ جنرل موسیٰ جب کمانڈر انچیف تھے تو وہ ایک طویل دورے پر جاپان گئے اور وہاں انڈے کھا کر وقت گزارتے رہے۔ طویل عرصہ تک صبح شام انڈے کھانے سے وہ کچھ بیمار پڑ گئے لیکن انھوں نے غذا تبدیل نہیں کی۔ ایسے بے شمار پاکستانی ہیں جو کسی غیر مسلم ملک گئے تو ان کو غذا کا مسئلہ پیش آیا لیکن انھوں نے جوں توں کر کے حلال کھانا ہی کھایا مگر اب معلوم ہوتا ہے کہ ہم پاکستانی کچھ زیادہ ہی گناہ گار ہو گئے ہیں جو اپنے گھر میں ایک سرتاپا مسلمان ملک میں بھی حلال غذا سے محروم ہو رہے ہیں اور گوشت جو کھاتے ہیں وہ مشکوک ہوتا ہے۔

پاکستان کی زندگی میں قدرت کی طرف سے برہمی پہلی بار ہوئی ہے کہ ہم نے مردہ حرام گائے بھینس اور کھوتے کتے تک کا گوشت کھایا ہے اور اب تازہ اطلاع یہ ہے کہ سور یعنی خنزیر کا گوشت بھی کھا رہے ہیں یعنی یہ حرام غذا کھلانے والے بھی بظاہر مسلمان اور کھانے والے بھی مسلمان۔ جہاز میں سفر سے پہلے اگر آپ کہہ دیں تو آپ کو جہاز میں ’مسلم فوڈ‘ ملتی ہے آواز آتی ہے کہ مسلم فوڈ کا آرڈر کس کا ہے۔ بہت کم لیکن بعض ریستوران یہ بورڈ بھی لگا لیتے ہیں کہ یہاں حلال کھانا بھی مل سکتا ہے مگر ہم پاکستانی ایسے حکمرانوں اور منتظمین میں پھنسے ہوئے ہیں کہ حلال خوراک سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔

میں تو ایک ٹھیک ٹھاک گناہ گار آدمی ہوں چنانچہ خوفزدہ ہو کر عرض کرتا ہوں کہ اگر قحط ختم کرنے کے لیے ہم اجتماعی دعا کرتے ہیں یا کسی دوسری مصیبت کے لیے ہم نماز حاجات پڑھتے ہیں تو اپنے لیے حلال خوراک حاصل کرنے کے لیے اجتماعی دعا کیوں نہ کریں۔ سوائے تعجب کے میں اور کچھ نہیں کر سکتا کہ یہ کون سا کوئی مشکل مسئلہ ہے کہ ہمارے حکمران ہماری غذا کو حلال کیوں نہیں کر سکتے۔

یعنی وہ حسب سابق حلال غذا کا بندوبست کیوں نہیں کر سکتے جو برسوں سے میسر رہی ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ میری سمجھ میں یہ بات بالکل نہیں آ سکتی کہ بظاہر نماز روزے کے پابند حکمران اپنی رعایا کو حلال گوشت تک نہیں دے سکتے اور رعایا مردہ گائے بھینس گدھے اور کتے تک کا گوشت کھانے پر مجبور ہیں اور اب خنزیر کا بھی۔ یہ سب گوشت کی وہ اقسام ہیں جو قرآن و حدیث کے مطابق حرام ہیں اور مسلمانوں کو ان کے کھانے سے منع کیا گیا ہے۔

لطیفہ ہے کہ ہمارے حکمران ماشاء اللہ بیت اللہ اور مسجد نبوی میں جا کر اعتکاف بیٹھتے ہیں اور عبادت کرتے ہیں برکت حاصل کرنے کے لیے نکاح تک ان مقدس مقامات پر کرتے ہیں مگر پاکستان میں جس کے وہ ماشاء اللہ بلاخوف و خطر مطلق العنان بادشاہ ہیں اس کے باشندوں کو حلال کھانا بھی نہیں دے سکتے جب کہ کوئی ان سے مفت میں یہ سب حاصل نہیں کرنا چاہتا پاکستان کی تاریخ میں گراں ترین گوشت خریدنے پر تیار ہے۔

ہمارے حکمرانوں کے عزیز رشتہ دار اور سابق ملازمین جو اب مشیر اور وزیر وغیرہ ہیں ان میں سے کسی فرض شناس کی ڈیوٹی لگا دیں کہ وہ قصائیوں کی نگرانی کرے اور پاکستانیوں کو حلال غذا فراہم کرے۔ اگر وہ ایسا کر سکیں تو خدا ان کو اس کا اجر عظیم دے گا۔ کیا یہ کوئی معمولی بات ہے کہ کسی پاکستانی مسلمان کو کھانے کے لیے حلال سامان مل سکے۔ عوام کا خیال تھا کہ صرف وزیر خزانہ ہی حکومت کا کام تمام کرنے کے لیے کافی ہیں لیکن بیچ میں یہ حلال و حرام غذا کا مسئلہ نکل آیا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے گناہ معاف کرے اور ہمارے ایمان کو قصائیوں سے بچائے۔
---------------------
بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں