جنگ کھیڈ نئیں ہوندی ’’جنونیاں دی…؟

بشری رحمن
بشری رحمن
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

یہ افسانہ نہیں… نہ ہی یہ کہانی ہے۔

10 ستمبر 65ء کو ہمارے ایک عزیز کی بہن کی شادی ٹھہر گئی تھی۔ دولہن کا قیام لاہور ماڈل ٹائون میں تھا اور دولہا والے فیصل آباد (اس وقت کے لائل پور) میں رہتے تھے۔ دولہا ڈاکٹر تھا اور اس کے لئے آرڈر آ چکے تھے فوراً زخمیوں کی دیکھ بھال کے لیے سرحد پر پہنچ جائے جذبہ یہ تھا کہ دونوں طرف سے شادی کو ملتوی نہ کرنے کی تجویز آئی۔ اور پروگرام یوں طے کیا گیا کہ ناشتہ کے بعد بارات لاہور پہنچ جائے گی۔ اگلی صبح دولہا محاذ جنگ پر روانہ ہو جائے گا۔ مجھے یاد ہے جب دولہن کو لے کر لاہور پہنچے تو شام کے سائے لمبے ہو رہے تھے۔ جلدی جلدی تمام معاملات طے کر کے مہمانوں کو کھانا کھلایا گیا کیونکہ بلیک آئوٹ ہونے والا تھا۔ تھوڑی دیر بعد لاہور پر اندھیرے کی چادر سی تن گئی… بہت سے مہمان باہر صحن میں آ کر سو گئے۔ سائرن بج رہے تھے۔ سروں پر سے انڈیا کے جنگی جہاز گزر رہے تھے اور کسی کو کوئی خوف نہیں تھا بلکہ لوگ سر اٹھا کر دیکھتے تھے اور پھر سو جاتے تھے کیونکہ انہیں یقین تھا پاک فوج سرحدوں کی حفاظت کر رہی

ہے اور پاک فضائیہ ان کے جنگی جہازوں کا غرور توڑ رہی ہے۔ اگلی صبح دولہا تیار ہو کر محاذ جنگ پر چلا گیا تھا۔ نہ دولہن نے دامن پکڑ کے آنسو بہائے نہ ماں باپ نے قسمیں اور رسمیں یاد دلائیں۔ وہ وقت ایسا تھا کہ سب کے دل میں ایک ہی جذبہ تھا۔ ایک ہی جوش تھا۔ ایک ہی ارادہ تھا کہ اس وقت پاکستان کو ہماری ضرورت ہے۔ جس طرح بھی اپنے وطن کے کام آ سکتے ہوں کام آئیں۔ شہری اپنے طور پر اپنے دفاعی فرائض ادا کر رہے تھے نوجوان لڑکیوں کی ٹولیاں ازخود راتوں کو اٹھ کر پوری آبادی کی حفاظت کرتی تھیں۔ کسی گھر میں اگر رات کو روشنی ہوتی تو خود دروازہ کھٹکھٹا کر کہتی تھیں روشنی بند کر دو۔

اپنے گھر کے اندر بیٹھی ہوئی ہر عورت ہر بچی سمجھ رہی تھی کہ اب مجھے اپنا فرض ادا کرنا ہے۔ اپنی احتیاط سے اپنی دعا سے اپنے ہر کام سے حب الوطنی کا ثبوت دینا ہے۔ صبح ہوتی تو سب سڑکوں پر نکل آتے اور آنکھیں اٹھا اٹھا کر جنگی جہازوں کو آتے اور جاتے ہوئے دیکھتے۔ ریڈیو پر بار بار خندقیں کھود کر ان کے اندر بیٹھنے کے اعلانات ہو رہے تھے مگر پہلے تین دنوں میں جس طرح ہماری زمینی فوج نے انڈین آرمی کے دانت کھٹے کر دیے تھے اور لاہور جم خانہ میں جشن منانے کے خواب کو چکنا چور کر دیا تھا اور جس طرح ہماری دلاور اور بہادر فضائیہ نے ان کے جنگی جہازوں کے پرزے اڑا دیے تھے لاہور کے تمام شہریوں کے حوصلے بلند کر دیے تھے۔ ہر شہری سمجھ رہا تھا کہ میں خود محاذ جنگ پہ ہوں۔ میں خود لڑ رہا ہوں۔ پاکستان کی فتح میری فتح ۔ کوئی خندق میں بیٹھنے کی زحمت نہیں کر رہا تھا۔

1965ء کی جنگ میں ریڈیو پاکستان نے ایک تاریخ ساز اور کبھی نہ فراموش ہونے والا کردار ادا کیا تھا۔ سوشل میڈیا جیسی بے باک سہولتیں نہیں تھیں۔ خبر کا ذریعہ صرف ریڈیو پاکستان تھا۔ جس کے کارکن پلک جھپکے بغیر اپنے فرائض ادا کر رہے تھے اور ایک ایک پل کی خبریں نشر کر رہے تھے۔ اس پر مستزاد یہ کہ قومی ترانوں نے وطن کے ساتھ محبت اور لگن کی ایک آگ بھڑکا رکھی تھی۔ سب شاعر، سب گلوکار، موسیقار خود ریڈیو سٹیشن میں حاضر رہتے تھے۔ وہاں بیٹھ کر ترانے لکھے جاتے، دھنیں بنائی جاتیں۔ کمپوز کیے جاتے۔ اور پھر آن ائر چلے جاتے۔ ہر ترانے کے ہر بول کے اندر شاعر اپنی قوم کے جذبات کی ترجمانی کر رہے تھے۔ جس طرح ہم تاریخ اسلام پڑھتے ہیں اور اوائل زمانوں میں رزمیہ شاعری کی حکایات پڑھتے ہیں کہ جنگوں سے پہلے رزمیہ نظمیں لکھی جاتی تھیں اور یہ نظمیں اس وقت کے جنگی محاذ پر تلواروں کو صیقل کرنے کا کام کرتی تھیں۔

ہمارے ہاں یہ کام قومی ترانوں نے کیا۔ پوری قوم کا مورال بلند کر دیا۔ جب لگاتار فتح مبین کی خبریں آنے لگیں تو ایک ترانہ بہت مشہور ہوا۔ گلی گلی کوچہ کوچہ میں گونجنے لگا ؎
جنگ کھیڈ نئیں ہوندی زنانیاں دی
مہاراج ایہہ کھیڈ تلوار دی اے!!!

ساری دنیا جانتی ہے 65ء کی جنگ میں انڈیا نے منہ کی کھائی تھی اور جنگ بندی کے لئے اسے یو این او میں جانا پڑا تھا… آج جب انڈیا اپنی خود ساختہ جھوٹی فتح کا جشن منا رہا ہے تو اسے یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ اپنے شکست خوردہ حالات کی گواہی وہ پاکستان میں بجنے والے ترانوں سے کیوں نہیں لیتا۔

بہت سا وقت گزر جانے کے بعد جب سیاسی طور پر اور سفارتی طور پر انڈوپاک تعلقات میں بہتری آئی تھی تو انڈیا کے بزرجمہروں نے استدعا کی تھی کہ پاک فوج اس ترانے پر بین لگا دے۔ یعنی…
جنگ کھیڈ نئیں ہوندی زنانیاں دی

انہوں نے کہا تھا اس سے ہمارے فوجیوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ تو پاکستان نے ایک اچھے دوست ملک اور ہمسائے کی طرح ترانے پر بین لگا دیا تھا۔ آج تک ہماری نئی نسل نے یہ ترانہ نہیں سنا۔ ہم وعدہ نبھانے والی قوم ہیں اور ہم دوستی کا احترام بھی کرنے والی قوم ہیں مگر جھوٹ میں برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ آج جو جھوٹ برملا انڈین میڈیا پر بولا جا رہا ہے اس کی نفی کرنے کے لئے ہمیں اس قسم کے ترانے ایک بار تو بجانے پڑیں گے… نہیں تو تھوڑی سی ترمیم کر کے بجا دیں تاکہ ان کی نئی نسلوں کو چتاونی تو ہو… امید تو ہے کہ تخلیق کار شاعر حیات ہوں گے۔ ان کی اجازت سے یا ان کے ورثاء کی اجازت سے اس ترانے میں یوں ترمیم کر لی جائے…

’’جنگ کھیڈ نئیں ہوندی ’’جنونیاں‘‘ دی…
کیونکہ نریندر مودی کو ایک جنونی کہا جاتا ہے۔ اس کی ہردلعزیزی کا گراف انڈیا میں نیچے جا رہا ہے۔ اپنی بہت سی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے اس نے جنگ 65 کا ڈنکا الٹا بجانا شروع کر دیا ہے۔ اور تاریخ کے صفحات کو اکھیڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مقام شکر ہے کہ آج پاکستان سے 65ء کے پاکستان سے بہتر حالت میں ہے۔ مسائل اپنی جگہ ہیں مگر پوری قوم کا جذبہ حب الوطنی پہلے سے ہزار گنا زیادہ ہے۔ ہماری پاک فوج ماشاء اللہ ناقابل تسخیر ہے اور اب پاکستان کو بھی بعض باتوں پر کھل کر اظہار خیال کرنا چاہئے۔ پاکستان کے اندر ظالمانہ دہشت گردی اور خود کش حملوں کے پیچھے ’’را‘‘ کا چہرہ برآمد ہو گیا ہے۔ تو انڈیا اپنی خفت مٹانے کے لئے اپنی شکست کو جشن کا پیراہن پہنا رہا ہے۔

ایک بات ہمیں آخر میں ضرور کہنا ہے یہ دستور سا بن گیا ہے کہ ہر سا ل ستمبر میں 65ء کی جنگ، اور اپنے عظیم شہداء کی یاد میں تقریبات منعقد ہوتی تھیں۔ سکولوں، کالجوں اور اداروں میں بھی۔ اپنے ماضی کو دوہرایا جاتا تھا اور ان کے کارناموں سے نئی نسل کو آگاہ کیا جاتا تھا… مگر کچھ عرصہ سے حکمران غافل ہوئے بیٹھے تھے۔ کوئی بھی پارٹی برسر اقتدار آئے وہ 65ء کی جنگ کو نظر انداز کرنے کی مجاز نہیں ہے۔ شہداء کی قربانیوں کو بھولنے کی مجاز نہیں۔ اگر آپ نئی روایات کی طرح نہیں ڈال سکتے تو پرانی روایات کو کیوں مٹانے پر تل گئے ہیں۔

ہم اپنی سو بار کہی ہوئی بات کو ایک بار پھر دہراتے ہیں۔ پاکستان بہت بڑا ہے۔ پاکستان کا جھنڈا ہر سیاسی پارٹی کے جھنڈے سے بڑا اور محترم ہے۔ پاکستان کے اندر کوئی موجود یا مرحوم سیاسی لیڈر قائداعظم محمد علی جناحؒ بانی پاکستان سے بڑا نہیں ہے اور نہ کبھی ہو گا۔
ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر
(اقبال)
-----------------
بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں