.

پاکستان کے غیر مسلم محافظوں کو سلام

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سیسل چوہدری اس دنیا میں نہیں رہے لیکن جب بھی میں لاہور کی سرفراز رفیقی روڈ یا ایم ایم عالم روڈ سے گزرتا ہوں تو وہ مجھے ضرور یاد آتے ہیں۔ گروپ کیپٹن (ریٹائرڈ) سیسل چوہدری سے میرا پہلا تعارف انکے والد چاچا ایف ای چوہدری کے ذریعہ ہوا تھا۔ ایف ای چوہدری نے ایک فوٹو گرافر کی حیثیت سے پاکستان کے اہم سیاسی واقعات کو بہت قریب سے دیکھا تھا اور ہم لاہور پریس کلب میں ان کی ٹھیٹھ پنجابی میں بیان کی جانی والی آنکھوں دیکھی تاریخ کو بڑے غور سے سنا کرتے تھے۔

1988ء میں سیسل چوہدری ایئر فورس سے نئے نئے ریٹائر ہوئے تھے اور تعلیم و تدریس سے وابستہ ہو چکے تھے لیکن مسیحیوں کی فلاح و بہبود کیلئے سرگرم رہتے تھے اور مسیحیوں کے مسائل اجاگر کرنے کیلئے اپنے والد کے ذریعے مختلف اخبارات میں ان کے جاننے والوں سے رابطے میں رہتے۔ سیسل چوہدری کی گفتگو تحریک پاکستان میں مسیحیوں کے کردار سے شروع ہوتی۔ پھر وہ چھ ستمبر 1965ء کی جنگ میں اپنے کمانڈر اسکوارڈن لیڈر سرفراز رفیقی کی بہادری کے قصے بیان کرتے۔ 7 ستمبر 1965ء کو ایم ایم عالم کی طرف سے 45 سیکنڈ میں پانچ بھارتی جہاز گرانے کا واقعہ بتاتے اور آخر میں بڑی عاجزی سے کہتے کہ 1965ء اور 1971ء کی جنگ میں کچھ کردار میرا بھی تھا اور مجھے بھی ستارہ جرأت ملا تھا۔

پھر وہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں اپنے ساتھ ہونے والی کچھ زیادتیوں کا ذکر کرتے لیکن آخر میں پُر عزم لہجے میں کہتے کہ ہمارے بزرگوں نے قائد اعظمؒ محمد علی جناح کیساتھ مل کر پاکستان بنایا تھا اور ہمارے بچے آپ کے بچوں کیساتھ مل کر پاکستان کو آگے لے کر جائیں گے۔ زندگی کے آخری دنوں میں انہوں نے شہباز بھٹی کیساتھ مل کر یہ مہم چلائی تھی کہ تحریک پاکستان میں غیر مسلموں کے کردار کو مطالعہ پاکستان میں شامل کیا جائے اور دفاع وطن کیلئے قربانیاں دینے والے مسلح افواج کے غیر مسلم افسران اور جوانوں کا بھی مناسب ذکر کیا جائے۔ وہ اکثر اوقات 23 جون 1947ء کو متحدہ پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے اجلاس کا ذکر کرتے جس میں فیصلہ کیا جانا تھا کہ پنجاب کو پاکستان میں شامل کیا جائے یا ہندوستان میں؟ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر دیوان بہادر ایس پی سنگھا، سی ای گیبون اور فضل الٰہی کا تعلق مسیحی برادری سے تھا۔ ان تینوں نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا۔ ہندوستان کے حق میں 88 اور پاکستان کے حق میں 91 ووٹ آئے۔ تین مسیحی ارکان کے ووٹوں کے باعث فیصلہ پاکستان کے حق میں آیا لیکن برطانوی سرکار کی بد دیانتی کے باعث پنجاب کو تقسیم کر دیا گیا حالانکہ پٹھان کوٹ اور گورداسپور کے مسیحیوں نے اپنے وکیل چوہدری چندو لال کے ذریعے بائونڈری کمیشن سے کہا تھا کہ وہ پاکستان میںشامل ہونا چاہتے ہیں۔

6 ستمبر 2015ء کو 1965ء کی جنگ کے 50 سال پورے ہونے پر پاکستان میں خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ سیسل چوہدری اپنی زندگی میں یوم دفاع بڑے جوش و خروش سے مناتے اور پھر 7؍ ستمبر کو یوم فضائیہ والے دن فون کر کے اپنے شہید اور غازی ساتھیوں کے کارنامے بیان کرتے۔ وہ ایک چلتا پھرتا پاکستان تھے۔ اس سال 6؍ ستمبر کی تقریبات میں میری نظریں سیسل چوہدری کو تلاش کرتی رہیں۔ سیسل چوہدری پاک فضائیہ کے ان سات بہادر افسروں میں سے ایک تھے جن کو ستارہ جرأت سے نوازا گیا۔ ان کے علاوہ یہ اعزاز ایئر وائس مارشل ایرک جی ہال، ایئر کموڈور نذیر لطیف، اسکوارڈن لیڈر ولیم ڈیمنڈ ہاونی، اسکوارڈن لیڈر پٹیر کرسٹی اور ونگ کمانڈر مارون لسیلے اور ایئر کموڈور بلونت کمار داس کو بھی ملا۔ دفاع پاکستان کیلئے 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں اہم کردار ادا کرنے والے ایک اور سپوت کرنل ریٹائرڈ ایس کے ٹریسلر کیساتھ بھی میری نیاز مندی رہی ہے۔ ٹریسلر صاحب آج کل پاکستان میں نہیں۔ میں ان کی حق گوئی کا ہمیشہ معترف رہا ہوں۔

1965ء کی جنگ میں انہوں نے چھمب سیکٹر، کرنل ڈبلیو ہربرٹ نے ظفر وال اور شکر گڑھ سیکٹر میں، کرنل کے ایم رائے نے بیدیاں سیکٹر میں اور بریگیڈیئر انتھونی لیمب نے کھیم کرن سیکٹر میں دفاع وطن کا فریضہ سر انجام دیا۔ بریگیڈیئر ڈنئیل آسٹن نے 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں بہادری دکھانے پر تمغہ بسالت حاصل کیا تھا۔ کرنل ایل سی راتھ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے 1948ء میں مظفر آباد اور پونچھ سیکٹر، 1965ء میں چھمب اور 1971ء میں پونچھ سیکٹر میں دشمن کا مقابلہ کیا۔ لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ ڈیرک جوزف کو 1971ء کی جنگ میں تمغہ جرأت اور میجر ریٹائرڈ رامون کو تمغہ بسالت ملا۔ کرنل فلپ عطارد اور میجر جوزف شرف 1971ء میں مشرقی پاکستان میں تھے اور تین سال بھارت کی قید میں رہے کرنل ریٹائرڈ البرٹ نسیم اور بریگیڈیئر ریٹائرڈ سائمن سیمسن شرف دو مایہ ناز مسیحی ملٹری آفیسرز ہیں جنہوں نے ستارہ امتیاز ملٹری حاصل کیا۔

1971ء کی جنگ میں لاہور کے محاذ پر ایک توپچی نعمت مسیح نے بڑی شہرت پائی جو اپنی توپ پر صلیب لٹکائے دشمن پر گولے برسایا کرتا تھا۔ پاکستانی فوج کے دو مسیحی افسران میجر جنرل کے عہدے تک پہنچ چکے ہیں۔ میجر جنرل ریٹائرڈ جولین پیٹر نے 1971ء کی جنگ میں حصہ لیا اور جنگی قیدی بھی بنے۔ ان کے بعد اسرائیل نوئیل کھوکھر بھی میجر جنرل کے عہدے تک پہنچے۔ دفاع پاکستان کیلئے قربانیاں اور بہادری کے کارنامے سرانجام دینے والے مسیحی افسران اور جوانوں کے بارے میں اعظم معراج کی حال ہی میں ایک کتاب بھی شائع ہوئی ہے جس کا نام ’’سبز و سفید ہلالی پرچم کے محافظ شہداء‘‘ ہے۔ اس کتاب میں ان مسیحی جانبازوں کا بھی ذکر ہے جنہوں نے سیاچن اور قبائلی علاقوں میں وطن کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کر دیں۔ اعظم معراج نے اس کتاب کی تکمیل کیلئے بہت محنت کی جس پر وہ شاباش اور شکریئے کے مستحق ہیں۔ انہوں نے میجر سرمس رئوف (تمغہ بسالت) کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا ہے جن کا تعلق 12 این ایل آئی سے تھا۔ انہوں نے کارگل کی جنگ میں حصہ لیا تھا اور 13ستمبر 2007ء کو جنوبی وزیرستان میں ارض وطن پر قربان ہو گئے۔

یہاں میں پاک بحریہ کے ایک سابق ڈپٹی چیف ریئر ایڈمرل لسیلے منگا وین کا ذکر بھی ضروری سمجھتا ہوں جو 1971ء کی جنگ میں بھارت کے قیدی بنے۔ انہوں نے تمام عمر پاکستان کی خدمت کی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے اپنی جمع پونجی اکلوتی بیٹی کے سپرد کرنے کی بجائے نیوی سیلرز فنڈ کو دے دی۔ پاکستان کی تینوں مسلح افواج رینجرز، ایف سی، پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز میں شامل غیر مسلم افسران اور جوان ہمارے قومی پرچم کے سفید حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ پاکستان کی پہچان ہمارا قومی پرچم ہے اور یہ سبز پرچم سفید حصے کے بغیر نامکمل ہے۔

آج پاکستان کے اس قومی پرچم کی سربلندی کا فریضہ سرانجام دینے والوں میں ایک سکھ کیپٹن ہرچرن سنگھ اور آرمی میڈیکل کور کے دو ہندو ڈاکٹر انیل کمار اور دینش بھی شامل ہو چکے ہیں۔ کچھ سادہ دل پاکستانی کہتے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا تھا تو پھر اسلام کے نام پر بنائے گئے ملک کی فوج میں غیر مسلم کیسے شامل ہو سکتے ہیں؟ ان سادہ دلوں کی خدمت میں عرض ہے کہ ایک حقیقی مسلم ریاست میں غیر مسلموں کے حقوق کی حفاظت کرنا سب مسلمانوں کا فرض ہے اور اس مسلم ریاست کو بیرونی خطرے سے بچانا تمام غیر مسلم شہریوں کا بھی فرض ہے۔ سیسل چوہدری کے مسیحی آبائو اجداد نے تحریک پاکستان کی حمایت اس امید پر کی تھی کہ پاکستان میں غیر مسلموں کے گرجے اور مندر محفوظ رہیں گے۔ آج کیپٹن ہرچرن سنگھ پاکستان کے پرچم کو اس لئے سلامی دیتا ہے کہ پاکستان کے قومی شاعر علامہ اقبالؒ نے گورونانک کے بارے میں کہا تھا:

پھر اٹھی آخر صدا، توحید کی پنجاب سے
ہند کو ایک مرد کامل نے جگایا خواب سے

--------------------------
بہ شکریہ روزنامہ جنگ
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.