.

بھارتی فلم جس پر پابندی لگی

محمد عامر خاکوانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پچھلے چند دنوں میں دو فلمیں ایسی دیکھیں، جن پر بات کرنا چاہ رہا ہوں۔ فلم پر لکھنے کا سوچا تو ابن انشاء مرحوم کے لازوال شگفتہ کالموں میں سے ایک کالم یاد آ رہا ہے۔ انشا جی کو ایک پاکستانی فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ فلم میں مخصوص انداز کے گانوں ، روایتی فلمی رقص ، ہیروئن کا چلبلی حرکتوں، ہیرو کی مصنوعی ناراضی، ہیروئن کا بھاگ بھاگ کر اسے منانا اور پھر اچانک ہی ہیرو کی برہمی ختم ہوتے ہی اسکی جانب سے پرجوش رقص کا مظاہرہ ، ولن کی اوٹ پٹانگ لڑائیاں۔۔۔ ان سب چیزوں نے اردو کے سدا بہار مزاح نگار کو ایک خوبصورت کالم لکھنے پر اکسایا۔ سچ تو یہ ہے کہ انشاء جی جیسی بے ساختہ شگفتہ نثر کم ہی پڑھنے کو ملی۔ فکاہیہ اردو لکھنے کے خواہشمندوں کو ابن انشاء کے در پر دستک ضرور دینی چاہیے۔ اردو کی آخری کتاب، خمار گندم، چلتے ہو تو چین کو چلئے، نگری نگری پھرا مسافر اور پردے میں رہنے دو کے نام سے ایک ہفت روزہ میں شائع ہونے والی تحریریں، ہر ایک کتاب بار بار پڑھنے بلکہ سنبھال کر رکھنے کے قابل ہے۔

بات فلم سے شروع ہوئی تھی، ان صالحین سے معذرت جو فنون لطیفہ کو لہو و لعب سمجھتے اور ٹی وی ڈرامہ، تھیٹر ، فلم و غیرہ سے پرہیز فرماتے ہیں۔ ہم جیسے دنیا دار ان تفریحات کے تو قائل ہیں، رفتہ رفتہ یہ البتہ ہوا کہ اب سطحی، جذباتی ڈرامے یا فلمیں جی کو نہیں بھاتیں۔ کوئی نقطہ ایسا ہونا چاہئے، بڑا خیالم نئی بات، کچھ ہٹ کر لکھا، فلمایا گیا تھیم یا پھر اداکاری ہی غیر معمولی ہو۔

پاکستانی فلم انڈسٹری تو عرصہ ہوئے دم توڑ گئی، اب دوبارہ سے زندگی کے کچھ آثار تو پیدا ہوئے ہیں، لیکن یہ سب کمرشل انداز سے کیا جا رہا ہے۔ جتنی فضول کوئی عام بھارتی کمرشل فلم ہو سکتی ہے، ویسی ہی اگر یہاں بن جائے تو کیا فرق ڈالا گیا؟ وہاں کی فلموں میں غیر ضروری بلکہ بلا جواز آئیٹم نمبر پر خود بھارتی اخبارات میں بھی تنقیدی مجامین شائع ہوتے ہیں، اگر پاکستنی فلموں میں ویسے ہی بولڈ آئیٹم نمبر، عامیانہ بلکہ فحش مذاق، جگتیں (جنکے لئے مغرب میں ٹوائلٹ جوک کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے) شامل کر کے ناظرین کی ایک معقول تعداد کو اکٹھا کیا جا رہا ہے تو میرے خیال میں یہ ایسی کامیابی نہیںِ جس پر ناز کیا جا سکے۔

ارادہ تو تھا کہ بھارتی فلم فینٹم پر بات کروں گا، جسے ہمارے ہاں ریلیز نہیں ہونے دیا گیا، مگر بات اور طرف چلی گئی۔ بھارتی فلم فینٹم پر سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا میں ایک بحث پیدا ہوئی۔ بعض لوگوں نے سوال اٹھایا کہ فلم پر پابندی کیوں لگائی گئی؟ گزشتہ روز اسے دیکھنے کا موقعہ ملا تو اندازہ ہوا کہ پابندی بالکل درست لگی۔ کہانی کے مطابق را کے بعض افسر اپنے طور پر یہ منصوبہ بناتے ہیں کہ کوئی ایسا گمنام سابق فوجی ڈھونڈا جائے تو ممبئی حملوں کے مبینہ ملزموں کو ایک ایک کر کے قتل کر دے۔ سیف علی خان کو اس مقصد کے لئے چنا جاتا ہے، وہ پہلے لندن میں جا کر ساجد میر نامی ایک مبینہ لشکر طیبہ ہینڈلر کو قتل کرتا ہے، پھر ایک بچگانہ پلاننگ کے ذریعے امریکی جیل میں جا کر ڈیوڈ کولمین ہیڈلے (ممبئی حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ) کو بھی نشانہ بنا دیتا ہے۔ اس کے بعد وہ پاکستان آ کر لشکر طیبہ کے مبینہ سربراہ حارث سعید (یہ کہنے کی ضرورت تو نہیں کہ ڈائریکٹر کا اشارہ کس کی طرف ہے) کو نشانہ بنانا اسکا ٹاسک ہے۔ فلم کا دوسرا نصف حصہ اسی کے گرد گھومتا ہے۔ مجھے ان لوگوں پر حیرت ہوئی جنکے خیال میں اس فلم میں کوئی ایسی خاص بات نہیں کہ اس پر پابندی لگائی جائے۔

پہلی بات تو یہ سمجھ لی جائے کہ بھارت میں اس طرح کی فلمیں مسلسل بن رہی ہیں اور وہ اچھا بھلا بزنس بھی کر رہی ہیں، انکا کاسٹ بھی معروف فنکاروں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان تمام فلموں کا ایک خاص زاویہ اور مقصد ہے۔ یہ بھارتی فلم بینوں کو پاکستان کے خلاف ذہنی طور پر تیار کرنے، انکے انداز ایک خاص قسم کی نفرت پیدا کرنے اور کچھ باتیں انکے لاشعور میں ڈالنے کی سنجیدہ کوششیں ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ماضی میں ایسی فلمیں پروپیگنڈا سٹائل میں بنتی تھیں، انکا اثر بھی محدود تھا۔ آج کل کی یہ فلمیں بڑے طریقے سے بن رہی ہیں اور باریک واردات ڈالی جاتی ہے۔ ایسی سلیقے کے ساتھ کہ دیکھنے والا اسے پروپیگنڈہ نہیں بلکہ ایک ثابت شدہ حقیقت سمجھے۔ اسی فلم کو لے لیں، اس میں چار پانچ ایسی باتیں ایسے قرینے کے ساتھ شامل کی ہیں کہ روٹین میں دیکھنے والے کو شائد اندازہ ہی نہ ہو، مگر وہ اسکے لاشعور کو متاثر کر جائیں۔

سب سے پہلے تو اس بھارتی فلم میں آغاز اس بات سے ہوا کہ ممبئی حملے لشکر طیبہ نے کرائے تھے اور جیسے یہ تو مسلمسہ حقیقت ہے۔ حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ، ممبئی حملوں میں منظم طور پر لشکر طیبہ یا کسی بھی دوسری تنظیم کے ملوث ہونے کے ثبوت کہیں موجود نہیں۔ خود بھارت میں بھی ان حملوں کے حوالے سے بعض سوالات اٹھائے گئے۔ خاص کر ممبئی میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ہمینت کرکرے جس طرح قتل ہوئے، اس پر خود بھارت میں کتابیں شائع ہو چکیں، کبھی وقت ملا تو ایک ایسی ہی کتاب پر گفتگو کریں گے۔ بھارت کے وزرا کی سطح کی سیاستدان اس پر شک کا اظہار کر چکے ہیں کہ یہ حملے انتہا پسند ہندوؤں نے کرائے ہیں۔

فلم میں ایک طرح یہ بھی ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش کیا گیا ہے کہ پاکستانی خفیہ ادارے لشکر طیبہ کے سرپرست ہیں، وہ ان کے ماسٹر مائنڈ، ہینڈلر اور ٹرینر ہیں۔ پوری فلم اسی بھارتی پروپیگنڈے کے گرد گھومتی رہی۔ ڈائریکٹر نے ایک دو فنکاروں سے یہ بات کہلوائی کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے اور ہمارا یہ آپریشن پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردوں کے خلاف ہے۔ یعنی انہوں نے خود ہی چند لوگوں کے بارے مین فرض کیا کہ یہ ممبئی حملوں کے پیچھے ہیں انکو مجرم قرار دے دیا، ان کو مارنے کا مشن ترتیب دیا اور پھر ایک طرح سے پاکستانی فلم بینوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اگر کبھی بھارتی ایجنسی را اس طرح کا آپریشن کرے تو اس میں کوئی قباحت نہیں، اسے پاکستان کے خلاف نہیں سمجھنا چاہیے۔

فلم میں یہ دکھایا گیا کہ لشکر کے لڑکے خودکش بمبار ہیں اور وہ پاکستان میں خودکش دھماکے کرتے رہے، ایسے ہی ایک خودکش بمبار کی ماں بھارتی ایجنٹوں کا ساتھ دینے پر تیار ہوجاتی ہے۔ یہ اس لحاظ سے احمقانہ بات ہے کہ لشکر طیبہ بنیادی طور پر کشمیری جماعت ہے جسکا اصل محاذ مقبوضہ کشمیر ہی رہا ۔ اسکا کبھی طالبان سے کوئی تعلق رہا نہ ہی وہ پاکستان میں کبھی کسی قسم کی کارروائی میں شامل ہوئے۔ ویسے بھی کشمیری عسکریت پسندی کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہ لشکر کے لوگ خودکش حملے کے قائل ہی نہیں ، مقبوضہ کشمیر مین بھی وہ بھارتی فوج کے خلاف خودکش حملے نہیں کرتے رہے، وہ فدائی حملوں کے قائل تھے۔ سب سے اہم اور باریک واردات جو ڈائریکٹر نے بڑی ہوشیاری سے ڈالی، وہ یہ ہے کہ انہوں نے بظاہر پاکستانی اداروں کو بڑا مستعد اور ہوشیار دکھایا، جن کے پاس وسائل ہیں اور جو بہت جلد کڑیاں جوڑ کر ہیرو یعنی بھارتی ایجنٹ کے بارے میں جان گئے۔ عام پاکستان فلم بین یہ سوچ سکتا ہے کہ دیکھیں بھارتی فلم میں ہمارے اداروں کے لوگوں کو سمارٹ دکھایا گیا۔ اصل نقطہ مگر اس میں یہ تھا کہ بھارتی ایجنٹ پاکستانیوں سے زیادہ سمارٹ ہیں، ایک ایجنٹ نے سب کو گھما دیا اور بظاہر ناممکن مشن مکمل کر ڈالا

میرے خیال میں بھارتی فلموں کی پاکستان ریلیز کے حوالے سے پالیسی پر نظر ثانی ہونی چاہیے۔ خاص کر ایسی فلموں کو ہر حال میں بین ہونا چاہیے۔ پاکستان دشمن فلموں کو خود پاکستان سے کروڑوں روپے کمانے کا موقعہ دینا تو پرلے درجے کی حماقت ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ فلم دیکھنے والے لاشعوری طور پر ہیرو کے ساتھ ہو جاتے ہیں، انکی ہمدردی دلیر، نڈر ہیرو اور خوبصورت ہیروئنن کے ساتھ رہتی ہے۔ جب ہیرو بھارتی ایجنسی را کا کوئی ایجنٹ ہوگا تو پھر وہ ملک میں را کے نیٹ ورک پکڑے جا رہے ہوں، بھارتی ایجنٹ ہر جگہ گھسنے کی کوشش کر رہے ہوں، ایسی صورت میں ہر معاملے کو پوری سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ فلم بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ''دنیا''

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.