.

جنگ ستمبر کا ابلاغی مورچہ

ڈاکٹر مجاہد منصوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک قوم اپنے سے 5 گنا عسکری طاقت کے حامل جارح دشمن کی جارحیت کے مقابل ناقابل تسخیر سیسہ پلائی دیوار کیسے بن سکتی ہے ؟ کسی قوم کے قومی اتحاد کے لئے یہ سیسہ پلائی دیوار بننا فقط محاورہ ہی ہے یا یہ کسی نوع کی حقیقت بھی ہے ؟ جنگوں کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو کچھ مثالیں ایسی ملیں گی کہ دشمن سے جنگ کے وقت کوئی قوم متحد و منظم ہو گی۔زیادہ تر واقعات ایسے ہی ہیں کہ اگر کسی قوم پر اچانک بیرونی حملہ ہوا تو اس کی فوج نسبتاً کمزور یا تیار نہ ہونے کے باعث حملہ آور نے ہدف حاصل کرلیا۔ بلاشبہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں جنگ کے سب فریق ممالک کی افواج اور عوام میں ہم آہنگی بلند درجے پر رہی لیکن ہر دو جنگوں میں مصروف ممالک میں اقوام کا مورال اس بلند درجے پر نہیں پہنچا کہ وہ ناقابل تسخیر ہو جاتیں۔ انہیں اپنا بلند مورال کی انسپائریشن اپنے ملک کے جنگی اتحادیوں سے مل رہی تھی ناکہ اپنے عوام کے کسی بے مثال جذبے و جرات سے۔ ان ممالک میں فوج کو اپنے شہریوں کی تائید و حمایت اور تعاون تو حاصل رہا لیکن عوامی بہادری کا وہ غیر معمولی جذبہ جو اپنی لڑتی افواج کے عملاً شانہ بشانہ ہونے میں ڈھل جائے مفقود ہی رہا۔ طویل جنگی تاریخ میں اس کی اگر کوئی محو کر دینے والی نظیر ملتی ہے تو 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں ’’پاکستانی افواج اور ملک کی سول آبادی‘‘ کا بھارتی جارحیت کو ناکام بنانے کےلئے یوں یکجا ہو جانا تھا کہ فوجی اور سول کا امتیاز کم سے کم رہ گیا، گویا پوری قوم دفاع کے ایک بے مثال عسکری جذبے میں ڈھل گئی کہ بھارت پر پوری پاکستانی قوم کی ہیبت اتنی طاری ہو گئی کہ 5گنا ہونے اور پوری تیاری اور منصوبے سے پاکستان کے تقریباًخالی پڑے بارڈر کے حساس ترین مقامات پر ممکنہ حد تک حملہ آور ہونے کے باوجود بھارت بھاری جانی نقصان سے دوچار ہوا، اس کا سینکڑوں مربع کلو میٹر کا رقبہ اور بعض حساس ترین بھارتی سرحدی قصبات پر پاکستان کا قبضہ ہو گیا چند روز میں اس کے جنگی ایئر بیس کھنڈر بن گئے صدر ایوب کی تقریر کے عین مطابق پاکستانی قوم (لڑتی افواج اور اس کی پشت پناہ پاکستانی عوام) جارح بھارت کے خلاف حقیقتاً سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہو گئی۔ وہ بھی آناً فاناًاور ملک کے قریہ قریہ میں عوام جارح بھارت کے مقابل فقط محاورتاً نہیں ’’اصلاً اور حقیقتاً سیسہ پلائی دیوار بن گئے ‘‘ لاہور، سیالکوٹ اور قصور کی شہری آبادیوں کا اگلے مورچوں پر داد شجاعت دیتے پاکستانی جوانوں سے ایک ایسا عملی نوعیت کا نتیجہ خیز رابطہ بنا کہ دنیا کی قدیم اور جنگوں میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ معجزاتی طاقت جس نے پاکستانیوں کے اپنی ریاست کے ’’مملکت خداداد‘‘ ہونے پر یقین پختہ کر دیا کیسے پیدا ہوئی؟ جبکہ فقط ایک سال قبل ملکی سیاسی جماعتیں متنازع انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح کے ہار جانے یا ہرائے جانے پر ایوب حکومت سے نالاں تھیں۔ گو 1963ء میں ایوبی آئین کے نفاذ کے بعد ملک میں مارشل لا نہیں رہا تھا لیکن اپنے پیشہ ورانہ پس منظر کے حوالے سے ایوب خاں جرنیلی صدر ہی سمجھے جاتے تھے۔ پھر یہ کیسے ہوا کہ ریڈیو پاکستان سے ایوب خاں کا ڈیڑھ منٹ کا اعلان جنگ اس قدر نتیجہ خیز ثابت ہوا کہ اس مختصر خطاب میں انہوں نے جو محاورے افواج اور سول آبادی کے حوصلے کے لئے استعمال کئے وہ عین عمل میں ڈھل گئے۔ جیسے واقعی پاکستانی( لڑتی افواج اور عملاً اس کے شانہ بشانہ ہوئے عوام ) حقیقتاً ایسی قوم میں ڈھل گئے ،جس کا بھارت کوئی اندازہ نہ کر پایا کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے۔

پاکستان ہی نہیں دنیا بھر کے ابلاغ عامہ کے طلبا، اسکالرز اور محققین کے لئے مطالعے اور تحقیق کا یہ دلچسپ ایریا ہے کہ ’’کیسے‘‘ پاکستانی قوم دفاع پاکستان کے لئے ابلاغ عامہ کے ذریعے مختصر ترین پیغامات کی ڈلیوری سے آناً فاناً غیر معمولی طور پر اتنی منظم اور متحد قوم بنی کہ ناصرف یہ لمحوں میں اصلاً سیسہ پلائی دیوار میں ڈھل گئی بلکہ یہ جنگ کے ہر محاذ پر افواج کے عملاًشانہ بشانہ ہو گئی۔‘‘

واضح رہے کہ جنگ شروع ہونے سے قبل صدارتی الیکشن 1964ء کے متنازع نتیجے کے حوالے سے ایوب حکومت اور اپوزیشن میں اختلاف کی نوعیت شدید تھی ، خصوصاً مشرقی پاکستان اور سب سے بڑا شہر کراچی شہر حکومت کا سخت ناقد تھا۔ لیکن اگلے ہی روز تمام اپوزیشن لیڈر صدر ایوب کو اپنی ہر طرح کی مدد و تعاون کا یقین دلانے کےلئے ایوان صدر میں موجود تھے ۔صدر ایوب کے مختصر ترین اعلان جنگ کی پوری قوم پر لمحات میں ہونے والی اثر پذیری اور اس کے فالو اپ میں ریڈیو پاکستان کے بے پناہ سراعت سے تیار ہونے والے سحر انگیز جنگی ترانے بے پناہ حوصلہ پیدا کرنے والے اس کے نیوز بلیٹنزاور جزوی آزاد اور سرکاری پریس کی باکمال وار رپورٹنگ اور دیگر کوریج نے انتہائی بہادری سے جنگ لڑتی پاکستانی قوم کو اتنی اثر انگیز اور نتیجہ خیز ابلاغی معاونت (کمیونیکیشن سپورٹ) عطا کی جس کی کوئی مثال جنگی تاریخوں میں نہیں ملتی۔پاکستان کے اس جنگی ابلاغ سے اس مملکت خداداد کی اچانک اس ابلاغی صلاحیت کا پتہ چلا جس سے دشمن بھارت ذہنی طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا۔ جہاں پاکستان کے پوری قوم کو گرما دینے والے جنگی ترانے اگلے مورچوں پر شجاعت کی سنہری داستانیں رقم کرنے والے فوجیوں کے لئے بے پناہ موثر نفسیاتی سہارا بنے، وہاں یہ ابلاغی معاونت ہماری قومی سیاسی قیادت سے لیکر دور افتادہ دیہات میں مسلسل جذبہ اتتحاد و جہاد کو بڑھا رہی تھی ۔جبکہ ریڈیو پاکستان لاہور، جس سے فقط جنگ کا گرم ترین محاذ کوئی دس بارہ میل کے فاصلے پر بی آر بی نہر کے دونوں کناروں پر تھا لاہور ریڈیو سٹیشن کے وسائل انتہائی محدود تھے لیکن ایک دو روز میں ہی یہ ایسا منظم جنگی ابلاغی مورچہ بنا کہ پاکستان بھر کے شاعر اور گلوکار دن رات کے لئے یہاں مورچہ بند ہو گئے ابلاغ سائنس کے کسی دانستہ پلان، علم اور شعور کے بغیر سائیکلوجیکل وار فیئر کمال سائنٹیفک انداز میں پاکستان کے اس مضبوط مورچے سے لڑی جا رہی تھی ۔ چوٹی کے تمام لیفٹ ، رائٹ کے شاعر ،ادیب اور صحافی سکہ بند پاکستانی بن کر دن رات وہ ترانے لکھ اور تیار کر رہے تھے کہ ایک طرف پاکستانی قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی تو دوسری جانب بھارتی افواج اور عوام پر ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ وہ حوصلہ ہار گئے۔ امر واقع یہ ہے کہ معمولی کمیونیکیشن ٹیکنالوجی اور کم تر وسائل سے دنیا میں آج تک اتنی کامیابی ابلاغی جنگ کسی ملک نے نہیں لڑی۔ سوال یہ ہے کہ آج جبکہ پاکستان ایک آزاد، متحرک اور جدید ٹیکنالوجی کے حامل الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اور پورے ملک میں پھیلے ریڈیو براڈ کاسٹنگ کے مفصل و منظم نیٹ ورک کے علاوہ پاکستانی نوجوان دنیا کے بہترین انٹرنیٹ یوزر ہیں اور سوشل میڈیا کی ٹیکنالوجی میں پاکستان کافی آگے کا ملک ہے ہم نئی دہلی میں ہندو بنیاد پرست حکومت کے پاکستان دشمن عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے ،سائیکلوجیکل وار فیئر کے محاذ پر اتنی ہی صلاحیتوں کے حامل رہ گئے ہیں جس طرح ہم آناً فاناً جنگ ستمبر میں ہو گئے تھے ؟ ہمیں اس کے لئے خود کو پہلے سے تیار کرنا ہے ؟ یا ہمیں یقین ہے کہ جب سر پر پڑی تو پھر فوراً وہ روپ دھار لیں گے جو ہم نے معجزانہ طور پر 65ء میں یکدم اختیار کر لیا تھا کہ آن واحد میں ہمارے شاعر، گلوکار، ادیب اور صحافی اپنی اپنی جگہ کامیاب ترین جرنل، کرنل، میجر اور جوان بن گئے تھے؟

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.