.

شیر پاکستان کا اعلان

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شیرمیسور نے کہا تھا کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے بہتر ہے۔

چھ ستمبر کی صبح تقریبات کا آغاز ہوا تو مجھے مرشد نظامی بے طرح یادا ٓئے، انہوںنے کہا تھا کہ بھارت جارحابہ حملہ کی حماقت کرے تو پاکستان کو اپنے دفاع میں ایٹمی اسلحہ چلا دینا چاہئے، بے شک بھارت بھی جواب میں پاکستان کو ایٹم بموں سے صفحہ ہستی سے مٹا دے مگر دنیا میں ہندو ریاست صرف ایک ہے اور مسلمان ممالک پچاس سے زیادہ،ایک مسلمان ملک کی قربانی سے بھارتی جنگی جنونیت کا ٹنٹنا ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا۔

یہ صرف کہنے کی بات نہیں تھی، بلکہ مرشد نظامی نے اعلان کیا کہ انہیں ایک ایٹمی میزائل سے باندھ کر جموں میں بھارتی چھاﺅنی پر داغ دیا جائے۔
انہوں نے جو کہا ، اس پر عمل کا ارادہ بھی کیا۔

میں بتا نہیں سکتا کہ میرے مرشد نظامی کو اس پر کس قدر تنقید کا نشانہ بننا پڑا، ہر کوئی کہتا تھا کہ اپنے منہ موت مانگنا کہاں کی دانش مندی ہے ۔
میں یہ تنقید سنتا رہا، سنتا رہا، حتی کہ میںنے بھی لکھ دیا کہ پاکستان اگر جواب میں ایٹمی حملہ نہیں کرے گا تو میں ایٹم بم چوری کر کے بھارت پر داغ دوں گا۔

مرشد نظامی کے اعلان پر میری بہنوں بشری رحمن اور مہناز رفیع نے بھی پیش کش کی کہ وہ بھی ایٹمی خود کش بمبار بننے کو تیار ہیں تاکہ دنیا کے اس حصے میں مستقل طور پر امن قائم ہو سکے۔

چھ ستمبر رینگے رینگتے گزرتا رہا، صبح سویرے وزیر اعظم نے بی آر بی کے کنارے نشان حیدر میجر راجہ عزیز بھٹی کی جائے شہادت پر حاضری دی، دلوں میں ولولے جاگے، کوئٹہ میں کور کمانڈرا ور وزیر اعلی نے ایک یادگار تقریب کا اہتمام کیا،ہوش پر جوش غالب آتا چلا گیا،ایئر فورس نے دلوں کو گرما دینے والا شو کیا، ایف سولہ، میراج اور تھنڈر کی رفتار سے قوم کے عزائم نے انگڑائی لی۔

سارا دن ملک بھر میں یوم دفاع کی ریلیاں نکلیں، جنگی ترانوں کی گونج بلند ہو ئی، ماضی کے اوراق ایک ایک کر کے پلٹنے لگے۔

مگر دل اور دماغ کو چین نصیب نہیں تھا،جی ایچ کیو میں شہدا کی یاد میں بھاری اجتماع ہوا،فضا سوگوار سوگوار سی محسوس ہوئی، پتہ نہیں ہم اخبار نویسوں کو اس میں شرکت سے کیوںمحروم رکھا گیا، ہر چند ایم آئی کے کارندوںنے ہر پہلو سے جائزہ لیا ، گھر بار رشتے داروں کا ریکارڈ کھنگال ڈالا، مگر کلیئرنس پھر بھی نہیں ملی۔ جی ایچ کیو میںہوتے تو شہدا کے لواحقین کی قربت سے جذبات کو گرما سکتے تھے، غازیوں کی روشن پیشانیوں میں مستقبل کے رستے اجال سکتے تھے۔

مگرہم پھوٹی قسمت والے ا س تاریخ ساز، تقدیر ساز لمحے کو دل کی آنکھوں سے دیکھنے سے محروم رہے۔

اپنی حب الوطنی کا کیسے یقین دلائیں ، کسے دلائیں۔

ہر چند تقریب شاندار تھی، ایک کہکشاں جمع تھی،زمین سے آسمان تک نور کا ایک ہالہ تھا جس نے مادروطن کو لپیٹ میں لے لیا تھا۔

دل کو چین پھر بھی نہیں آ رہا تھا۔

کچھ سننے کی طلب تھی اور آخر یہ ساعت سعید بھی آ گئی، آرمی چیف مائیک پر آئے، کائنات ہمہ تن گوش تھی، آرمی چیف کے منہ سے نکلنے والے الفاظ مستقبل کی نقشہ کشی کے ضامن بن سکتے تھے۔

اور وہ اعلان سامنے آ گیا جس کو سننے کو کان ترس رہے تھے۔

ہم تیار ہیں۔ ہم تیار ہیں۔ ہم تیار ہیں۔

روایتی جنگ کے لئے تیار ہیں، غیر روایتی جنگ کے لئے تیار ہیں ، کولڈ اسٹارٹ کے لئے تیار ہیں ۔ اور ہاٹ اسٹارٹ کے لئے تیار ہیں۔

مجھے یوںلگا جیسے میرے مرشد نظامی کی روح سرشار ہو گئی ،کامران ہو گئی۔

بھارت بہت اترا رہا ہے، اس کے نئے وزیر اعظم حد سے آگے بڑھ گئے ہیں، ہر روز پاکستان اور کشمیر کے شہریوں پر گولہ باری، پاکستان بھر میں دہشت گردی کی سرپرستی۔ ہماری معیشت برباد کر کے رکھ دی، دن کا چین اور راتوں کی نیند حرام کر کے رکھ دی۔ لمحہ موجود کو جہنم بنا دیا اور آنے والے دنوں کو سوالیہ نشان، کچھ اندازہ ہی نہ ہو پاتا تھا قومی سلامتی کا ، ملکی آزادی کا اور اقتدارا علی کے مستقبل کا،سب کچھ سوالیہ نشان بن گیا تھا،

پشاور کے آرمی اسکول کے بچوں نے ا پنے خون کی قربانی سے قوم میں ایک نئی روح پھونکی۔

آج قوم کی امید لہلہارہی ہے۔

جنرل راحیل شریف نے قوم کے دل کی آواز بلند کی ہے، اور قوم اپنے اس سچے اور دلیر جرنیل کا دست و بازو بننے کے لئے بخوشی تیار نظرا ٓری ہے۔

وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ملکی دفاع ناقابل تسخیر ہے، وزیر اعلی پنجاب نے کہا ہے کہ دشمن کے سامنے قوم آج بھی متحد ہے،وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ دشمن پاکستان کو دہشت گردی کے ذریعے غیر مستحکم نہیں کر سکتا۔بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ بھارت خوش فہمی میںنہ رہے، منہ توڑ جواب دیں گے۔حافظ محمد سعید نے سرحدی شہر قصور میں کہا ہے کہ بھارت نے حملہ کیا تو فیصلے میدانوںمیں ہوں گے۔وزیر اعلی سندھ نے کہا ہے کہ پاک فوج دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گی۔ ختم نبوت کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملکی سلامتی کے لئے قوم متحد ہے۔

پوری قوم اپنی آزادی، سلامتی اور قتدارا علی کے تحفظ کے لئے کمر بستہ ہے۔

اور آرمی چیف نے اسی قومی عزم کے پیش نظر بھارت کو للکارا ہے کہ ہم تیار ہیں، ہر نوع کی جارحیت کے دفاع کے لئے۔

اس اعلان کے بعد یاس اور بے یقینی کے اندھیرے چھٹ گئے ہیں۔ایک نئی لازوال صبح کی کرنیں کراں تا بہ کراں پھیل گئی ہیں۔

ایک جہاندیدہ سپاہ سالار کی طرح جنرل راحیل شریف نے قوم سے کہا ہے کہ میں تمہیں لڑنے کا نہیں، مرنے کا مژدہ دیتا ہوں۔ اور دنیا جانتی ہے کہ پاکستانی فوج لڑنے کے لئے میدان میںنہیں اترتی، شہادت کی بے قراری اسے جھپٹنے، پلٹنے ، پلٹ کر جھپٹنے پر اکساتی ہے۔

مرتا وہ ہے جو موت سے ڈرتا ہو، پاکستانی افواج کو موت کیا آئے گی جو اس کی تلاش میں سر کٹوا دیتے ہیں سینے چھلنی کروا لیتے ہیں۔

ان کے لئے ابدی زندگی کی بشارت ہے مگر تم سمجھ نہیں سکتے، جنرل راحیل نے دشمن کو یہی پیغام دیا ہے، لاﺅڈ اینڈ کلیئر!!

اب قوم کو بھی بیک زبان ہو کر کہنا ہے کہ لالہ جی ! ہم تیار ہیں، ہاں! ہم تیار ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت

'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.