.

یہ ہوتی ہے ناکام ریاست!

یاسر پیرزادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کا ایک تاریخی شہر ہے، درعا، آبادی مشکل سے ایک لاکھ۔ مارچ 2011ء میں یہاں اسکول کے چند بچوں نے شہر کی دیواروں پر حکومت مخالف نعرے لکھے، حکومت نے اس ’’جرم‘‘ میں پندرہ بچوں کو گرفتار کیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ عرب بہار کا نیا نیا خمار تھا سو حکومتی اقدام کا شدید ردعمل ہوا، عوام سڑکوں پر نکل آئے اور بچوں کی رہائی کے ساتھ ساتھ جمہوریت اور شہری آزادیوں کے مطالبات شام کے اس چھوٹے سے شہر میں گونجنے لگے۔ ابتدا میں یہ مظاہرین پُرامن تھے مگر انہیں شاید اس بات کا علم نہیں تھا کہ یہ شام کے بشار الاسد کی حکومت ہے کسی پاکستانی سویلین وزیر اعظم کی نہیں چنانچہ بادشاہ سلامت نے وہی کیا جو بادشاہ ایسے موقعوں پر کرتے ہیں، مظاہرین پر فائر کھول دیا گیا جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ 18 مارچ 2011ء کا واقعہ ہے۔

اگلے روز ہلاک ہونے والوں کا جنازہ تھا، حکومتی اہلکاروں نے جنازے پر بھی فائرنگ کی اور مزید ایک شخص کو موت کی نیند سلا دیا۔ پھر حالات نے تیزی سے پلٹا کھایا اور وہ مظاہرے جو درعا جیسے شہر تک محدود تھے، دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے دیگر حصوں میں پھیل گئے، اب مظاہرین کا مطالبہ فقط جمہوریت یا آزادی تک محدود نہیں تھا، اس میں بشار الاسد کا استعفیٰ بھی شامل ہو گیا تھا مگر بشار الاسد نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا۔ جولائی 2011ء تک حکومت مخالف مظاہرے پورے ملک میں پھیل گئے، اس دوران حکومت مخالف گروہوں نے ہتھیار بھی اٹھا لئے اور یوں ایک خانہ جنگی کا آغاز ہو گیا جس میں حکومت اور اس کے مخالف گروہوں کے درمیان ملک کے مختلف حصوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے لئے لڑائی شروع ہوئی، 2012ء تک یہ لڑائی شام کے دارالحکومت دمشق تک پہنچ گئی۔ تب تک یہ جنگ صرف بشار الاسد کے حامیوں اور مخالفین تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں فرقہ واریت کا رنگ بھی شامل ہو گیا، ہمسایہ ممالک اور سپر پاورز بھی اس میں کود گئے جنہوں نے شام پر اپنے مخالفین کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام لگایا اور آخری تڑکے کے طور پر 2014ء کے اوائل میں داعش نے بھی مشرقی شام کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر کے شامی عوام کے لئے دنیا میں ہی جہنم کا سامان کر دیا۔

آج صورتحال یہ ہے کہ حکومت مخالف تقریباً ایک ہزار گروہ ہیں جن میں سیاسی جماعتیں، مسلح ’’باغی‘‘ اور جلاوطن افراد کو ملا کر لگ بھگ ایک لاکھ افراد حکومتی فوج کے خلاف لڑ رہے ہیں، ان تمام لوگوں کا آپس میں کوئی رسمی اتحاد نہیں کیونکہ یہ جنگ اب سیکولر اور اسلام پسندوں کے درمیان بھی ہے، نسلی گروہوں کے درمیان بھی ہے، داعش سے بھی ہے اور یہ سب آپس میں بھی ایک دوسرے سے نبردآزما ہیں۔

شام کی اس خانہ جنگی نے ملک کو تباہ کر دیا ہے، دو لاکھ بیس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں نصف عام شہری ہیں، اور تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ افراد دربدر ہیں، بھرے پرے شہروں میں بمباری جاری ہے، کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کی دستیابی مشکل ہو چکی ہے، سوا دو کروڑ کی آبادی کے اس ملک میں سے آدھے لوگوں کو امداد کی فوری ضرورت ہے، لوگ لاکھوں کی تعداد میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مال اسباب ہاتھوں میں اٹھائے ملک چھوڑ کر پناہ کی تلاش میں ہیں، چالیس لاکھ مہاجرین اس وقت پانچ ہمسایہ ممالک میں پناہ لئے ہوئے ہیں، انیس لاکھ اڑتیس ہزار ترکی میں، گیارہ لاکھ بہتر ہزار لبنان میں، چھ لاکھ انتیس ہزار اردن میں، ڈھائی لاکھ عراق اور ایک لاکھ بتیس ہزار شامی مصر میں پناہ گزین ہیں۔ ان کے علاوہ لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین یونان اور ہنگری کے راستے جرمنی اور یورپ میں بھی داخل ہوئے ہیں جس نے یورپ میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے اور شنجن معاہدہ خطرے میں پڑ گیا ہے۔ لیکن یورپین ممالک میں پناہ لینے والوں کی تعداد مسلمان ملکوں میں آئے پناہ گزینوں سے کہیں کم ہے، لہٰذا یہ پروپیگنڈہ درست نہیں کہ مسلمان ممالک نے شامیوں کو پناہ نہیں دی۔ ’’برادر اسلامی ملک‘‘ کی بات البتہ کچھ اور ہے!

یہ ہوتی ہے ناکام ریاست جہاں داعش کا سکہ بھی چل رہا ہے اور بشار الاسد کی نام نہاد حکومت بھی شہریوں پر گولیاں برسا رہی ہے، نصف سے زیادہ آبادی براہ راست متاثر ہے، لاکھوں گھر اجڑ چکے ہیں، کھانے پینے کا بحران ہے، معصوم بچے کھلے آسمان تلے بے یارو مددگار پڑے ہیں۔ پورا ملک جنگل بن چکا ہے مگر بشار الاسد نے استعفیٰ نہیں دیا۔ ریاست کی اس ناکامی کی وجہ میگا کرپشن اسکینڈلز یا مالی بدعنوانی نہیں بلکہ آمرانہ طرز حکومت اور انتہا پسندی ہے۔ ہمارے ہاں جو لوگ کرپشن کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ گردانتے ہیں اور اس کے خاتمے کے لئے خیر اندیش آمر کی راہ تکتے ہیں انہیں چاہیے کہ شام کا ویزہ لگوا کر ایک چکر لگا آئیں، اس سے طبیعت میں چستی آئے گی، جگر کی گرمی کم ہوگی اور ہاضمہ بھی درست ہوگا۔ شام کے معاملے میں ’’سنجیدہ تجزیہ‘‘ نگاروں کی متعدد پیش گوئیاں بھی ناکام ہو ئیں، ان میں سے ایک تو اس وقت ناکام ہوئی جب کیمیائی ہتھیاروں کے معاملے پر امریکہ نے شام کا بازو مروڑا تو ہم نے کہا کہ اب امریکہ اس بہانے شام پر حملہ کر دے گا، لیکن شام نے خود ہی اپنے کیمیائی ہتھیار تلف کر دئیے اور بات ختم ہو گئی۔

ایک پیش گوئی مغربی دانشور پاکستان کے بارے میں بھی کرتے تھے کہ مستقبل میں دہشت گردی کا مرکز پاکستان ہوگا، مگر اب وہی دانشور مشرق وسطیٰ میں داعش کو سب سے بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ اصل میں غلطی ان دانشوروں سے یہ ہوئی کہ انہوں نے پاکستان، مشرق وسطیٰ اور عرب ریاستوں کو ہی ترازو میں تول لیا اور بھول گئے کہ پاکستان دو لحاظ سے ان سے مختلف ہے۔ ایک یہ کہ پاکستان میں جیسی بھی ہے جمہوریت ہے، لوگ کروڑوں کی تعداد میں اپنا ووٹ ڈال کر پارلیمنٹ منتخب کرتے ہیں، سیاسی جماعتیں ہیں، ان کا بے رحم احتساب کرنے کے لئے چیختا چنگھاڑتا میڈیا ہے اور ریاستی ادارے بھی اپنا کچھ نہ کچھ کام کرتے رہتے ہیں۔

دوسرا بڑا فرق پاک فوج ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان داعش سے بھی بڑے خطرے سے دوچار تھا، مگر اس خطرے کا رخ جیسے ہماری فوج نے موڑا ہے وہ قابل ستائش ہی نہیں بلکہ دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔ یہ فقط ڈیڑھ برس پہلے کی بات ہے کہ ہمارے دانشور یہ کہتے تھے کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کامیاب نہیں ہو سکے گا، فوج ٹریپ ہو جائے گی، اس کا شدید ’’فال آؤٹ‘‘ ہو گا وغیرہ وغیرہ مگر فوج کے ضرب عضب نے تمام پیش گوئیاں غلط ثابت کر دیں۔ یہ دو بنیادی فرق ہیں جو پاکستان اور شام جیسی کسی بھی ناکام ریاست میں ہیں ۔

بطور قوم ایک بات پر ہمیں شرم بھی کرنی چاہئے کہ کیا وجہ ہے شام میں سوا دولاکھ مسلمان مر گئے اور سوا کروڑ دربدر ہیں، پوری دنیا میں ان کی مدد کے لئے فنڈ اکٹھے کئے جا رہے ہیں مگر ہمارے کان پر جوں نہیں رینگی، کیوں؟ اس لئے کہ مسلمانوں کو مارنے والے بھی مسلمان ہیں۔ یہی کام اگر کسی غیر مسلم گروہ کا ہوتا تو مال روڈ پر ریلیاں نکال کر اب تک مسلم امہ پر ہونے والے مظالم کی دہائی مچی ہوتی اور ہم واویلا کرتے کہ کاش کوئی محمد بن قاسم ہوتا تو کافروں کو سبق سکھا چکا ہوتا۔ ملک میں یہ بیانیہ بیچنے والے وہی ہیں جنہوں نے شدت پسندی کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے اور اسی لئے انہیں عراق اور شام میں داعش کی بربریت نظر نہیں آتی۔ ضرب عضب شروع نہ ہوتا تو ان کی تلواریں داعش کو خوش آمدید کہنے لئے نیام سے باہر آچکی ہوتیں!
------------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.