کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

حامد میر
حامد میر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

پریم کورٹ آف پاکستان کی پروقار عمارت کے کورٹ نمبر ایک میں صبح گیارہ بجے ایک مختصر وقفہ ہوا تو کچھ صحافی عدالت سے باہر آکر گپ شپ میں مصروف ہوگئے۔ ایک نوجوان صحافی نے اپنے ایک سنیئر ساتھی کو بتایا کہ اسے حال ہی میں ایک لفافے میں پستول کی گولیاں بھجوائی گئیں اور کچھ دنوں کے بعد اس کے بچوں کی اسکول میں بنائی گئی تصویریں بھیجی گئیں۔ سینئر ساتھی نے نوجوان سے پوچھا کہ تم نے ایسا کیا کردیا کہ تمہیں اور تمہارے بچوں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں؟ نوجوان نے کہا کہ وہ تو سیدھی سادھی کورٹ رپورٹنگ کرتا ہے لیکن کئی مرتبہ کچھ طاقتور افراد اور اداروں نے دبائو ڈالا کہ ان کے متعلق زیر سماعت مقدمات میں ججوں کے ریمارکس یا مخالف فریق کے وکلاء کے دلائل کو نظراندا ز کردوں، جب میں نے اس دبائو کو نظر انداز کیا تو دھمکیوں کا سلسلہ شرو ع ہوگیا۔ سینئر ساتھی نے نوجوان کو مشورہ دیا کہ وہ ان حالیہ واقعات کے بارے میں اپنی انتظامیہ، پولیس اور صحافیوں کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کو آگاہ کرے۔

نوجوان مسکرایا اور اس نے اپنے سینئر ساتھی سے کہا کہ آپ نے اور بہت سے دوسرے صحافیوں نے یہ سب کچھ کر کے دیکھ لیا ہے کوئی فائدہ نہیں کیونکہ جب ریاستی عناصر میڈیا کی آزادی کو ملکی مفاد کے نام پر دبانے کی کوشش کریں تو پھر ان اداروں سے تحفظ کی توقع کرنا بے وقوفی کے سوا کچھ نہیں۔ میں یہ گفتگو کراچی یا کوئٹہ میں نہیں بلکہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت کی عمارت میں کورٹ روم نمبر ایک کے سامنے کھڑا سن رہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ اگر اسلام آباد کے صحافیوں میں اتنا خوف و ہراس ہے تو باقی پاکستان میں کیا صورتحال ہوگی؟ وقفہ ختم ہوا او رکورٹ روم نمبر ایک میں مقدمات کی سماعت دوبارہ شروع ہوگئی۔

ایک مقدمے میں عدالت نے حکم دیا کہ ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی لاہور کے اکائونٹس کا آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے آڈٹ کرایا جائے کیونکہ اس ادارے کا سربراہ ایک ایسا سرکاری افسر ہے جس کو سرکاری خزانے سے تنخواہ ملتی ہے۔ ڈی ایچ اے کا وکیل اصرار کررہا تھا کہ اس کے ادارے کا آڈٹ نہ کرایا جائے جس پر جسٹس دوست محمد خان نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ کہا......’’کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے‘‘۔ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ آئین سب کیلئے برابر ہے اگر آپ کے ہاتھ صاف ہیں تو آپ کو آڈٹ پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ عدالت میں موجود صحافی فیصلے کی خبر دینے کیلئے باہر آگئے۔ ایک دفعہ پھر ان میں بحث شروع ہوگئی کہ جسٹس دوست محمد خان کے ریمارکس کو رپورٹ کیا جائے یا نہیں؟ کوئی دھمکی دے یا نہ دے لیکن صحافی اس قسم کے معاملات میں رپورٹنگ کرتے ہوئے ایک ایسی احتیاط کا مظاہرہ کرتے نظر آئے جسے ’’انجانا خوف قرار دیاجائے تو زیادہ درست ہوگا۔ ہاں اگر معاملہ کسی سیاستدان کا ہو تو انہیں کوئی خوف محسوس نہیں ہوتا اور وہ کھل کر کھیلتے ہیں۔‘‘

پاکستان کے مختلف علاقوں میں صحافیوں کو مختلف قسم کے خطرات کا سامنا ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ڈی ایچ اے کے معاملات پر سوال اٹھانے یا اس سلسلے میں عدالتی کارروائی کو اہمیت دینے والے صحافیوں کو یہ کہا جاتا رہا ہے کہ وہ ملکی مفاد کا خیال رکھیں۔ کچھ عرصہ قبل لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) شاہد عزیز کی کتاب ’’یہ خاموشی کہاں تک؟‘‘ شائع ہوئی تو اس کتاب میں انہوں نے ڈی ایچ اے لاہور کے بارے میں بہت کچھ لکھا۔ کور کمانڈر لاہور کی حیثیت سے انہوں نے ڈی ایچ اے لاہور کے معاملات کو صاف و شفاف بنانے کی کوشش کی تو اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف ان سے ناراض ہو گئے۔ شاہد عزیز کی کتاب پڑھ کر احساس ہوا کہ پوری فوج ڈی ایچ اے کے معاملات کو خفیہ نہیں رکھنا چاہتی بلکہ فوجی افسران اور جوانوں کی بڑی تعداد اس معاملے میں شفافیت کی قائل ہے تاکہ چند افراد کے مفادات کا تحفظ کرنے کی کوشش میں پورے ادارے کی ساکھ مجروح نہ ہو۔

جب اس قسم کے معاملات عدالتوں میں آتے ہیں تو میڈیا کا کام رپورٹنگ اور تبصرہ ہے۔ میڈیا کو یہی کام لاپتہ افراد کے مقدمات میں کرنا پڑتا ہے۔ ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ جب کوئی معاملہ عدالتوں میں آتا ہے یا متاثرین سڑکوں پر آتے ہیں تو میڈیا کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی پڑتی ہے۔ میڈیا میں کچھ لوگ ایسے معاملات پر خاموش رہ کر اپنے تحفظ کو یقینی بنا لیتے ہیں کچھ لوگ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری ادا کر کے ملک دشمن قرار پاتے ہیں۔ ریاستی عناصر کی طرف سے میڈیا کیخلاف الزامات اور سازشیں شروع ہو جائیں تو پھر غیر ریاستی عناصر ایسی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

کسی کو اچھا لگے یا برا لگے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج پاکستان میڈیا کیلئے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ جس صبح میں سپریم کورٹ میں ایک نوجوان صحافی کی زبانی اسے دی جانے والی حالیہ دھمکیوں کی کہانی سن رہا تھا اسی شام کراچی میں جیونیوز کے عملے پر وحشیانہ حملہ کیا گیا جس میں ایک سیٹلائٹ انجینئر ارشد علی جعفری نو گولیاں لگنے سے شہید ہوگئے۔ اس واقعے سے ایک دن قبل کراچی میں سبین محمود قتل کیس کے ایک اہم گواہ کو بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا اور اس سے ایک دن قبل وزیراعظم نوازشریف نے یہ فرمایا تھا کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ عملاً ختم ہو چکی ہے۔ یہ درست ہے کہ پچھلے ایک سال میں کراچی سمیت ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردی کے واقعات کم ہوئے ہیں لیکن اس کمی پر دہشت گردی کے خاتمے کے اعلانات قبل از وقت ثابت ہوئے۔ یہ اعلانات کرنے والوں نے اپنے طور پر دہشت گردوں کیخلاف کامیابی کا کریڈٹ صرف ایک ادارے کو دیکر باقی اداروں کی اہمیت کم کر نے کی کوشش کی اور دانستہ یا نادانستہ طور پر دہشت گردی کے خلاف قائم ہونے والی یکجہتی کو کمزور کیا۔ اگر تمام کامیابیوں کا کریڈٹ صرف ایک ادارے کو دینا ہے تو ناکامیوں کی ذمہ داری کون لے گا؟

بھلا ہو جنرل راحیل شریف کا جنہوں نے چھ ستمبر کو یوم دفاع کی تقریب میں حکومت اور اپوزیشن کے سیاستدانوں کے ہمراہ شریک ہو کر یہ پیغام دیا کہ ان کے لیے سب برابر ہیں اور وہ کسی ادارے کے ساتھ مقابلہ نہیں کررہے بلکہ سب اداروں کو ساتھ لیکر پاکستان کے دشمنوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ جنرل راحیل شریف نے میڈیا کے کردار کی بھی تعریف کی۔ اگر میڈیا نے واقعی اچھا کردار ادا کیا ہے تو پھر تمام ریاستی اداروں کو میڈیا کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ویسے تو پاکستان بھر میں تمام بڑے چھوٹے ٹی وی چینلز اور اخبارات سے وابستہ صحافیوں کو بہت سے خطرات کا سامنا ہے لیکن جیو نیوز اور جنگ و دی نیوز کے عملے کو ایک سال سے غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے۔ گزشتہ سال جون 2014ء میں روزنامہ جنگ ملتان کے ایڈیٹر ظفر آہیر کو ملک دشمن قرار دیکر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اس سال جیو نیوز کے رپورٹر رسول داوڑ کو دو مرتبہ پشاور میں اغوا کیاگیا۔ جیو نیوز کراچی کے بیورو چیف فہیم صدیقی کو چھ ہفتے قبل پولیس کی وردی میں ملبوس لوگوں نے اغوا کیا اور پھر چھوڑ دیا۔ پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ کی حکومتوں سمیت تمام طاقتور وفاقی ادارے ان واقعات کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہے۔ کیا وزیراعظم نوازشریف یا جنرل راحیل شریف یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ ان ناکامیوں کا ذمہ دار کون ہے؟
---------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں