اردو فیصلہ قابل تحسین، مگر!

نازیہ مصطفیٰ
نازیہ مصطفیٰ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

مغلوں سے پہلے بھی ہندوستان میں ترکی النسل سلاطین حکومت کرچکے تھے، بابر ہندوستان آیا تو اُن ترکوں کی باقیات ابھی موجود تھیں اور زبان اور ثقافت کی شکل میں ترکوں کے اثرات بھی باقی تھے۔ بابر چونکہ خود بھی ترکی النسل تھا، اس لیے اس کا لشکر ترک زبان کی مناسبت سے ’’اردو‘‘ کہلاتا تھا۔اکبر کے زمانے میں مغل سلطنت ہندوستان کی 635 ریاستوں تک پھیلی تو اتنی بڑی سلطنت کی حفاظت اور انتظام و انصرام کیلئے بڑی فوج اور بڑی انتظامی مشینری کی ضرور ت پڑی، یوں برصغیر میں مغل تاجدار کے زیر نگیں 635 ریاستوں سے بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے لوگ مغل لشکر (اردو) میں بھرتی ہونے کیلئے چلے آئے۔

یہ سب کے سب الگ الگ زبان بولنے والے تھے، فوجی انتظامیہ کو نئے اور مقامی فوجی جوانوں سے رابطے اور گفت و شنید کیلئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو اکبر نے اپنے مغل لشکر (اردو) میں نئی زبان متعارف کروانے کا حکم دیا، اِس زبان کو ابتدا میں لشکرکی زبان (یعنی اردو) کا نام دیا گیا۔ اکبر کے زمانے میں ہی اردو کی صرف و نحو کے بنیادی اصول وضع کیے گئے اور فوجیوں کو لشکری زبان (اردو) سکھانے کیلئے باقاعدہ ادارے قائم کرکے اساتذہ مقرر کیے گئے،مسلمان حکمرانوں بالخصوص مغل حکمرانوں کی وجہ سے اردو زبان میں عربی، فارسی اور ترک زبان کے الفاظ بکثرت شامل ہوگئے ، دیگر زبانوں کے الفاظ اپنے اندر سمو لینے کی صلاحیت کی وجہ سے آگے چل کر یہ زبان (اردو) مغل لشکر سے نکل کر برصغیر کے کونے کونے تک پھیلتی چلی گئی۔

یوں تو مغل دربار نے اردو کی بھرپور سرپرستی کی لیکن اردو کی جڑیں ہمیں گیارہویں صدی عیسوی میں بھی ملتی ہیں۔اس حوالے سے پروفیسر محمود شیرانی کا یہ استدال بڑا وزن رکھتا ہے کہ ایک سو ستر سال تک حاوی رہنے والے غزنوی دور میں ایک ایسی بین الاقوامی زبان ظہور ہونے لگی تھی، جس کی جدید شکل آج ہمیں اردو کی صورت میں نظر آتی ہے، غزنوی سمیت زیادہ تر مسلم فاتحین چونکہ پنجاب کے راستے سے ہی ہندوستان میں آئے تھے، اس لیے اردو کے بہاؤ میں جا بجا ہمیں پنجابی کا رچاؤ بھی ملتا ہے۔ قطب الدین ایبک کے فوجی اور دیگر متوسلین پنجاب سے ایسی زبان ہمراہ لے کر آگے بڑھے جس میں ناصرف خود مسلمان قومیں ایک دوسرے سے تکلم کر سکتی تھیں بلکہ انہیں ہندوستان کی مقامی اقوام کے ساتھ گفتگو میں بھی آسانی ہوتی تھی اور یہ اردو کی ہی ابتدائی شکل تھی، یہی وجہ ہے کہ پنجابی کیلئے ہمیں کسی الگ صرف و نحو کی ضرورت نہیں پڑتی۔

محققین کی آراء سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ قدیم اردو کا آغاز جدید ہند آریائی زبانوں کے طلوع کے ساتھ 1000ء کے لگ بھگ اس زمانے میں ہو گیا جب مسلم فاتحین مغربی ہند (موجودہ مغربی پاکستان) کے علاقوں میں آباد ہوئے اور یہاں اسلامی اثرات بڑی سرعت کے ساتھ پھیلنے لگے۔

مغل دور میں اردو کی ادبی شکل ریختہ کہلائی ۔ امیر خسرو ، محمد قلی قطب شاہ ، ولی محمد ولی دکنی، آبرو شاہ مبارک، ولی عزلت، مظہر جان جاناں، حاتم شاہ، سید بلاقی، مرزا محمد رفیع سودا، میر تقی میر، نظیر اکبر آبادی، بہادر شاہ ظفر، امام بخش ناسخ، خواجہ حیدر علی آتش، میرکلوعرش، محمد ابراہیم خان ذوق، میر ببرانیس، مومن خان مومن اور مرزا اسد اللہ خاں غالب نے مغل دور میں ریختہ میں اپنے شیریں کلام سے اردو کو جلا بخشی۔ اِس کے بعد انیسویں صدی کی آخری چار دہائیوں اور بیسویں صدی میں الطاف حسین حالی، علامہ محمد اقبال ، غلام بھیک نیرنگ، حسرت موہانی، ناطق لکھنوی، فانی بدایونی، جگر مراد آبادی، اختر شیرانی، عبدالحمید عدم، ن م راشد، فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی،احمد فراز، شکیل بدایونی، قتیل شفائی ،ناصر کاظمی، ساحر لدھیانوی اور منیر نیازی سمیت ہزاروں قادرالکلام شعراء اور ادیبوں کا طوطی بولتا رہا، اگرچہ اردو میں لکھنے والے غیر مسلم شعرا اور ادیبوں کی بھی کوئی کمی نہ تھی لیکن بنیادی طور پر اردو مسلمانوں کی زبان ہی کہلاتی رہی۔

تقسیم ہند کے بعد بھارت میں توہنگامی بنیادوں پر اردو سے عربی اور فارسی کے الفاظ حذف کرکے اُن کے سنسکرت کے متبادل الفاظ شامل کرکے ایک نئی زبان کی بنیاد رکھ دی گئی، جسے آج بھارت میں ’’ہندی‘‘ کہا جاتا ہے، بھارت میں اب ہندی زبان کو نستعلیق خط کی بجائے دیوناگری خط میں لکھا جاتا ہے، بعض ماہرین ِ لسانیات اُردو اور ہندی کو ایک ہی زبان کی دو معیاری صورتیں گردانتے ہیںلیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندی زبان دراصل اُردو سے ہی نکلی ہے۔یوں اگر اردو اور ہندی زبان کو ایک ہی سمجھا جائے تو یہ دنیا کی چوتھی بڑی زبان ہے۔ ہندی (دراصل اردو) آج بھارت کی تئیس سرکاری زبانوں میں سے ایک اور سب سے زیادہ بولی، لکھی، پڑھی اور سمجھی جانے والی زبان ہے، لیکن دوسری جانب ظلم یہ ہوا کہ اردو اپنے حقیقی وارثوں (پاکستانی مسلمانوں) میں بیگانی قرار پائی۔قیام پاکستان کے بعد پاکستان کو آگے لے کر چلنے کیلئے جہاں اور بہت سی چیزوں کی ضرورت تھی، وہیں زبان بھی ایک اہم مسئلہ تھا، متحدہ پاکستان میں بلا شبہ بنگالیوں کی اکثریت موجود تھی، جن کی زبان ہی نہیں بلکہ ہزاروں برسوں میں پنپ اور پھل پھول کر سامنے آنے والا رسم الخط بھی اردو کے نستعلیق خط سے مختلف تھا، لیکن باون فیصد بنگالیوں کی بھی اردو ہی قومی زبان قرار پائی جسے اکثریت نے مسترد کردیا۔ دوسری جانب پنجابی اسٹیبلشمنٹ اور اشرافیہ نے بھی بلا سوچے سمجھے اردو کو ’’پرائی‘‘ زبان سمجھ کر اِس جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی کوئی کوشش نہ کی اور یوں اپنے ہی لوگ اڑسٹھ برس تک اردو کے ساتھ سوکنوں جیسا سلوک کرتے رہے۔

قارئین کرام!! آج ہمارے ہاں مغل حکمرانوں کا تمسخر اڑانے والے تو بہت ہیں، لیکن تاریخ سے سبق حاصل کرنے والے کم کم ہی ملتے ہیں ۔ کیا کبھی کسی نے سوچنے کی کوشش کی کہ آخر کس طرح وسطی ایشیا سے ایک کے بعد آنے والے دوسرے مسلم حکمرانوںنے اقلیت میں ہونے کے باوجود ہندوستان پرایک ہزار سال کے لگ بھگ پورے تزک و احتشام سے حکومت کی؟ آج تک کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اگر ہندوستان میں حکومت کرنے والے مسلم حکمران اردو(لشکری زبان) کی بنیاد رکھنے کی بجائے اپنی مادری زبانوں (عربی، فارسی، ترکی) کو ہندوستان میں رائج کرنے کی کوشش کرتے تو اُن کا کیا حشر ہوتا؟ یقینا ایک ہزار سال کی بجائے ایک دو صدیوں میں ہی مسلم سلطنتوں کا ہندوستان سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جنازہ نکل جاتا ہے؟ایک جانب ان پڑھ مغل تاجدار جلال الدین اکبر تھا جس نے 635 ہندوستانی ریاستوں کو ’’اردو‘‘ کی مدد سے وحدت کی لڑی میں پرو دیا تھا اور دوسری جانب قیام پاکستان کے بعد ہم پر مسلط ہونے والے ’’پڑھے لکھے‘‘ حکمران ہیں کہ پہلے اردو کو جامد زبان بننے کیلئے بے آسرا چھوڑ دیا اور پھر اِس جامد زبان کو اکثریت (بنگالیوں) پر تھوپنے کی کوشش میں بنا بنایا ملک ہاتھوں سے گنوا دیا۔

اردو کو پاکستان میں فوری طور پر سرکاری و دفتری زبان کے طور پر رائج کرنے کا عدالت عظمیٰ کا حکم یقینا قابل تحسین ہے، لیکن اگر ’’اردو‘‘ کو یونہی جامد حالت میں ہی رائج کرنے کی کوشش کی گئی اور اِسے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی کوشش نہ کی گئی تو اردو کو کبھی سرکاری و دفتری زبان کے طور پر پاکستان میں رائج نہ کیا جاسکے گا اور ممکن ہے کہ یہ کوشش اتنی بری طرح سے ناکام ہو کہ داغ دہلوی کو اپنا مصرع تبدیل کرنا پڑ جائے کہ

اردو ہے جس کا نام ،کوئی جانتا نہیں!

--------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں