یہ کس ملک کے وزیر خارجہ کی آپ بیتی ہے!

اسد اللہ غالب
اسد اللہ غالب
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

مجھے فون آیا کہ کیا آپ نے خورشید قصوری کی آپ بیتی پڑھی ہے!

میں نے جواب دیا کہ ابھی تو آپا مہناز رفیع کا فون آیا ہے کہ اسکی تقریب رونمائی ہو رہی ہے،اس میں آﺅ۔ مگر اس پر عبدالقادر حسن کالم لکھ چکے ہیں اور مجیب شامی ایک ٹی وی پروگرام کر چکے ہیں۔فون کرنے والے دوست نے بتایا۔
وہ دونوں پہنچے ہوئے بزرگ ہیں ، پاتال سے خبر نکال لاتے ہیں، میرا ان سے کیا مقابلہ !میں نے جواب دیا:
نہیں جناب، اس کی اڑھائی ہزار روپے قیمت ہے ، بازار میں موجود ہے، پڑھئے اور اپنے نظریات پر نظر ثانی فرمایئے کہ یہ کتاب آپ ہی کے شہر قصور کے ایک صاحب کی لکھی ہوئی ہے۔

میں نے کہا ، قصور ایک شہر ہے، ایک علاقہ ہے، وہاں جو کچھ ہوتا ہے، میں اس کا ذمے دار کیسے ہو سکتا ہوں اور ہر چیز پر نظر کیسے رکھ سکتا ہوں۔
مگر یہ کتاب آپ کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے، اس میں پاکستان اور بھارت کی اس پالیسی کا رونا رویا گیا ہے اور دونوں ملکوںکے مابین طلبہ کے وفود کے تبادلوں اور دونوں ملکوںمیں تعلیمی سہولتوں کی عدم فراہمی کا نوحہ پڑھا گیا ہے۔ قصوری صاحب نے لکھا ہے کہ یورپی یونین کے ملکوں میں ایک دوسرے کے طلبہ کے لئے تعلیم کی سہولتیں وافر ہیں، کنیڈا ور امریکہ بھی تعلیمی سہولتوں کی پیش کش کرتے ہیں۔ آسیان کے ملکوں میں بھی یہ سہولت عام ہے مگر بر صغیر کہ یہ دو ملک آپس میں کٹی کئے ہوئے ہیں، اور ایکدوسرے پر تعلیم کے دروازے بند ہیں۔

مجھے اچنبھا ہوا کہ میاںنواز شریف اور میاں شہباز شریف تاجر ہیں، صنعتکار ہیں، انہیں اس بات کی فکر ہے کہ واہگہ کی لکیر ابھی تک قائم کیوں ہے، اس بارڈر پر تو دن رات ٹرکوں کی قطاریں آر پار جانی چاہیئں، اور یہ ہمارے قصوری صاحب کا خاندان چونکہ تعلیم کا تاجر ہے ، اس لئے اسے اس شعبے کی تجارت کی فکر لاحق ہے۔

ابھی یہ کتاب میں نے دیکھی نہیں اور اس کے لئے میرا دل نفرت کے جذبات سے بھڑک رہا ہے۔ قصوری صاحب سے بھارت کی محبت چھپائے نہیں چھپتی۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ قائد اور گاندھی کی دوستی مثالی تھی اور یہی تعلق ہونا چاہئے تھا دونوں ملکوں کا۔ مجھے یہ نکتہ بھی میرے دوست نے ہی بتایا ہے جسے اڑھائی ہزارر وپے ضائع کرنے کاشوق لاحق تھا۔ مجھے تو اس کتاب کا اس لئے انتظار تھا کہ خورشید قصوری پچھلے کئی برس سے یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ ان کے دور وزارت خارجہ میں کشمیر کا معاہدہ قریب قریب طے پا گیا تھا، میں نے جب بھی پوچھا کہ یہ معاہدہ کیا تھا تو وہ جواب دیتے کہ اسکے لیے کتاب کا انتظار کیجئے، مگر مجھے یقین ہے کہ اس کتاب میں معاہدے کا ڈرافٹ شامل نہیں کیا گیا۔ قصوری صاحب نے بھٹو کی طرح ایک ڈگڈگی بجانے کی کوشش کی ہے، بھٹو نے معاہدہ تاشقند کی ڈگڈگی بجائی مگر ان کو پھانسی ہو گئی اور ان کے تھیلے سے تاشقند کی بلی باہر نہ آئی۔

قصوری صا حب کی کتاب بھی آ گئی مگر اس کی تھیلی سے کشمیر کے معاہدے کے سانپ نے اپنا سر باہر نہیں نکالا۔ بہر حال ایک ڈھول ان کے ہاتھ لگ گیا ہے اور وہ پیٹتے رہیں گے، سناہے انہوں نے لکھا ہے کہ مستقبل میں جب کبھی مسئلہ کشمیر کے حل کی بات ہو گی تو اس ڈرافٹ کو بنیاد بنایا جائے گا جو ان کے قلم سے نکلا ، خدا نہ کرے، ان کی یہ بات پوری ہو، اور ہو گی بھی نہیں ، ابھی تو چھ ستمبر کی شام کو آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے واضح طور پر کہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق نکل سکتا ہے۔ سرتاج عزیز آج وزارت خارجہ کے انچارج ہیں، وہ بھی یہی کہتے ہیں اور وہ کشمیری بھی ہیں اور اصل کشمیریوں کا بھی روز کا اعلان یہ ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان، وہ پاکستان کا پرچم لہراتے ہیں، پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں اور جیلوں کی ہوا پھانکتے ہیں۔

کشمیر کا مسئلہ کسی اسکول کی برانچ کھولنے کے مترادف ہوتا تو خورشید قصوری اس مسئلے کو کبھی کا حل کر چکے ہوتے ۔نجی اسکولوں کی جس طرح برانچیں کھمبیوں کی طرح اگ ر ہی ہیں ، اس راز سے ہر کوئی آشناہے ا ور اب تو نجی اسکولوں کے خلاف ایک مہم زوروں پر ہے اور لوگ سینہ کوبی کر ر ہے ہیں کہ وہ تنخواہ لیتے ہیں، اے ٹی ایم مشینوں کے مالک نہیں ہیں۔

خورشید قصوری کو بھارت سے عشق کب سے ہو گیا،کم از کم ان کے دادا کی نسل کو ہندو سے کوئی عشق نہیں تھا، مولانا عبدالقادر قصوری، مولانا محی الدین قصوری تو میرے گاﺅں بلکہ میرے والد کے ہاںمقیم صوفی ولی محمد کے ہاں باقاعدگی سے حاضری دیتے تھے ا ور یہ صوفی صاحب تحریک مجاہدین سے وابستہ تھے،خورشید قصوری نے اپنے خاندان پر ایک کتاب عبدا للہ ملک سے لکھوائی،ا س میں میرے گاﺅں فتوحیوالا کا بار بار ذکر آیاہے تو خورشید صاحب کب اور کیسے تحریک مجاہدین کے مقاصد سے روگردانی کر گئے بلکہ بھارت کے عشق میں گرفتار ہو گئے۔

وہ بظاہر پاکستان کے وزیر خارجہ تھے لیکن انہیں بھارت کے مفادات سے کیوں دلچسپی ہے، اس کی وجہ تحقیق طلب ہے۔ جن دنوں خورشید قصوری اپنے منصب پر فائز تھے اور پرویز مشرف کے سایہ عاطفت میں تھے تو ان کے گھر پر تب بھی کبھی کبھار محفلیں برپا ہوتی تھیں اور ان پر اعتراض وارد ہوتا کہ پاکستان کو امریکی گود میں کیوں بٹھا دیا۔ انکا جواب ہوتا کہ یہ فیصلہ درست تھا اور اس سے پاکستان کی اہمیت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ خود وہ بطور وزیر خارجہ فون اٹھا کر کسی بھی اعلی سطحی امریکی اہل کار سے بات کر سکتے ہیں۔ یہ دعوی کرتے ہوئے ان کا چہرہ گلنار ہو جایا کرتا تھا۔ تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا۔

مجھے پتہ چلا ہے کہ ا س کتاب میںکہیں یہ خواہش بھی موجود ہے کہ بھارت کے ہندو آزادی سے کٹاس مندر آئیں جائیں جس کا افتتاح چودھری شجاعت حسین نے کیا تھاا ور اسی طرح پاکستان کے مسلمان اجمیر شریف آئیں جائیں، کاش!مولانا عبد القادر قصوری کے خاندان کا یہ چشم و چراغ اس کے بجائے یہ تمنا کرتا کہ سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف۔

خورشید قصوری کشمیر پر سودے بازی کی بات کرتے ہیں، مگر ان کے مینٹر پرویز مشرف جب آگرہ گئے تو کشمیر کور ایشو کی گردان کرتے واپس آئے اور جب آرمی چیف تھے تو انہوں نے کارگل برپا کیا تھا تاکہ کشمیر کا مسئلہ بقول ان کے عالمی توجہ حاصل کر سکے۔ مگر اس کی ا ٓڑ میں دراصل ا نہوںنے میاں نواز شریف کی حکومت کا دھڑن تختہ کر دیا۔

خورشید قصوری کو میں ان کی کتاب کی مہورت پر مبارکباد نہیں دے سکتا،ا س قسم کی خود نوشت تاریخ کے کوڑے دان کا پیٹ بھرنے کے کام آتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ تاریخ کا چہرہ مسخ کرنے والے اپنا ہی چہرہ بگاڑ بیٹھتے ہیں۔خورشید قصوری کو پاکستانی عوام کی نبض پڑھنے میں دشواری نہیں ہونی چاہئے، آج تو خود نواز شریف ا ور شہباز شریف دونوں جنرل راحیل کے قدم سے قدم ملا کر بھارت کے سامنے سینہ تانے کھڑے ہیں اور ایک یہ حضرت ہیں کہ بھارت کے لئے ریشہ خطمی بنے نظرآتے ہیں۔ایسے لوگ اپنے ہی وطن میں اجنبی نہیں، اقلیت بھی نہیں، آڈمین آﺅٹ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ان کے منہ میں اپنی زبان نہیں، ان کے ہاتھ میں اپنا قلم نہیں، ان کے ذہن میں اپنا خیال نہیں، اور یہ اس قدر بہکے بہکے ہیں کہ انہیں یہ بھی یاد نہیںکس ملک کے وزیر خارجہ رہے۔ مرشد نظامی ہوتے تو ان کی خوب خبر لیتے ۔ اور یہ کتاب صرف بھارت کے بک اسٹالوں پرفروخت ہو سکتی تھی۔
---------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں