.

پاکستان بھارت بات چیت کا نیا دور

بشری رحمن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ تو اچھا ہوا کہ پاکستان نے 1965ء کی جنگ کا پچاسواں سال نہایت تزک و احتشام کے ساتھ منایا۔ خوب منایا۔ سکولوں کالجوں اور ہر قسم کے اداروں کے اندر یادگاری بے مثال ترانے گونج اٹھے۔ سوشل میڈیا نے پہلی بار اپنی کارکردگی دکھائی۔ بعض پروگرام ایسے پیش کیے گئے کہ تمام شہدا مجسم ہو کر سامنے آ گئے۔ یہ ان کی قربانیوں کی سچائی تھی کہ پروگرام کے دوران ہر فردوبشر روتا نظر آیا۔ جوں جوں وقت گزرتا ہے شہدا کی قدر و قیمت اور قربانیوں کی اہمیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ نسل جس نے 1965ء کی جنگ دیکھی بھی نہیں تھی وہ بھی ماضی قریب کی تاریخ سے آگاہ ہوئی۔ مجھے بہت سے کالجوں اور تعلیمی اداورں کے پروگراموں میں شامل ہونے کا موقع ملا اور میں نے نئی نسل کے طلباء اور طالبات کے اندر وہی جذبہ بے بہا پایا اور ان کی معصوم مقدس آوازوں میں جنگی ترانے سننے کا ایک نیا سرور ملا۔

یہ ہمارا نظریاتی پیغام تھا جو ہم نے سترہ دنوں کی جنگ کا سہارا لے کر بھارت کو پہنچا دیا کہ جذبے ابھی جوان ہیں۔ پاکستان کی فوج بے مثال ہے اور پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کبھی جنگ سے خوف زدہ ہوئے نہ ہوں گے۔ نہ کسی مسلط کی ہوئی جنگ سے بھاگیں گے۔ ان کے پاس سرحدی جنگیں اور نظریاتی جنگیں جیتنے کی ساری کی ساری صلاحیتیں موجود ہیں۔

ساری دنیا کا سوشل میڈیا ایک طرف اور پاکستانی عوام کی قوت ایمانی دوسری طرف۔ یہ خدشہ تھا کہ جناب نریندر مودی ایک بار تو پاکستان کو للکارنے یا دھمکانے کی کوشش کریں گے کیونکہ اس آدھار پر تو وہ الیکشن جیت کر آئے تھے۔ ایک بات کا خیال بار بار آتا ہے اور قدرتی بھی ہے کہ آخر بھارت پاکستان سے ہی خوف زدہ کیوں رہتا ہے یا پاکستان کی طرف سے اس کے دل میں شک و شبہات کیوں رہتے ہیں اور پاکستان کو ہی غیرمستحکم کرنے کی کوشش میں کیوں لگا رہتا ہے۔ بنگلہ دیش میں وزیراعظم مودی کے اعتراف کے بعد شک و شبہ کی کونسی گنجائش رہ جاتی ہے۔ اس بیان کے بعد پاکستان کے اندر دہشت گردی کے سارے ڈانڈے ’’را‘‘ سے ملنے لگے۔ پاکستان کی مسجدوں، مزاروں، گرجا گھروں اور مندروں میں جو کچھ ہوتا رہا وہ ’’را‘‘ اور اس کے بھگتوں کی کارستانی ثابت ہو گئی ہے۔ اس خفت کو مٹانے کے لیے بھارت نے بارڈر پر چھیڑ خانی شروع کر دی۔ یہ ہلکی پھلکی چھیڑچھاڑ بعض اوقات بہت خطرناک نتائج پر پہنچ کر بھی نہیں رکتی۔ پاکستان بارہا کہتا رہا ہے کہ امن سے رہو۔ اور امن سے رہنے دو۔ ذرا سوچو آج کل بھارت میں پیاز مہنگا ہو گیا ہے۔ ایک پیاز کی کمی پوری جنتا کی زندگی بدل کے رکھ دیتی ہے اور تم جنگ کی دھمکیاں دے رہے ہو۔

جب ہمارے سپہ سالار نے برملا کہہ دیا ہے کہ ہم جنگ سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔
’’تجھے بھی ہم نے دیکھا ہے ترا خنجر بھی دیکھا ہے‘‘
اب پھر پاکستان بھارت کی بات چیت کا دوسرا ڈول ڈالا جا رہا ہے کیونکہ بھارتی حکومت کی سمجھ میں یہ بات آ چکی ہے کہ پاکستان کشمیر کے موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے گا۔

بھارت ابھی تک ’’اوفا‘‘ ملاقات میں ہونے والے معاہدے کی رٹ لگائے ہوئے ہے جو وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ہوا تھا۔ اس میں کہا کہ این ایس اے بات کریں گے۔ بھارت کے میڈیا والے اجیٹ ڈومبال کا مقابلہ جناب سرتاج عزیز کی سیاسی دانشوری سے کر رہے ہیں۔ بھارت کے غیرجانبدار سیاسی تجزیہ نگار مودی کی پاکستانی پالیسیوں پر سوال اٹھا رہے ہیں اور صاف کہہ رہے ہیں کہ بھارت اور پاکستان میں بات چیت ہر حال میں ہونی چاہیے بلکہ جاری رہنی چاہیے۔ بات چیت کا سلسلہ ٹوٹنے سے ملک کے اندر کنفیوژن پھیلتا ہے۔

غلط فہمیاں مزید بڑھتی ہیں اورمعاملات مزید الجھتے ہیں وہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ مذاکرات کا سلسلہ توڑنا بھارت کی سنگین غلطی تھی۔ اس سے پاکستان کو چند فائدے ہوئے ہیں۔ پہلا یہ کہ پاکستان کشمیر کے بارے میں عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے میں کامیاب ہو گیا ہے اور کئی ملک اس کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔ دوسرا یہ کہ کشمیر ایک بار پھر پوری دنیا کی سرخیاں بن گیا ہے۔ اورتیسرا یہ کہ حریت کے وہ لیڈر جو اب تک خاموش تھے وہ اچانک جاگ اٹھے ہیں اور اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ان کی نظربندی اور دہلی ائر پورٹ پر حراست میں لینے کے واقعہ نے بھارت کی نیت عیاں کردی ہے اور حریت لیڈروں کی ہمت نئے سرے سے جوان کر دی ہے۔ کشمیر کے اندر نیت عیاں کر دی ہے اور حریت لیڈروں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کو نظرانداز کر کے نہ تو کوئی پالیسی بنائی جا سکتی ہے نہ کوئی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

بار بار پاکستان کے ساتھ مذاکرات رد کرنے سے بھارت کا دنیا بھر میں امیج خراب ہوا ہے۔ بھارت کے اندر بھی مودی کی پالیسی پر اعتراض اٹھ رہا ہے۔ یوں معلوم دے رہا ہے کہ بھارت کی ساری خارجہ پالیسی صرف پاکستان پر مرکوز ہے۔

پاک بھارت مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی باتیں تو دونوں طرف ہو رہی ہیں مگر ایک بات کا ذکر کم از کم پاکستان کے اندر کھل کر نہیں ہو رہا۔ بھارت شور مچا رہا ہے کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کے اڈے ہیں اور جب سے پاکستان میں ضرب عضب شروع ہوا ہے نہ صرف یہ کہ دہشت گردی کے اڈے تباہ ہو رہے ہیں بلکہ ان کے اندر سے بھارت ساختہ اسلحہ بھی پکڑا جا رہا ہے اور ’’را‘‘ کے تربیت یافتہ دہشت گرد اعترافی بیانات بھی دے رہے ہیں۔ افغانستان حکومت کو بھی اعتماد میں لیا گیا ہے۔ جہاں بھارتی دہشت گردوں کو پاکستان کے اندر تباہی و بربادی پھیلانے کی تربیت دی جاتی ہے۔ اور ادھر بھیج دیا جاتا ہے۔
---------------------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.