بھارت کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہیے؟

محمد عامر خاکوانی
محمد عامر خاکوانی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

بھارت کے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات رکھے جائیں اور اس حوالے سے پاکستان کو کس حد تک آگے جانا چاہیے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو ہمارے ہاں مسلسل زیر بحث رہتے ہیں۔ ان پر آنے والی آراء مختلف ہیں۔ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے دو ھلقے زیادہ نمایاں ہیں۔ ایک رائے رائٹ ونگ کی ہے، جس میں روایتی مذہبی حلقے سرفہرست ہیں۔ یہ بھارت کو اپنا سب سے بڑا دشمن تصور کرتے اور اس حوالے سے جارحانہ حکمت عملی اپنانے کے حامی ہیں۔ دوسری طرف ہمارا لبرل، سیکولر حلقہ ہے جو بھارت کے ساتھ وستی کو بہت اہمیت دیتا اور اس حوالے سے بہت آگے چلے جانے کا حامی ہے۔ ان کے خیال میں پاک بھارت تعلقات کو کشمیر کا یرغمال نہیں رہنا چاہئے۔

بھارت جیسے پڑوسی ملک کے ساتھ تجارت لازمی ہونی چاہیے اور اس عمل کو اس طرح تیزی سے آگے بڑھایا جائے کہ معاملات یورپی یونین جیسے ماڈل کی طرف چل پڑیں۔

ایک تیسری رائے درمیان والوں کی بھی ہے، اگرچہ وہ زیادہ نمایاں نہیں ہو پاتی، دونوں نتہائی اطراف کی آواز اور ان کی باہمی لڑائی پورے منظرنامے پر غلب آجاتی ہے۔ اس اخبار نویس کی رائے میں پک بھارت تعلقات کیسے ہونے چاہئیں سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ پہلے ان زمینی حقئق کو سمجھ لیا جائے، جس کی وجہ سے بار بار اڑچن پڑ جاتی ہے۔ اس پر بات ہوگی مگر پہلے گزشتہ روز کو شائع ہونے والے رئوف کلاسرا کے کالم پہلی گولی کون چلائے گا پر بات ہو جائے۔ برادرم رئوف کلاسرا کے ساتھ میرے تعلق کی نوعیت تین طرح کی ہے۔ وہ سرائیکی ہے اور ایسا سرائیکی جس نے اپنے علاقے اور بے پرسان حال لوگوں کو کبھی نہیں بھلایا، انکے لئے ہمیشہ آواز بلند کی۔ دوسرے انکے ساتھ میرا تعلق برادرانہ اور وستانہ رہا۔ انہوں نے ہمیشہ میرے حوالے سے درگزر اور لحاظ کا مظاہرہ کیا، ورنہ نظریاتی حوالے سے میرے بیشتر کالم انکی سوچ اورفکر سے بہت مختلف بلکہ متضادم ہیں، اس کے باوجود وہ طرح دے جاتے ہیں۔

تیسرا تعلق یہ ہے کہ میں انکی تحریر اور گفتگو کا مداح ہوں۔ جیسی جرات اور شدت سے وہ کرپٹ مافیاز کا محاکمہ کرتے اور صاحباناقتدار کے مقابل کھڑے ہوتے ہیں اسے دیکھ کر رشک آتا ہے۔کتابیں وہ بےتحاشا پڑھتے اور گاہے اپنے کالموں میں شیئر بھی کرتے ہیں۔ اتوار کے کالم میں انہوں نے دو اہم نکات اٹھائے ہیں۔

جنگ ستمبر 1965ء کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ تاشقن معاہدے میں بھارتی وزیر اعظم شاستری یہ چاہتے تھے کہ پاکستان اوربھارت مین ایک دوسرے کے خلاف جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہونا چاہیے، جس کی وزیر خارجہ بھٹو نے مخالفت کی؛ تاہم بعد میں صدر ایوب خن نے اپنے قلم سے معاہدے میں اضفہ کرتے ہوئے مذکورہ بات لکھ دی اگرچہ وہ بھارتی حکمران کے حسب منشا نہیں تھی، برادرم کلاسرا کا خیال ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت میں جنگ نہ ہونے کا معاہدہ ہو جاتا تو مشرق پاکستان الگ نہ ہوتا۔ اسی استدلال کی بنیاد پر انہوں نے لکھا کہ اب بھارتی وزیر داخلہ نے جو پیش کش کی ہے کہ بھارت کنٹرول لائن پر پہلی گولی نہ چلانے کا معہدہ کرنے کو تیار ہے، اسے فورا قبول کر لینا چاہیے کیونکہ ہم ہر وقت حالت جنگ میں نہیں رہ سکتے، اپنے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات بہتر رکھنے چاہئیں وغیرہ وغیرہ ۔

میں برادرم کلاسرا کی اس بات سے متفق ہوں کہ ہم ہر وقت حالت جنگ میں نہیں رہ سکتے ، کوئی بھی ملک نہیں رہ سکتا۔ اپنے ہمسائیوں کے ساتھ تعلقات ضرور اچھے ہونے چائیں، اس میں بھی کوئی دوسری رائے نہیں ہے، تاہم دو تین سوال ذہن میں اٹھتے ہیں، انکے جواب بھی کھوجنے چائیں کہ انکے بغیر یہ الجھا ہوا معاملہ گرفت میں نہیں آسکے گا۔

پہلی بات ت یہ ہے کہ پاک بھارت مشترکہ سرحد پیلی گولی نہ چلانے کا معاہدہ بھی ہو گیا تو بھی اس پر عمل درآمد کیسے ہوگا؟ بھارت نے اب کون سا تسلیم کر لیا ہے کہ پہلی گولی اس نے چلائی؟ بھارتی وزارت خارجہ و دفاع کے بیانات اور بھارتی میڈیا پر نظر ڈال لیں نیٹ پر سب اخبارات اور چینلز کے صفحت موجود ہیں، وہ تو مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ بھارت نے جواب دیا ہے۔

اب ان سے کون یہ سوال کرے کہ میٹرک کی سطح کا ایک بچہ بھی جانتا ہے کہ پاکستان فوج کئی محاذوں پر بری طرح پھنسی ہوئی ہے۔ ڈیڑھ دو لاکھ فوج فاٹا میں آپریشن کر رہی ہے، دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب چل رہا ہے، بلوچستان میں معاملات سنوارنے کی کوششیں ہو رہی ہیں، ایسے میں کون احمق بھارتی سرحد پر گولی چلا کر اپنے لئے مصیبت مول لے سکتا ہے؟ بھارت کی سرحد کے ساتھ سیالکوٹ، ناروال وغیرہ کے پاکستانی دیہات پری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ روزنامہ دنیا کے میگزین سیکشن کے فیچر رائٹر نے پچھلے ہفتے ان علاقوں کا دورہ کیا اور اس پر تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے، بھارتی فائرنگ اور گولہ باری سے مکان چھلنی ہوئے پڑے ہیں، ایک درجن کے قریب افراد شہید اور بیسیوں زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ سب ناقابل تردید حقیقت ہے، اقوام متحدہ کے نمائندوں کو بھی دکھایا جا چکا ہے، مگر بھارت نے کبھی تسلیم نہیں کیا کہ وہ جارحیت کر رہا ہے۔

ہر کوئی جانتا ہے کہ بھارت پاکستان پر دبائو ڈلنے کیلئے ایسا کر رہا ہے تاکہ پاکستانی فوج مشتعل ہو کر سخت جواب دے اور پھر کشیدگی بڑھائی جا سکے۔ پاک فوج اور عسکری قیادت نے مگر نہایت تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ بھارت کے پاس ایسا کچھ نہیں جو وہ دنیا کو دکھا سکے کہ پاکستانی فائرنگ اور گولہ باری سے یہ نقصان ہوا۔ ہماری طرف سے صرف واضح الفاظ میں سخت پیغام دیا گیا ہے تاکہ اگر بھارتی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کسی ایڈونچر کا سوچ رہی ہے تو اس پر ری تھنک کر لے۔ فوج کو اگر جنگ کا اتنا شوق ہوتا تو پھر کنٹرول لائن پر کشیدگی بڑھائی جاتی۔ اس میں کیا جاتا ہے؟وہ چار گولے ہی پھونکنے ہوتے ہیں۔ اگر فوج جنگ لڑنے کیلئے اتنی بےتاب اور جنونی ہو رہی ہوتی تو پھر یمن جانے کا فیصلہ کر لیا جاتا، جس کے بدلے اربوں ریال بھی ملتے۔ فوج قطعا جنگ نہیں چاہتی نہ ہی ہماری سیاسی قیادت کی ایسی کوئی خواہش ہے۔ حتیٰ کہ اپوزیشن کی اہم جماعتیں پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی وغیر بھی اس حوالے سے دبائو نہیں ڈال رہیں۔

جنگ نہ کرنے کے معاہدے میں کوئی حرج نہیں، مگر عملی طور پر یہ کاغذ کے ٹکڑے ہی ثابت ہوتے ہیں۔ معاہدہ تاشقند کو لے لیں۔ ایوب خان نے اپنے قلم سے معاہدے میں بھارتی منشا کے مطابق اضافہ کر دیا تھا، جسے بھارت نے اس قدر اہمیت دی کہ اسے اپنے آرکائیوز مین شامل کر رکھا ہے، کلدیپ نائر نے جسکا عکس تک چھاپ دیا۔ سوال یہ ہے کہ پھر چھ سال بعد بھارت نے یک طرفہ حملہ کر کے مشرق پاکستان کو الگ کیوں کرا دیا؟ ہمارے سیکولر دوستوں کا شکوہ ہے کہ ہم نے جنگ ستمبر کے بارے میں نصاب میں شامل کر رکھا ہے کہ چھ ستمبر کو مکار دشمن نے بغیر اعلان حملہ کر دیا، یہ بات نہیں لکھی جاتی کہ اس سے پہلے آپریشن جبرالٹر کی صورت میں ہم نے مقبوضہ کشمیر میں پنگا لیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ پینسٹھ سے اکہتر تک تو پاکستان نے بھارت کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی، کوئی ایشو نہین تھ، پھر بلاجواز بھارت نے مشرق پاکستان پر فوج کشی کیوں کر دی؟ جبکہ معاہدہ تاشقند کی صورت میں انکے پاس ایک دستاویز بھی موجود تھی، جسکا احترام کرنا چاہیے تھا

بات بڑی سادہ ہے، ملک معاہدوں سے نہیں اپنی اندرونی طاقت اور جواب دینے کی بھرپور صلاحیت ہی سے محفوظ رہتے ہیں۔ شمال کوریا نے کس ملک سے معاہدہ کر رکھا ہےَ ؟ جنوبی کوریا اس سے سخت متنفر ہے، امریکی بہت ناراض ہیں، پوری مغربی دنیا انہیں شیطان سمجھتی ہے لیکن کسی کو جرائت نہیں ہو سکی کہ اس پر حملہ کر دے ، وجہ شمالی کوریا کی دفاعی اور ایٹی صلاحیت ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو شمالی کوریا کو عراق ، افغانستان یا لیبیا کے انجام سے دوچار نہیں ہونے دیتا۔ ہمیں اپنے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے اور سب سے بڑھ کر اپنی معیشت سنوارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایک زمانہ تھا کہ ہمارے لیفٹسٹ سولہ سترہ فیصد دفاعی بجٹ کو کوستے تھے، پچھلے سات برسوں کے دوران تیس چالیس ارب ڈالر کا ملک پر قرضہ چڑھ چکا، بجٹ کا نصف سے زیادہ سود کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے، اسحاق ڈار جیسے ماہر معیشت ہر سال اربوں ڈالر کا مزید قرض لے کر خوش خبری سناتے ہیں کہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ گئے۔ یہ بے رحمانہ مذاق بند کر کے اپنے ٹیکسیشن سسٹم کو ٹھیک کرنا ہوگا، قرضے اتارنے ہوں گے۔ داخلی استحکام، مضبوط معیشت، مطمئن عوام اور دفاع کی مضبوط قوت ہو تو دنیا کی کوئی طاقت ہمارا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔

بہ شکریہ روزنامہ دنیا

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں